Deprecated: Creation of dynamic property EPS_Redirects_Plugin::$settings is deprecated in /home2/sangemee/public_html/wp-content/plugins/eps-301-redirects/plugin.php on line 55

Warning: Cannot modify header information - headers already sent by (output started at /home2/sangemee/public_html/wp-content/plugins/eps-301-redirects/plugin.php:55) in /home2/sangemee/public_html/wp-content/themes/twentytwentyfive/functions.php on line 296
پی ٹی آئی سیاسی بیانیہ پر قوم سے معافی مانگے : عطا تارڑ – Sange Meel News: Latest news, breaking news, Pakistan

پی ٹی آئی سیاسی بیانیہ پر قوم سے معافی مانگے : عطا تارڑ

خیبرپختونخوا حکومت بات چیت کو تیارنہیں، وادی تیراہ پرسیاست کرتی رہی باڑہ سیاسی اتحاد کے جرگہ نے صوبائی حکومت کو بدعنوان قراردے دیا:بیان

اسلام آباد:وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی جس بیانیے پر سیاست کر رہی تھی، اس پر پوری قوم سے معافی مانگنی چاہئے۔ انہوں نے خیبر پختونخوا میں امن و امان کی بدترین صورتحال کی جانب بھی توجہ دلائی اور کہا کہ وہاں کی حکومت بات چیت کے لئے تیار نہیں حالانکہ وفاقی حکومت بار بارمسائل کو بات چیت کے ذریعے حل کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔عطا تارڑ نے واضح کیا کہ اب وفاقی حکومت نے اقدامات کیلئے فیصلہ کر لیا ہے اور گورنر راج آئین اور قانون کے تحت نافذ کیا جائے گا۔ وفاقی وزیر اطلاعات کااپنے بیان میں کہناتھاکہ باڑہ سیاسی اتحاد کا جرگہ خیبرپختونخوا حکومت کیخلاف چارج شیٹ ہے، باڑہ سیاسی اتحاد نے کہا ہے کہ صوبائی حکومت بدعنوان ہے ، تیراہ کے عوام کیلئے 4ارب روپے دئیے گئے ان کا حساب نہیں ہے۔ان کا کہناتھاکہ خیبر پختونخوا حکومت کے لوگ ٹی وی اور دیگر جگہوں پر نظر آتے ہیں، پی ٹی آئی کے لوگ واد ی تیراہ کو اپنی سیاست کیلئے استعمال کررہے تھے،جرگے کی چارج شیٹ نے صوبائی حکومت کو بے نقاب کردیا، خیبرپختونخوا حکومت کو پوری قوم سے معافی مانگنی چاہئے ۔عطااللہ تارڑ نے کہاکہ وزیراعظم نے امن وامان کیلئے صوبائی حکومت کو بات چیت کی پیش کش کی، صوبائی حکومت لوگوں کے مسائل کے حل کیلئے سنجیدہ نہیں ، صوبائی گورننس پوری طرح ناکام ہوجائے تو گورنرراج کا آپشن آتا ہے ، گورنرراج کی فی الحال کوئی تجویز نہیں،دیکھتے ہیں آگے کیا ہوتاہے ۔

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *