Deprecated: Creation of dynamic property EPS_Redirects_Plugin::$settings is deprecated in /home2/sangemee/public_html/wp-content/plugins/eps-301-redirects/plugin.php on line 55

Warning: Cannot modify header information - headers already sent by (output started at /home2/sangemee/public_html/wp-content/plugins/eps-301-redirects/plugin.php:55) in /home2/sangemee/public_html/wp-content/themes/twentytwentyfive/functions.php on line 296
امریکی صدر نے مسجد اقصیٰ کے حوالے سے اسرائیلی مؤقف مسترد کردیا – Sange Meel News: Latest news, breaking news, Pakistan

امریکی صدر نے مسجد اقصیٰ کے حوالے سے اسرائیلی مؤقف مسترد کردیا

واشنگٹن: امریکی صدر جو بائیڈن نے اردن کے بادشاہ عبداللہ دوم کے ساتھ وائٹ ہاؤس میں ہونے والی ملاقات میں مسجد الاقصی کے احاطے کی قانونی حیثیت کو برقرار رکھنے پر زور دیتے ہوئے اسرائیلی مؤقف کو مسترد کردیا۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی صدر جوبائیڈن نے اردن کے بادشاہ عبد اللہ دوم اور ولی عہد حسین عبد اللہ سے واشنگٹن میں ایک اہم ملاقات کی۔ تینوں رہنماؤں نے ظہرانہ بھی ساتھ کیا۔

شاۂ اردن عبد اللہ دوم (جو کہ مسجد اقصیٰ کے کسٹوڈین بھی ہیں) نے امریکی صدر کو تازہ صورت حال سے آگاہ کیا۔ ملاقات کے دوران اسی مسئلے پر دونوں رہنماؤں نے عراق کے وزیراعظم سے بھی ٹیلی فونک گفتگو کی۔
صدر جوبائیڈن نے اردن کے بادشاہ کے مسجد اقصیٰ کے کسٹوڈین کے طور پر خدمات کو سراہتے ہوئے امریکی مؤقف دہرایا کہ اسرائیل فلسطین تنازع کے خاتمے کے لیے دو ریاستی حل ضروری ہے۔

جس پر اردن کے بادشاہ عبد اللہ دوم نے اصولی مؤقف اپنانے پر امریکی صدر کا شکریہ بھی ادا کیا اور مسجد اقصیٰ کے صحن میں مسلمانوں کی عبادت کی جگہ پر یہودیوں کے داخلے سے آگاہ کیا۔

امریکی صدر نے مسجد اقصیٰ میں مسلمانوں کے لیے مختص عبادت کی جگہ پر اسرائیلی وزیر کی آمد اور یہودیوں کو عبادت کی اجازت دینے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مسجد اقصیٰ کی موجودہ حیثیت برقرار رکھا جانا چاہیے۔

خیال رہے کہ اسرائیل میں نئی حکومت کے قیام کے بعد سے کٹر یہودی وزرا مسجد اقصیٰ میں مسلمانوں کے لیے مختص جگہ پر قابض ہونا چاہتے ہیں اور اسے اپنی عبادت گاہ قرار دینے پر تلے ہوئے ہیں۔

اسرائیلی حکومت چاہتی ہے کہ تاریخی معاہدے کو ختم کرکے کمپاؤنڈ میں یہودیوں کو بھی عبادت کی اجازت بھی دی جائے جہاں ابھی صرف مسلمان عبادت کرسکتے ہیں۔

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *