کوئٹہ میں پولیس موبائل،نوشکی،دالبندین میں ایف سی ہیڈکوارٹرز،قلات میں ڈپٹی کمشنر دفتر و پولیس لائنز،پسنی میں کوسٹ گارڈز تنصیب کو نشانہ بنانا چاہا، گوادر اور خاران میں 18 شہری شہید کردئیے جوابی کارروائی میں 3خودکش بمبار بھی مارے گئے ، 48گھنٹوں میں 133دہشتگرد ہلاک، کوئٹہ سے چلنے والی ٹرینیں معطل، شاہراہیں بند،دہشتگردی کے خاتمے تک جنگ جاری رکھیں گے :صدر ،وزیراعظم
کوئٹہ،اسلام آباد:بلوچستان میں فتنہ الہندوستان کے دہشتگردوں نے 12 مقامات پر حملے کئے جنہیں سکیورٹی فورسز کی بروقت کاررروائی کے نتیجے میں ناکام بنا دیا گیا، اس دوران تین خودکش بمباروں سمیت 92دہشتگرد ہلاک کردئیے گئے ، 15 جوان بہادری سے مادر وطن کا دفاع اور عوام کا تحفظ کرتے ہوئے شہید ہوگئے ۔ آئی ایس پی آر کے مطابق دہشت گردوں نے کوئٹہ، مستونگ، نوشکی، دالبندین، پنجگور، تمپ اور پسنی سمیت مختلف علاقوں میں دہشت گردانہ کارروائیاں کرنے کی کوشش کی، گوادر اور خاران میں معصوم شہریوں کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں خواتین، بچوں، بزرگوں اور مزدوروں سمیت 18 شہری شہید ہو گئے۔ سکیورٹی ذرائع کے مطابق کوئٹہ کے علاقے سریاب روڈ پر دہشت گردوں نے پولیس وین کو نشانہ بنانے کی کوشش کی، پولیس اہلکاروں نے فوری جوابی فائرنگ کی جبکہ فرنٹیئر کور کے دستوں نے علاقے میں پہنچ کر کارروائی کو مضبوط بنایا، اس دوران چار دہشت گرد ہلاک کر دئیے گئے اور علاقہ مکمل طور پر کلیئر کر لیا گیا۔کارروائی کے دوران 2 پولیس اہلکار شہید جبکہ 3 زخمی ہو ئے۔نوشکی میں دہشت گردوں نے ایف سی ہیڈکوارٹر پر حملے کی کوشش کی، تاہم چوکس اہلکاروں نے بھرپور جوابی کارروائی کرتے ہوئے حملہ آوروں کو بغیر کسی نقصان کے فرار ہونے پر مجبور کر دیا۔دالبندین میں ایف سی ہیڈکوارٹر پر حملے کی کوشش کے دوران کم از کم دو دھماکوں کی اطلاعات موصول ہوئیں، سکیورٹی فورسز نے فوری طور پر علاقے کو گھیرے میں لے کر دہشت گردوں کے خلاف کارروائی شروع کی، کلیئرنس آپریشن کے دوران صورتحال مکمل طور پر کنٹرول میں رہی۔قلات میں دہشت گردوں نے ڈپٹی کمشنر کے دفتر اور پولیس لائنز کو نشانہ بنانے کی ناکام کوشش کی، جس کے نتیجے میں فائرنگ کا تبادلہ ہوا، سکیورٹی فورسز نے مو ثر جواب دیتے ہوئے حملہ آوروں کو بھاری نقصان پہنچایا اور صورتحال کو مزید بگڑنے سے روک دیا۔پسنی میں دہشت گردوں نے پاکستان کوسٹ گارڈز کی تنصیب پر دور سے فائرنگ کی کوشش کی جسے ناکام بنادیا گیا،اسی طرح بلوچہ، تمپ، مستونگ اور خاران میں سکیورٹی پوسٹس پر بیک وقت دستی بم حملے اور دور سے فائرنگ کی گئی، جنہیں سکیورٹی فورسز نے کامیابی سے پسپا کر دیا۔اوتھل سٹی میں موٹرسائیکل سواروں نے آر سی ڈی شاہراہ پر واقع کارپینٹر کی دکان کے سامنے ہینڈ گرنیڈپھینک دیا جس کے پھٹنے سے چار افرادزخمی ہوگئے ، زخمی ہونے والوں میں 2بچے اور ایک ضعیف العمر شخص شامل ہیں۔آئی ایس پی آر کے مطابق متاثرہ علاقوں میں سینیٹائزیشن آپریشنز جاری ہیں جبکہ ان واقعات کے سہولت کاروں، منصوبہ سازوں اور معاونین کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گا، انٹیلی جنس رپورٹس نے تصدیق کی ہے کہ یہ حملے پاکستان سے باہر بیٹھے دہشت گرد سرغناؤں کی ہدایات پر کیے گئے ، جو براہِ راست دہشت گردوں سے رابطے میں تھے ۔واضح رہے ایک روز قبل پنجگور اور ہرنائی میں41 دہشت گرد مارے گئے تھے ، یوں 48گھنٹوں میں بلوچستان میں ہلاک کیے جانے والے دہشگردوں کی مجموعی تعداد 133 ہو چکی ہے ۔ ادھر کوئٹہ سے اندرون ملک اور اندرون صوبہ چلا ئی جانے والی تمام ٹرینیں معطل کردی گئیں،ریلوے ذرائع کے مطابق کوئٹہ سے پنجاب جانے والی جعفرایکسپریس، کراچی جانے والی بولان میل سروس اور کوئٹہ سے چمن جانے والی چمن پسنجر ٹرین معطل کی گئی، جبکہ پشاور سے آنے والی جعفر ایکسپریس کو جیکب آباد پر روک لیا گیا تھا تاہم متاثرہ مسافروں کا ٹکٹ واپس کیا جائے گا۔

Leave a Reply