Deprecated: Creation of dynamic property EPS_Redirects_Plugin::$settings is deprecated in /home2/sangemee/public_html/wp-content/plugins/eps-301-redirects/plugin.php on line 55

Warning: Cannot modify header information - headers already sent by (output started at /home2/sangemee/public_html/wp-content/plugins/eps-301-redirects/plugin.php:55) in /home2/sangemee/public_html/wp-content/themes/twentytwentyfive/functions.php on line 296
Qamar Abbas – Page 1724 – Sange Meel News: Latest news, breaking news, Pakistan

Author: Qamar Abbas

  • اسلام آباد میں نان اور روٹی کی نئی قیمتیں مقرر..

    اسلام آباد میں نان اور روٹی کی نئی قیمتیں مقرر..

    (سنگ میل نیوز)اسلام آباد میں نان اور روٹی کی نئی متفقہ قیمتوں متعین، نان بائی ایسوسی ایشن نےاسلام آباد  ہائیکورٹ سے درخواست واپس لے لی۔

     

    اسلام آباد کے اربن علاقوں میں روٹی 18 اور نان کی قیمت 22 روپے مقرر کر دی گئی،رورل علاقوں میں روٹی 16 جبکہ نان کی قیمت 20 روپے مقرر کر دی گئی،ضلعی انتظامیہ کے نمائندے اور سرکاری وکیل نے نئی قیمتوں سے متعلق عدالت کو آگاہ کر دیا۔

    جسٹس طارق محمود جہانگیری نے کہا کہ نئی متفقہ قیمتوں کا تعین ہونا خوش آئند ہے
    جسٹس طارق محمود جہانگیری نے کہا کہ نئی متفقہ قیمتوں کا تعین ہونا خوش آئند ہے

    جسٹس طارق محمود جہانگیری نے کہا کہ نئی متفقہ قیمتوں کا تعین ہونا خوش آئند ہے، اب ہمارے خلاف پریس کانفرنس ہو رہی ہیں کہ ہم نان روٹی کی قیمتوں کے پیچھے پڑ گئے ہیں۔

     

    متفقہ قیمتوں کے بعد نان بائی ایسوسی ایشن کی جانب سے درخواست واپس لے لی گئی،عدالت نے نان بائی ایسوسی ایشن کے گرفتار افراد کو فوری رہا کرنے کا حکم دیدیا تھا،عدالت نے سیل کئے گئے تندور بھی ڈی سیل کرنے کا حکم دیا تھا۔

     

    وکیل درخواست گزار نے موقف اخیتارکیا کہ عدالتی حکم پر ہمارے ضلعی انتظامیہ سے مذاکرت ہو گئے تھے، عدالت نے متفقہ قیمتوں کے تعین کے بعد درخواست واپس لینے پر کیس نمٹا دیا۔

  • سپریم کورٹ :عمران خان ویڈیو لنک پر پیش، اسلام آباد ہائیکورٹ سے نیب ترامیم کیس کا حکمنامہ طلب

    سپریم کورٹ :عمران خان ویڈیو لنک پر پیش، اسلام آباد ہائیکورٹ سے نیب ترامیم کیس کا حکمنامہ طلب

    (سنگ میل نیوز)نیب ترامیم کیس میں  بانی پی ٹی آئی کی ویڈیو لنک پر سپریم کورٹ میں پیشی،عمران خان پیش ہوگئے۔عمران خان نے اپنا بیان ویڈیو لنک کے ذریعے ریکارڈ کروا دیا ۔عمران خان نے سکائی بلیو ٹی شرٹ پہن رکھی تھی۔چیف جسٹس نے ریمارکس دئیے ہیں کہ یہ تو بڑا تعجب ہے کہ نیب ترامیم کیس 53 سماعتوں تک چلایا گیا،سپریم کورٹ نے اسلام آباد ہائیکورٹ سے نیب ترامیم کیس کا حکمنامہ طلب کر لیا۔

     

    نیب ترامیم پر حکومتوں کی انٹرا کورٹ اپیل کی سماعت چیف جسٹس قاضی فائزعیسٰی کی سربراہی میں5 رکنی لارجربینچ کررہا ہے۔

     

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے خواجہ حارث سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ خواجہ حارث صاحب آپ کو سنیں گے،اگر آپ فیس لینا چاہیں تو آگاہ کیجئے گا،آپ ابھی بیٹھ جائیں آپ کو بعد میں سنتے ہیں۔

     

    وفاقی حکومت کے وکیل مخدوم علی خان نے دلائل کا آغاز کر دیا،وکیل مخدوم علی خان نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ  اسلام آباد ہائیکورٹ میں نیب ترامیم کا معاملہ زیرالتواء ہے ،جولائی 2022 کو نیب ترامیم کیخلاف پہلی سماعت ہوئی،جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دئیے کہ کیا ہائیکورٹ میں زیر التواء درخواست سماعت کیلئے منظور ہوئی، کل کتنی سماعتیں ہوئیں،  وکیل مخدوم علی خان نے بتایا کہ کل 53 سماعتیں ہوئیں،زیادہ وقت درخواست گزار نے لیا۔چیف جسٹس بولے کہ اسلام آباد ہائیکورٹ سے نیب ترامیم کیخلاف کیس کا مکمل ریکارڈ منگوا لیتے ہیں،مخدوم علی خان آپ اونچی آواز میں بولیں تاکہ بانی پی ٹی آئی سن سکیں، سپریم کورٹ نے اسلام آباد ہائیکورٹ سے نیب ترامیم کیس کا حکمنامہ طلب کر لیا۔

     

    جسٹس جمال مندوخیل نے ریمارکس دئیے کہ 1999 میں نیب قانون بنانے میں کتنا وقت لگا تھا، اٹارنی جنرل بولہ کہ مارشل لاء کے فوری بعد ایک ماہ کے اندر نیب قانون بن گیا تھا، چیف جسٹس پاکستان نے ریمارکس دئیے کہ یہ تو بڑا تعجب ہے کہ نیب ترامیم کیس 53 سماعتوں تک چلایا گیا۔اسلام آباد ہائیکورٹ میں نیب ترامیم کیخلاف درخواست کب دائر ہوئی؟مخدوم علی خان نے جواب دیا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ میں درخواست 4 جولائی 2022 کو دائر ہوئی،سپریم کورٹ والی درخواست کو نمبر 6 جولائی 2022کو لگا سماعت 19جولائی کو ہوئی، 2022 کا پورا سال درخواست گزار کے وکیل نے دلائل کیلئے لیا۔

     

     

    اٹارنی جنرل بولے کہ پشاور ہائیکورٹ اور لاہور ہائیکورٹ میں کیس زیر التواء تھا،مخدوم علی خان نے کہا کہ سپریم کورٹ نے ہائیکورٹس میں زیر التوا ہونے کے باوجود کیس سنا ،چیف جسٹس نے ریمارکس دئیے ہیں کہ اس کیس کا آرڈر آف دی کورٹ کدھر ہے،جب ایک آرڈر آف دی کورٹ ہی نہیں تو اسے فیصلہ کیوں کہہ رہے،وکیل وفاقی حکومت نے جواب دیا کہ میں پھر اسے سات ججز کی رائے کہوں گا،کیا بنچ دوبارہ تشکیل دیا گیا تھا،وکیل مخدوم علی خان بولے کہجسٹس یحیی آفریدی نے براہ راست درخواست ناقابل سماعت قرار دے کر خارج کی تھی۔
    چیف جسٹس نے ریمارکس دئیے کہ سوال آئینی تشریح سے متعلق ہے،اگر ایک جج اپنی رائے دے تودوبارہ کیسے بنچ میں بیٹھ سکتا ہے؟ہائیکورٹ میں زیر سماعت ہوتے ہوئے کیس سپریم کورٹ میں کیسے قابل سماعت ہوا؟چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کیا مرکزی کیس کے فیصلے میں عدالت نے اس سوال کا جواب دیا ؟ وکیل مخدوم علی خان نے جواب دیا کہ جی ہاں عدالت نے فیصلے میں اس معاملے کا ذکر کیا تھا، چیف جسٹس پھر بولے کہ سوال ہے کہ آرڈر آف دی کورٹ کہاں ہے؟جسٹس اطہر من اللہ نے لقمہ دیا کہ الیکشن کیس میں تمام بنچ کی رائے تھی کہ 90 روز میں الیکشن ہوں،عدالتی فیصلے کے باوجود اس پر عملدرآمد نہیں ہوا،جسٹس جمال مندوخیل بولے کہ ہائیکورٹ میں زیر التو ہونے کے باجود کیس سننے پر ججز میں اختلاف آیا،جسٹس اطہر من اللہ نے  چیف جسٹس سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ2023 میں الیکشن کیس ایسی ہی وجوہات پر ہم 2 ججز نے ناقابل سماعت کردیا،ہم نے کہا جو کیس ہائیکورٹ میں زیر التوا ہے اس میں مداخلت نہیں کرنی،تب لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے پر عمل ہوتا تو الیکشن بروقت ہو جاتے، لاہور ہائیکورٹ نے جو الیکشن کا فیصلہ دیا تھا اس کیخلاف انٹرا کورٹ حکم جاری نہیں ہوا ۔
    چیف جسٹس نے ریمارکس دئیے کہ آپ میرے ساتھ بنچ میں بیٹھے ہم نے تو 12 دن میں الیکشن کروا دیئے،آپ جس بنچ کی بات کررہے اس میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے میں نہیں تھا،کیا چیف جسٹس کسی بھی جج کو بنچ سے الگ کرسکتا ہے؟ پریکٹس اینڈ پروسیجر کیس کا ہم نے آرڈر آف دی کورٹ دیا،اکیسویں ترمیم کا بھی آرڈر آف دی کورٹ تھا۔

     

     

     

     

    وکیل مخدوم علی خان نے کہا کہ بے نظیر بھٹو کیس جیسے مختلف فیصلے بھی موجود ہیں،ہائیکورٹ میں زیرسماعت درخواست سپریم کورٹ نہیں سن سکتی،نیب ترامیم کیس بھی سپریم کورٹ میں قابل سماعت نہیں تھا،
    ایڈوکیٹ جنرل کے پی نے توجہ دلائی کہ سر عدالتی کاروائی براہ راست نشر نہیں ہورہی،چیف جسٹس نے ایڈوکیٹ جنرل کے پی کو اپنی جگہ پر بیٹھنے کی ہدایت کردی ۔

     

     

     

    چیف جسٹس نے ریمارکس دئیے کہ قانون معطل کر کے بنچ اس کیخلاف بنا کر دیگر مقدمات سنتے رہنا کیا یہ استحصال نہیں ،وکیل مخدوم علی خان نے بتایا کہ آپ نے بطور سینئر ترین جج یہ نکتہ اٹھایا تھا،چیف جسٹس  نے ریمارکس دئیے کہ آپ اسے چھوڑیں کیا آپ کا اپنا کوئی نکتہ نہیں،جسٹس اطہر من اللہ بولے کہ اپیل متاثرہ فریق دائر کر سکتا ہے اور وہ کوئی بھی شخص ہو سکتا ہے،حکومت اس کیس میں متاثرہ فریق کیسے ہے؟پریکٹس ایند پروسیجر بل کے تحت اپیل صرف متاثرہ شخص لائیگا،جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ اپیل صرف متاثرہ شخص نہیں قانون کہتا ہے متاثرہ فریق بھی لاسکتا ہے۔
    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دئیے کہ دو تشریحات ہو سکتی ہیں کہ اپیل کا حق صرف متاثرہ فریق تک محدود کیا گیا،متاثرہ فریق میں پھر بل پاس کرنے والے حکومتی بنچ کے ممبران بھی آسکتے ہیں،اگر اس طرح ہوا تو ہمارے سامنے 150 درخواستگزار کھڑے ہوں گے،اگر کوئی مقدمہ عدالت آیا تو اسے روزانہ کی بنیاد پر سن کر فیصلہ کرنا چاہیے، قانون کو معطل کرنا بھی نظام کے ساتھ ساز باز کرنا ہے۔

     

    جسٹس اطہر من اللہ بولے کہ قانون سازوں نے ہی متاثرہ فریق کے الفاظ لکھے ہیں،جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ ہم میرٹ پر چلتے تو بہتر ہوتا، چیف جسٹس نے ریمارکس دئیے ہیں کہ قانون معطل کرنے کے بجائے روزانہ کی بنیاد پر سن کر فیصلہ کرنا چاہے تھا،پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کی شق 2 کے تحت اپیل متاثرہ شخص کرسکتا ، اگر سپریم کورٹ کسٹم ایکٹ کالعدم قرار دے تو کیا حکومت اپیل نہیں کرسکتی۔
    حکومتی وکیل مخدوم علی خان نے عدالت کو بتایا کہ بالکل حکومت اپیل کرسکتی ہے، پی ٹی آئی دور میں وزیر اعظم خود آرڈیننس جاری کرواتے رہے،پی ٹی آئی ارکان نے پارلیمنٹ میں نیب ترامیم کی مخالفت نہیں کی تھی،،چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کیا آپ اس حکومت کے سیاست دانوں کو مجرم ٹھہرا رہے،جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ کسی رکن پارلیمنٹ کیلئے ایسے الفاظ استعمال نہیں کرنے چاہئیں،نیب قانون کرپشن ختم کرنے کیلئے بنایا گیا تھا،کرپشن کے خاتمے کیلئے آزاد پارلیمنٹ،آزاد عدلیہ اور آزاد میڈیا ضروری ہے،پارلیمنٹ کو ججز کا احتساب بھی کرنا چاہیے،کیا ان تینوں میں سے اب کوئی آزاد ہے؟

     

    مخدوم علی خان نے بتایا کہ 2022 کے بعد 2023 کی نیب ترامیم بھی آئیں تھیں، عدالت نے فیصلے میں 2022 کی ترامیم ہی کالعدم قرار دیں، چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ تو آپ ٹیکنیکل اعتراض اٹھا رہے ہیں،وکیل مخدوم علی خان بولے کہ یہ ٹیکنیکل اعتراض بھی موجود ہے، چیف جسٹس کے بانی پی ٹی آئی کو دیکھ کر مسکراتے ہوئے ریمارکس دئیے کہ ہم ان سوالات پر بانی پی ٹی آئی سے جواب لیں گے،بانی پی ٹی آئی نکات نوٹ کر لیں۔بانی پی ٹی آئی بھی چیف جسٹس کی مسکراہٹ دیکھ کر منہ پر ہاتھ رکھ کر مسکرا دیئے۔
    حکومتی وکیل مخدوم علی خان نے بتایا کہ بانی پی ٹی آئی وزیر اعظم تھے قانون بدل سکتے تھے مگر آرڈیننس لائے،نیب ترامیم کا معاملہ پارلیمانی تنازعہ تھا جسے سپریم کورٹ لایا گیا۔بانی پی ٹی آئی کو بغیر سنے کی کیس سماعت غیر معینہ مدت کیلئے ملتوی کردی گئی ۔

  • پاکستان کا فتح ٹو گائیڈڈ راکٹ سسٹم کا کامیاب تجربہ…

    پاکستان کا فتح ٹو گائیڈڈ راکٹ سسٹم کا کامیاب تجربہ…

    راولپنڈی:(سنگ میل نیوز) پاکستان نے فتح ٹو گائیڈڈ راکٹ سسٹم کا کامیاب تجربہ کر لیا ہے۔فتح ٹو کامیابی کے ساتھ 400 کلومیٹر فاصلے تک اپنے ہدف کو نشانہ بنا سکتا ہے۔

    پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق تجربہ کا مقصد میزائل مشقوں اور طریقہ کار کو مکمل کرنا تھا۔

    فتح ٹو جدید ترین نیوی گیشن سسٹم، منفرد رفتار اور قابل تدبیر خصوصیات سے لیس ہے ۔ فتح II انتہائی درستگی کے ساتھ اہداف کو نشانہ بنانے اور کسی بھی میزائل ڈیفنس سسٹم کو شکست دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

    الفتح ٹو کو پاکستان کے آرٹلری ڈویژنز میں شامل کیا جا رہا ہے۔ راکٹ سسٹم پاکستانی فوج کے روایتی ہتھیاروں کی رسائی اور مہلکیت کو اپ گریڈ کرے گا۔

    پاک فوج کے چیف آف دی جنرل سٹاف ، تینوں سروسز کے سینئر افسران ، سائنسدانوں اور انجینئرز نے کامیاب تجربہ کا مشاہدہ کیا۔

    صدر، وزیراعظم، چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی، چیف آف آرمی سٹاف اور تمام سروسز چیفس نے اس شاندار کامیابی پر فوجیوں اور سائنسدانوں کو مبارکباد دی ہے۔

  • آئی فون خریدنے کے خواہشمندوں کیلئے خوشخبری، قیمتیں کم ہو گئیں

    آئی فون خریدنے کے خواہشمندوں کیلئے خوشخبری، قیمتیں کم ہو گئیں

    ڈائریکٹوریٹ جنرل آف کسٹمز ویلیوایشن نے مختلف استعمال شدہ اور تجدید شدہ موبائل فونز کے لیے کسٹم ویلیوز پر نظر ثانی کرتے ہوئے بھاری کمی کر دی ہے ،اس میں  خاص طور پر ایپل آئی فون کے 14 پلس کی مختلف ماڈلز پر توجہ دی گئی ہے ۔

    تفصیلات کے مطابق128 جی بی ایپل آئی فون 14 پلس کی کسٹم ویلیو کم کر کے 774 ڈالر کر دی گئی ہے جبکہ اس سے قبل یہ 910 ڈالر تھی جس میں واضح کمی لائی گئی ہے ۔

    256 جی بی آئی فون 14 پلس پر عائد ہونے والی کسٹم ویلیو کم کرتے ہوئے 859 ڈالر مقرر کر دی گئی ہے جبکہ اس سے قبل ایک ہزار 10 ڈالر وصول کی جارہی تھی، اس بھاری کمی کو صارفین کی جانب سے خوش آئند قرار دیا گیاہے ۔

    ڈائریکٹوریٹ جنرل آف کسٹمز ویلیوایشن نے آئی فون 14 کے مختلف ماڈلز کی کسٹم ویلیو میں کمی کر دی
    ڈائریکٹوریٹ جنرل آف کسٹمز ویلیوایشن نے آئی فون 14 کے مختلف ماڈلز کی کسٹم ویلیو میں کمی کر دی

    512 جی بی ایپل آئی فون 14 پلس کی کسٹم ویلیو 1210 ڈالر سے کم کرتے ہوئے ایک ہزار 29 ڈالر مقر ر کر دی گئی ہے ۔

    یہ اقدام ملک میں موبائل فون کی مارکیٹ ویلیو کے ساتھ کسٹم ویلیو کو ہم آہنگ کرنے کی جاری کوششوں کے ایک حصے کے طور پر سامنے آیا ہے۔ان کسٹم ویلیوز پر نظر ثانی کا فیصلہ مختلف مارکیٹوں کے باریک بینی سے جائزہ لینے کے بعد کیا گیا تاکہ ملک میں موبائل فون ڈیوائسز کی موجودہ قیمتوں کی زیادہ درست عکاسی کو یقینی بنایا جا سکے۔ توقع ہے کہ اس اقدام سے صارفین  کو فائدہ پہنچے گا ۔

  • سیمنٹ کی ریٹیل قیمت میں کمی کا رجحان برقرار

    سیمنٹ کی ریٹیل قیمت میں کمی کا رجحان برقرار

     ملک بھر میں سیمنٹ کی ریٹیل قیمت میں کمی کا رجحان گزشتہ ہفتے بھی برقرار رہا۔

    (more…)

  • الزامات مسترد، اہلیہ کے نام دبئی میں جائیداد باقاعدہ ڈیکلیئرڈ ہے:محسن نقوی

    الزامات مسترد، اہلیہ کے نام دبئی میں جائیداد باقاعدہ ڈیکلیئرڈ ہے:محسن نقوی

    (سنگ میل نیوز)مبینہ پراپرٹی لیکس پر وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی کا ردعمل سامنے آگیا ۔ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ اہلیہ کے نام دبئی میں جائیداد باقاعدہ ڈیکلیئرڈ ہے،جائیداد کو جمع ٹیکس گوشواروں میں بھی ظاہر کیا، الیکشن کمیشن میں بطور نگران وزیر اعلیٰ جمع گوشواروں میں بھی جائیداد ظاہرکی۔ ان کا کہنا تھا کہ ایک برس قبل جائیداد کو فروخت کر دیا تھا، جائیداد کی رقم سے چند ہفتے قبل ایک اور پراپرٹی خریدی ہے۔

     یاد رہے کہ دبئی میں غیر ملکیوں کی تقریباً 400 ارب ڈالرز کی جائیدادوں کا انکشاف ہوا ہے جس میں  پاکستانیوں کی بھی 11 ارب ڈالر کی جائیدادیں شامل ہیں۔’دبئی انلاکڈ‘ نامی یہ پروجیکٹ زیادہ تر 2020 اور 2022 کے درمیان کے ایسے اعداد و شمار پر مبنی ہے جو دبئی میں لاکھوں جائیدادوں کا تفصیلی جائزہ اور ان کی ملکیت یا استعمال کے بارے میں معلومات فراہم کرتا ہے۔ اس رپورٹ میں وہ جائیدادیں شامل نہیں جو کمپنیوں کے نام پر خریدی گئیں اور جو کمرشل علاقوں میں موجود ہیں۔

  • پاکستانیوں کے لیے ایک خوشخبری ؟جمعرات سے تیل 13 روپے لٹر سستا ہوجائے گا؟

    پاکستانیوں کے لیے ایک خوشخبری ؟جمعرات سے تیل 13 روپے لٹر سستا ہوجائے گا؟

    (سنگ میل نیوز)پاکستانیوں کے لیے ایک خوشخبری یہ ہے کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں یکم مئی کے بعد رواں ماہ دوسری بار کمی ہونے کا امکان ہے۔
    کیونکہ ایران اسرائیل میزائل حملے ختم ہونے اور بحیرہ احمر میں کشیدگی میں کمی کے بعد مشرق وسطیٰ میں استحکام لوٹ آیا ہے۔

    جس کا اثر عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں کمی صورت میں نظر آرہا ہے۔ اس وقت عالمی منڈی میں پیٹرول کی قیمت 6.32ڈالرز فی بیرل کم ہوکر 99.93 ڈالرز ہوگئی ہے اور ڈیزل کی قیمت اب 4.97 ڈالرز فی بیرل ہے
    جو کہ مارکیٹ میں مثبت تبدیلی کو ظاہر کرتی ہے۔اس لیے امید کی جارہی ہے کہ پاکستان میں بھی ابتدائی اندازوں کے مطابق 16 مئی سےپیٹرول کی قیمت میں 13روپے فی لیٹر اور ڈیزل کی قیمت میں 8 سے 9.50روپے فی لیٹر کمی کا امکان ہے۔

    حکومتی ملکیتی اداروں کی نجکاری کا اعلانیہ اعداد و شمار گزشتہ 10دنوں کی تجارت کو مدنظر رکھ کر نکالے گئے ہیں ۔اہم اگلے دو دنوں میں ریلیف کے بارے میں تخمینہ مزید پختہ ہو جائے گا جس کا اطلاق وزیر اعظم کی منظوری کے بعد 16مئی 2024 سے ہو گا۔
    اس سے ملک میں مہنگائی کو کم کرنے میں مزید مدد ملے گی ۔اگر یہ پٹرولیم مصنوعات میں اندازوں کے مطابق کمی ہو گئی تو یہ موجودہ مہینے میں لگاتار دوسرا ریلیف ہوگا
    کیونکہ یکم مئی 2024سے حکومت نے پٹرول کی قیمت کو 5.45روپے فی لیٹر کم کرکے 293.94 روپے فی لیٹر سے 288.4روپے فی لیٹر کر دیا تھا۔

    اسی طرح ڈیزل کی قیمت بھی یکم مئی سے 8.42 روپے فی لیٹر کم ہوکر 281.9روپے ہو گئی تھی ۔اس بات کے پختہ شواہد موجود ہے اور متعلقہ حکومتی اور صنعتی ذرائع بھی اس بات کی تصدیق کر رہےہیں
    کہ پٹرولیم مصنوعات میں کمی کی امید ہے۔پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی سے صرف عوام کو نہیں بلکہ حکومت کو بھی فائدہ ہوگا
    کیونکہ شتہ10دنوں میں پی او ایل کی قیمتوں میں بڑے پیمانے پر کمی اور ایران سے اسمگل شدہ پی او ایل مصنوعات کی آمد روکنے کی وجہ سے پیٹرولیم مصنوعات کی کھپت میں اضافہ ہوگا۔اور اگر کھپت میں اضافہ ہو گا تو حکومت کو پٹرولیم لیوی کی مد میں زیادہ پیسے اکھٹے ہو ں گے۔حکومت پیٹرول اور ڈیزل پر پیٹرولیم لیوی کے طور پر 60روپے فی لیٹر بھی وصول کر رہی ہے جبکہ ڈیلرز کو دونوں مصنوعات پر 8.64فی لیٹر کا مارجن مل رہا ہے۔

    ذرائع کا کہنا ہے کہ مذکورہ امدادی منصوبوں پر ابتدائی تخمینوں کے مطابق بین الاقوامی منڈی میں پی او ایل مصنوعات کی گزشتہ 10دنوں کی تجارت کو مدنظر رکھتے ہوئے کام کیا گیا ہے۔
    تاہم اگلے دو دنوں میں ریلیف کے بارے میں تخمینہ مزید پختہ ہو جائے گا۔
    یاد رہے کہ اس وقت حکومت پیٹرول اور ڈیزل پر پیٹرولیم لیوی کے طور پر 60روپے فی لیٹر بھی وصول کر رہی ہے
    جبکہ ڈیلرز کو دونوں مصنوعات پر 8.64فی لیٹر کا مارجن مل رہا ہے۔تاہم ضلعی مارجن (اضافی مارجن سمیت) پٹرول اور ڈیزل پر فی لیٹر 7.87روپے بھی وصول کیے جاتے ہیں۔

  • کراچی میں نویں جماعت کا کیمسٹری کا پرچہ آؤٹ

    کراچی میں نویں جماعت کا کیمسٹری کا پرچہ آؤٹ

    (سنگ میل نیوز) کراچی میں میٹرک امتحانات جاری، نویں جماعت کا کیمسٹری کا پرچہ شروع ہونے سے 40 منٹ پہلے سوشل میڈیا کی زینت بن گیا۔ تفصیلات کے مطابق کراچی میں اکثر امتحانی مراکز میں اُساتذہ کی نگرانی میں نقل کی دھوم مچی ہوئی ہے، نویں جماعت کا پیپر کیمسٹری وقت سے 40 منٹ پہلےہی واٹس اپ گروپ میں آگیا.

    خیال رہے کہ گزشتہ 7روز سے پرچہ آؤٹ ہونے کا سلسلہ جاری ہے، اس سے قبل نویں جماعت کا فزکس کا حل شدہ پرچہ بھی سوشل میڈیا پر وائرل ہوگیا تھا .

    جبکہ نویں اور دسویں جماعت کے دیگر پرچے بھی وائرل ہوچکے ہیں۔
    بورڈ انتظامیہ نقل مافیا کے آگے بے بس ہوگئی ہے۔

    انتظامیہ یا تعلیمی بورڈ کی جانب سے اس حوالے سے کوئی خاص اقدامات نہیں کیے جارہے اور ایسے پرچے آؤٹ ہونا معمول بن چکا ہے۔
    اس صورتحال میں امتحانات کو لیکر ایسی سرگرمیاں طلباء کےمستقبل پر سوالیہ نشان ہیں۔
    میٹرک بورڈ کےقائم مقام ناظم امتحانات انتظامات کرنے میں ناکام ہو گئے ہیں۔

  • قومی اسمبلی اجلاس :ماحول کے ساتھ تقاریر میں بھی گرمی،اراکین میں نوک جھونک

    قومی اسمبلی اجلاس :ماحول کے ساتھ تقاریر میں بھی گرمی،اراکین میں نوک جھونک

    کل جس طرح خواجہ آصف نے اسپیکر کے ساتھ بات کی ہم اس کی مذمت کرتے ہیں، اسد قیصر،خواجہ آصف نے مجھ پر ذاتی حملہ کیا، عمر ایوب

    (عثمان خان)قومی اسمبلی کا اجلاس سپیکر ایاز صادق کے زیرصدارت  شروع ہوگیا ۔اسلام آباد کے موسم کی طرح ارکان اسمبلی کی تقاریر میں بھی گرمی آگئی ،حکومتی اور اپوزیشن اراکین میں نوک جھونک جاری ہے۔

     

    قومی اسمبلی کا اجلاس اسپیکر ایاز صادق کی زیر صدارت شروع ہوا۔ اس دوران پاکستان تحریک انصاف کے رہنما اسد قیصر نے اپنے خطاب میں کہا کہ کل جس طرح خواجہ آصف نے اسپیکر کے ساتھ بات کی ہم اس کی مذمت کرتے ہیں، خواجہ آصف 80 سال کے بزرگ اور سینئر پارلیمنٹیرین ہیں لہذا انہیں اس بات کا احساس ہونا چاہیے اورانہیں برداشت کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔

     

    اسد قیصر نے فاٹا سے متعلق بات کرتے ہوئے کہا کہ پارلیمنٹ کی تمام جماعتوں نے متفقہ طور پر فاٹا کو ٹیکس چھوٹ دی تھی اور یہ سہولیت انہیں اس لیے دی گئی تھی تاکہ وہ ملک کے دیگر علاقوں کی برابری کرسکیں لیکن افسوس انہیں بنیادی حقوق سے محروم رکھا گیا۔ ہم کسی کی زور زبردستی نہیں مانتے، چاہے وہ ہمارا باپ ہی کیوں نہ ہو۔

     

    انہوں نے کہا کہ فاٹا ایک جنگ زدہ علاقہ رہا ہے لیکن اب تک انہیں کوئی ہسپتال یا کالج نہیں دیا گیا جب کہ اس علاقے میں کسی قسم کے ترقیاتی کام بھی نہیں ہورہے، جس کا مطلب وہاں بے روزگاری پیدا ہوگی اور عوام میں مایوسی پیدا ہوگی۔ ایسے میں وہ دیگر علاقوں کی برابری کیسے کرسکتے ہیں اور اب اگر ان پر ٹیکس لاگو کردیا گیا تو یہ ان کے ساتھ زیادتی ہوگی۔ فاٹا سے متعلق کہا جاتا ہے کہ وہ ٹیکس نہیں دیتے، حالانکہ میرے پاس تمام اعدادو شمار موجود ہیں، فاٹا سے تقریباً 70 ارب روپے ٹیکس کی مد میں وصول کیے جارہے ہیں لیکن فاٹا کو ضم کرتے وقت جو وعدہ کیا گیا تھا کہ 3 فیصد وفاق اور صوبہ دے گا جس میں سے ابھی تک ایک پیسہ بھی نہیں دیا گیا۔

     

    .اس قیصر نے اسپیکر سے اپیل کی کہ وہ اس معاملے پر ایک کمیٹی بنائیں تاکہ اس پر بحث کی جاسکے اور اس میں فاٹا کی نمائندگی بھی شامل کی جائے

     

    قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف عمر ایوب نے گزشتہ روز خواجہ آصف کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ خواجہ آصف نے گزشتہ روز میرے دادا اور میرے خاندان کا نام لیکر غیر پارلیمانی الفاظ کا استعمال کیا اور انہوں نے شاید تاریخ درست طریقے سے نہیں پڑھی اس لیے کچھ درستگی کرنا چاہتا ہوں۔ ان کے اطراف میں بیٹھے افراد مختلف جماعتوں میں شامل رہے ہیں جو اب مسلم لیگ ن کا حصہ ہیں جب کہ خواجہ آصف صاحب ریحانہ ڈار صاحبہ سے شکست کھانے کے بعد بوکھلائے ہوئے ہیں اور ان کے والد ۔۔۔ اس دوران اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق نے انہیں مزید بات کرنے سے روک دیا اور کہا کہ اس طرح نہ کریں جو لوگ وفات ہوچکے ہیں ان کا تذکرہ نہ کریں اور اجلاس کو آگے چلنے دیں۔

     

    اس سے قبل قومی اسمبلی سیکرٹریٹ کی جانب سے ایجنڈا  جاری کیا گیا ۔ایجنڈے کے مطابق  طلباء طالبات کی بسز کو پنک بس میں تبدیل کرنے سے متعلق توجہ دلائو نوٹس پر بحث ہوگی،اسی طرح ایجنڈے میں قرارداد ، تحریک تشکر اور نکتہ ہائے اعتراض سمیت توجہ دلائونوٹس شامل ہیں۔
    ممبران اسمبلی کی جانب سے طلباء کو لانے اور لے جانے والی بسوں کی بندش اور بیس بسوں کو پنک بسوں میں تبدیل کرنے کا معاملہ اٹھایا جائےگا،وفاقی تعلیمی اداروں میں اساتذہ کی خالی اسامیوں کا معاملہ بھی توجہ دلائو نوٹس میں شامل ہے،وفاقی وزیر تعلیم توجہ دلائو نوٹس پر جواب دیں گے۔

  • کراچی سے لاہور آنے والی عوام ایکسپریس حادثے کا شکار

    کراچی سے لاہور آنے والی عوام ایکسپریس حادثے کا شکار

    (سنگ میل نیوز) کراچی سے لاہور آنے والی عوام ایکسپریس کو حادثہ پیش آیاہے ۔
    تفصیلات کے مطابق رائیونڈ کے علاقے جیا بگا کے قریب پھاٹک پر ٹریکٹر ٹرالی انجن سے ٹکرا گئی ،
    جس کے نتیجے میں ٹریکٹر ٹرالی مکمل طور پر تباہ ہوگئی۔
    حادثے میں انجن کو بھی جزوی طور پر نقصان ہوا تاہم کوئی جانی نقصان نہیں ہوا ہے ،
    ریلوے حکام اپ لائن کلیئر کرنے میں مصروف ہیں ۔