Deprecated: Creation of dynamic property EPS_Redirects_Plugin::$settings is deprecated in /home2/sangemee/public_html/wp-content/plugins/eps-301-redirects/plugin.php on line 55

Warning: Cannot modify header information - headers already sent by (output started at /home2/sangemee/public_html/wp-content/plugins/eps-301-redirects/plugin.php:55) in /home2/sangemee/public_html/wp-content/themes/twentytwentyfive/functions.php on line 296
دلچسپ و عجیب – Page 40 – Sange Meel News: Latest news, breaking news, Pakistan

Category: دلچسپ و عجیب

  • تقریباً32 فِٹ لمبی یونی سائیکل کی سواری کا گینیز ورلڈ ریکارڈ

    تقریباً32 فِٹ لمبی یونی سائیکل کی سواری کا گینیز ورلڈ ریکارڈ

    لندن: امریکا میں ایک شخص نے 31 فٹ اور 10 انچ لمبی ایک پہیے کی سائیکل بنا کر سواری کر کے گینیز ورلڈ ریکارڈ اپنے نام کرلیا۔

    گینیز ورلڈ ریکارڈز کے مطابق امریکی ریاست فلوریڈا سے تعلق رکھنے والے ویسلے ولیمز کی تازہ ترین یونی سائیکل نے ان کا اپنا ہی ریکارڈ توڑ دیا۔

    ویسلے نے یہ ریکارڈ اسپینز گاٹ ٹیلنٹ 2021 میں پیش آنے والے ایک حادثے کے ایک سال بعد بنایا ہے۔ ویسلے 27 فٹ کی اونچائی سے گرے تھے اور ان کی کمر میں چوٹ آئی تھیں جس کی پانچ بار سرجری کی گئی تھی۔
    گینیز ورلڈ ریکارڈ حاصل کرنے کے لیے ویسلے کو ان کی بلند یونی سائیکل کم از کم 27 فِٹ اور 10 انچ کے فاصلے تک چلانی تھی اور یہ کامیاب کوشش انہوں نے جرمنی کے شہر اسسٹ گارٹ میں 29 دسمبر ہونے والے ایک سرکس میں کی۔

  • چیونٹیاں مریضوں میں کینسر کی تشخیص کر سکتی ہیں، تحقیق

    چیونٹیاں مریضوں میں کینسر کی تشخیص کر سکتی ہیں، تحقیق

    پیرس: سائنس دانوں کو ایک تحقیق میں معلوم ہوا ہے کہ چونٹیاں پیشاب کو سونگھ کر کینسر کی نشان دہی کر سکتی ہیں۔

    ماضی کی تحقیقوں میں یہ بات سامنے آ چکی ہے کہ مختلف اقسام کے کینسر پیشاب کی بو کو بدل دیتے ہیں لیکن ماہرین کے سامنے یہ بات پہلی بار آئی ہے کہ چینٹیوں میں کینسر تشخیص کرنے کی یہ صلاحیت موجود ہے۔

    جرنل پروسیڈنگز آف دی رائل سوسائٹی بی: بائیولوجیکل سائنسز میں شائع ہونے والی تحقیق میں سائنس دانوں نے بتایا کہ چیٹیوں کو مریضوں میں کینسر کی تشخیص کے لیے سستے طریقے کے طور پر استعمال کیا جاسکتا ہے۔
    فرانس کی سوربان پیرس نورڈ یونیورسٹی کی پروفیسر اور تحقیق کی مصنفہ پیٹریزیا ڈیٹورے نے بتایا کہ چیونٹیوں کو صحت مند افراد اور کینسر کے مریضوں کے درمیان فرق کرنے کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے۔ ان کی تربیت کرنا آسان ہے، یہ تیزی سے سیکھتی ہیں، بہت کارآمد ہوتی ہیں اور ان کو رکھنا مہنگا نہیں ہوتا۔

    یہ تحقیق پروفیسر ڈیٹورے اور ان کے ساتھیوں کی گزشتہ تحقیق پر مبنی ہے جس میں دیکھا گیا تھا کہ چیونٹیاں لیب میں بنائے گئے کینسر کے خلیوں کو سونگھنےکی صلاحیت رکھتی ہیں۔

    حال میں کی جانے والی تحقیق میں محققین نے 70 چیونٹیوں کو کینسر کی رسولیوں اور بغیر کینسر والے چوہوں کا پیشاب سُنگھایا۔

    تین تجربوں کے بعد چیونٹیوں میں یہ صلاحیت پیدا ہوگئی کہ وہ صحت مند چوہوں اور کینسر زدہ چوہوں کے درمیان فرق کر سکیں۔

  • مصالحوں سے بنی سب سے بڑی تصویر کا گینیز ورلڈ ریکارڈ

    مصالحوں سے بنی سب سے بڑی تصویر کا گینیز ورلڈ ریکارڈ

    برٹش کولمبیا: کینیڈا کے ایک فنکار نے مصالحوں سے 908.39 مربع فِٹ بڑی تتلی کی تصویر بنا کر گینیز ورلڈ ریکارڈ اپنے نام کرلیا۔

    کینیڈا کے صوبے برٹش کولمبیا کے شہر سرے سے تعلق رکھنے والی پریتی وجے نے ہلدی، پیپریکا اور لونگ کا استعمال کرتے ہوئے ایک تصویر بنائی جس کے متعلق گینیز ورلڈ ریکارڈز نے تصدیق کی کہ یہ مصالحوں سے بنائی گئی دنیا کی سب سے بڑی تصویر ہے۔

    سابق سافٹ ویئر انجینئر پریتی وجے نے پینٹنگ کرنا خود سیکھا اور اب وہ اپنا کام سوشل میڈیا پر فروخت کرتی ہیں۔
    پریتی کا کہنا تھا کہ وہ کافی کے ساتھ کام کرنا پسند کرتی ہیں۔ ایک دن اچانک انہیں ہلدی، پیپریکا جیسے مصالحہ جات کے ساتھ کام کرنے کا خیال آیا۔

    انہوں نے کہا کہ مصالحوں سے بنی ریکارڈ ساز پینٹنگ کے لیے کپڑا ان کے آبائی گھر چنئی، بھارت، سے آیا تھا اور ان کی تصویر کے لیے تقریباً پانچ کلو گرام وزنی مصالحوں کا مرکب استعمال کیا گیا۔

  • چین نے 70 منزلہ بلند ہوائی ٹربائن بنانے کا اعلان کردیا!

    چین نے 70 منزلہ بلند ہوائی ٹربائن بنانے کا اعلان کردیا!

    بیجنگ: چین نے سمندر میں دنیا کی سب سے بلند ہوائی ٹربائن بنانے کا اعلان کیا ہے جو 70 منزل سے بھی اونچا ہوگا اور ایک ٹربائن ٹاور لگ بھگ 18 میگا واٹ بجلی بناسکے گا۔

    ہر مرتبہ گھومنے پر یہ ونڈ ٹربائن نیشنل فٹ بال لیگ کے 12 میدانوں کے برابر وسیع ہوگی اور اس کی تینوں پنکھڑیوں کی لمبائی 128 میٹر ہوسکتی ہے۔ اس طرح سیارہ زمین پر یہ سب سے بڑی ونڈ ٹربائن ہوگی۔ اس کا تکنیکی نام مِنگ یانگ ایم وائی اس ای 16.0-242 رکھا گیا ہے۔

    اسے سمندر میں نصب کیا جائے گا اور خاص طور پر شدید ہواؤں کو برداشت کرنے کے لیے بنایا گیا ہے۔ اگر ہوا 56 میٹر فی سیکنڈ کی تیزترین ہوا (بلکہ طوفان) بھی ہو اسے بھی یہ برداشت کرسکے گی۔ تاہم اگر ہوا کی رفتار 8.5 میٹر فی سیکنڈ سے بڑھ جائے تو اس کی پنکھڑیاں گھومنے لگتی ہیں اور بجلی کی پیداوار شروع ہوجاتی ہے۔ اگرچہ یہ ایک وقت میں 18 میگاواٹ بجلی بناسکتی ہے لیکن پورے سال 80 گیگا واٹ آور بجلی ایک ٹاور سے حاصل کی جاسکتی ہے۔
    اس جناتی ونڈ ٹربائن کو سمندر کنارے لگانا بہت بڑا اور مہنگا چیلنج بھی ہوگا۔ تاہم وقت ہی بتائے گا کہ یہ منصوبہ کس طرح عمل سے گزرتا ہے۔