Deprecated: Creation of dynamic property EPS_Redirects_Plugin::$settings is deprecated in /home2/sangemee/public_html/wp-content/plugins/eps-301-redirects/plugin.php on line 55

Warning: Cannot modify header information - headers already sent by (output started at /home2/sangemee/public_html/wp-content/plugins/eps-301-redirects/plugin.php:55) in /home2/sangemee/public_html/wp-content/themes/twentytwentyfive/functions.php on line 296
Sange Meel News: Latest news, breaking news, Pakistan – Page 2299 – Read the latest headlines, breaking news articles, the definitive source for independent journalism from every corner of the globe.

Blog

  • مہوش حیات، کبری خان کی درخواستوں پر پی ٹی اے اور ایف آئی سے پیش رفت رپورٹ طلب

    مہوش حیات، کبری خان کی درخواستوں پر پی ٹی اے اور ایف آئی سے پیش رفت رپورٹ طلب

    کراچی: سندھ ہائیکورٹ نے شوشل میڈیا پر قابل اعتراض مواد اپ لوڈ کرنے سے متعلق معروف اداکارہ مہوش حیات، کبری خان کی درخواستوں پر پی ٹی اے، وفاقی حکومت اور ایف آئی اے سے پیش رفت رپورٹ طلب کرلی۔

    جسٹس نعمت اللہ پھلپھوٹو کی سربراہی میں دو رکنی بینچ کے روبرو سوشل میڈیا پر قابل اعتراض مواد اپ لوڈ کرنے سے متعلق اداکارہ مہوش حیات، کبری خان کی درخواستوں کی سماعت ہوئی۔

    پی ٹی اے، وفاقی حکومت، ایف آئی اے نے جواب جمع کرا دیئے۔ جسٹس نعمت اللہ پھلپھوٹو نے استفسار کیا کہ گزشتہ سماعت پر مواد ہٹانے کی ہدایت دی تھی، کیا مواد ہٹا دیا گیا؟

    جس پر سرکاری وکیل نے مؤقف دیا کہ مہوش حیات کا بیان لے لیا گیا ہے تاہم کبری خان کا بیان لینا باقی ہے۔ تفتیشی افسر سائبر کرائم نے بتایا کہ پی ٹی اے کو مواد ہٹانے کا کہہ دیا گیا ہے۔ متعلقہ مواد جلد ہی ہٹا دیا جائے گا۔

    پی ٹی اے حکام کی جانب سے بتایا گیا کہ قابل اعتراض مواد جو خود ہٹا سکتے تھے وہ ہٹا دیا گیا۔ جس مواد کو بیرون ملک سے ہٹایا جانا ہے اس کے لیے متعلقہ حکام سے رجوع کیا گیا ہے۔

    تفتیشی افسر نے بتایا کہ ایف آئی اے نے شکایت نمبرز جاری کرکے تحقیقات شروع کردیں ہیں جلد ہی مواد ہٹا دیا جائے گا اور تحقیقات کرلی جائیں گی۔

    عدالت نے پی ٹی اے، وفاقی حکومت، ایف آئی اے سے پیش رفت رپورٹ طلب کرتے ہوئے سماعت 24 فروری تک ملتوی کردی۔

    یاد رہے کہ مہوش حیات اور کبریٰ خان نے عادل راجا کے بیان کیخلاف سندھ ہائیکورٹ سے رجوع کیا تھا۔ دائر درخواستوں میں موقف اپنایا گیا تھا کہ سوشل میڈیا پر من گھڑت، بے ہودہ الزامات سے ساکھ کو نقصان پہنچا، سوشل میڈیا پلیٹ فارمز سے تمام مواد ہٹایا جائے۔

  • بھارت کے یوم جموریہ پرمقبوضہ کشمیرمیں  یوم سیاہ، مکمل ہڑتال

    بھارت کے یوم جموریہ پرمقبوضہ کشمیرمیں یوم سیاہ، مکمل ہڑتال

    سرینگر: مقبوضہ کشمیر میں بھارت کے یوم جمہوریہ کو یوم سیاہ کے طورپرمنایا جا رہا ہے۔

    کشمیری میڈیا کے مطابق بھارت کے یوم جمہوریہ پر دنیا بھر میں کشمیری یوم سیاہ منا رہے ہیں۔ مقبوضہ وادی میں کشمیریوں نے اپنے گھروں پر سیاہ جھنڈے لہرا دئیے۔

    میر واعظ عمر فاروق اور دیگر حریت رہنماؤں کی اپیل پر مقبوضہ کشمیر میں مکمل ہڑتال ہے۔ دکانیں، کاروباری مراکز اور تعلیمی ادارے بند ہیں۔ سڑکوں پر ٹرانسپورٹ موجود نہیں۔
    بھارت نے یوم سیاہ پراحتجاجی ریلیوں کو روکنے کے لیے مقبوضہ وادی میں اضافی فوجی دستے تعینات کردئیے ہیں۔ مختلف گلیوں اور سڑکوں کو خاردار تاریں لگا کر بند کردیا گیا ہے۔ متعدد علاقوں میں موبائل اور انٹرنیٹ سروس بھی معطل ہے۔

    کشمیری عوام نے بھارتی فورسز کی جانب سے مختلف علاقوں کے محاصرے اورناکہ بندی کے باوجود قابض بھارت کے مظالم کیخلاف احتجاجی ریلیاں نکالنے کا اعلان کیا ہے۔

  • ای سی سی، 54 ادویات کی قیمتیں مقرر، ایک میں اضافے کی منظوری

    ای سی سی، 54 ادویات کی قیمتیں مقرر، ایک میں اضافے کی منظوری

    اسلام آباد: کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی(ای سی سی) نے 54 ادویات کی قیمتیں مقرر کرنے اور ایک دوائی کی قیمت بڑھانے کی منظوری دیدی۔

    پاکستان سینٹر فار کاٹن (پی سی سی سی) کے ملازمین کو تنخواہوں و الاونسز اور پنشن کی ادائیگی کیلئے 66کروڑ 66 لاکھ 40 ہزار روپے کی سپلمنٹری گرانٹ فراہم کرنے کے معاملے میں اعلیٰ سطع کی کمیٹی قائم کردی، جو 15دن میں رپورٹ پیش کرے گی۔

    ای سی سی کا اجلاس وزیر خزانہ اسحاق ڈار کی زیر صدارت ہوا،جس میں ہالہ بلاک میں تیل و گیس کے ذخائر کی تلاش اور پیداوار کیلئے لیز میں توسیع کی منظوری د ی گئی۔

    رواں مالی سال کیلئے پائیدار ترقی کے اہداف کے حصول کیلئے تین ارب روپے کی تکنیکی ضمنی گرانٹ کی منظوری کے علاوہ درآمدی گندم کی شپمنٹس و کنسائنمنٹس کی پری شپمنٹ انسپکشن کیلئے ٹریڈنگ کارپوریشن آف پاکستان کے پینل پرچھ بین الاقوامی پری شپمنٹ انسپکشن ایجنسی کی خدمات دینے کی منظوری بھی دی گئی۔

    سپریم کورٹ کی عمارت کی مرمت و مینٹینیس اور ججوں کی رہائش گاہوں و ذیلی دفاتر کی مرمت اور مینٹیننس کیلئے وزارت ہاوسنگ اینڈ ورکس کو اضافی فنڈز فراہم کرنے کی منظوری دی گئی۔

    کاشتکاروں کو ربیع سیزن کیلئے گندم کے بیج کی فراہمی بارے سبسڈی کیلئے8 ارب 39 کروڑ روپے کی ٹیکینکل سپلمنٹری گرانٹ فراہم کرنے کی بھی منظوری دیدی، یہ گرانٹ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے ذریعے سیلاب سے متاثرہ علاقوں کے کاشتکاروں کو گندم کے بیج کی بجائے نقد رقم کی صورت میں بطور سبسڈی فراہم کی جائے گی۔

  • ساتویں خانہ ومردم شماری اگلے ماہ شروع ہوجائے گی

    ساتویں خانہ ومردم شماری اگلے ماہ شروع ہوجائے گی

    کراچی: ملک بھرمیں ساتویں مردم شماری وخانہ شماری کا عمل فروری سے شروع ہوجائے گا۔

    تاریخ میں پہلی مرتبہ یہ مردم شماری ڈیجیٹل طور پر کرائی جائے گی، جس میں عوام کو خودشماری یعنی اپنے متعلق معلومات کو خود ہی درج کرنے کی سہولت بھی دستیاب ہوگی۔

    پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس کے فوکل پرسن محمد سرورگوندل کے مطابق فروری کے دوران خودشماری کا عمل شروع کیا جائے گا جبکہ یکم مارچ سے بیورو آف اسٹیٹسٹکس کا عملہ گھر گھر جاکر معلومات کا اندراج کرنا شروع کردے گا اور یہ عمل یکم اپریل تک جاری رہے گا۔

    انھوں نے بتایا کہ 30 اپریل تک مردم و گھر شماری کی تمام معلومات مرتب کرکے الیکشن کمیشن آف پاکستان کے حوالے کردی جائے گی تاکہ الیکشن کمیشن اس بنیاد پر آئندہ عام انتخابات کی تیاری شروع کرسکے۔

    واضح رہے کہ اس سے قبل ملک میں 6 مرتبہ خانہ و مردم شماری کرائی جاچکی ہے۔ پہلی مرتبہ ملک میں مردم شماری وگھر شماری کا آغاز 1951میں کیا گیا جبکہ آخری مرتبہ مردم شماری 2017 میں کرائی گئی تھی۔

    سرکاری اعدادوشمار کے مطابق پہلی مردم شماری میں ملک کی کل آبادی 33.7 ملین تھی جبکہ 2017 میں آبادی 207.7 ملین ریکارڈ کی گئی۔ گزشتہ مردم شماری میں صوبہ سندھ کی آبادی 47.85 ملین ظاہر کی گئی جبکہ کراچی کی آبادی 16.02 ملین بتائی گئی تھی۔

    2017 کی مردم شماری میں صوبہ سندھ خاص طور پر کراچی کے اعداد وشمار پر مختلف سیاسی جماعتوں کی جانب سے سخت تحفظات سامنے آئے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ محض چار سال بعد ایک مرتبہ پھر مردم شماری کرائی جا رہی ہے ورنہ آئینی طور پر ملک میں ہر 10 سال کے بعد نئی مردم شماری ہوتی ہے۔

    2017 کی مردم شماری کے اعداد و شمار پر اعتراضات کی وجہ سے ابتدائی طور پر اسے تسلیم نہیں کیا گیا تھا، جس کے باعث 2018 کے عام انتخابات مردم شماری کے عبوری اعداد وشمار پر کرائے گئے تھے۔

    2017 کی مردم شماری کی باضابطہ منظوری سابق وزیراعظم عمران خان کی کابینہ نے فروری 2020 میں دی تھی، جس کے بعد مشترکہ مفادات کونسل نے اس کی منظوری 12 اپریل 2021 کو دی۔

    ساتویں مردم وخانہ شماری کے پہلے مرحلے میں لوگ خود گھر بیٹھے اپنے کوائف درج کرسکیں گے۔ اس مرحلے میں عوام کو 15 دن کا وقت دیا جائے گا، اس دوران لوگوں کو ایک ویب لنک مہیا کیا جائے گا، جس کے ذریعے وہ اپنے اورگھر والوں کے کوائف اپنے کمپیوٹر یا موبائل فون کے ذریعے ڈیجیٹل ایپلیکشن میں خود درج کرسکیں گے۔

    دوسرے مرحلے میں شمار کنندگان گھر گھر جا کر کوائف کا اندراج اور ان کی تصدیق کریں گے، تیسرے مرحلے میں جمع کردہ کوائف اور اعداد وشمارکو مرتب کرکے الیکشن کمیشن کے حوالے کیا جائے گا۔

    مردم شماری کے لیے تیار کردہ فارم کے مطابق مردم شماری کے دوران متعلقہ گھروں کے ان افراد کو شمار نہیں کیا جائے گا، جو 6 ماہ سے زیادہ عرصے سے ملازمت، کاروبار یا تعلیم کے لیے ملک کے اندر یا باہر کسی دوسری جگہ رہائش پذیر ہیں جبکہ گھر میں رہنے افراد کی جنس، عمر، مذہب، مادری زبان، ازدواجی حیثیت، تعلیم، روزگار، معذوری وغیرہ سے متعلق کوائف درج کیے جائیں گے۔

    یہ بھی معلوم کیا جائے گا کہ کتنے لوگ آن لائن تعلیم حاصل کر رہے ہیں، مردم شماری کے دوران لوگوں کی قومیت بھی معلوم کی جائے گی کہ وہ پاکستانی ہیں یاافغان، بنگالی، چینی وغیرہ ہیں، اسی طرح یہ بھی معلوم کیا جائے گا کہ کس شہر یا قصبے میں رہنے والے گھرانے یا افراد وہاں کتنے عرصے سے رہائش پذیر ہیں اور ان کا اصل ضلع یا جائے پیدائش کیا ہے۔

    واضح رہے کہ فروری سے شروع ہونے والی مردم شماری پر بھی سندھ میں تحفظات کا اظہار کیا جا رہا ہے، اس مرتبہ اعتراض قوم پرست جماعتوں کی جانب سے کیا جا رہا ہے۔ ان کا بڑا اعتراض مردم شماری کے فارم میں قومی شناختی کارڈ کا خانہ شامل نہ ہونے پر ہے۔

    قومی عوامی تحریک کے سربراہ ایاز لطیف پلیجو کا کہنا ہے کہ ساتویں مردم شماری کے فارم میں قومی شناختی کارڈ کے کالم کو غائب کر نے سے صوبہ سندھ میں لاکھوں کی تعداد میں رہنے والے غیر ملکیوں اور دیگر صوبوں کے باشندوں کی علیحدہ گنتی نہیں ہوسکے گی جس سے صوبے میں سندھی بولنے والے اقلیت میں تبدیل ہوسکتے ہیں۔

    تاہم نیشنل پارٹی سندھ کے صدر تاج مری نے اس اعتراض سے اتفاق نہیں کیا، ان کا کہنا تھا کہ سندھ کے دیہی علاقوں میں لاکھوں کی تعداد میں سندھی بولنے والوں کے پاس بھی قومی شناختی کارڈ نہیں ہیں، شناختی کارڈ لازمی ہونے کے باعث وہ بھی شمار ہونے سے رہ جائیں گے۔

    پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس کے فوکل پرسن محمد سرور گوندل نے بھی اس اعتراض کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ دنیا بھر میں مردم شماری کا مقصد ملک میں رہنے والے تمام لوگوں کے اعداد وشمار جمع کرنا ہوتا ہے تاکہ ان سب کے لیے تعلیم، صحت، روزگار وغیرہ کے سلسلے میں منصوبہ بندی کی جاسکے، مردم شماری کا شناختی کارڈ سے کوئی تعلق نہیں ہونا چاہیے۔

  • نجکاری کمیشن کی بقایا جات رپورٹ ’اتصالات‘ واجبات پر خاموش

    نجکاری کمیشن کی بقایا جات رپورٹ ’اتصالات‘ واجبات پر خاموش

    اسلام آباد: نج کاری کمیشن کے بورڈ نے بدھ کے روز اس رپورٹ کی توثیق کردی جس میں نجکاری کے نتیجے میں قابل وصول رقوم کو محض 5.2 ارب روپے دکھایا گیا ہے کیونکہ اس خصوصی رپورٹ میں متحدہ عرب امارات کے ادارے ’’اتصالات‘‘ پر واجب الادا 163 ارب روپے کے بقایاجات کا کوئی ذکر نہیں کیا گیا۔

    نج کاری کمیشن کے بورڈ کی رپورٹ ’’کرو حسین چوہدری اینڈ کمپنی چارٹرڈ اکاؤنٹنٹس‘‘ نے 30 جون 2022 کو نجکاری کمیشن کی قابل وصول رقوم کے آڈٹ کے لیے بیرونی آڈیٹرز کے طور پر تیار کی تھی۔

    نج کاری کمیشن کے بورڈ کو بدھ کو آگاہ کیا گیا کہ رپورٹ کے مطابق 30 جون 2022ء تک 13 پارٹیوں پر تقریباً 5.2 ارب روپے واجب الادا تھے۔ ان 5.2 ارب روپے کے واجبات میں سب سے بڑی رقم شون گروپ پر واجب الادا ہے، جو 4 ارب روپے کے لگ بھگ ہے، اس میں 494.4 ملین روپے کی اصل (پرنسپل) رقم بھی شامل ہے۔

    یاد رہے کہ شون گروپ کو دو دہائیاں قبل دو سرکاری ادارے نج کاری کے عمل کے نتیجے میں فروخت کیے گئے تھے، تاہم اس نے اب تک یہ بقایاجات ادا نہیں کیے۔

    دوسری جانب اس رپورٹ میں ’’پی ٹی سی ایل‘‘ کی نج کاری کے ’’اتصالات‘‘ گروپ پر واجب الادا 799.3 ملین ڈالرز کا کوئی ذکر نہیں کیا گیا، جو کہ خاصا حیران کن ہے۔

    حالانکہ ’’اتصالات‘‘ پر ’’پی ٹی سی ایل‘‘ کی واجب الادا رقوم کا تذکرہ پاکستان تحریک انصاف کے دور حکومت میں تیار کی گئی ایک سابقہ قابل وصول رقوم کی رپورٹ میں کیا گیا تھا۔

    یاد رہے کہ نجکاری پروگرام 1991ء میں شروع کیا گیا تھا اور اس کے نتیجے میں اب تک 649 ارب روپے کے عوض 142 قومی ادارے فروخت کیے جاچکے ہیں یا پھر ان کے شیئرز بیچ دیئے گئے۔

    تاہم اب تک نج کاری سے حاصل ہونے والی مجموعی رقم کا تقریباً ایک چوتھائی حصہ یعنی 25 فیصد رقم تاحال حکومت کو نہیں ملی اور مسلسل بقایاجات کی صورت اختیار کیے ہوئے ہے.

  • مصنوعی چکنائی کا استعمال، پاکستان دنیا کے خطرناک ترین ممالک میں شامل

    مصنوعی چکنائی کا استعمال، پاکستان دنیا کے خطرناک ترین ممالک میں شامل

    عالمی ادارہ صحت کی ایک حالیہ رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ پاکستان دنیا کے ان ممالک میں شامل ہے جہاں صنعتی طور پر تیارشدہ چربی یا صحت کو نقصان دینے والی چکنائی کے استعمال سے ملکی آبادی کا بڑا حصہ معرض خطر میں ہے۔

    یاد رہے کہ عمومی طور پر صنعتی سطح پر تیار ہونے والی یہ چکنائی کوکنگ آئل ، بیکری مصنوعات اور ڈبہ بند خوراک میں استعمال کی جاتی ہے۔

    سنہ 2018 میں عالمی ادارہ صحت نے دنیا کے تمام ممالک کو مضرصحت ٹرانس فیٹی ایسڈ کا 2023 ء تک خاتمہ کرنے کی ہدایت کی تھی۔ سبب یہ ہے کہ ان فیٹی ایسڈ سے دل کی بیماریاں لاحق ہوتی ہیں۔ امراض قلب کے نتیجے میں موت کے گھاٹ اترنے والے انسانوں کی شرح سالانہ 5 لاکھ تک پہنچ چکی ہے۔

    عالمی ادارہ صحت کی حالیہ رپورٹ کے مطابق دنیا کے 16 میں سے 9 ممالک میں ’ ٹرانس فیٹی ایسڈ ‘ سے پیدا ہونے والے امراض قلب کے باعث اموات کی شرح زیادہ ہے۔ ان ممالک میں آسٹریلیا ، آذربائیجان، بھوٹان، ایکواڈور، مصر، ایران، نیپال، پاکستان اور جنوبی کوریا شامل ہیں۔ یہ ممالک بہترین احتیاطی پالیسیوں پر عمل نہیں کر رہے ہیں۔

    اب عالمی ادارہ صحت نے ان ممالک سے بہترین احتیاطی پالیسیوں پر عمل درآمد کے لیے فی الفور اقدامات کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

    تاہم 43 ممالک نے ، جن کی مجموعی آبادی 2 ارب 80کروڑ ہے، موٹاپے پر قابو پانے کے لیے بہترین احتیاطی پالیسیاں اختیار کی ہیں تاہم دنیا کا زیادہ تر حصہ اب بھی غیر محفوظ ہے۔یاد رہے کہ ٹرانس فیٹی ایسڈز کے نتیجے میں موٹاپا تیزی سے بڑھتا ہے۔

  • خیبر پختونخوا کی نگراں کابینہ تشکیل، 12 وزراء اور 3 مشیر شامل

    خیبر پختونخوا کی نگراں کابینہ تشکیل، 12 وزراء اور 3 مشیر شامل

    پشاور خیبر پختونخوا کے نگراں وزیراعلیٰ محمد اعظم خان کی نگراں کابینہ تشکیل دے دی گئی جس کا اعلامیہ بھی جاری کر دیا گیا ہے۔

    ذرائع کے مطابق نگراں وزیراعلیٰ کی جانب سے مشاورت کے بعد کابینہ میں عبدالحلیم قصوریہ، سید مسعود شاہ، حامد شاہ، ساول نذیر ایڈووکیٹ، بخت نواز، سابق صنعتکار فضل الہیٰ، عدنان جلیل، شفیع اللہ خان شامل ہیں۔

    شاہد خان خٹک، حاجی غفران، خوشدل خان ملک، تاج محمد آفریدی، محمد علی شاہ، جسٹس ریٹائرڈ ارشاد قیصر، منظور خان آفریدی بھی کابینہ کا حصہ ہوں گے۔

  • روپے کی بے قدری، ڈالر بے لگام ہو کر ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا

    روپے کی بے قدری، ڈالر بے لگام ہو کر ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا

    کراچی امریکی ڈالر کے ریٹ پر لگی ای کیپ ختم ہونے کے بعد ڈالر پاکستانی روپے کے مقابلے میں تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا ہے۔

    کاروباری ہفتے کے چوتھے روز انٹربینک میں ڈالر کی قیمت میں 24 روپے 11 پیسے اضافہ ہوا ہے جس کے بعد امریکی کرنسی 255 روپے پر ٹریڈ کر رہی ہے۔

    اوپن مارکیٹ میں بھی ڈالر12 روپے مہنگا ہوا ہے، اضافے کے بعد اوپن مارکیٹ میں امریکی کرنسی 255 روپے پر فروخت ہو رہی ہے۔

    دوسری جانب سٹاک مارکیٹ سٹاک ایکسچینج میں بھی مثبت رجحان دیکھنے میں آیا ہے، سٹاک ایکسچینج میں ایک ہزار سے زائد پوائنٹس کا اضافہ ہوا جس کے بعد 100 انڈیکس 40 ہزار 829 پوائنٹس کی سطح پر آگیا ہے۔

  • افغانستان؛ جما دینے والی سردی میں ہلاکتوں کی تعداد 150 ہوگئی

    افغانستان؛ جما دینے والی سردی میں ہلاکتوں کی تعداد 150 ہوگئی

    کابل: افغانستان میں شدید سردی سے ایک ہفتے کے دوران ہونے والی ہلاکتوں کی تعداد 150 ہوگئی۔

    عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق افغانستان میں رواں موسم میں درجۂ حرارت منفی 28 ڈگری سینٹی گریڈ تک گر گیا اور معمولات زندگی معطل ہوکر رہ گئے۔ شہری گھروں میں محصور ہوگئے لیکن ٹوٹے پھوٹے گھر انھیں موسم کی سختی سے بچانے میں ناکام رہے۔

    طالبان حکام نے تصدیق کی ہے کہ شدید سرد موسم کے باعث ایک ہفتے کے دوران 150 سے زائد افراد جاں بحق ہوچکے ہیں جب کہ ملک بھر میں سرد موسم کی وجہ سے 70 ہزار سے زائد مویشی بھی ہلاک ہوئے۔
    افغانستان میں موجودہ موسم سرما میں سردی بھی معمول سے زیادہ پڑ رہی ہے اور جنگ زدہ ملک میں امدادی کاموں کے لیے دستیاب این جی اوز نے بھی کام کرنا بند کردیا ہے۔ جس کے بعد امداد شہریوں تک نہیں پہنچ پا رہی ہے۔

    این جی اوز نے افغانستان میں کام کرنا بند تنظیم کی خواتین ورکرز پر طالبان کی جانب سے پابندی عائد کرنے کے ردعمل میں کیا تھا تاہم اب این جی اوز نے موجودہ صورت حال کو دیکھتے ہوئے امدادی کاموں کے آغاز کا اعلان کیا ہے۔

  • انٹیلی جنس اداروں نے بھارت کے فالس فلیگ آپریشن کا منصوبہ بے نقاب کردیا

    انٹیلی جنس اداروں نے بھارت کے فالس فلیگ آپریشن کا منصوبہ بے نقاب کردیا

    لاہور: بھارت کے فالس فلیگ آپریشن کا منصوبہ آشکار ہوگیا، پاکستان کے انٹیلی جنس اداروں نے مودی سرکار کے نئے ڈرامے کا پورا اسکرپٹ حاصل کرلیا۔

    تفصیلات کے مطابق بھارتی یوم جمہوریہ کے موقع پر مقبوضہ کشمیر میں مبینہ در اندازی کا ڈرامہ تیار کیا گیا ہے۔ فالس فلیگ کارروائی مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج اور پولیس کے ذریعے کیے جانے کی منصوبہ بندی کی گئی ہے۔

    فالس فلیگ آپریشن لائن آف کنٹرول کے پونچھ سیکٹر میں پلان کیا گیا ہے۔ پاکستانی انٹیلی جنس اداروں نے بھارتی منصوبے کے تین اہم کرداروں کا بھی پتہ چلا لیا. انڈیا کی 93 انفینٹری بریگیڈ کا ایجنٹ بشیر اور دو ساتھی عالم، اسلم فالس فلیگ آپریشن کے مرکزی کردار ہیں۔
    منصوبے کے تحت بشیر نے کچھ مقامی افراد کو استعمال کر کے جشکوال، آزاد کشمیر سائیڈ سے بم یا آئی ڈیز نصب کر کے مقبوضہ کشمیر میں داخل ہونے کی کوشش کرنی ہے۔

    کسی مسجد کے قریب اس کارروائی کو ناکام بنایا دکھایا جائے گا اور منصوبے کے تحت بھارتی فوج اور پولیس جعلی برآمدگی بھی ظاہر کرے گی۔ ڈی ایس پی پریشنا اس فالس فلیگ آپریشن کو سپروائز کر رہا ہے۔

    منصوبے میں 93 بریگیڈ کی ڈوگرا رجمنٹ کے دستوں کو گھات لگا کر جعلی ریکوری دکھانا ہے فالس فلیگ آپریشن کا مقصد مقبوضہ کشمیر میں در اندازی کا الزام عائد کرکے دنیا میں پراپیگنڈہ کرنا ہے۔

    پاکستانی انٹیلی جنس اداروں نے سارا منصوبے پیشگی بے نقاب کر کے مودی سرکار کو بڑی زک پہنچا دی۔