Deprecated: Creation of dynamic property EPS_Redirects_Plugin::$settings is deprecated in /home2/sangemee/public_html/wp-content/plugins/eps-301-redirects/plugin.php on line 55

Warning: Cannot modify header information - headers already sent by (output started at /home2/sangemee/public_html/wp-content/plugins/eps-301-redirects/plugin.php:55) in /home2/sangemee/public_html/wp-content/themes/twentytwentyfive/functions.php on line 296
اہم خبریں – Page 145 – Sange Meel News: Latest news, breaking news, Pakistan

Category: اہم خبریں

  • ایوان سے منظوری کے بعد آئینی ترمیم پر صدر مملکت آج دستخط کریں گے

    ایوان سے منظوری کے بعد آئینی ترمیم پر صدر مملکت آج دستخط کریں گے

    اسلام آباد- پارلیمان کے دونوں ایوانوں سے منظوری کے بعد 26 ویں آئینی ترمیم پر صدر مملکت آصف علی زرداری آج دستخط کریں گےایوان صدر سیکرٹریٹ کے مطابق آئینی ترمیم پر صدر مملکت آج دستخط کریں گے تاہم صبح 6 بجے منعقدہ تقریب ملتوی کردی گئی ہے، تقریب آج دن میں کسی وقت ہوگی، وقت کا اعلان بعد میں کیا جائے گاایوان صدر میں پارلیمان کے دونوں ایوان سے منظوری کے بعد 26 آئینی ترمیم پر دستخط کی تقریب میں پارلیمنٹرینز بھی شریک ہوں گےواضح رہے کہ سینیٹ کے بعد قومی اسمبلی نے بھی 26 ویں آئینی ترمیم کی منظوری دیدی ہے، حکومت دونوں ایوانوں میں دو تہائی اکثریت ثابت کرنے میں کامیاب ہو گئی۔

  • اسرائیلی جارحیت سے متاثرہ لبنانی عوام کیلئے پاکستانی امدادی سامان بیروت پہنچ گیا

    اسرائیلی جارحیت سے متاثرہ لبنانی عوام کیلئے پاکستانی امدادی سامان بیروت پہنچ گیا

    اسرائیلی جارحیت سے متاثرہ لبنانی عوام کیلئے پاکستان سے 100 ٹن امدادی سامان لے کر ایک طیارہ لبنان کے دارالحکومت بیروت پہنچ گیا سفارتی ذرائع کے مطابق سی ون 30 سے پہنچائی جانے والی اس امداد میں گوشت، کمبل اور خیموں سمیت دیگر سامان شامل ہے اس سے قبل حکومت نے اسرائیلی مظالم کے شکار فلسطین اور لبنان کے نہتے عوام کیلئے امدادی فنڈ قائم کرنے کا بھی اعلان کردیا اسلام آباد میں غزہ، فلسطین اور لبنان کے عوام کیلئے امدادی کوششوں سے متعلق جائزہ اجلاس میں وزیراعظم شہبازشریف کا کہنا تھا کہ پاکستان اس کڑے وقت میں فلسطین، غزہ اور لبنان کے مسلمانوں کو تنہا نہیں چھوڑے گاوزیراعظم نے کہا کہ موسم سرما کی آمد کے پیش نظر پاکستان فلسطین، غزہ اور لبنان میں اسرائیلی مظالم اور جارحیت کے شکار مسلمان بھائی بہنوں کیلئے خوراک اور ادویات سمیت امدادی سامان بھیج رہا ہے

  • جے یو آئی کا ساتھ دینے سے انکارحکومتی جماعتیں آئینی ترامیم پر ایک پیج پر آگئیں

    جے یو آئی کا ساتھ دینے سے انکارحکومتی جماعتیں آئینی ترامیم پر ایک پیج پر آگئیں

    آئینی ترامیم کے معاملے پر حکومتی اتحادی جماعتیں ایک پیچ پر آگئیں جبکہ جے یو آئی نے ساتھ دینے سے انکار کر دیا آئینی ترامیم کے مسودے پر اتفاق رائے کے لیے پارلیمانی خصوصی کمیٹی کا اجلاس خورشید شاہ کی زیر صدارت ہوا جس میں حکومت اور اپوزیشن جماعتوں کے نمائندوں نے شرکت کی جے یو آئی نے آئینی ترامیم پر خصوصی کمیٹی کے اجلاس میں مجوزہ مسودہ پیش کرتے ہوئے آئینی عدالت پر حکومت کا ساتھ دینے سے انکار کر دیا اور آئینی عدالت کی جگہ بینچ تشکیل دینے کی تجویز دیدی سینیٹر کامران مرتضیٰ نے کہا کہ پیپلز پارٹی اور جے یو آئی کے ڈرافٹ میں صرف آئینی عدالت اور بینچ کا فرق ہے، پیپلز پارٹی کے باقی ڈرافٹ پر ہمیں کوئی اعتراض نہیں، امید ہے جلد دونوں جماعتیں مشترکہ ڈرافٹ پر اتفاق کر لیں گی سینیٹر کامران مرتضیٰ نے حکومت کے 56 نکاتی مسودے کے جواب میں 24 نکات پیش کرتے ہوئے کہا کہ 200 سے بھی کم آئینی مقدمات کے لیے بڑے سیٹ اپ کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔

  • لاہور میں پولیس مقابلے میں ایک اور انتہائی خطرناک ڈاکو ہلاک

    لاہور میں پولیس مقابلے میں ایک اور انتہائی خطرناک ڈاکو ہلاک

    لاہور- آرگنائزڈ کرائم یونٹ سول لائن اور ڈاکوؤں کے درمیان فائرنگ کے تبادلے میں انتہائی خطرناک شوٹر و ڈاکو ملک عمران صابر اپنے ہی ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک ہوگیا
    پولیس ٹیم ملزم کو ساتھیوں کی گرفتاری کے لیے علاقہ تھانہ گجرپورہ لے جارہی تھی کہ ملزمان نے اپنےساتھی کو چھڑوانے کے لیے پولیس پارٹی پر اندھا دھند فائرنگ کر دی
    ملزم کے ساتھیوں کی فائرنگ سے شوٹر ملک عمران صابر شدید زخمی ہو گیا جس کو ہسپتال منتقل کیا جا رہا تھا کہ وہ راستے میں ہی دم توڑ گیا
    لاہور میں پولیس مقابلے میں 72 مقدمات میں ملوث ملزم جیلا ہلاک
    ملزمان کی فائرنگ سے پولیس اہلکار معجزانہ طور پر محفوظ رہے۔ ہلاک ہونے والے ملزم کے دیگر ساتھی اندھیرے کا فائده اٹھاتے ہوئے فرار ہوگئے جن کی گرفتاری کے لیے علاقہ میں سرچ آپریشن جاری ہے
    ہلاک ملزم قتل، اقدام قتل، ڈکیتی، جیسی متعدد وارداتوں میں مطلوب اور متعدد مقدمات میں اشتہاری تھا۔ ملزم نے ہربنس پورہ،مغل پورہ، غازی آباد اور کاہنہ کے علاقہ میں 4 شہریوں کو اندھا دھند فائرنگ کرکے قتل کردیا تھا
    واضح رہے کہ گزشتہ روز بھی پولیس مقابلے میں انتہائی خطرناک شوٹر و ڈاکو اسد جمیل احمد عرف جیلااپنے ہی ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک ہوگیا تھا

  • رحیم یارخان: کچہ ماچھکہ میں پنجاب پولیس کی جوابی کارروائی،مرکزی ملزم بشیر شر ہلاک

    رحیم یارخان: کچہ ماچھکہ میں پنجاب پولیس کی جوابی کارروائی،مرکزی ملزم بشیر شر ہلاک

    (سنگ میل نیوز)رحیم یارخان کے کچہ ماچھکہ میں پنجاب پولیس نےجوابی کارروائی کرتے ہوئے مرکزی ملزم بشیر شر کو ہلاک کردیا ،ڈاکو پولیس پر ہونے والے حملے کا مرکزی ملزم تھا۔

     

    آئی جی پنجاب ڈاکٹرعثمان انورکاکہنا ہےکہ واقعہ میں ملوث ڈاکوؤں کے قلع قمع کیلئے آپریشن جاری ہے،پولیس اہلکاروں پرحملے میں ملوث تمام ملزمان کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے گا،بشیرشرگزشتہ روز پولیس اہلکاروں پر ہونے والے حملے کے مرکزی ملزمان میں شامل تھا،ڈاکو بشیر شر کے 2 ساتھی زخمی ہوئے۔

     

    سندھ پنجاب کے سرحدی ضلع گھوٹکی میں بھی پنجاب پولیس پر حملے کے بعد سکیورٹی میں اضافہ کردیا گیا،کچےاورپکے میں قائم پولیس چوکیوں پر اہلکاروں کو الرٹ کردیاگیا۔

     

    جمعرات کوصادق آباد میں کچے کےعلاقے ماچھکہ میں انتہائی افسوسناک سانحہ پیش آیا جہاں ڈاکوؤں کی جانب سے پولیس کی دوگاڑیوں پر حملہ کیا گیا جس کے نتیجےمیں 12 اہلکار شہید ہوگئے۔

     

    شہید اہلکاروں میں رحیم یارخان کے 9،مظفر گڑھ کا1، ملتان سے 1 اور ڈی جی خان سےتعلق رکھنے والا اہلکارشہید ہوئےہیں،شہید اہلکاروں کی نماز جنازہ نماز جمعہ کے بعد 2:15 منٹ پر صادق شہید پولیس لائن میں ادا کی جائے گی،آئی جی پنجاب ڈاکٹرعثمان انور و دیگر افسران نماز جنازہ  میں شرکت کریں گے۔

  • خلیل الرحمان ہنی ٹریپ کیس، ملزمہ 4 روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے..

    خلیل الرحمان ہنی ٹریپ کیس، ملزمہ 4 روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے..

    لاہور: (سنگ میل نیوز)پاکستانی شوبز انڈسٹری کے معروف ڈرامہ نگار خلیل الرحمان قمر کو ہنی ٹریپ کے بعد اغواء کرنے کے کیس کی ملزمہ آمنہ عروج کو چار روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کردیا گیا۔

    تفصیلات کے مطابق لاہور پولیس نے ملزمہ آمنہ عروج کو تین روزہ جسمانی ریمانڈ کے بعد انسداد دہشتگردی عدالت میں پیش کیا جہاں جوڈیشل مجسٹریٹ نبیلہ عامر نے خلیل الرحمان ہنی ٹریپ اور اغواء کیس کی سماعت کی۔

    دورانِ سماعت عدالت نے ملزمہ سے استفسار کیا کہ آپ نے خلیل الرحمان قمر کو اغواء کیا تھا؟ جس پر ملزمہ نے کہا کہ میں ماڈلنگ کرتی ہوں اور میں نے ہی خلیل الرحمان کو بلایا تھا۔

    عدالت نے ملزمہ آمنہ عروج سے استفسار کیا کہ آپ نے اغواء کے بعد خلیل الرحمان سے تاوان بھی مانگا؟، ملزمہ نے کہا کہ خلیل الرحمان کے اے ٹی ایم کے ذریعے دو لاکھ 87 ہزار روپے نکالے تھے۔

    عدالت نے استفسار کیا کہ جو رقم بینک سے نکالی گئی وہ کس کے پاس ہے؟ جس پر ملزمہ نے کہا کہ رقم حسن شاہ نے نکالی تھی اور اسی کے پاس ہے۔

    جوڈیشل مجسٹریٹ نبیلہ عامر نے سماعت ختم کرتے ہوئے ملزمہ کو چار روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کی تحویل میں دے دیا۔

  • 9 مئی؛ عمران خان کی پنجاب میں درج 12 مقدمات میں جسمانی ریمانڈ کیخلاف درخواست منظور

    9 مئی؛ عمران خان کی پنجاب میں درج 12 مقدمات میں جسمانی ریمانڈ کیخلاف درخواست منظور

    لاہور(سنگ میل نیوز) ہائیکورٹ نے بانی پی ٹی آئی کی نو مئی کے بارہ مقدمات میں جسمانی ریمانڈ کے خلاف درخواستیں منظور کرلیں۔

    ہائیکورٹ میں بانی پی ٹی آئی کے 9 مئی سے متعلق دہشت گردی کے 12 مقدمات میں جسمانی ریمانڈ دینے کے خلاف درخواستوں پر سماعت ہوئی۔ پورے پنجاب سے تفتیشی افسران بانی پی ٹی آئی کے خلاف درج مقدمات کا ریکارڈ لیکر عدالت میں پیش ہوئے۔

    پراسیکیوٹر جنرل پنجاب فرہاد علی شاہ نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی نے لکھ کر دیا ہے کہ انہوں نے پولی گرافک سمیت مختلف ٹیسٹ نہیں کروانے، ہم چاہتے ہیں کہ ان کا پولی گرافک ٹیسٹ ہر صورت کروایا جائے، تاکہ پتہ چل سکے کہ ان کا دیا ہوا بیان سچا بھی ہے کہ نہیں۔
    جسٹس طارق سلم شیخ نے پراسیکیوٹر جنرل سے کہا کہ آپ عبوری ضمانت کے دوران بھی تو انہیں شامل تفتیش کرسکتے تھے۔

    بانی پی ٹی آئی کے وکیل سلمان صفدر نے دلائل دیے کہ کئی مقدمات میں نہ عمران خان کی ضمانت تھی نا ان مقدموں کے بارے ہمیں معلومات تھیں۔

    جسٹس انوار الحق پنوں نے ریمارکس دیے کہ درخواست گزار کا کہنا ہے کہ جیسے ایک کیس سے ضمانت ہوتی تو نئے میں گرفتاری ڈال دی جاتی ہے، فوجداری قانون یہ کہتا ہے کہ جیسے ہی پتہ چلے کہ مقدمہ درج ہے تو فوری کارروائی ہونی چاہیے، یہاں ملزم جیل میں تھا پھر بھی کارروائی نہیں کی گئی، عبوری ضمانت کا مطلب ہوتا ہے کہ ملزم کو شامل تفتیش کرنا کیا ملزم کو شامل تفتیش کیا گیا، ایک سال آپ لوگ کہاں رہے، ایک سال سے یہ مقدمے تھے تب گرفتاری کیوں نہیں ڈالی گئی، جیسے ہی انکی رہائی کی امید ہوئی آپ کو جسمانی ریمانڈ یاد آگیا، ان سوالات کے جوابات آنا بہت ضروری ہیں، نو مئی کے بعد کب آپ کو خیال آیا کہ بانی پی ٹی آئی کا وائس میچنگ ٹیسٹ اور دیگر ٹیسٹ ہونے چاہئیں۔

    جسٹس طارق سلیم شیخ نے بھی کہا کہ آپ نے پولی گرافک ٹیسٹ کرانا ہے تو ملزم تو ویسے ہی جوڈیشل کسٹڈی میں ہے ، آپ خود کہہ رہے ہیں کہ مجسٹریٹ کے پاس تمام اختیارات ہیں کہ یہ ٹیسٹ کرائے، سوال یہ ہے آپکو جسمانی ریمانڈ کیوں چاہیے، آپ اس سوال کا جواب نہیں دے رہے کہ گرفتاری اب کیوں ڈالی گئی ، آپ نے جس موقع پر گرفتاری ڈالی وہ ٹائمنگ بہت اہم ہے، کیا بانی پی ٹی آئی نے یہ کہا کہ اگر میں گرفتار ہوا تو حملہ کردیں؟

    پراسکیوٹر جنرل پنجاب نے بانی پی ٹی آئی کے ٹوئٹس پڑھتے ہوئے کہا کہ نو مئی کے حوالے سے پورا بیانیہ بنایا گیا۔ اس پر جسٹس طارق انوار الحق پنوں نے کہا کہ ایسے بیانات تو سیاستدان آج بھی دے رہے ہیں، ویسے اس سے زیادہ دھمکیاں تو آج کل ججز کو دی جارہی ہیں۔

    پراسکیوٹر جنرل پنجاب نے کہا کہ جن موبائل سے ٹوئٹ اور واٹس اپ کیے گئے اس کی برآمدگی تفتیش کے بغیر ممکن نہیں ہوگی۔

    جسٹس انوار الحق پنوں نے کہا کہ آپ یہ موبائل کیسے ریکور کریں گے ملزم تو جیل میں ہے، تفتیشی افسر ملزم کو کہیں لیکر نہیں جاسکتا ،تو کیسے یہ موبائل برآمد کیسے کرائیں گے؟

    پراسکیوٹر جنرل پنجاب فرہاد علی شاہ کے دلائل مکمل ہونے پر لاہور ہائیکورٹ نے بانی پی ٹی آئی کی نو مئی کے بارہ مقدمات میں جسمانی ریمانڈ کے خلاف درخواستیں منظور کرتے ہوئے انسداد دہشت گردی عدالت کا جسمانی ریمانڈ دینے کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا۔

    ہائیکورٹ نے بانی پی ٹی آئی کی ویڈیو لنک پر حاضری کا نوٹی فکیشن بھی کالعدم قرار دے دیا۔

  • عفت عمر کی بولڈ تصاویر وائرل،سوشل میڈیا صارفین کی سخت تنقید

    عفت عمر کی بولڈ تصاویر وائرل،سوشل میڈیا صارفین کی سخت تنقید

    (ویب ڈیسک)پاکستان کی معروف اداکارہ اور ٹی وی ہوسٹ عفت عمر کی بولڈ ویڈیو پر سوشل میڈیا صارفین آگ بگولہ ہیں اور انھں تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں۔ اداکارہ عفت عمر یوں تو اداکاری کے علاوہ اپنے بولڈ ڈریسنگ سینس کی بدولت خبروں کی زینت بننی رہتی لیکن اب ان کی نئی تصویروں نے سوشل میڈیا پر طوفان برپا کردیا ہے۔

    فیشن کی آئیکون مانی جانے والی مشہور سینئر 52 سالہ اداکارہ و ماڈل عفت عمر نے اپنے انسٹاگرام اکاؤنٹ پر 2 جولائی کو ویڈیو شیئر کی جس میں انہیں انتہائی مختصر لباس میں امریکہ کی سڑکوں پر مٹر گشت اور فوٹو شوٹ کرتے دیکھا گیا۔
    جینز اور منی ٹاپ میں ملبوس اداکارہ عفت عمر کی تصاویر سے ان کے مداح خاصے نالاں ہیں، ویڈیو میں موجود تصاویرں پر ان کے چاہنے والے بھی نفرت آمیز تبصرے کرتے دیکھائی دے رہے ہیں، اور انہیں بوڑھی گھوڑی لال لگام جیسے محاروے کَس رہے ہیں۔

  • عدت کیس، عمران خان اور بشریٰ بی بی کی سزا کیخلاف مرکزی اپیلوں پر سماعت ملتوی.

    عدت کیس، عمران خان اور بشریٰ بی بی کی سزا کیخلاف مرکزی اپیلوں پر سماعت ملتوی.

    (سنگ میل نیوز)اسلام آباد کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن عدالت نے سابق وزیر اعظم عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کی عدت نکاح کیس میں سزا کیخلاف مرکزی اپیلوں پر سماعت کل تک ملتوی کردی۔

    اپیلوں پر سماعت ایڈیشنل سیشن جج افضل مجوکا نے کی، پی ٹی آئی کے معاون وکیل مرتضیٰ طوری عدالت میں پیش ہوئے۔ سماعت کے آغاز پر معاون وکیل پی ٹی آئی نے بتایا کہ بیرسٹر سلمان صفدر راستے میں ہیں،

    20 منٹ تک عدالت پہنچ جائیں گے لہذا عدالت سلمان صفدر کے آنے تک سماعت میں وقفہ کردے۔ بعد ازاں عدالت نے سلمان صفدر کے پہنچنے تک سماعت میں وقفہ کر دیا،

    وقفے کے بعد سماعت کے دوبارہ آغاز پر پی ٹی آئی کے وکیل بیرسٹر سلمان صفدر،خدیجہ صدیقی،خالد یوسف چوہدری عدالت میں پیش ہوگئے، خاور م کے وکیل زاہد آصف اکے معاون وکیل بھی عدالت میں پیش ہوئے۔

    بشریٰ بی بی کی جانب سے وکیل خدیجہ صدیقی نے دلائل کا آغاز کرتے ہوئے بتایا کہ پینل کوڈ میں کہیں عدت کا لفظ نہیں ملا، سابقہ شوہر کسی صورت نہیں بتا سکتا کہ عدت اور خاتون کی ماہواری کے تین سائیکل کب مکمل ہوئے؟

    سابقہ شوہر نے شکایت بھی 2000 دنوں کے بعد فائل کی، عدت میں شادی کے حوالے سے پہلے بھی کئی کیسز ہوئے تاہم یہ پہلا کیس کہا جاسکتا ہے جو زیادہ مشہور ہوا۔

    خدیجہ صدیقی ایڈووکیٹ نے بتایا کہ جرم تب بنتا ہے جب ثابت ہو کہ عدت میں شادی ہوئی، اپریل 2017 میں زبانی طلاق دی، بشریٰ بی بی اپنی عدت گزار کر اپنی والدہ کے گھر گئیں،

    بیک ڈیٹ میں طلاق نامہ بنانا کوئی بڑی بات نہیں ہے، اس کیس میں حمل کا بھی کوئی معاملہ نہیں ہے،اس پر جج افضل مجوکا نے ریمارکس دیئے کہ آپ کی طرف سے اسلامک اور ہمارے قانون دونوں کا حوالہ دیا جا رہا ہے،

    ایک پر نہیں رک رہے۔ اس پر وکیل نے کہا کہ میاں بیوی کہہ رہے ہیں کہ ہماری شادی ہوچکی ہے مگر عدالت کہہ رہی کہ نہیں ہوئی، جج نے وکیل سے مکالمہ کیا کہ یہ بات عدالت نہیں کہہ رہی ہے،

    وکیل نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے بتایا کہ فاسق اور باطل کے حوالے سے بڑے واضح قانون بنے ہوئے ہیں۔ انہوں نے مختلف عدالتی فیصلوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ فراڈ میں میاں بیوی میں سے ایک بندے کو سزا ملنی ہوتی ہے،

    فراڈ ہمیشہ دو کے درمیان ہوتا ہے، یہاں پر نہیں بتایا گیا کہ کس کے ساتھ فراڈ ہوا؟ کسی دھوکے کی نیت سے کی گئی شادی فراڈ کہلائی جا سکتی ہے لیکن اس کیس میں دونوں میاں بیوی نے اسلامی اصولوں کے مطابق شادی کی ہے،

    اسی کے ساتھ خدیجہ صدیقی ایڈووکیٹ کے دلائل مکمل ہوگئے۔ بعد ازاں بشریٰ بی بی کی جانب سے بیرسٹر سلمان صفدر روسٹرم پر آگئے، اس پر جج نے ریمارکس دیئے کہ یہ مکمل طور پر 40 منٹ کے دلائل کا کیس ہے۔

    وکیل نے اپنے دلائل کا آغاز کرتے ہوئے بتایا کہ اس کیس میں پراسیکیوشن مکمل طور پر جھوٹ پر کھڑی ہے، وکیل سلمان صفدر نے مزید کہا کہ اس کو دیکھتے ہوئے خواجہ آصف کا بیان میرے ذہن میں آتا ہے مگر وہ بولوں گا نہیں،

    میں ججمنٹس کا ذکر کرنا ضروری نہیں سمجھتا کیونکہ آپ کو سب فیصلوں کا پتا ہے۔ بیرسٹر سلمان صفدر نے کہا کہ 2، 3 دن کے اندر ٹرائل مکمل کرلیا، یہ کیس فیملی کورٹس کا بنتا تھا مگر وہاں گئے ہی نہیں،جج افضل مجوکا کا کہنا تھا

    کہ مرد کے پاس رجوع کا حق ہے اور آگے رجوع کرنا یا نا کرنا عورت کی مرضی ہے، وکیل نے بتایا کہ گزشتہ روز بھی ایک بات کی کہ یہ کیس سیاسی انتقام کے نتیجے میں بنایا گیا ہے،

    عدت کے دورانیہ کے ذکر کو چھوڑ کر بھی اس کیس میں سے بری کرایا جا سکتا ہے ، ایک اجنبی شکایت کنندہ بنتا ہے اور پھر وہ غائب ہوجاتا ہے، پھر چھ سال بعد خاوند آتا ہے اور شکایت کنندہ بن جاتا ہے،

    صرف یہ ہی چیز کافی ہے کیس ہو ختم کرنے کے لیے ، 2 ہزار دن چپ رہنے پر آپ نظر کرم کریں تو میرے مؤکل بری ہوسکتے ہیں،ان کا کہنا تھا کہ 2 الزامات میں سے ایک ختم ہوجاتا ہے تو مطلب آدھا کیس ختم ہوجاتا ہے ،

    جب ہم سے ایک ایک دن کا حساب مانگا جا رہا ہے تو ان سے بھی مانگا جائے کہ انہوں نے ٹائم فریم نہیں دیا۔ وکیل سلمان صفدر نے بتایا کہ بشریٰ بی بی اور خاور مانیکا کی بیٹیاں شادی شدہ ہیں اور ان میں سے کوئی بھی خلاف نہیں آیا ،

    ان کی اب یہ کوشش کہ اسلامی نظریاتی کونسل کو ادھر بلایا جائے ، خاور مانیکا نے اپنے بیان میں تصدیق کی ہے کہ طلاق نامہ پر تاریخ پر ٹیمپرنگ کی گئی ہے ، اس بیان کے بعد سارا کیس ہی ختم ہوجاتا ہے ،

    عدالت نے اس پر توجہ نہیں دی مگر گواہ نے مان لیا کہ اوور رائٹنگ کی گئی ہے،ان کا کہنا تھا کہ ٹیمپرنگ والا کیسں کیسے بنایا جا سکتا ہے؟ ان کے خلاف کیس بنتا تھا، فراڈ ثابت ہوگیا کہ میاں بیوی نے کسی کو دھوکا نہیں دیا بلکہ مدعی نے عدالت کو دھوکا دیا،

    اب عدالت دیکھ لے کہ اس پر سزا بنتی ہے یا نہیں ، جرح کے دوران خاور مانیکا سے پوچھا کہ طلاق نامہ کے اندر آپ نے وجوہات بیان کی ہیں کہ بشریٰ بی بی نے کیا دھوکا دیا؟ اس پر خاور مانیکا کا جواب نہ میں تھا۔

    وکیل سلمان صفدر نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ ٹیمپرنگ والے ڈاکومنٹ کے مطابق طلاق کے 48 دن بنتے ہیں، دوسری جانب اصل دستاویز کو پیش ہی نہیں کیا گیا،

    خاور مانیکا پر پی ٹی آئی کارکنان کو غم و غصہ ہے مگر ان پر مقدمے کا ذکر کروں تو ہوسکتا ہے ہمدردی ہو جائے ، خاور مانیکا 25 ستمبر کو گرفتار ہوئے اور 14 نومبر کو واپس آئے ،

    انہوں نے جرح کے دوران تصدیق کی ہے ، خاور مانیکا آزاد اور خود مختار گواہ نہیں ہیں ،ان کا بیان چیخ چیخ کر کہہ رہا کہ عدالت میرے بیان پر انحصار نہ کرے، سائفر کیس میں اعظم خان کا بھی ملزم کا اسٹیٹس تبدیل کیے بغیر گواہ کے طور پر عدالت پیش کردیا گیا۔

    انہوں نے کہا کہ یہ کریمنل کیس ہے، اس کریمنل کیس میں تھوڑا سا بھی شک ملزم کے حق میں جاتا ہے ، گواہوں میں بچہ کوئی نہیں آیا مگر عون چوہدری آگئے ، عون چوہدری کو منصوبہ بندی کے تحت گواہ بنایا گیا ہے۔

    عدالت نے کیس کی سماعت میں ڈیڑھ بجے تک کا وقفہ کردیا،وقفے کے بعد سماعت کے دوبارہ آغاز پر وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ میں باقی گواہوں پر نہیں جاؤں گا میری نظریں شکایت کنندہ سے آگے جاتی نہیں،

    خاور مانیکا کی یہ وضاحت قابل قبول نہیں کہ لوگوں نے باتیں کیں تو میں نے کیس کیا، عدالت اس کو مسترد کرے، خاور مانیکا نے کہا یہ درست ہے کہ میں نے جو ڈاکومنٹ دیا وہ فوٹو کاپی ہے،

    خاور مانیکا نے اپنے بیان میں بتایا کہ وہ ڈی جی لا بھی رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ٹرائل فٹا فٹ اور اب تاخیری حربے استعمال کیے جا رہے ہیں ، تب تو فاضل دوست 6، 7 بجے کہتے تھے کہ یہ تو طریقہ نہیں، کام کریں،

    تو اب بھی کام کریں ناں۔ سلمان صفدر نے بتایا کہ طلاق نامہ فوٹو کاپی ہے اور اس پر یونین کونسل کے چیئرمین کے دستخط بھی موجود نہیں ہیں، عون چوہدری سیاسی مخالف ہے ،

    انہوں نے بتایا کہ ہمارے اختلافات چینی بحران کی وجہ سے ہوئے، ایسا گواہ جو سیاسی حریف ہو تو کیا ایسے گواہ کی گواہی قبول ہے ؟ وکیل نے مزید کہا کہ جب میاں بیوی میں سے کسی کا قتل ہوتا ہے تب بھی پوچھا جاتا ہے .

    کہ بچوں کا بیان لیا گیا ہے یا نہیں تو فیملی کسیز میں بھی فیملی ممبران کو گواہ بنایا جاتا ہے، مفتی سعید کو جو بھی گاڑی مل جائے ان میں بیٹھ جاتے چاہے حنیف ہو یا خاور مانیکا، خود ان پر بغاوت کا کیس چلا اور انہوں نے تصدیق بھی کی۔

    وکیل سلمان صفدر کا کہنا تھا کہ دعا تب ہوتی ہے جب خاندان کی رضامندی ہوتی ہے ، بانی پی ٹی آئی نے 342 کے بیان میں بتایا کہ میرے دو بیٹے تھے،

    ان کو اعتماد میں لینا تھا،اسپر جج افضل مجوکا نے وکیل سے استفسار کیا کہ 342 کے بیانات میں صرف سوالوں کے جواب پر غور کرنا ہے یا سیاسی جوابات کو بھی دیکھنا ہے؟

    بعد ازاں جج افضل مجوکا اور بیرسٹر سلمان صفدر کے درمیان 342 کے بیان کے حوالے سے مختلف عدالتی فیصلوں کا حوالوں کا تبادلہ ہوا، وکیل نے بتایا کہ 342 کے بیان میں پوچھا گیا

    کہ عدت کے دورانیے میں خاتون کے بیان کی کیا اہمیت ہے؟ اس موقع پر بیرسٹر سلمان صفدر عدت کے دورانیہ کے حوالے سے مفتی سعید کے وڈیو بیان کا ٹرانسکرپٹ پڑھ کر سنایا،

    وکیل نے دلائل دیے کہ شادی ، طلاق لاہور میں ہوتی ہے اور اپیل یہاں اسلام آباد میں دائر کی گئی ، جج نے استفسار کیا کہ کیا مسلم فیملی لا کے مطابق تحریری طلاق کے علاوہ طلاق نہیں ہوسکتی ؟

    سلمان صفدر نے کہا کہ بالکل ہوسکتی ہے۔ اس موقع پر بیرسٹر سلمان صفدر نے زینب عمیر ایڈوکیٹ کو روسٹرم پر بلانے کی استدعا کردی جسے عدالت نے منظور کرلی۔

    بعد ازاں زینب عمیر ایڈووکیٹ نے بشریٰ بی بی کا 342 کا بیان پڑھ کر سنایا،اس پر عدالت نے خاور مانیکا کے وکلا سے طلاق نامے پر تاریخ کی ٹیمپرنگ کے حوالے سے جواب مانگ لیا۔

    جج افضل مجوکا نے زاہد آصف کے معاون وکیل کو ہدایت دی کہ اپنے دلائل میں آپ نے یہ جواب دینا ہے کہ گواہوں کے بیانات ملزمان کو کیوں نہیں دیے گئے ؟

    آپ نے کیس میں شہادت پیش ہی نہیں کی تو پڑھی کیسے جائے گی؟ اس پر بھی جواب دینا ہے۔ جج نے سلمان سفدر سے دریافت کیا کہ خاور مانیکا نے جو ذاتی باتیں بتائی ہیں وہ آپ لوگوں نے چیلنج کیوں نہیں کی ؟

    وہ تو میاں بیوی کی ذاتی زندگی کی باتیں تھیں؟ بعد ازاں زینب عمیر ایڈووکیٹ نے عدالت کو بتایا کہ اس صورتحال میں ہم عدت پر جا ہی نہیں سکتے ، عدت میں اس وقت جایا جا سکتا کہ اگر خاتون کے ہاں کوئی اولاد ہو

    تو سابقہ شوہر کلیم کرسکتا کہ وہ میرا ہے ، سپریم کورٹ کی آخری ججمنٹ کے مطابق میڈیکل طور پر 39 دن عدت کا دورانیہ بتایا گیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ شادی عدت کے دوران نہیں کی گئی ،

    پورے پاکستان میں کبھی ایسا کیس نہیں آیا ، تو اس کو شرعی لحاظ سے بھی دیکھا جائے، وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ ہمارے معاشرے میں خواتین کی دوسری شادی پہلے ہی مشکل بنی ہوئی ہے،

    یہ کیس اب پورے معاشرے کا کیس بن گیا ہے۔ بعد ازاں بیرسٹر سلمان صفدر نے اوور رائٹنگ کے حوالے سے مختلف عدالتی فیصلوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ان کا یہ کیس ایک ڈاکومنٹ اور تاریخ پر چل رہا ہے۔

    بیرسٹر سلمان صفدر نے فراڈ شادی کے حوالے سے بھارتی عدالتوں کے فیصلوں کا حوالہ بھی دیا،ان کا کہنا تھا کہ 2 ہزار دن تک خاور مانیکا نے سول کورٹ سے رجوع نہیں کیا ،

    جج نے خاور مانیکا کے وکیل سے دریافت کیا کہ آپ کہتے ہیں عدت کے دوران نکاح ہوا تو خاور مانیکا نے دوران عدت درخواست کیوں نہیں دی ؟

    بشریٰ بی بی کے وکیل نے مزید کہا کہ ایک جملہ سپریم کورٹ میں بھی بولا تھا آج بھی بول رہا کہ یہ کیس بھی اغوا برائے بیان کا ہے ، 2 ہزار دن بعد رجوع کرنا ،

    طلاق نامے پر تاریخ پر ٹیمپرنگ کرنا اور خاور مانیکا کا گرفتار ہونا ، یہ میرے پوائنٹس ہے۔ اسی کے ساتھ بشریٰ بی بی کے وکیل بیرسٹر سلمان صفدر کے دلائل مکمل ہوگئے۔

    بعد ازاں عدالت نے کیس کی سماعت کل ساڑھے 9 بجے تک ملتوی کردی۔ اس کے بعد خاور مانیکا کے وکیل زاہد آصف کی جانب سے جج افضل مجوکا کی عدالت میں 2 درخواستیں دائر کردی گئیں،

    ایک درخواست میڈیکل بورڈ کے ذریعے میڈیکل رائے لینے اور دوسری درخواست عدت کے معاملہ پر اسلامی نظریاتی کونسل، فیڈرل شریعت کورٹ اور اسلامی سکالرز کی رائے لینے سے متعلق دائر کی گئی،

    جج افضل مجوکا نے خاور مانیکا کے وکیل کی درخواستوں پر فریقین کو نوٹسز جاری کردیئے۔ خیال رہے کہ 9 جولائی کو اسلام آباد کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن عدالت نے سابق وزیر اعظم عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کی سزا کے خلاف مرکزی اپیلوں پر سماعت کل تک ملتوی کردی تھی۔

    گزشتہ روز اسلام آباد ہائی کورٹ نے سابق وزیر اعظم عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کی عدت کیس میں مرکزی اپیلوں کا فیصلہ ایک ماہ میں کرنے کے حکم پر نظرثانی درخواست خارج کردی تھی۔

  • مخصوص نشستوں کا کیس، چیف جسٹس نے فل کورٹ ججز کا اہم اجلاس بلالیا..

    مخصوص نشستوں کا کیس، چیف جسٹس نے فل کورٹ ججز کا اہم اجلاس بلالیا..

    (سنگ میل نیوز) چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے سنی اتحاد کونسل کے مخصوص نشستوں کے کیس سے متعلق فل کورٹ ججز کا اہم اجلاس بلالیا۔

    ذرائع کے مطابق فل کورٹ ججز کا اجلاس آج سپریم کورٹ میں ہو گا۔ خیال رہے کہ گزشتہ روز سپریم کورٹ نے مخصوص نشستوں سے متعلق کیس کی سماعت مکمل ہونے پر فیصلہ محفوظ کر لیا تھا

    اور چیف جسٹس نے کہا تھا کہ فیصلہ کب سنایا جائے گا ابھی کچھ نہیں کہہ سکتے، فیصلہ سنانے سے متعلق آپس میں مشاورت کریں گے۔