Deprecated: Creation of dynamic property EPS_Redirects_Plugin::$settings is deprecated in /home2/sangemee/public_html/wp-content/plugins/eps-301-redirects/plugin.php on line 55

Warning: Cannot modify header information - headers already sent by (output started at /home2/sangemee/public_html/wp-content/plugins/eps-301-redirects/plugin.php:55) in /home2/sangemee/public_html/wp-content/themes/twentytwentyfive/functions.php on line 296
Uncategorized – Page 947 – Sange Meel News: Latest news, breaking news, Pakistan

Category: Uncategorized

  • ججز کی آڈیو مریم نواز کے میڈیا سیل نے لیک کی، پرویز الہیٰ

    ججز کی آڈیو مریم نواز کے میڈیا سیل نے لیک کی، پرویز الہیٰ

    لاہور: مسلم لیگ ق کے رہنما اور سابق وزیر اعلیٰ پنجاب چوہدری پرویز الہیٰ نے کہا ہے کہ ججز کی آڈیو مریم نواز کی سرپرستی میں چلنے والے میڈیا سیل نے لیک کی۔

    چوہدری پرویز الہی نے اپنے بیان میں آڈیو لیک کو عدلیہ کے خلاف منظم مہم قرار دیتے ہوئے اس کی مذمت کی اور کہا کہ مسلم لیگ ن مریم نواز کی قیادت میں ایک بار عدلیہ پر حملہ آور ہے۔

    انہوں نے کہا کہ مریم نواز اپنے والد کی عدلیہ مخالف روایت کو ہی آگے بڑھا رہی ہیں، نواز شریف نے سپریم کورٹ پر براہ راست حملہ کیا، اب نوازشریف اور شہبازشریف کے کہنے پر مریم نواز اور ان کا پراپیگنڈہ سیل عدلیہ کے خلاف مہم چلا رہے ہیں۔

    چوہدری پرویز الہیٰ نے کہا کہ اب معزز جج صاحبان کے فون ٹیپ کئے جارہے ہیں، رانا ثناء اللہ حکومتی وسائل عدلیہ کے خلاف استعمال کر رہے ہیں، مسلم لیگ ن کا آڈیو لیک کا ڈرامہ بری طرح فلاپ ہو چکا ہے اس لیے اب وہ کچھ نیا سوچیں۔

  • ترکیہ میں 68 گھنٹے بعد ملبے تلے دبے بچے کو زندہ نکال لیا گیا، ویڈیو وائرل

    ترکیہ میں 68 گھنٹے بعد ملبے تلے دبے بچے کو زندہ نکال لیا گیا، ویڈیو وائرل

    استنبول: ترکیہ کے جنوبی صوبے ہاتے میں تقریباً 68 گھنٹے بعد ملبے تلے دبے بچے کو زندہ نکال لیا گیا جس کی ویڈیو سوشل میڈیا وائرل ہے۔

    ترک خبر رساں ادارے ٹی آر ٹی کے مطابق امدادی کارکنان نے بتایا کہ ہیلن نامی بچے کی حالت ٹھیک اور اسے طبی یونٹ کی نگرانی میں رکھا گیا ہے۔

    اسی طرح، آدیامان صوبے میں سرچ اور ریسکیو ٹیم نے ایک ہی خاندان کے چار افراد کو ملبے کے نیچے سے زندہ نکال لیا۔ فوٹیج میں دکھایا گیا ہے کہ زندہ بچ جانے والوں میں سے تین کو اسٹریچر پر لے جایا جا رہا ہے۔

    واضح رہے کہ ترکیہ اور شام میں آنے والے 7.8 شدت کے زلزلے سے اب تک جاں بحق افراد کی تعداد 15ہزار سے تجاوز کر چکی ہے۔

    ترکیہ میں جاں بحق افراد کی تعداد 12ہزار 391 اور شام میں مرنے والوں کی تعداد 2ہزار992 تک پہنچ گئی ہے۔ زلزلے سے دونوں ممالک میں ہزاروں عمارتیں زمین بوس ہوگئیں۔

  • بھارتی مظالم کے خلاف دنیا کا محکوم کشمیروں سے اظہار یک جہتی

    بھارتی مظالم کے خلاف دنیا کا محکوم کشمیروں سے اظہار یک جہتی

    ٭دُنیا بار ہا بھارت کے اس بے بُنیاد دعوے کو مسترد کر چکی ہے کہ کشمیر بھارت کا اندرونی معاملہ ہے۔

    بھارت کے اپنے اپوزیشن لیڈر آرٹیکل370کی منسوخی کو آئین پر حملہ، تباہ کُن اور بھارتی ریاستی تاریخ کا سیاہ ترین باب قرار دے چکے ہیں۔

    بھارت کے اس اقدام سے کشمیر ایک بار پھر بین الاقوامی سطح پر اُبھر کر سامنے آگیا ہے۔

    بھارتی اقدامات اقوامِ متحدہ کی اٹھارہ قراردادوں کی کھلم کھلا خلاف ورزی کے زمرے میں آتے ہیں۔

    جموں وکشمیر پیلپز ڈیموکریٹک پارٹی کی رہنما محبوبہ مفتی کا کہنا ہے کہ آپ ایک خیال کو قید نہیں کر سکتے بلکہ ایک اچھے خیال کا مقابلہ صرف ایک بہتر خیال ہی کرسکتا ہے۔

    جب اختلاف رائے کے حق کو زبردستی کچلنے کی کوشش کی جاتی ہے تو لوگوں کو دیوار سے لگائے جانے کا احساس ہوتا ہے جس کے نتیجہ میں مزید اختلاف اور بیگانگی بڑھتی ہے۔محبوبہ مفتی

    کشمیری رہنماعمر عبداللہ نے کہا کہ مُودی کے اقدامات ہمارے وطن کو ہندو وطن ثابت کرنا چاہتے ہیں جو کہ بھارتی آئین کے سراسر منافی ہے۔ ہم کشمیر کی خصوصی حیثیت کو بحال کروائیں گے۔

    اب کشمیر اور پنجاب سمیت بھارت کے مختلف علاقوں میں آزادی کے نعرے بُلند تر ہوتے جا رہے ہیں۔ آج دُنیا کے ایوانوں میں کشمیری عوام کے حق میں آوازیں اُٹھ رہی ہیں۔

    اگست 2019سے اب تک عالمی میڈیا مقبوضہ کشمیر میں جاری بھارت کے انسانیت سوز اور غیر جمہوری اقدامات کی مذمت کرتا آرہا ہے۔

    اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل اینٹو نیو گوتریس نے اس بات پر زور دیا کہ مسئلہ کشمیر کا کوئی فوجی حل ممکن نہیں اور پاکستان اور بھارت کے درمیان کسی بھی قسم کی محاذ آرائی کے نتائج خطے اور دُنیا کے لئے تباہ کُن ہونگے۔

    اس کے علاوہ Genocide WatchاورHuman Rights Watchکی کشمیر میں جاری نسل کُشی اور انسانی حقوق کی پامالیوں پر مبنی رپورٹس بھی ناقابلِ تردید دستاویزات ہیں۔

    برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی نے کشمیر کی صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ مودی حکومت نے بھارت کے کمزور وفاقی ڈھانچے کو کاری ضرب لگا دی ہے۔

    واشنگٹن پوسٹ نے اس غیر آئینی اقدام کوIndia’s Dark Moment in Kashmirقرار دیا۔

    دی گارڈین نے اسے کشمیر کو انڈین کالونی بنانے کی کوشش سے تعبیر کیا۔

    اس کے ساتھ ساتھ برطانوی پارلیمان کے ارکان نے بھی مقبوضہ کشمیر میں جاری قتل و عام اور عورتوں پر جنسی تشدد کے واقعات کی بھرپور مذمت کی۔معزز اراکین نے کہا کہ ستر سال سے زیادہ عرصے سے کشمیری ایک جہنم میں رہ رہے ہیں اور آج حقِ خود ارادیت تو درکنار ان کا اپنا وجود خطرے میں پڑ گیا ہے۔ برطانوی پارلیمان کے ممبران نے کھل کر بھارتی ریاستی دہشتگردی کے خلاف اور مقبوضہ کشمیر کے مظلوم عوام کے حق میں آواز اُٹھائی۔

    بی بی سی کی ایک رپورٹ کے مطابق بھارتی وفاقی حکومت ریاستوں کے مقابلہ میں یونین کے علاقوں کو کم خود مختاری دیتی ہے۔کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کیلئے مقامی آبادی اور سیاستدانوں سے مشورہ نہیں کیا گیا۔

    بھارتی اسکالر ننوت چڈھا بہیرا نے کہا کہ بھارت میں جمہوری اصولوں کو ختم کیا جا رہا ہے۔

    نوبل انعام یافتہ امریتہ سین نے این ڈی ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ مجھے نہیں لگتا کہ جمہوریت کے بغیر بھی کشمیر کی کوئی قرار داد ہوگی کیونکہ یہ جمہوریت کی راہ میں رکاوٹ ہو گی۔ ایک ہندوستانی ہونے کے ناطے اس بات پر فخر نہیں ہے کہ بھارت نے جمہوری اصول کو ہندوستان میں رائج کرنے کے بعد کہ جہاں وہ دُنیا بھر میں جمہوریت کیلئے جانا جانے والا ملک تھا لیکن اب ہم وہ ساکھ کھو چکے ہیں۔ امریتہ سین نے جموں و کشمیر کی مرکزی قیادت کو نظر بند رکھنے کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ مجھے نہیں لگتا کہ کشمیر کے قائدین اور عوام کے نقطہ نظر سنے بغیر بھی انصاف حاصل کیا جا سکے گا۔

    مسٹر شرما کا کہنا ہے کہ میں بھارتی قوم کو بتانا چاہتا ہوں کہ کشمیر کو آج آزاد کر دیا ہے کیونکہ جو معاہدہ تھا وہ ختم ہو گیا ہے۔

    معروف آسٹریلین کالم نویس سی جے ورلیمن نے اپنے ایک ٹویٹ میںکہا کہ مسلسل ظلم و ستم اور تناؤ کے باعث بالغ کشمیری دماغی امراض کا شکا ر ہو چکے ہیں۔ جن متنازع علاقوں میں سیکورٹی اہلکاروں کے ہاتھوں جنسی تشدد کی شرح سب سے زیادہ ہے ان میں مقبوضہ کشمیر بھی شامل ہے۔

    جموں وکشمیر کیلئے رائے دینے والے ٹوئیٹر اور فیس بُک کے صارفین کے اکاؤنٹس معطل کئے گئے۔

    بھارت کی طرف سے بہیمانہ اقدام کی بدترین مثال اس وقت منظر عام پر آئی جب بُرہان وانی کی رائے کو ٹوئیٹر اور فیس بُک سے ہٹا کر اکاؤنٹس کو معطل کیا گیا۔

    نیلم کماری کی موت بھارتی ریاست کے ناکام ہیلتھ سسٹم پر ایک سوالیہ نشان ہے جبکہ ایسی بہت سی خواتین حید ر آباد اور کشمیر میں بھی مر رہی ہیں۔

    نواب آف جونا گڑھ نے بھی ہندوستان کا اصلی چہرہ بے نقاب کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ہندوستان دراصل منافقانہ، دوہرے معیار، اقلیتوں اور بُنیادی انسانی حقوق کی پامالی کا نام ہے۔ بھارت کے تمام تر ناکام کوششوں اور ڈراموں کے باوجود دُنیا بخوبی جان چکی ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں جاری ہیں۔ بین الاقوامی قانون کی یوں دھجیاں اُڑانے والے بھارت کا مکروہ چہرہ اب دُنیا کے سامنے کھل کر آ چکا ہے۔

    ای ۔یو ۔ڈس انفو لیب کی چشم کُشا رپورٹ نے بھارت کے عالم گیر پروپیگنڈے کو بری طرح بے نقاب کیا۔

    موجودہ علاقائی اور عالمی صورتحال کے تناظر میں5 فروری2022کو دُنیا بھر میں کشمیر کے مظلوم عوام کے ساتھ اظہار یکجہتی کے زبردست مظاہرے دُنیا کو ایک بار پھر باور کرائیں گے کہ سات دہائیوں سے حل طلب یہ بین الاقوامی مسئلہ ایک انسانی اَلمیہ ہے اور علاقائی اور عالمی امن و استحکام کیلئے سنگین خطرہ ہے۔

    مغربی دارلحکومتوں میں جمہوریت اور انسانی حقوق کی بات کی جارہی ہے اور کشمیر کے محکوم عوام کے حقوق کی مسلسل پامالی کے خلاف اب مزید زور دار اور مؤثر آوازیں اُٹھیں گی۔

    مقبوضہ کشمیر کے المیے پر دنیا کا عدل پر مبنی رد عمل یقیناً قابل قدر ہے لیکن اس سے بھارت کا رویہ نہیں بدلے گا، نہ عالمی برادری اس حد تک جائے گی کہ بھارت اپنا رویہ بدلنے پر مجبور ہو۔ کشمیر کو آزاد کرانے کی ذمہ داری پاکستان پر ہی عائد ہوتی ہے اور ہمیں ہی مظلوم کشمیریوں کی داد رسی کے لئے آگے آنا ہو گا۔

  • کثیر الجہتی حکمت عملی کی ضرورت

    کثیر الجہتی حکمت عملی کی ضرورت

    پشاور پولیس لائنز مسجد میں خودکش دھماکے میں شہدا کی تعداد 100ہو گئی ہے۔ان شہداء میں 93پولیس اہلکار شامل ہیں۔ پولیس اور دیگر شہدا کو ان کے آبائی علاقوں میں سپرد خاک کر دیا گیا، شہدا کے جنازوں میں بڑی تعداد میں لوگوں نے شرکت کی ہے۔

    ادھر دھماکے کے بعد ریسکیو آپریشن مکمل ہوگیا اور وہاں نماز کی ادائیگی کا سلسلہ ایک بار پھر شروع ہوگیا ہے، اس افسوسناک واقعہ کے بعد خیبرپختونخوا کے نگران وزیراعلیٰ اعظم خان نے صوبے میں ایک روزہ سوگ کا اعلان کیا، یوں منگل کو خیبرپختونخوا میں سرکاری عمارتوں پر قومی پرچم سرنگوں رہا جب کہ ملک بھر میں فضا سوگوار رہی۔ پشاور پولیس لائنز سانحہ کی تحقیقات جاری ہیں۔

    ابتدائی طور پر اس سانحہ کے مختلف زاویوں پر غور کیا گیا ہے۔یہ خدشہ ظاہر کیا گیا ہے کہ خود کش حملے میں استعمال کیا جانے والا بارودی مواد گاڑی کے ذریعے پولیس لائنز منتقل کیا گیا ہے۔تحقیقاتی ٹیموں نے پولیس لائنز گیٹ اور خیبرروڈ کی وڈیوز کا جائزہ لیا ہے۔

    پشاور پولیس کے مطابق جس روز مسجد میں دھماکا ہوا، اس روز 140 افراد پولیس لائنز میں داخل ہوئے۔ پولیس لائنزبیرک میں موجود تمام افراد کی پرو فائلنگ بھی کی جارہی ہے۔

    آئی جی خیبرپختونخوا معظم جاہ انصاری نے میڈیا سے گفتگو کے دوران میں اعتراف کیا کہ علاقے میں سیکیورٹی لیپس ہوا ہے، ایسا کیوں ہوا ہے، اس کا پتہ چلانے کے لیے بھی تحقیقات جاری ہیں۔ انھوں نے کہا کہ خود کش حملہ آور کے سہولت کاروں کا بھی پتا لگا نے کی کوشش کررہے ہیں، جے آئی ٹی کی تحقیقات میں سب کچھ واضح ہوجائے گا۔

    انھوں نے مزیدکہا کہ پولیس لائنز میں فیملی کوارٹرز بھی ہیں جہاں پولیس اہل کار اپنے خاندانوں کے ساتھ رہتے ہیں، ان اہلکاروں کے مہمانوں کی آمد ورفت بھی رہتی ہے، پولیس لائنز کے اندر کھانے پینے کی کینٹینیں بھی ہیں، اس کے علاوہ وہاں تعمیراتی کام بھی چل رہا تھا۔

    آئی جی کے مطابق خود کش دہشت گرد پیر کو ہی بارودی جیکٹ پہن کر پولیس لائنز اور پھر مسجد میں نہیں داخل ہوا بلکہ بارودی سامان اور جیکٹ وغیرہ تھوڑا تھوڑا کر کے یہاں لاتا رہا‘ خودکش دہشت گرد سائلین یا مہمانوں کے روپ میں داخل ہوا‘ اس حوالے سے سیکیورٹی کی ناکامی کے لیے تحقیقات کی جا رہی ہیں۔

    میڈیا نے سی سی پی او پشاور محمد اعجاز خان کے حوالے سے بتایاہے کہ ممکن ہے خود کش دہشت گرد کسی سرکاری گاڑی میں بیٹھ کر پولیس لائنز کے اندر آیا ہو۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ حملہ آور پہلے سے ہی پولیس لائنز میں موجود ہو، سی ٹی ڈی تمام پہلوؤں پر تفتیش کر رہی ہے۔

    وزیر اعظم شہباز شریف نے تمام سیاسی قوتوں کو پیغام دیا ہے کہ پاکستان دشمنوں کے خلاف متحد ہوں۔ ہم اپنے سیاسی جھگڑے بعد میں نبٹا لیں گے۔ دہشت گرد اپنے مذموم مقاصدکے ذریعے عوام میں خوف و ہراس پھیلانا اور دہشت گردی، عسکریت پسندی کے خلاف ہماری محنت سے حاصل کردہ کامیابیوں کو رائیگاں کرنا چاہتے ہیں۔

    ایک ٹویٹ میں انھوں نے کہا کہ تمام سیاسی قوتوں کو میرا پیغام پاکستان دشمن عناصر کے خلاف اتحاد کا ہے، ہم اپنی سیاسی لڑائی بعد میں لڑ سکتے ہیں۔

    پاک فوج کے سربراہ جنرل سید عاصم منیر نے کہا کہ غیر اخلاقی اور بزدلانہ کارروائیاں قوم کے عزم کو متزلزل نہیں کر سکتیں،یہ کارروائیاں دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ میں کامیابی کے لیے ہمارے عزم کو تقویت دیتی ہیں، کسی بھی دہشت گرد کے لیے زیرو ٹالرنس ہے۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق جی ایچ کیو میں 255 ویں کور کمانڈرز کانفرنس ہوئی جس کی صدارت چیف آف آرمی اسٹاف جنرل سید عاصم منیر نے کی، شرکا کو موجودہ اور ابھرتے ہوئے خطرات، مقبوضہ جموں کشمیر کی صورت حال،دہشت گردوں کے گٹھ جوڑ اور حمایتی میکنزم توڑنے کے لیے فوج اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے جاری انٹیلی جنس پر مبنی آپریشنز کے بارے میں تفصیل سے آگاہ کیا گیا۔

    آرمی چیف نے تمام کمانڈرز کو ہدایت کی کہ وہ انٹیلی جنس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ مل کر انسداد دہشت گردی کی کارروائیوں پر اس وقت تک توجہ مرکوز رکھیں جب تک ہم پائیدار امن حاصل نہ کر لیں۔

    قومی اسمبلی کے اجلاس میں بھی سانحہ پشاور زیر بحث رہا، وزیر دفاع خواجہ آصف نے قومی اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا دہشت گردوں کے خلاف ضرب عضب جیسے آپریشن کی ضرورت ہے تاہم اس کا فیصلہ قومی سلامتی کمیٹی کرے گی کیونکہ قومی سلامتی کمیٹی ہی ایسے فیصلے لینے کا مجاز فورم ہے۔

    وزیر دفاع نے کہا کہ 100 افراد کی شہادت، سانحہ آرمی پبلک اسکول سے کم نہیں ہے۔ اے پی ایس سانحہ کے وقت بھی تمام سیاستدان اکٹھے ہوئے تھے ، آج بھی اتفاق رائے چاہیے، ماضی کی غلطیوں کا اعتراف بھی کرنا چاہیے۔انھوں نے انکشاف کیا کہ ساڑھے چار لاکھ افغانی قانونی دستاویزات پر پاکستان آئے اور واپس نہیں گئے، معلوم نہیں ان میں سے کون معصوم شہری ہے اور کون دہشت گرد ہے۔

    وفاقی وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ نے بھی اس موقع پر اپنے خطاب میںکہا ہم نے ہر قیمت پر دہشت گردی کے خلاف جنگ جیتنی ہے۔ پالیسی تو پارلیمنٹ نے دینی ہے، وزیر اعظم، آرمی چیف، ڈی جی آئی ایس آئی بھی ایوان میں آئیں گے۔ پہلے کی طرح پارلیمنٹیرینز کو بریفنگ دی جائے گی، ہماری پالیسی آج بھی اے پی ایس سانحے کے بعد والی ہے۔ ٹی ٹی پی کے خراسانی گروپ نے اس دہشت گردی کی ذمے داری قبول کی ہے۔

    پولیس لائنز کے اندر خودکش بمبار کیسے پہنچا؟ کس نے پہنچایا؟ قانون نافذ کرنے والے ادارے کافی قریب ہیں۔انھوں نے واضح کیا کہ کالعدم تنظیم کے لوگوں کو معاف کردینے کی سرکاری پالیسی غلط ثابت ہوئی ہے، پی ٹی آئی حکومت میں سزائے موت کے مجرم بھی چھوڑے گئے ہیں۔

    افغانستان میں طالبان کے اقتدار کے بعد پاکستان کے شمال مغربی علاقوں میں دہشت گردی کی وارداتوں میں بھی اضافہ ہوا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ طالبان سیکیورٹی اہلکاروں کی جانب سے سرحدی خلاف ورزیاں بھی ہوئی ہیں۔

    پاکستان کے اعلیٰ پالیسی ساز حلقوں میں تو شاید اس قسم کی صورت حال پیدا ہونے کے امکانات کا پتہ ہو لیکن یہ سب کچھ ملک کی اکثریت کی توقعات اور امیدوں کے برعکس تھا کیونکہ پاکستان میں ایک مخصوص مائنڈ سیٹ کا حامل طبقہ عوام کو یہ یقین دہانی کرا رہا تھا کہ افغانستان میں طالبان حکومت کا قیام پاکستان کے لیے غیرمعمولی فوائد کا باعث ہوگا۔

    پاکستان کے اندر یہ مخصوص مائنڈ سیٹ علمی سطح پر بھی یہی تاثر پھیلا رہا تھا کہ افغان طالبان نے امریکا کو شکست دے کر اقتدار حاصل کیا ہے حالانکہ طالبان کا اقتدار دوحہ معاہدے کے نتیجے میں قائم ہوا تھا‘ بہرحال سابق حکومت کے وزیراعظم اور ان کے ساتھیوں نے عالمی سطح پر افغانستان کی طالبان حکومت کامقدمہ لڑنا شروع کر دیا۔

    ادھر امریکا اور دیگر ممالک افغان طالبان کے عملی اقدامات پر نظر رکھے ہوئے تھے۔طالبان حکومت نے دوحہ میںجو معاہدہ کیا تھا‘ اس کی بعض شرائط پر عمل نہیں کیا‘ جس کے نتیجے میں طالبان حکومت کو دنیا میں کسی ملک نے تسلیم نہیں کیا‘ لیکن پاکستان میں موجودمخصوص مائنڈ سیٹ طالبان کا ساتھ دیتا رہا جب کہ اس کے برعکس افغانستان کی طالبان حکومت نے سرد خانے میں پڑے ہوئے معاملات کو ازسرنو اٹھانا شروع کردیا۔

    ڈیورنڈ لائن جو انٹرنیشنلی تسلیم شدہ سرحد ہے‘ اسے متنازعہ بنانے کا کام شروع کردیا‘ پاکستان نے اپنی سرحد کے اندر آہنی باڑ نصب کی تھی‘ اس کی تعمیر پر اشرف غنی کی حکومت نے بھی گرین سگنل دیاتھا لیکن افغان طالبان نے اس سرحدی باڑ کو کئی جگہ سے اکھاڑنے کی کوشش کی‘ اس کے ساتھ ساتھ افغان طالبان کی حکومت نے افغانستان میں موجودٹی ٹی پی کے لوگوں کو نقل و حرکت کی پہلے سے بھی زیادہ اجازت دے دی اور اشرف غنی حکومت نے ٹی ٹی پی کے جن لوگوں کو گرفتار کیا تھا انھیں جیلوں سے رہا کر دیا۔

    ٹی ٹی پی کے سرکردہ لوگ جو زیرزمین تھے وہ منظرعام پر آ گئے‘ افغان طالبان نے پاکستان کے مطالبات کے باوجود انھیں نہ پاکستان کے حوالے کیا اور نہ ہی ان کے خلاف کوئی خود ایکشن کیا‘ ادھر پاکستان کی سابق حکومت کے دور میں کالعدم ٹی ٹی پی کے لوگ پاکستان میں آنا شروع ہوئے‘ حکومت نے آنکھیں بند رکھیں ‘اس کوتاہی بلکہ عاقبت نااندیشی کا نتیجہ آج ایک بار پھر دہشت گردی کی شکل میں سامنے آ گیا ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ پاکستان میں دہشت گردوں کے خلاف کثیرالجہتی آپریشن شروع کیا جائے۔

  • پشاور پولیس لائن دھماکا، ایک المیہ

    پشاور پولیس لائن دھماکا، ایک المیہ

    پولیس لائن پشاور پولیس کا ہیڈکوارٹر ہے جہاں سے پولیس کو کنٹرول کیا جاتا ہے۔ پولیس کی تقرریاں و تبادلے، نفری کی تعیناتی پولیس لائن سے کی جاتی ہے۔ اس کے اردگرد انتہائی حساس مقامات ہیں۔ سول سیکریٹریٹ، کچھ ہی فاصلے پر وزیراعلیٰ ہاؤس، سینٹرل پولیس آفس اور گورنر ہاؤس ہیں۔

    انتہائی حساس علاقے میں قائم مسجد میں دہشت گردی کا واقعہ سیکیورٹی اداروں کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے۔ پولیس لائن پشاور جیسے انتہائی حساس علاقے میں، جہاں ایک عام شہری کا داخلہ بھی ناممکن ہو، وہاں تک دہشتگردوں کی رسائی کیسے ممکن ہوئی؟

    دہشت گردوں نے ملک سعد شہید کے نام سے منسوب پولیس لائن پشاور کو پیر کے دن نماز ظہر کے وقت دہشت گردی کا نشانہ بنایا۔ جب یہ سطور لکھی جارہی تھیں اس وقت تک 92 افراد کی شہادت اور 150 زخمیوں کی اطلاعات تھیں۔ دھماکے کے 20 گھنٹے گزر جانے کے باوجود ریسکیو آپریشن جاری تھا۔

    پولیس لائن دھماکے کے بعد بہت سے سوالات نے جنم لیا ہے اور قانون نافذ کرنے والے اداروں، حکومت اور ہر شہری کے ذہن میں ایک ہی سوال اٹھ رہا ہے کہ دہشت گردوں کی رسائی پولیس لائن تک کیسے ممکن ہوئی؟ جب ہم نے 1997 میں صحافت شروع کی تھی تو اس وقت کرائم رپورٹنگ کا شوق تھا۔ اس وقت جرائم کی خبروں کے لیے پولیس لائن آنا جانا لگا رہتا تھا لیکن اس وقت دہشت گردی کا ناسور ہماری اس دھرتی پر نہیں ہوا کرتا تھا۔ تب بھی صحافی ہوتے ہوئے پولیس لائن میں پوچھ گچھ کے بعد بغیر تعارف کے چھوڑا نہیں جاتا تھا۔ ابھی بھی پولیس لائن کسی کام سے جانے کےلیے پہلے سے پولیس لائن کے پی آر او کو آگاہ جاتا ہے کہ ضروری کام کےلیے آنا چاہتے ہیں، وہ گیٹ پر بتادیں۔ تب کہیں جاکر رسائی ممکن ہوتی ہے۔

    2007 میں دہشت گردی کے واقعات کے بعد پولیس لائن کی سیکیورٹی مزید سخت کردی گئی تھی۔ پولیس افسران کے علاوہ کسی کو بھی پولیس لائن کے مرکزی گیٹ سے اندر جانے پر پابندی لگادی گئی۔ کسی کام کےلیے جانے پر مکمل پوچھ گچھ کے بعد ہی چھوڑا جاتا تھا۔ پولیس لائن تک رسائی کےلیے تین سیکیورٹی حصار سے گزرنا پڑتا تھا لیکن جب دہشت گردی کی وارداتوں میں کمی ہوئی تب سے پولیس لائن جانے والے راستوں پر سیکیورٹی پہلی جیسی نہیں رہی۔ لیکن ابھی بھی پولیس لائن کے مرکزی گیٹ سے گزر کر جانا عام آدمی کےلیے ممکن نہیں۔ دہشت گردی کا حالیہ واقعہ سوچنے پر مجبور کردیتا ہے۔

    جب وزیراعظم کو دھماکے کے حوالے سے بریفنگ دی گئی تو اس وقت شہباز شریف نے بھی سوال اٹھایا کہ پولیس لائن کا ایک گیٹ ہونے کے باوجود دہشت گرد کیسے پولیس لائن میں داخل ہوئے؟ اس وقت آئی جی خیبرپختونخوا بھی تحقیقات سے قبل جواب دینے سے قاصر تھے۔

    دھماکے کی تحقیقات کےلیے ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں، جنہوں نے مختلف زاویوں سے تحقیقات کا آغاز کردیا ہے۔ ابتدائی رپورٹ بھی تیار کرلی گئی ہے جس کے مطابق دھماکا خودکش تھا اور حملہ آور نے پہلی صف میں خود کو دھماکے سے اڑایا۔ دھماکا اس قدر شدید تھا کہ مسجد کی چھت منہدم ہوگئی اور چھت تلے کئی پولیس اہلکار اور نماز کےلیے آئے شہری دب گئے۔ منہدم چھت تلے زخمیوں کو نکالنے کےلیے صبح تک ریسکیو آپریشن جاری رہا۔

    پولیس لائن دھماکے سے قبل دہشت گردی کے اِکا دُکا واقعات کا سلسلہ شروع ہوچکا تھا۔ پشاور کے نواحی علاقوں میں پولیس چوکیوں اور گشت پر پولیس ہلکاروں کو نشانہ بنایا گیا۔ کافی عرصے بعد سانحہ پولیس لائن دہشت گردی کی بڑی واردات ہے۔ عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر ایمل ولی خان نے چند ماہ قبل حکومت کو آگاہ کیا تھا کہ دہشت گرد دوبارہ منظم ہورہے ہیں۔ سوات سمیت خیبرپختونخوا کے مختلف علاقوں اور قبائلی اضلاع میں بھی عوام نے امن مارچ کیا اور دہشت گردوں کا پیغام دیا کہ وہ اپنی سرزمین کو دہشت گردی کےلیے استعمال ہونے نہیں دیں گے لیکن دہشت گرد مذموم کارروائیوں میں مصروف ہیں۔

    پولیس لائن پشاور کے دھماکے کی تحقیقات ہوگی، اس کی رپورٹ بھی آئے گی لیکن قانون نافذ کرنے والے اداروں اور حکومت کو جاگنا ہوگا۔ پشاور پولیس لائن کا دھماکا یقیناً سیکیورٹی غفلت ہے۔ سیکیورٹی کے اتنے بڑے حصار سے اور حساس مقام کے اندر ٹارگٹ تک پہنچنا غفلت کے سوا کچھ نہیں۔ سیکیورٹی کا ازسر نو جائزہ لینا ہوگا۔ مزید خون بہانے والوں کا ہاتھ روکنا ہوگا۔ موجودہ حکومت کو بھی یہ دیکھنا ہوگا کہ دہشت گردی کے تانے بانے کہاں ملتے ہیں۔ اگر سرحد پار سے یہ ہورہا ہے تو اس کا بھی جواب دینا ہوگا۔

    کب تک مائیں اپنے بیٹوں، بہنیں اپنے بھائیوں کی میتوں پر آنسو بہائیں گی؟ کب تک باپ اپنے بیٹوں اور بھائی اپنے بھائیوں کا جنازہ اٹھائیں گے؟ کب تک چھوٹے بچے اپنے باپ کی میت کو دیکھ کر کہیں گے بابا کب آؤ گے؟ پشاور پولیس لائن دھماکے کے بعد چوکنا رہنا ہوگا۔ دہشت گردی کی جو نئی لہر شروع ہوئی ہے اور پولیس لائن جیسے حساس مقام کو دہشت گرد نشانہ بنانے میں کامیاب ہوئے اس پر ہمیں آنکھیں بند نہیں کرنا ہوں گی۔۔

  • کیا گھر کے کام باقاعدہ ورزش کا متبادل ہیں؟

    کیا گھر کے کام باقاعدہ ورزش کا متبادل ہیں؟

    خواتین اپنی ذہنی اور نفسیاتی صحت کی اہمیت سے ناواقف ہونے کے علاوہ ’تن درستی‘ کے حوالے سے بھی بے پروائی کا شکار ہوتی ہیں، جب کہ خواتین جو نہ صرف ایک خاندان اور گھر میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہیں، ان کے لیے ضروری ہے کہ وہ خود کی ذہنی اور نفسیاتی صحت کے ساتھ جسمانی صحت اور فٹنس کا بھی خاص خیال رکھیں۔

    جسمانی طور پر فٹ رہنا صرف پروفیشنل زندگی کے لیے ہی نہیں، بلکہ روز مرہ زندگی اور اس کی خوشیوں سے لطف اندوز کے لیے بھی بہت ضروری ہے۔ خواتین جو صبح سے رات تک مختلف کاموں میں مصروف رہتی ہیں، دن میں چند منٹ کی باقاعدہ ورزش کو معمول بنا کراپنی صحت اور فٹنس کو یقینی بنا سکتی ہیں۔

    ہمارے معاشرے میں عام تصور ہے کہ ورزش صرف حضرات کی باڈی بلڈنگ کے عمل تک محدود اور ضروری ہے، جب کہ حقیقت کچھ مختلف ہے۔

    ورزش خواتین کے لیے بھی اتنی ہی ضروری اور مفید ہے، جتنی کہ حضرات کے لیے۔ یہ ضروری نہیں کہ حضرات کی طرح خواتین بھی ورزش کرنے کے لیے مختلف مشینوں یا باقاعدہ کسی جَم (Gym) کا سہارا لیں۔ خود کو فِٹ رکھنے کے لیے خواتین دن میں کچھ لمحے ہلکی پھلکی ورزش کر کے اپنے جسم اور ذہن کو چاق و چوبند اور توانا رکھ سکتی ہیں۔

    خواتین کے لیے خود کو جسمانی طور پر فٹ رکھنے اور ’ایکٹو‘ رکھنے کا ایک سب سے فائدہ یہ ہے کہ باقاعدگی سے ورزش کرنے والی خواتین کے بارے میں یہ رائے بدلنا پڑے گی کہ خواتین جمسانی طور پر کمزور ہوتی ہیں۔

    کیوں کہ مختلف قسم کی ورزش کے ذریعے وہ خود کو اتنا مضبوط کر لیتی ہیں کہ کسی بھی قسم کے حالات کا مقابلہ ذہنی اور جسمانی طور پر ڈٹ کر کیا جا سکے۔

    یاد رہے کہ خواتین کے لیے کچھ ایسی ’ایکسرسائز‘ بھی متعار ف کرائی گئی ہیں، جن کا مقصد کسی مشکل صورت حال میں اپنی حفاظت کرنا ہے، تاکہ خدانخواستہ کسی قسم کی ایسی مشکل سے نمٹنے کے لیے نہ صرف ذہنی، بلکہ جسمانی طور پر بھی وہ تیار ہوں اور کسی کی مدد کے بغیر اپنا دفاع کر سکیں۔

    خواتین کی اچھی ذہنی اور جسمانی صحت کے لیے باقاعدہ جسمانی سرگرمیاں انتہائی اہمیت کی حامل ہیں، کیوں کہ یہ نہ صرف مجموعی صحت اور تن درستی کو یقینی بناتی ہیں، بلکہ ہمارے وزن کا توازن برقرار رکھنے، مختلف بیماریوں کے خطرے کو کم کرنے اور اچھی دماغی صحت کو فروغ دینے میں مدد گار ہوتی ہیں۔

    ایک تحقیق کے مطابق اچھی ذہنی اور جسمانی صحت کے لیے روزانہ کم از کم 30 منٹ ورزش ضروری ہے، لیکن ’جِم‘ یا ’ایکسرسائز‘ کو باقاعدگی سے اپنا معمول بنانے کے لیے خواتین کو جن رکاوٹوں کا سامنا ہوتا ہے، ان میں گھریلو ذمہ داریوں اور وقت کی کمی کے علاوہ رجحان اور تحریک ملنے جیسے دیگر عوامل بھی شامل ہیں۔

    بہت سی خواتین بچوں کی پرورش، گھریلو ذمہ داریوں اورنوکری وغیرہ میں مصروف ہوتی ہیں، اور اپنے لیے وقت نہیں نکال پاتیں۔ لیکن خود کو فٹ رکھنے کے لیے ضروری ہے کہ جب بھی موقع ملے ورزش کرنے کی کوشش کیجیے۔

    دن میں ورزش کے لیے 10 منٹ کے تین ’دور‘ سے بھی صحت کے لیے وہی فوائد حاصل ہوں گے، جو 30 منٹ کے مسلسل ’دور‘ سے ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ اپنے بچوں کے ساتھ ایکٹویٹیز جیسا کہ سودا لینے کے لیے دکان جانا یا بچوں کے ساتھ پارک میں کھیلنا ایکٹو اور فِٹ رہنے کا بہترین طریقہ ہے۔

    اس ہی طرح بہت سی خواتین مختلف گھریلو ذمہ داریوں کے مصروف رہنے کے باعث فٹنس یا جِم جانے لیے وقت نہیں نکال پاتیں اس کے لیے فیملی یا دوستوں میں کسی کی مدد لی جا سکتی ہے۔ فٹنس ٹائم میں اپنے بچوں کو دیکھ بھال کے لیے کسی قابل اعتماد قریبی رشتہ دار یا دوست کے گھر چھوڑا جا سکتا ہے۔

    پیشہ وارانہ امور یا دن بھر گھر کی ذمہ داریوں کے بعد خواتین تھک جانے کے باعث بھی ورزش کو اپنی روز مرہ زندگی کا حصہ نہیں بنا پاتیں، لیکن باقاعدگی سے ورزش خواتین کوروزمرہ کی زندگی کے تقاضوں سے بہتر طور پر نمٹنے کے لیے توانائی فراہم کرتی ہے۔

    اگر خواتین دیر تک ورزش کرنے کے بہ جائے تسلسل کے ساتھ روز کچھ منٹس کی ورزش پہلے چند ہفتوں کے دوران ہی تھکاوٹ کو دور کرنے میں مدد دے سکتی ہے۔

    خواتین کو صحت کے دیگر مسائل کی وجہ سے بھی باقاعدگی کے ساتھ ورزش کرنے میں دشواری کا سامنا ہوتا ہے۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ خواتین اپنے ڈاکٹر سے مشاورت کے بعد ایسی ورزش کا انتخاب کریں، جو ان کی بیماری کم یا دور کرنے میں مددگار ثابت ہوں، جیسا کہ باقاعدگی کے ساتھ صبح کی واک سے بہت سی بیماریوں سے بچا جا سکتا ہے۔

    ورزش یا ’ایکسرسائز‘ سے متعلق ایک رجحان یہ بھی ہے کہ ان کے لیے مہنگے ’جِم‘ جانا ضروری ہے، جب کہ ورزش کی بہترین شکل تیز تیز چلنا بھی ہے۔ باقاعدگی سے واک خواتین کو ذہنی اور جسمانی طور پر فٹ رکھنے میں بہترین مددگار ہوتی ہے۔

    ایک تاثر یہ بھی پایا جاتا ہے کہ خواتین کو اگر اپنا وزن کم کرنا ہے یا جسمانی طور پر فٹ لگنا ہے، تو بس سارا دن گھر کے کاموں مثلاً جھاڑو پونچھا، کپڑے دھونا وغیرہ جیسے کاموں میں مصروف رہیں، اس طرح جسم کی خود بہ خود ورزش ہو جائے گی، جو کہ بالکل ایک غط تصور ہے۔

    کیوں کہ ورزش ایک ایسا باقاعدہ عمل ہے، جس میں انسان دنیا کی تمام فکروں اور پریشانیوں کو دماغ سے نکال کر صرف اپنی جسمانی صحت کے لیے یک سو ہوتا ہے۔ ورزش کے وقت اگر خواتین دن بھر کے مسائل مسئلے اور کاموں کی فکر چھوڑ کر صرف ’ایکسرسائز‘ پر توجہ دیں، تو یہ اب کی جسمانی صحت کے ساتھ ذہنی صحت کے لیے بھی فائدہ مند ہوتا ہے۔

    لہٰذا ورزش کو روزمرہ زندگی میں شامل کرنے کے لیے ضروری ہے کہ پہلے ان مسائل کی نشاندہی کی جائے، جو کہ ورزش کرنے میں رکاوٹ بننے کا سبب بن رہے ہوں اور پھر ان کے ممکنہ حل کے بارے میں بھی سوچیں۔ جیسا کہ وقت کی کمی یا پھر اس بات کو سمجھنا کہ دوسرے جتنے کام اہم ہیں، خواتین کا ورزش کرنا بھی اتنا ہی ضروری ہے۔

    اس کے ساتھ ساتھ روزمرہ زندگی کے معمولات کے ساتھ ساتھ ایسی سرگرمیوں کا انتخاب کریں، جس سے خود بھی لطف اندوز ہوں اور جسمانی طور پر بھی ’پرسکون‘ ہو سکیں۔ ساتھ ہی اپنی ڈائری لکھیں اور قابل حصول اہداف طے کریں، خود کو ’سب کچھ یا کچھ بھی نہیں‘ والی ذہنیت کا شکار نہ ہونے دیں۔

    اگر آپ اس وقت فی ہفتہ صرف ایک یا دو ورزشی ’دور‘ کے لیے وقت نکال سکتی ہیں، تو بھی یہ آپ کی بڑی کام یابی ہے، کیوں کہ تھوڑی دیر کی گئی ورزش کچھ مدد گار ضرور ثابت ہوگی اور کچھ دیر ورزش بالکل بھی ورزش نہ کرنے سے نمایاں طور پر بہتر ہے۔

  • ’’میں نے تو ایسی عورت  سے شادی نہیں کی تھی!‘‘

    ’’میں نے تو ایسی عورت سے شادی نہیں کی تھی!‘‘

    کتنا بھدا اور بدنما ہو جاتا ہے عورت کا جسم ماں بننے کے بعد۔۔۔ سو درد اٹھانے کے بعد بھی اپنے اس بے ڈھنگے دکھائی دینے والے سراپے پر نظر اس وقت تک جاتی ہی نہیں، جب تک ننھے منے اور بھینی بھینی سی خوش بو والے نرم نازک وجود سے گود گرم رہتی ہے۔ پھر اس میں ہی گم رہنا، سونا جاگنا، کھانا پینا، آرام اور چین کو بھول کر اسی وجود کو کسی ننھی کونپل کی طرح سینچنا اور اس کی مکمل نگہ داشت کرنا۔

    اسے بچپن سے ہی صاف ستھرا رہنے کا شوق تھا، اکلوتی بیٹی تھی تو والدین ناز بھی خوب اٹھائے، بھائی بھی ہاتھ کا چھالا بناکر رکھنے والے، ماں بچپن سے اسے خوب سجا سنوار کر رکھتیں، پاوڈر چھڑک کر، شیمپو کیے ہوئے بال، نت نئی فراک پہن کر وہ شہزادیوں کی آن بان سے رہا کرتی۔

    سجنے سنورنے کی یہ عادت بچپن سے جوانی تک پختہ ہوگئی، روپے پیسے کی فراوانی نہ تھی، پھر اس کا ذوق بھی خوب تھا، گرمیوں میں ہلکے رنگوں کے لان کے جوڑے تو سردیوں میں جینز، کوٹ اور گہرے رنگوں کے اونی سوئٹر پہننا اسے بے حد پسند تھا۔

    بالوں کی جدید تراش خراش اور باقاعدگی سے جلد کا خیال رکھنا اس کے معمولات میں شامل تھا۔ نازک نازک سے ہاتھ پاؤں اور ان کی صفائی ستھرائی کا دھیان عجیب بھلا سا تاثر دیتا تھا، اس کی شخصیت کو، پھر اس پر وہ خوشبوؤں کی دل داہ، مہنگے پرفیوموں کا ایک ڈھیر تھا۔

    اس کی دل فریب اور اجلی و نکھری شخصیت لوگوں کو متوجہ کرتی تھی۔ یہی وجہ تھی کہ جس محفل میں بھی جاتی اس کا رشتہ آجاتا۔ وہاج نے بھی اسے ایک ’میلاد‘ کی تقریب میں دیکھا، تو اس کی متاثر کن شخصیت دیکھ کر دل ہار بیٹھا۔ ہلکے گلابی کام دانی کے سوٹ میں چاندی کے آویزے پہنے گلابی نیل پالش سے سجے نازک ہاتھ، سیاہ سلکی زلفیں اور اس کے قرین سے آتی مسحور کن خوش بو۔۔۔ وہاج کو وہ اتنی بھاگئی کہ اسے اپنی دلہن بنا کر ہی دم لیا۔

    شادی کے اولین دنوں میں نت نئے جوڑے اور زیور پہن کر وہ سجی سنوری رہا کرتی، وہاج تو دیوانہ تھا اس روپ کا لہذا خوب ناز نخرے اٹھایا کرتا۔ پھر شادی کے پہلے سال ’خوش خبری‘ کی نوید ملی، تو ان دنوں طبعیت کی خرابی، نقاہت کی وجہ سے اس کی خود پر توجہ کم ہونے لگی۔

    وہاج دفتر سے آتا، تو وہ نڈھال سی ملگجے لباس میں بکھرے ہوئے بالوں کے ساتھ ملتی۔ وزن بھی اس کا کافی بڑھ گیا تھا۔ اس حلیے میں دیکھ کر وہاج اس سے بیزار ہونے لگا۔ اسے تو پلاسٹک کی گڑیا کی مانند نک سک سی درست تراشی ہوئی بیوی کی یاد ستاتی۔

    بیٹے کی پیدائش کے بعد وہاج خوشی میں اس کا پھیلا ہوا سراپا وقتی طور پر بھلا بیٹھا، تو اس نے بھی سُکھ کا سانس لیا۔ بچے کے ساتھ اس کے کام بڑھ گئے، اس لیے خود پر توجہ بھی کم ہوتی ہی چلی گئی۔ پرانے سارے کپڑے اس کے تنگ ہوگئے۔

    تو سادہ سے ڈھیلے ڈھالے لباس سلوالیے۔ بچے کی پیدائش کے بعد سے سر کے بال جو گرنا شروع ہوئے، تو حال یہ ہوا کہ چوٹی آدھی رہ گئی۔ راتوں کو جاگ جاگ کر گہرے حلقے اور بیوٹی پارلر تو وہ بھول ہی بیٹھی تھی۔

    اس کے سال بھر بعد ہی وہ ایک بیٹی کی بھی ماں بن گئی۔ اب تو اس کے حالات مزید سخت ہوگئے۔ وہاج تو ہر بات پر اس کے مُٹاپے کو نشانہ بناتا۔ بچوں کا رونا اسے برا لگا کرتا۔ کھانا پکنے میں دیر ہو جاتی، تو بھی وہ قصور وار ٹھہرتی۔ نتیجہ میں وہ کڑھ کڑھ اندر سے کھوکھلی ہوتی جا رہی تھی۔

    وہ اولاد کو پاکر اپنے سراپے اور جوانی کی درگت بھلا بیٹھی تھی، ساری تکلیفیں جو اس نے زچگی میں سہیں، یاد بھی نہیں تھیں، لیکن جس کی اولاد کو اس نے اپنا خون دیا۔ پال ہوس رہی تھی، اس شخص سے اس کی ڈھلتی خوب صورتی برداشت نہیں ہورہی تھی۔

    پھر آج تو حد ہی ہوگئی ان کی تین ماہ کی بیٹی صبح سے قے کررہی تھی اور وہ اس کے کپڑے تبدیل کروا کر اور بیڈ شیٹس تبدیل کر کے تھک چکی تھی اور جب اپنے اسی مسلے ہوئے حلیے اور قے کی بساند والے کپڑوں میں وہاج کو شام کی چائے پیش کی تو وہ سلگ اٹھا اور اس کے کانوں میں زہر انڈیلتا چلا گیا۔

    کیسی لوتھڑے نما عورت ہوگئی ہو، ہر وقت دودھ کی بو مہکتی ہے، بال تو دیکھو سب جھڑ گئے۔ وہ والی عورت تم لگتی نہیں جس سے شادی کی تھی۔

    یہ تو کوئی بے ڈھنگے وجود والی بھدی سی عورت ہے، تو اس لمحے اس چربی سے ڈھکے وجود میں اس کا نازک سا دل ٹوٹ گیا اور جی کیا کہ ایک ایک لمحہ اور ایک ایک اذیت کا حساب وہاج کو سنایا جائے، جس سے یہ ناواقف ہے۔ لیکن اس کا فائدہ کیا ہوگا اگر اسے احساس ہوتا تو اس کی سوچ مختلف ہوتی۔

    اگر اسے بات کی تربیت ملی ہوتی کہ قربانی سب سے بڑی خوبی ہے۔ جسم ، جوانی تو ڈھل ہی جانی ہے، لیکن اصل دولت تو یہ خدا کی عطا کردہ صحت اور اولاد ہے۔

    کوشش کیجیے کہ کم از کم اپنے بیٹوں کو یہ ضرور سکھا سکیں کہ خوب صورت اور دل کش جسم سے زیادہ وہ بے ڈھب سراپہ ہے جس کے وجود میں صرف تمہاری اولاد کی محبت اور پرواہ ہے اس سے زیادہ پیارا وجود کوئی اور نہیں ہو سکتا، جو اپنے خون سے سینچ کر تمہاری نسل کو بقا دیتی ہے۔

  • مار گئی ہمیں یہ مہنگائی!

    مار گئی ہمیں یہ مہنگائی!

    ’’بس آخری اشتہار رہ گیا، مجھے معلوم ہے کیا جواب ملے گا‘‘ اخبار دیکھتے ہوئے اس نے خودکلامی کی۔
    ’’مجھ سے بہتر تو زین رہا، خوشحال ہے، لگتا ہے اچھی جاب ملی ہے۔‘‘ اس نے اپنے کلاس فیلو کو یاد کیا۔
    ’’فائدہ ایسی ڈگری کا، ماسٹرز کرنے سے بہتر تھا میں مزدور بن جاتا۔‘‘
    سخت چلچلاتی دھوپ میں اس کی بائیک ٹریفک جام میں پھنسی تھی۔ ٹریفک سگنل پر تیسری جنس کا نمائندہ تالیاں بجا کر بھیک مانگ رہا تھا۔ اس کی نگاہیں ہیجڑے سے ٹکرائیں۔
    ’’زین…؟‘‘ ایک کرب انگیز کراہ اس کے لبوں سے خارج ہوئی، اور آنکھیں بھر آئیں۔

    ایک دہائی قبل لکھی گئی اپنی یہ مختصر سو لفظی کہانی ہمیں پھر یاد آگئی جب آج ایسی ہی ایک خبر نظر سے گزری۔ خبر لاہور میں خواجہ سراؤں کے ساتھ لڑکی کا بھیس بدل کر بھیک مانگنے والے گیارہ سالہ لڑکے زین کی ہے۔ زین کے والدین ذہنی معذور ہیں اور اپنے بچوں کی پرورش سے قاصر ہیں۔ زین اپنے والدین کی دیکھ بھال اور معاش کے لیے یہ کام کرنے پر مجبور ہوا۔ زین کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی اور پولیس نے اسے گرفتار کرلیا۔ یعنی کسی کی غربت اور مجبوری کا مداوا کیے بغیر اس کا ’’روزگار‘‘ چھین لیا گیا۔

    صرف ایک زین ہی نہیں، اسی قبیل کے کئی کردار روز نگاہوں کے سامنے سے گزرتے ہیں جو اپنی مجبوریوں، غربت اور ملک میں بڑھتی ہوشربا مہنگائی کے باعث ایسا کرنے پر مجبور ہیں۔ بھیک مانگنا کوئی قابل ستائش عمل تو نہیں، لیکن پیٹ بھرے لوگوں کے نزدیک کسی کی مجبوری صرف عذرِ لنگ ہوتی ہے۔ جب تک کوئی خود اس کرب اور تکلیف سے نہ گزرے وہ دوسروں کی مجبوریوں کو بھی تنقید کا نشانہ ہی بناتا ہے۔ بھیک مانگنے یا بقول معترضین یہ ’’قبیح فعل‘‘ سرانجام دینے کے بجائے ’’مزدوری کرلیتا‘‘ وغیرہ وغیرہ جیسے مشورے گھڑے جاتے ہیں۔ لیکن ملک کی اس وقت جو معاشی صورتحال ہے اس میں تو ایک غریب مزدور کے گھر کا چولہا بھی بجھ چکا ہے۔ ملک میں غربت اس نہج پر پہنچ چکی ہے کہ لوگ اپنے بچے بیچنے پر مجبور ہوگئے ہیں۔ ایسی ہی ایک تصویر نے روح تک کو لرزا کر رکھ دیا جس میں ایک ماں اپنی بچی کے ساتھ ’’بیٹی برائے فروخت‘‘ کا کارڈ اٹھائے کھڑی ہے۔

    ملک میں غربت کی شرح خطرناک حد تک بڑھ چکی ہے اور حکومت کی ’’شوبازیاں‘‘ ختم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہیں۔ اس پر مستزاد عوام پر ایک اور ’’پٹرول بم‘‘ گرادیا گیا ہے۔ اور اس بار دس بیس روپے نہیں بلکہ پٹرول کی قیمت میں پورے 35 روپے کا اضافہ کیا گیا ہے۔ پٹرولیم کی قیمتوں میں یہ ریکارڈ اضافہ مزید مہنگائی کا پیش خیمہ ثابت ہوگا۔ کیا یہ بہتر نہ ہوتا کہ عوام کو سہولت دینے کےلیے اشرافیہ کی عیاشیاں ختم کردی جاتیں۔ حکومت کے مشکل فیصلوں کے حوالے سے سوشل میڈیا پر یہ استہزائیہ پوسٹیں بھی گردش میں ہیں کہ ’’اگر واقعی مشکل فیصلہ کرنا ہے تو ملک میں کسی کو بھی ایک لیٹر پٹرول، نہ ہی ایک یونٹ بجلی مفت ملے۔ پلاٹس واپس، پروٹوکول و دیگر الاؤنسز ختم، یہ ہے مشکل فیصلہ۔ جنھوں نے ملک کو لوٹا ہے ان کی جائیدادیں نیلام کرکے قومی خزانے میں ڈالو، یہ ہے مشکل فیصلہ۔ پٹرول مہنگا کرنا تو سب سے آسان فیصلہ ہے جو آپ نے فوراً کرلیا‘‘۔

    معیشت کی بحالی کے لیے جو وزیر خزانہ بہت زور و شور سے واپس لایا گیا اُن کے مطابق ’’حکومت کے پاس معاشی بحران حل کرنے کےلیے کوئی جادو کی چھڑی نہیں‘‘۔ یہ بات تو عوام بھی جانتے ہیں، ملک کے حالات جادو کی چھڑی سے نہیں بلکہ اصلاحات اور درست پالیسی سے ہی تبدیل کیے جاسکتے ہیں لیکن اس جانب بھی تو پیش رفت نہیں کی جارہی۔ صرف عوام پر ہی زور چل رہا ہے لیکن عوام پر یہ جبر بھی اپنی حدیں پار کرچکا ہے۔ ’’پاکستان کی معاشی ترقی اللہ تعالیٰ کے ذمے ہے‘‘ جیسے بیان دینا وزیرخزانہ کو زیب دیتا ہے؟

    عوام یہ سوال کرنے میں حق بجانب ہیں کہ صرف عوام سے ہی کیوں قربانی مانگی جاتی ہے؟ اس ملک کے امرا اور اشرافیہ کیوں قربانی نہیں دیتے۔ حکومت اور اپوزیشن میں شامل وزرا اپنی عیاشیاں کیوں ختم نہیں کرتے؟ ایوان و عدلیہ میں بیٹھے افراد کا پروٹوکول ختم کیوں نہیں کیا جاتا؟ آخر کب تک عوام ہی بوجھ اٹھاتے رہیں گے، قربانیاں دیتے رہیں گے؟

    وزیراعظم پاکستان اپنے نمائشی بیانات میں کہہ تو رہے ہیں کہ ’’میں اپنی ساری سیاسی کمائی پاکستان کےلیے قربان کرنے کو تیار ہوں، ملک و قوم کو مشکل حالات میں تنہا نہیں چھوڑیں گے‘‘ وغیرہ وغیرہ۔ لیکن یہ قربانی کب دی جائے گی؟ ایک طرف قربانی کی باتیں اور دوسری جانب عمل یہ ہے کہ حکومت نے عیاشیوں کےلیے 135 بی ایم ڈبلیو گاڑیاں منگوانے کی اجازت دے دی۔ وزیراعظم پاکستان سے گزارش ہے کہ ’’شوبازیاں‘‘ ختم کرکے عوام کے حقیقی مسائل پر توجہ دیں۔ عوام کا دل صرف باتوں سے نہیں بہلائیے بلکہ حقیقی ریلیف فراہم کیجیے۔ ان پالیسیوں اور سوچ کو ترک کیجیے جس کی وجہ سے آج عوام کو یہ برے دن دیکھنا پڑ رہے ہیں۔ قربانیاں صرف عوام سے نہ مانگیے بلکہ اب وقت آگیا ہے کہ ملک کی اشرافیہ اور بالائی طبقے کا تمام تر پروٹوکول، سیاستدانوں اور بڑے سرکاری افسران کی مراعات کا خاتمہ کرکے ملکی خزانے سے بوجھ کم کیا جائے۔

  • Vavada Casino



    Погрузитесь в азарт с Vavada official


    Vavada official

    Попробуйте свои силы в захватывающих играх с лучшими шансами на победу. В Vavada official вас ждут тысячами уникальных игровых автоматов, карточных игр и живых казино. Присоединяясь к нам, вы получаете доступ к эксклюзивным бонусам, которые явно увеличат ваши шансы на успех.

    Пользуйтесь удобным интерфейсом и быстрыми выплатами. Служба поддержки всегда готова помочь, а система лояльности порадует регулярными акциями и подарками. Каждый клиент становится частью нашей дружной семьи. Не упустите возможность испытать удачу и выиграть крупный приз в Vavada official!

    Как выбрать подходящие игры для успешной игры на Vavada?

    Определите свой игровой стиль: предпочитаете ли вы слоты, настольные игры или живое казино? Это поможет сосредоточиться на тех играх, которые вам действительно интересны.

    Исследуйте RTP (возврат игроку): выбирайте игры с высоким RTP, так как это увеличивает шансы на выигрыш. Обычно, более 95% считается хорошим уровнем.

    Изучите правила и стратегии каждой игры. Например, в покере важно понимать, когда блефовать, а в блэкджеке – основную стратегию подсчета карт. Соблюдение правил позволяет избежать ошибок и повысить шансы на успех.

    Используйте бонусы и акции на официальном сайте вавада. Бонусы увеличивают банкролл и предоставляют дополнительные шансы на выигрыш.

    Тестируйте игры в режиме демо. Это поможет понять механику и особенности без риска потери денег. Не бойтесь экспериментировать с разными играми.

    Следите за новыми релизами и новинками. Игры с инновационными функциями могут предложить уникальный опыт и возможности для выигрыша.

    Обсуждайте с другими игроками. Сообщества и форумы предоставляют ценную информацию о том, какие игры наиболее прибыльные и интересные.

    Выбор игры требует внимания и анализа. Подходите к этому процессу осознанно, и успех не заставит себя ждать.

    Топ-5 стратегий для увеличения шансов на выигрыш в казино Vavada

    Используйте бонусы на максимуме. Применяйте приветственные предложения и фриспины, чтобы увеличить стартовый капитал. Читайте условия и выбирайте наиболее выгодные акции.

    Изучите правила игр. Подробное понимание правил карточных игр и слотов помогает принимать более взвешенные решения, что напрямую влияет на шансы на успех.

    Управляйте банкроллом. Установите лимиты на ставки и строго следуйте им. Стабильное распределение бюджета помогает избежать больших потерь и поддерживать игру.

    Выбирайте игры с высоким RTP (возвратом игроку). Игры с высоким процентом возврата предлагают лучшие шансы на выигрыш. Изучите список доступных игр и выбирайте те, у которых RTP выше 95%.

    Играйте в режимах с низкой волатильностью. Игры с низкой волатильностью обеспечивают частые, но небольшие выигрыши. Это помогает поддерживать игровой баланс и увеличивает шансы на успешный выход.

    Как могут бонусы и акции Vavada улучшить ваш игровой опыт?

    Регулярно используйте приветственные бонусы для увеличения своего игрового банкрота. Например, новые игроки могут получить увеличенный процент на первый депозит, что позволяет начать игру с большими ставками.

    Следите за акциями, которые предлагает Vavada. Каждый месяц проводятся специальные турниры и розыгрыши, участие в которых не только приносит удовольствие, но и шанс выиграть дополнительные призы.

    Воспользуйтесь системой лояльности. Чем больше вы играете, тем больше бонусов накапливаете. Этапы программы лояльности предлагают эксклюзивные предложения и даже персонализированные подарки, что делает игру более увлекательной.

    Не забывайте о регулярных фриспинах. Это возможность бесплатно попробовать новые слоты и увеличить свои шансы на выигрыш, не risking свои средства.

    Следите за акциями на определенные игры. Часто Vavada проводит акции на конкретные слоты, где можно получить дополнительные бонусы или увеличить коэффициенты выигрыша.

    Следуйте за новостями и подписывайтесь на рассылки. Таким образом, вы всегда будете в курсе самых свежих предложений и сможете воспользоваться уникальными шансами.


  • معاشی بحران؛ طویل المدتی پالیسیوں کی ضرورت

    معاشی بحران؛ طویل المدتی پالیسیوں کی ضرورت

    وزیراعظم شہباز شریف نے جمعے کو گرین لائن ٹرین سروس کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ انھیں پوری امید ہے کہ آئی ایم ایف سے اسی ماہ معاہدہ ہوجائے گا،مشکلات کا ڈٹ کر مقابلہ کرنے والی قومیں ہی ترقی کرتی ہیں، ملک کو موجودہ گرداب سے نکالیں گے۔

    گزشتہ حکومت کی جانب سے اداروں پر بے بنیاد الزام تراشی اور چینی کمپنیوں پر کرپشن کے الزامات سے چینی حکام کو تکلیف پہنچی ، ان تعلقات کو معمول پر لانے کے لیے برف پگھل رہی ہے، ایم ایل ۔ون منصوبہ کی تکمیل ہماری اولین ترجیح ہے، ہم نے زرمبادلہ کے ذخائر کو مد نظر رکھ کر اپنی ترجیحات کا تعین کیا ہے، خوراک اورادویات کی درآمد کو اوّلین ترجیح دی گئی ہے،ایک ایک پائی بچانے کی کوشش کررہے ہیں، دن رات محنت کرکے دنیا میں اپنا کھویا ہوا مقام حاصل کریں گے۔

    وزیراعظم پاکستان نے آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدے کے حوالے سے جو بات کی ہے‘ حکومت کے حالیہ اقدامات سے لگتا ہے کہ آئی ایم ایف کی شرائط پر عمل درآمد کا آغاز کر دیا گیا ہے ‘ ڈالر کی قدر طے کرنے کے لیے کیپ کا خاتمہ اس سلسلے کا اہم اقدام ہے۔

    اگر یہی کام پہلے کر لیا جاتا تو اب تک ڈالر کی قدر میں جتنا اضافہ ہونا تھا وہ اضافہ ہو چکا ہوتا اور اب اس کی قیمت میں استحکام آ جاتا لیکن حکومت کی معاشی ٹیم نے اپنے طور پر کوشش کی کہ ڈالر کی قیمت کو ایک حد سے زیادہ نہ بڑھنے دیا جائے لیکن یہ کوشش کامیاب نہ ہو سکی اور بلاآخر پاکستان کو یہ کڑوی گولی نگلنا پڑی۔

    پاکستان جس قسم کے مالیاتی اور معاشی بحران میں مبتلا ہے ‘ اس سے نکلنے کے لیے روایتی مانیٹری اقدامات کارگر ثابت نہیں ہو سکتے‘ پاکستان پر عالمی قرضوں کا بوجھ بہت زیادہ ہے‘ اسی وجہ سے پاکستان کے لیے قرضوں کی ادائیگیوں کا بوجھ بھی پاکستان کی سالانہ پیداوار اٹھانے کے قابل نہیں ہے۔

    پاکستان پر محض عالمی مالیاتی اداروں کا قرضہ ہی نہیں ہے بلکہ عالمی نجی مالیاتی اداروں اور ممالک کا بھی قرضہ ہے۔ ان میں چین سرفہرست ہے۔ یوں پاکستان قرضوں کے ایسے چنگل میں پھنس چکا ہے جہاں سے نکلنا بظاہر ممکن نظر نہیں آ رہا۔آئی ایم ایف کی شرائط تسلیم کرنے سے ملک کے اندر مہنگائی کی شرح میں مزید اضافہ ہو گا جس کی وجہ سے ملک کے درمیانے اور نچلے طبقے کی مشکلات میں پہلے سے بھی کہیں زیادہ اضافہ ہو جائے گا۔

    وزیراعظم میاں شہبازشریف کے علاوہ جمعے کو وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے بھی گرین لائن منصوبے کی افتتاحی تقریب سے خطاب کیا ۔انھوں نے کہا ہے کہ پاکستان کی معاشی ترقی اور خوشحالی اللہ تعالیٰ کے ذمے ہے۔پاکستان معاشی دلدل میں ہے۔ انشاء اللہ اس دلدل سے نکل جائیں گے۔ اللہ تعالیٰ نے پاکستان کو دنیا میں رہنے کے لیے قائم کیا ہے، یہ واحد ملک ہے جو کلمہ طیبہ کے نام پر بنا تھا حتی کہ سعودی عرب بھی کلمہ شریف کے نام پر نہیں بنا۔ اگر اللہ نے پاکستان بنایا ہے تو اس کی حفاظت ، ترقی اور خوشحالی بھی اللہ تعالیٰ کے ذمے ہے تاہم بطور قوم ہمیں سخت محنت کرنا ہوگی۔

    وفاقی وزیر خزانہ کی یہ باتیں معاشی حقائق کے تناظر میں نہیں تھیں ‘ اس کا مطلب یہی ہے کہ ان کے پاس معاشی اور مالیاتی مسائل کا کوئی پائیدار حل موجود نہیں ہے۔ محض ڈالر کو کنٹرول کرنے اور امپورٹ پر پابندی عائد کردینے سے ملک کا مالی بحران ختم نہیں ہو سکتا ‘ سری لنکا نے بھی ایسا تجربہ کیا تھا لیکن یہ تجربہ کامیاب نہیں ہو سکا ۔ پاکستان میں اچانک امپورٹ پر پابندی عائد کر دینا ‘زیادہ مسائل کا باعث بنا ہے ‘اس کے لیے طویل المدتی پالیسی کی ضرورت ہے۔

    پاکستان ابتدائی طور پر ایسی امپورٹ بند کرے جو طبقا امرا کی آسائشوں سے تعلق رکھتی ہے۔مثال کے طور پر کتوں اور بلیوں کی خوراک امپورٹ کرنے پر پابندی عائد کر دی جائے تو اس سے عام آدمی یا درمیانے طبقے کے لوگوں پر اثر نہیں پڑے گا ‘ اسی طرح لگژری گاڑیوں کی امپورٹ پر بھی کچھ مدت کے لیے پابندی عائد کی جا سکتی ہے۔

    پاکستان میں جن اداروں نے اسمبلنگ پلانٹ لگا رکھے ہیں ‘ انھیں ایک مقررہ ٹائم فریم دے دیا جائے کہ وہ اس عرصے میں پرزہ جات خود تیار کریں اور ان کی امپورٹ بند کر دی جائے۔ اسی طرح دودھ اور دیگر کھانے پینے کی چیزیں جن میں چاکلیٹس وغیرہ ہیں ان کی امپورٹ پر پابندی عائد کی جا سکتی ہے۔

    کنسٹرکشن کا شعبہ کیونکہ بہت بڑا ہے اور اس سے یومیہ اجرت پر کام کرنے والے مزدوروں اور کاریگروں کا روز گار وابستہ ہے ‘ اس لیے اس شعبے کے لیے درآمدات پر بھی فوری پابندی درست نتائج نہیں دے گی‘ اس کے لیے بھی طویل المدتی منصوبہ بندی کی جائے اور مقامی پروڈکٹس کی تیاری اور کوالٹی پر توجہ دی جائے ‘ اس کے بعد ایسی درآمدات پر کچھ مدت کے لیے پابندی عائد ہو سکتی ہے۔

    معاشی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے پاکستان کی معاشی صورتحال سنگین ہوگئی ہے ڈالر کی قدر بڑھنے اور آئی ایم ایف کی دیگر سخت شرائط سے ملک مہنگائی کا سیلاب امڈ آئے گا کاروباری و ٹرانسپورٹیشن لاگت سنگین حد تک بڑھ جائے گی اور مزید بیروزگاری بڑھنے کے خدشات پیدا ہوگئے ہیں۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ 30جون 2023 تک پاکستان کو مجموعی طور پر 8ارب ڈالر کی بیرونی ادائیگیاں کرنی ہیں جس میں سے 3ارب ڈالر کے قرضے رول اوور ہونے کی توقع ہے۔یہ صورت حال یقینا حکومت کے علم میں ہے ‘اب ملک کو مسائل کا سامنا ہے تو یقینی طور پراس کے حل کے لیے کام بھی کرنا ہو گا۔

    میڈیا کی اطلاع کے مطابق ڈالر بحران پر قابو پانے کے لیے ایکس چینج کمپنیز آف پاکستان نے حکومت کو ماہانہ ایک ارب ڈالر لانے کی پیشکش کردی ہے۔

    ایکس چینج کمپنیز ایسوسی ایشن کے چئیرمین نے ایکسپریس کو بتایا کہ مقامی ایکس چینج کمپنیاں بیرونی ممالک سے ماہانہ ایک ارب ڈالر ملک میں لانے کی صلاحیت رکھتی ہیں جو اوورسیز پاکستانیوں اور کمپنیوں سے دوسال کے ادھار پر حاصل کیا جاسکتا ہے۔ انھوں نے بتایا کہ ایکس چینج کمپنیاں اس ضمن میں وفاقی حکومت کی اجازت کے طلبگار ہیں۔

    ملک بوستان نے بتایا کہ مقامی ایکسچینج کمپنیوں نے1998کے ڈالر بحران کے دوران بھی بیرونی ممالک سے پاکستان کے لیے 10ارب ڈالر کا بندوبست کیا تھا۔ انھوں نے بتایا کہ ڈالر بحران کی بڑی وجہ بغیر ایل سی واجازت کے 4ارب ڈالر کی درآمدات ہیں، درآمدکنندگان کو مطلوبہ پیشگی اجازت کے بعد اپنے درآمدی کنسائمنٹس کی شپمنٹ منگوانی چاہیے تھی۔

    انھوں نے کہا کہ کیپ ختم کرنے سے ڈالر اپنی حقیقی قیمت پر آگیا ہے لہٰذا برآمدی شعبوں کو چاہیے کہ وہ بیرونی ممالک روکے ہوئے 8 سے 10ارب ڈالر کی برآمدی آمدنی کی ترسیلات بیرونی ممالک میں ہیں جو اب ڈالر ریٹ بڑھنے سے پاکستان میں لاکر کیش کرائے جاسکتے ہیں۔

    اگلے ماہ آئی ایم ایف جائزہ ٹیم کی پاکستان آمد سے امکان ظاہر کیا جارہا ہے اور امید کی جا رہی ہے کہ اگلے ماہ کے دوران پاکستان کا قرض پروگرام بحال ہوجائے گا جو ذرمبادلہ کے بحران کی شدت میں قدرے کمی کا سبب بنے گا۔

    اس حوالے سے حکومت کی پالیسی درست ہے کیونکہ ڈالر کو زبردستی کنٹرول نہیں کیا جا سکتا‘آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدے کے بعد پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر بہتر ہو جائیں گے کیونکہ جون 2023 تک 2.8ارب ڈالر کے دوطرفہ اور سہ طرفہ قرضوں کی لازم ادائیگیوں کے دباؤکی وجہ سے زرمبادلہ کے سرکاری ذخائر گھٹ جائیں گے لیکن آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدے سے پاکستان اس بحران سے نکل آئے گا۔

    آئی ایم ایف سے معاہدے کے بعد پاکستان کے لیے سب سے اہم چیزملک کی مارکیٹ فورسز کو ریگولرکرنا ہے۔ملک میں کھانے پینے کی اشیا کی بلاجواز مہنگائی کو کنٹرول کرنے کے لیے میکنزم بنانے کی ضرورت ہے۔اس وقت خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ ہول سیل مارکیٹس میں دالوں کا اسٹاک بہت کم رہ گیا ہے، یہ بھی کہا جارہا ہے کہ کراچی پورٹ پر موجود دالوں کو فوری کلئیر نہ کیا گیا تو دالوں کی قلت بہت زیادہ ہوجائے گی۔

    یہ ایسی صورت حال ہے جس کے بارے میں حکومتی اداروں کے پاس یقینا مکمل رپورٹس اور ریکارڈ ہو گا۔ملک میں ہول سیلرز اور ریٹیلرز نے پہلے سے امپورٹ کی ہوئی اشیا کی قیمتیں بھی ڈالر کی کل پرسوں کی قیمتوں کے تناظر میں بڑھا دی ہیں‘یہ پاکستان میں باقاعدہ ایک کاروباری کلچر بن چکا ہے۔

    اس حوالے سے ایک پالیسی ہونی چاہیے جس کے تحت اس امر کو یقینی بنایا جا سکے کہ جو اشیا ایک ماہ پہلے یا اس سے بھی پہلے امپورٹ ہو چکی ہیں ان کی ریٹیل پرائس کو آج کے ڈالر ریٹ کے تناظر میں نہ بڑھایا جا سکے ۔