Deprecated: Creation of dynamic property EPS_Redirects_Plugin::$settings is deprecated in /home2/sangemee/public_html/wp-content/plugins/eps-301-redirects/plugin.php on line 55

Warning: Cannot modify header information - headers already sent by (output started at /home2/sangemee/public_html/wp-content/plugins/eps-301-redirects/plugin.php:55) in /home2/sangemee/public_html/wp-content/themes/twentytwentyfive/functions.php on line 296
مودی کی اسرائیل پالیسی ’امبانی۔ایپسٹین‘ کے زیرِ اثر تشکیل پائی: نیویارک ٹائمز – Sange Meel News: Latest news, breaking news, Pakistan

مودی کی اسرائیل پالیسی ’امبانی۔ایپسٹین‘ کے زیرِ اثر تشکیل پائی: نیویارک ٹائمز

نیویارک: امریکی محکمۂ انصاف کی تحقیقات کے مطابق نریندر مودی کی اسرائیل کی جانب جھکاؤ کی پالیسی ایک خفیہ کرپٹ نیٹ ورک کے اثر و رسوخ کے تحت تشکیل پائی ہے۔امریکی جریدے نیویارک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق عالمی سطح پر بھارت کی اسرائیل نواز پالیسی سزا یافتہ مجرم جیفری ایپسٹین کی ہدایات پر بنائی گئی، جیفری ایپسٹین نے بھارت کی اسرائیل پالیسی میں سٹریٹجک جھکاؤ کی تجویز دی۔ایپسٹین کی اس تجویز میں 2 ارب ڈالر کے اسلحہ اور انٹیلی جنس خریداری میں اضافہ شامل تھا تاکہ وائٹ ہاؤس کی حمایت حاصل کی جا سکے، بعد ازاں ایپسٹین نے قطری شاہی خاندان کے سامنے اس اثر کو اپنے مشوروں کا نتیجہ قرار دیا۔ایپسٹِن ڈونلڈ ٹرمپ کی کابینہ تقرریوں اور خارجہ پالیسی میں تبدیلیوں سے متعلق خفیہ معلومات وقت سے پہلے فراہم کرتا رہا،ارب پتی انیل نے خفیہ رابطوں کے ذریعے مبینہ طور پر دفاعی امور سے متعلق بیرونی ہدایات حاصل کیں۔ایپسٹین نے انیل امبانی کو امریکی اثر و رسوخ کے اہم حلقوں تک رسائی دی، جن میں اسٹیو بینن اور ٹام بیرک جیسے نام شامل ہیں۔امبانی نے مبینہ طور پر جیرڈ کشنر سے ملاقاتوں کے لیے اسی نیٹ ورک کا استعمال کیا، ایپسٹین نے اپنے سفارتی روابط، اٹلانٹک کونسل اور انٹرنیشنل پیس انسٹی ٹیوٹ جیسے اداروں کے ذریعے نجی عشائیے دیئے تاکہ امبانی کی عالمی ساکھ کو بہتر بنایا جا سکے۔نیویارک ٹائمز کو دستیاب معلومات کے مطابق 2017 میں اسرائیل کی جانب پالیسی جھکاؤ اور 2 ارب ڈالر کے دفاعی معاہدے اسی مبینہ پس منظر میں کیے گئے، لیک ہونے والی ای میلز میں انکشاف کیا گیا کہ خارجہ پالیسی پر اثر انداز ہونے کے لیے متنازعہ روابط اور خفیہ نیٹ ورکس کا استعمال کیا گیا۔2016 کے رافیل طیارہ معاہدے کو بھی اسی تناظر میں دیکھا جا رہا ہے، جہاں امبانی گروپ کو مختلف منصوبوں کی ذمہ داری دی گئی۔ مارچ 2026 میں منظر عام پر آنے والے پیغامات کے بعدامبانی کے اثاثوں کے منجمد کیے جانے اور عالمی سطح پر شدید ردعمل سامنے آنے کی اطلاعات ہیں۔جیفری ایپسٹین کے مبینہ نیٹ ورک اور جنسی استحصال سے متعلق سنگین الزامات بھی اس پورے معاملے کے پس منظر میں زیر بحث رہے۔

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *