Deprecated: Creation of dynamic property EPS_Redirects_Plugin::$settings is deprecated in /home2/sangemee/public_html/wp-content/plugins/eps-301-redirects/plugin.php on line 55

Warning: Cannot modify header information - headers already sent by (output started at /home2/sangemee/public_html/wp-content/plugins/eps-301-redirects/plugin.php:55) in /home2/sangemee/public_html/wp-content/themes/twentytwentyfive/functions.php on line 296
دلچسپ و عجیب – Page 39 – Sange Meel News: Latest news, breaking news, Pakistan

Category: دلچسپ و عجیب

  • چین میں ایشیاء کا بلند ترین درخت دریافت

    چین میں ایشیاء کا بلند ترین درخت دریافت

    بیجنگ: چین میں محققین نے ایک صنوبر کا درخت دریافت کیا ہے جو ایشیاء کا پہلا اور دنیا کا دوسرا بلند ترین درخت ہے۔

    چائنیز اکیڈمی آف سائنسز کے محققین کے مطابق تبت کے علاقے نائینگچی سٹی میں دریافت ہونے والا یہ درخت 335 فٹ سے زیادہ بلند اور تقریباً 9.2 فٹ چوڑا ہے۔

    اس درخت کی نسل فی الحال واضح طور پر معلوم نہیں لیکن چینی میڈیا کے مطابق یہ درخت ہمالیائی صنوبر یا تبتی صنوبر ہوسکتا ہے۔

    گزشتہ سال سے اب تک ایشیاء کے بلند ترین درخت کا ریکارڈ کئی درختوں کے پاس جا چکا ہے۔گزشتہ برس اپریل میں پیکنگ یونیورسٹی کے سائنس دانوں نے تبت کی میڈوگ کاؤنٹی میں 252 فٹ بلند درخت دریافت کیا تھا، جس کے پاس کچھ عرصے تک چین کے بلند ترین درخت کا اعزار رہا تھا۔

    null
    اس ہی سال زایو کاؤنٹی میں ملنے والے 274 فٹ بلند درخت نے یہ ریکارڈ اپنے نام کیا۔ بعد ازاں یہ ریکارڈ ملائشیا کے 331 فٹ بلند درخت کے نام رہا اور گزشتہ مہینے 335 فٹ بلند اس درخت نے اس فہرست میں ایک بار پھر تبدیلی دہرا دی۔

  • پاکستانی ماہرین نے پھلوں کو کھولے بغیر مٹھاس بتانے والے نظام تیار کرلیا

    پاکستانی ماہرین نے پھلوں کو کھولے بغیر مٹھاس بتانے والے نظام تیار کرلیا

    کراچی: پاکستانی سائنسدانوں کی ٹیم نے مصنوعی ذہانت (آرٹفیشل انٹیلیجنس یا اے آئی) اور بصری خواص کی بنا پر نارنگی اور کینو جیسے سِٹرس پھلوں کو کھولے بغیر ان کی مٹھاس معلوم کرنے کا ایک طریقہ وضع کیا ہے۔ یہ نظام 80 فیصد درستگی کے ساتھ ان مٹھاس کی پیشگوئی کرسکتا ہے۔

    نیشنل یونیورستی برائے سائنس و ٹیکنالوجی (نسٹ) کے قومی مرکز برائے روبوٹکس اور آٹومیشن سے وابستہ ڈاکٹر عائشہ زیب کی نگرانی میں کئی جامعات اور انسٹی ٹیوٹ کے ماہرین نے یہ اہم کام انجام دیا ہے جس میں نارنگیوں اور اس سے وابستہ پھلوں کو نقصان پہنچائے بغیر اس کا ذائقہ معلوم کیا جاسکتا ہے۔

    انفراریڈ روشنی سے پھلوں کا تعین
    پہلے مرحلے میں ماہرین نے ضلع چکوال کے ایک فارم سے موسمبی، سرخ نارنگی اور مٹھے کے 92 پھل توڑے۔ ان پھلوں کا چھلکا اوسط 6 ملی میٹر موٹا تھا۔ ہرنمونے کی دونوں جانب دائرے میں نشان لگائے گئے اور ایک دستی اسپیکٹرومیٹر(طیف پیما) سے عین دائروں والی جگہ سے ہر پھل کا طیف (اسپیکٹرم) معلوم کیا گیا۔

    اس کے لیے تجارتی طور پر دستیاب ایف 750 طیف پیما استعمال کیا گیا تھا جو قریب زیریں سرخ (نیئرانفراریڈ) روشنی خارج کرتا ہے۔ یہ روشنی پھل کے اندر جاتی ہے اور وہاں سے منعکس ہوکر لوٹتی ہے اور یوں طیف کا ایک پیٹرن بنا جسے نوٹ کرلیا گیا۔ اس طرح معیاربندی (کیلبریشن) میں 64 پھل استعمال کئے گئے جبکہ 28 پھل پیشگوئی کے لیے استعمال کئے گئے اور ان دونوں میں ہی اسپیکٹرومیٹر کو بطور فروٹ میٹر استعمال کیا گیا۔

    لیکن پہلے یہ جان لیجئے کہ طیف نگاری (اسپیکٹرواسکوپی) کیا ہے اور اس کی کیا اہمیت ہے؟

    ہرجاندار اور بے جان شے روشنی جذب کرتی، خارج کرتی ہے یا منعکس کرتی ہے۔ اس روشنی سے کسی شے کا احوال معلوم کرنا طیف نگاری ہے جو اب بے حد کارآمد عمل بن چکا ہے۔ لیکن ٹھہریئے کہ ہماری آنکھ طیف یا ریڈی ایشن (اشعاع) کا بہت ہی معمولی حصہ دیکھ سکتی ہے جسے مرئی روشنی یا وزیبل لائٹ کہا جاتا ہے۔ جبکہ ایکس رے، انفراریڈ اور الٹراوائلٹ وغیرہ جیسے گوشے یکساں طورپراہمیت رکھتی ہیں لیکن ہم انہیں نہیں دیکھ سکتے۔ روزمرہ زندگی میں اسپیکٹرواسکوپی ہمیں دماغ کی معمولی سی رسولی سے آگاہ کرتی ہے تو ساتھ میں لاکھوں نوری سال کے فاصلے پر موجود کسی کہکشاں کا احوال بھی بتاتی ہے۔

    اگرچہ پھلوں کا معیار معلوم کرنے میں طیف نگاری کا استعمال برسوں سے جاری ہے، تاہم پاکستانی سائنسدانوں نے اس سے مقامی نارنگیوں کی مٹھاس معلوم کرنے کے لیے استعمال کیا ہے۔ دوم اس طریقے میں براہِ راست مٹھاس معلوم کرنے میں کامیابی ملی ہے جو ایک اہم پیشرفت بھی ہے۔

    روایتی کیمیائی اور حسی تجزیہ

    سائنسی طور پر سینکڑوں منفرد کیمیکل مل کر کسی پھل کو ذائقے دار بناتے ہیں۔ لیکن عام طور پر برکس ایک ایسا پیمانہ ہے جس میں کسی پھل میں موجود مختلف اقسام کی شکروں کی مقدار دیکھی جاتی ہے۔ آم ہو یا کینو، اسی مٹھاس کی بہتات پر قابلِ نوش قرار پاتا ہے۔ لیکن دوسری جانب نارنگی وغیرہ میں کھٹے پن کی پیمائش کے لکے دیکھا جاتا ہے کہ اس میں ٹائٹریبل ایسیڈٹی (ٹی اے) کی مقدار کتنی ہے۔ یہ پیمانہ کسی پھل میں سِٹرک ایسڈ کی مقدار بتاتا ہے۔

    سائنسدانوں نے پہلے این آئی آر اسپیکٹرواسکوپی سے پھلوں کے نمونوں کی پیمائش کرکے ریڈنگ حاصل کی۔ اس کے بعد روایتی کیمیائی اور چکھنے کے عمل سے برکس، ٹی اے اور پھل کی مٹھاس (زبان کے ذریعے) معلوم کی گئی تاکہ اسے حوالہ جاتی (ریفرنس) ڈیٹا کے طور پر استعمال کیا جاسکے۔ اس بار پھل کو اسی نشان زدہ دائروں سے کاٹا گیا جہاں سے پہلے اسپیکٹرم لیا گیا تھا۔ اس کے بعد اسی مقام سے پھلوں کو کاٹا گیا اور گودا نکال کر تجربہ گاہ میں اس کی کیمیائی پیمائش کی گئی۔ اس کے ساتھ ساتھ انسانی رضاکاروں کو بطور جج بنایا گیا تاکہ وہ اسے چکھ کر پھیکا، میٹھا اور زائد میٹھا ہونے کی درجہ بندی کرسکیں۔

    اے آئی ماڈلنگ

    ’اس طرح سے ہم نے پہلے کئی پھلوں کے طیف حاصل کئے، پھر برکس اور ٹی اے کے حوالے معلوم کئے اور ہر ایک پھل کے لیے مٹھاس کا لیبل بھی لگایا گیا جس میں انسانی حسیات بھی شامل تھیں۔ اس کے بعد ایک اے آئی الگورتھم (کمپیوٹرسافٹ ویئر) میں 128 نمونوں کا ڈیٹا ڈال کر اسے اس قابل بنایا گیا کہ وہ نئے ان پٹ ڈیٹا (جو تربیتی ڈیٹا کا حصہ نہ ہو) کی درست پیشگوئی کرسکے۔ اس موقع پر اے آئی ماڈل نے شاندار نتائج سامنے آئے اور اس نے پھلوں کی مٹھاس کا درست اندازہ لگایا،‘ ڈاکٹر عائشہ زیب نے ایکسپریس سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا۔

    ماڈل کی تربیت

    ماڈل کی تربیت کے بعد ماہرین نے 48 نئے پھلوں کا ڈیٹا اس میں شامل کیا۔ واضح رہے کہ اس بار صرف طیف (اسپیکٹرم) شامل کئے گئے تاکہ وہ تمام 48 پھلوں کی برکس، ٹی اے اور مٹھاس کی پیشگوئی کرسکے۔ ممکنہ مٹھاس کا تخمینہ معلوم کرکے ماہرین نے اس ’ٹیسٹ ڈیٹا‘ میں شامل تمام پھلوں کو تجربہ گاہی ٹیبل پر رکھا۔ انہیں کاٹا اور انہیں چکھنے کے علاوہ کیمیائی طریقہ کار سے بھی آزمایا۔ اس بار بھی ٹی اے، برکس اور مٹھاس پیشِ نظر تھا۔ یوں پھل کو کھول کر اصل کھٹاپن، مٹھاس اور ذائقہ معلوم کیا گیا اور اس کا موازنہ ان نتائج سے کیا گیا جس کی جانب اے آئی ماڈل نے اشارہ کیا تھا۔

  • ’’لاک ڈاؤن کے بعد جاپان میں بچوں کے رونے کا مقابلہ پھر شروع‘‘

    ’’لاک ڈاؤن کے بعد جاپان میں بچوں کے رونے کا مقابلہ پھر شروع‘‘

    ٹوکیو: کورونا وبا اور لاک ڈاؤن کے بعد اب جاپان میں بچوں کو رلانے کا عجیب و غریب مقابلے کا دوبارہ انعقاد ہوا ہے جسے ’رونے کا سومو مقابلہ‘ کہا جاتا ہے۔

    کوئی چار برس بعد یہ مقابلہ دوبارہ منعقد کیا گیا جس بچوں کو اس لیے رلایا جاتا ہے کہ اس طرح رونے سے ان کی صحت اچھی رہتی ہے اور وہ مطمئین رہتے ہیں۔ اس کے لیے بچوں کو باقاعدہ ڈرا کر رلایا جاتا ہے۔

    انتظامیہ کا عملہ ’اونی‘ نامی عفریت کا ماسک بہنتا ہے اور بچوں کو سومو پہلوانوں کا لباس پہناکر انہیں ڈراؤنے چہرے والے افراد کے سامنے پیش کیا جاتا ہے۔ اس بار یہ مقابلہ ٹوکیو میں واقع سینسوجی کے مندر میں منعقد کیا گیا تھا۔

    اس دوران ریفری باریک لکڑی کا پنکھا ہاتھ میں رکھتا ہے اور جو بچہ پہلے روتا ہے وہی فاتح قرار پاتا ہے۔ ریفری لکڑی کا پنکھا لہرا کر بچے کی جیت کا اعلان کرتا ہے۔

    ایک آٹھ ماہ کی بچی کی ماں نے بتایا کہ جاپانی بچوں کے رونے سے ان کی صحت کا اندازہ لگاسکتے ہیں۔ انہوں ںے بتایا کہ ان کی بیٹی آج کھل کر نہیں روئی۔

    واضح رہے کہ تھوڑی بہت تبدیلی کے ساتھ کے ’کرائنگ سومو‘ جاپان کے ہر علاقے میں منعقد ہوتے ہیں۔ انتظامیہ کے مطابق کچھ لوگ اس تہوار پر تنقید کرتے ہیں لیکن جاپانی تہذیب میں جو بچے کھل کر اور چیخ کر روتے ہیں ، زندگی بھر وہ دوسروں کے مقابلے میں قدرے تندرست رہتے ہیں۔

    مقابلے میں کسی بچے کو پہلے یا کسی بچے کو سب سے آخر میں رونے پر فاتح قرار دیا جاتا ہے کیونکہ ہر مقام کے اصول مختلف ہوسکتے ہیں۔

  • خونخوار ڈائنوسار کا ڈھانچہ 50 لاکھ 30 ہزار ڈالرز میں فروخت

    خونخوار ڈائنوسار کا ڈھانچہ 50 لاکھ 30 ہزار ڈالرز میں فروخت

    برن: خونخوار ترین شکاری ڈائنوسار Tyrannosaurus rex (ٹی-ریکس) کا ڈھانچہ نیلامی کے دوران 50 لاکھ 30 ہزار ڈالرز میں فروخت ہوگیا۔

    ٹی-ریکس کی تقریباً 300 ہڈیاں جو امریکا میں تین مقامات سے کھود کر ایک ہی ڈھانچہ میں جمع کی گئی تھیں، سوئٹزرلینڈ میں ایک نیلامی میں5.3 ملین ڈالرز میں فروخت ہوئیں۔

    ڈائنوسار کی ہڈیوں کو 38 فٹ لمبا اور 12.8 فٹ اونچے ڈھانچے میں جمع کیا گیا تھا۔ نیلام گھر نے بتایا کہ یہ پہلا موقع تھا کہ اس طرح کا ٹی ریکس ڈھانچہ یورپ میں نیلامی کے لیے پیش کیا گیا۔
    نیلام گھر کے مارکیٹنگ ڈائریکٹر کارل گرین نے کہا یہ مناسب قیمت ہے۔ مجھے امید ہے کہ یہ کہیں عوامی کیلئے بطور نمائش کے رکھا جائے گا۔ خریدار کے حوالے سے گرین نے شناخت ظاہر کرنے سے انکار کردیا تاہم انہوں نے کہا کہ خریدار یورپی نجی کلکٹر تھا۔

  • جان بچانے والے محسن کو عرصے بعد دیکھ کر پرندہ جذباتی ہوگیا

    جان بچانے والے محسن کو عرصے بعد دیکھ کر پرندہ جذباتی ہوگیا

    اترپردیش: بھارت میں ایک شہری نے خطرے سے دوچار پرندے کونج کو بچایا جس کے بعد پرندے نے اپنے محسن کے ساتھ ساتھ رہنا شروع کردیا۔

    بھارتی ریاست اتر پردیش کے شہر امیٹھی سے تعلق رکھنے والے محمد عارف نامی شخص نے خطرے سے دوچار کونج کو بچا کر اس کی صحت بحال کی جس کے بعد کونج نے عارف کا پورے قصبے میں پیچھا کرنا شروع کر دیا اور ان کی ویڈیوز وائرل ہو گئیں۔

    دوسری جانب جب معاملہ بھارتی محکمہ جنگلات کے علم میں آیا تو انہوں نے پرندے کو عارف سے الگ کردیا مگر کونج اپنے محسن کو نہیں بھولا۔ دونوں کی علیحدگی کے بعد انٹرنیٹ صارفین حکومت سے عارف اور کونج کو دوبارہ ملانے کی درخواست کرتے رہے اور آخر کار اُن کی التجائیں رنگ لے آئیں۔

    ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ پندرہ دن بعد جب محمد عارف نے کانپور کے چڑیا گھر کا دورہ کیا تو پنجرے میں بند کونج کے ردعمل نے سب کا دل پگھلا دیا اور دیکھتے ہی دیکھتے ویڈیو نے ٹویٹر اور دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر ایک بار پھر صارفین کی توجہ حاصل کرلی۔

  • جاپانی جزیرے پر بنے اسکول کی واحد طالبہ کی گریجویشن مکمل

    جاپانی جزیرے پر بنے اسکول کی واحد طالبہ کی گریجویشن مکمل

    کاگاوا، جاپان: ایک 15 سالہ لڑکی جو کہ جاپان کے دور دراز اوتیشیما جزیرے پر بنے واحد کالج کی اکلوتی طالبہ تھیں، نے 9 سال بعد اپنی گریجویشن مکمل کرلی۔

    جاپانی میڈیا کے مطابق اکینو اماناکا جو مغربی جاپان کے ایک دور دراز جزیرے پر واقع اپنے کالج کی اکلوتی طالبہ تھیں جنہوں نے اس موسم بہار میں اکیلے گریجویشن کرنے پر اپنے اساتذہ، خاندان اور مقامی لوگوں کا شکریہ ادا کیا۔

    مغربی جاپان میں کاگاوا شہر کے ساحل سے 15 کلومیٹر دور واقع اوتیشیما جزیرہ اسی شہر کا حصہ ہے جس کا رقبہ 0.6 مربع کلومیٹر اور ساحلی پٹی تقریباً 3.8 کلومیٹر پر پھیلی ہوئی ہے۔
    اس جزیرے پر 34 افراد رہائش پذیر تھے۔ ماہی گیری جزیرے پر رہنے والوں کی اہم ذریعہ آمدنی ہے تاہم جزیرے کو عمر رسیدہ آبادی کا سامنا ہے۔ ایماناکا اس جزیرے کی 18 سال سے کم عمر والی واحد رہائشی ہیں۔

    کالج میں اپنے گزشتہ 9 سالوں کی عکاسی کرتے ہوئے ایماناکا نے کہا کہ یہ وقت بہت جلدی گزر گیا اور پتہ نہیں چلا۔ انہوں نے کہا کہ میں شکر گزار ہوں کہ مجھے اپنے کالج کی زندگی سے لطف اندوز ہونے کا موقع ملا۔ اپنے اساتذہ، میرے خاندان اور جزیرے کے لوگوں کے تعاون کا بہت بہت شکریہ۔

  • ایک گھر میں تین بیویاں، اٹھارہ اٹھارہ بچے، مردم شماری کرنے والی خاتون اہلکار پریشان

    ایک گھر میں تین بیویاں، اٹھارہ اٹھارہ بچے، مردم شماری کرنے والی خاتون اہلکار پریشان

    اسلام آباد: ملک بھر میں مردم شماری کاعمل خوش اسلوبی سے جاری ہے وہیں مردم شماری کے دوران بہت سی دلچسپ ویڈیوز اورآڈیوز بھی سامنے آرہی ہیں۔

    ایسی ہی سرائیکی زبان میں مردم شماری کے حوالے سے ایک آڈیو لیک ہوئی ہے جس میں خاتون ورکر ایک گھر کا حوالہ دیتے ہوئے کہہ رہی ہے کہ ایک گھر میں تین بیویاں رہائش پذیر ہیں اور اٹھارہ اٹھارہ بچے ہیں۔

    سرائیکی زبان کی اس دلچسپ آڈیو میں مردم شماری والی خاتون ورکر نے کہا ہے کہ ایک ہی گھر میں تین بیویاں اور ان کے اٹھارہ اٹھارہ بچے ہیں جن کے اندراج کے لیے آج کا پورا دن لگے گا۔
    خاتون نے آڈیو میں کہا ہے کہ بچوں میں سے جن کی شادیاں ہوئی ہیں ان کے بھی اٹھارہ اٹھارہ بچے ہیں۔ اس لئے شاید آج مجھے پورا دن اس گھر کے افراد کی شماری کرتے ہوئے لگ جائے گا۔ اس لئے مجھے سے کوئی شکو ہ نہ کیجئے گا.

  • بیٹے کی ویڈیو گیمز کھیلنے کی عادت چھڑانے کیلیے باپ کی ’سخت سزا‘ کام کرگئی

    بیٹے کی ویڈیو گیمز کھیلنے کی عادت چھڑانے کیلیے باپ کی ’سخت سزا‘ کام کرگئی

    بیجنگ: چین میں باپ نے اپنے بیٹے کی ویڈیو گیم کھیلنے کی عادت کو ختم کرانے کے لیے قدرے ظالمانہ قدم اُٹھایا جس پر بیٹا کم سے کم اسکرین ٹائم کے لیے راضی ہوگیا۔

    عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق چین میں ایک شخص نے 11 سالہ بیٹے کو سزا کے طور پر مسلسل 17 گھنٹے تک بغیر رُکے ویڈیو گیمز کھیلنے پر مجبور کردیا یہاں تک کہ وہ رونے لگا اور اس نے اسکرین ٹائم کو محدود کرنے کا وعدہ کرلیا۔

    یہ معاملہ تب شروع ہوا جب بچے کی اس عادت سے پریشان باپ نے بار بار منع کرنے کے اور سمجھانے کے باوجود بیٹے کو رات ڈیڑھ بجے بھی چادر میں چھپ کر ویڈیو گیم کھیلتے دیکھا تو سخت سزا دینے کی ٹھانی۔

    ہوانگ نامی شخص نے اپنے بیٹے کو بستر سے اُٹھا کر کرسی پر بیٹھنے کو کہا کہ اور ویڈیو گیمز جاری رکھنے کا حکم دیا اور مسلسل گیمز کھیلتے رہنے پر مجبور کرتے رہے۔

    چند ہی گھنٹوں میں بچہ بیزار ہوگیا۔ اسے سخت نیند آ رہی تھی اور بھوک بھی لگ رہی تھی لیکن باپ نے اسے ہلنے نہیں دیا یہاں تک کہ بھوک، نیند اور تھکاوٹ کے باعث بچے کو قے ہونے لگی۔

    بیٹے نے باپ سے معافی مانگی اور سونے سے پہلے ویڈیو گیم نہ کھیلنے کا وعدہ کیا۔ باپ بیٹے کے درمیان اسکرین ٹائم کے حوالے سے بھی ’معاہدہ‘ ہوگیا۔

    ہوانگ نے اس واقعے کی ایک مختصر ویڈیو بناکر سوشل میڈیا پر اپ لوڈ بھی کی جس پر صارفین نے ملا جلا رجحان دیا۔ کچھ نے باپ کے اقدام کو ظالمانہ تو کسی نے اسے ضروری قرار دیا۔

  • معمر خاتون نے اپنی 5 نسلیں زندگی میں ہی دیکھ لیں

    معمر خاتون نے اپنی 5 نسلیں زندگی میں ہی دیکھ لیں

    امریکی ریاست کینٹکی کی رہائشی یہ عمر رسیدہ خاتون تصویر میں اپنی 5 نسلوں کے ساتھ موجود ہیں جن میں ان کی بیٹی، نواسی، نواسی کی بیٹی، نواسی کی نواسی، اور پھر اُسی نواسی کی بیٹی شامل ہیں۔

    مذکورہ بالا تصویر میں 6 نسلوں کو ایک ساتھ دیکھا جاسکتا ہے۔ جیسے ہی یہ تصویر آن لائن اپلوڈ ہوئی، انٹرنیٹ صارفین حیران رہ گئے اور تصویر دیکھتے ہی دیکھتے وائرل ہوگئی۔

    تصویر میں ٹیلر ہاکنز نامی خاتون جو بچی گود میں لے رہی ہیں اُس کی عمر 7 ماہ ہے اور نام زہاویہ وائٹیکر ہے۔ یہ بچی خاتون کی نسل سے 621 ویں اولاد ہے جبکہ جون میں ایک اور بچے کی عنقریب ولادت سے یہ تعداد 622 ہوجائیگی۔

    یہ تصویر فروری کے آخر میں اس نرسنگ ہوم میں لی گئی تھی جہاں ٹیلر ہاکنز رہائش پذیر ہیں۔ پوتی شیرل بلیسنگ نے تصویر لی اور 58 سالہ پوتی گریسی اسنو ہوویل نے اسے سوشل میڈیا پر پوسٹ کیا۔

    ٹیلر ہاکنز کی شادی 16 سال کی عمر میں ہوئی اور ان کا شوہر اس وقت 50 سال کا تھا۔ ٹیلر ہاکنز اپنے شوہر کی دوسری بیوی تھیں، پہلی بیوی مرچکی تھی جس سے شوہر کے 10 بچے تھے اور سابق بیوی کی موت جڑواں بچوں کو جنم دینے کے دوران ہوئی تھی جس کے بعد ان کے شوہر کے ٹیلر ہاکنز سے مزید 13 بچے ہوئے۔ جون میں ٹیلر ہاکنز کی عمر 99 سال ہوجائیگی۔

  • انسانوں کے ساتھ مل کر مچھلیوں کا شکار کرنے والی ڈولفن

    انسانوں کے ساتھ مل کر مچھلیوں کا شکار کرنے والی ڈولفن

    لگُونا، برازیل: ایک نئی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ جنوب مشرقی برازیل میں ڈولفنز مچھیروں کے ساتھ ارادی طور پر مل کر مچھلیوں کا شکار کرتی ہیں۔

    جنوب مشرقی برازیل کے مچھروں کا مقامی ڈولفنز کے ساتھ غیر معمولی شراکت داری 140 سال کے وسیع عرصے پر مشتمل ہے۔ لگونا نامی چھوٹے ساحلی شہر میں مچھیرے ان سمندری مملیوں کے ساحل پر آنے کا انتظار کرتے ہیں۔ یہ ڈولفنز بحرِ اوقیانوس سے سِلور میولیٹ مچھلیوں کو گھیر کر اتھلے پانیوں تک لاتی ہیں۔

    یونیورسٹی آف پلیمتھ کے ماہرِ سمندری حیاتیات سائمن انگرام (جو ماضی میں برازیل میں انسانوں اور ڈولفنز کے درمیان تعلق پر مطالعہ کر چکے ہیں لیکن حالیہ تحقیق میں شامل نہیں تھے) کے مطابق یہ ڈولفنز انسانوں اور ان کی حرکات پر بھرپور توجہ دیتی ہیں تاکہ جال میں زیادہ سے زیادہ مچھلیاں پھنس سکیں۔ممکنہ طور پر یہ مچھیروں کی رہنمائی بھی کرتی ہوں۔

    ان کا کہنا تھا کہ سالوں سے یہ ڈولفنز مچھیروں کو یہ بتا رہی ہیں کہ جال پھینکنے کے لیے کہاں کھڑا ہونا ہے اور کب جال پھینکنا ہے۔یہ بالکل ایسا ہی ہے جیسے یہ ڈولفنز انسانوں کی تربیت کر رہی ہوں۔

    تحقیق کے لیے اوریگن اسٹیٹ یونیورسٹی کے ایک سائنس دان موریسیو کینٹور اور ان کے ساتھیوں نے لگونا میں 177 مچھیروں کا انٹرویو کیا۔

    محققین نے بتایا کہ مچھیرے مچھلیاں پکڑنے کے لیے قابلِ بھروسہ ڈولفن ساتھیوں کو تلاش کرتے ہیں جو ان کے ساتھ تعاون کرتی ہیں اور میولیٹ کی نشان دہی کرتی ہیں۔

    محققین نے دیکھا کہ 2018 سے 2019 تک تقریباً 5000 میولیٹ مچھلیاں پکڑی گئیں تھیں۔

    موریسیو کینٹور کا کہنا تھا کہ ہمیں یہ تو علم تھا کہ مچھیرے ڈولفنز پر نظر رکھ کر یہ طے کرتے ہیں کہ جال کب پھینکنا ہے لیکن یہ معلوم نہیں تھا کہ آیا ڈولفن بھی اپنے رویوں سے مچھیروں سے رابطے میں رہتی ہیں۔

    پروسیڈنگز آف دی نیشنل اکیڈمی آف سائنسز میں شائع ہونے والی تحقیق میں بتایا گیا کہ مچھیروں کے ہاتھ 86 فی صد شکار ڈولفنز کے ساتھ بیک وقت تعامل کے سبب لگا۔ ڈولفنز کی موجودگی میں مچھیروں کے میولیٹ پکڑنے کے امکانات 17 فی صد زیادہ پائے گئے۔

    محققین کی ٹیم کے مطابق جہاں مچھیرا ڈولفن کو دیکھ رہا ہوتا ہے وہیں ڈولفن بھی مچھیرے کو دیکھ رہی ہوتی ہے۔ دونوں کو اپنے اپنے عمل بیک وقت کرنے ہوتے ہیں تاکہ مچھلی پکڑی جاسکے۔ جب ڈولفن دیکھتی ہے کہ مچھیرا جال پھینکنے کے لیے تیار ہے تب وہ گہرا غوطہ لگا کر اشارہ دیتی ہے اور بتاتی ہے کہ یہاں میولٹ موجود ہیں، جال پھینک دیا جائے۔ بعض اوقات ڈولفن یا مچھیرے صحیح اشارہ نہیں پکڑ پاتے تو کسی کے ہاتھ بھی مچھلی نہیں تٓتی۔