Deprecated: Creation of dynamic property EPS_Redirects_Plugin::$settings is deprecated in /home2/sangemee/public_html/wp-content/plugins/eps-301-redirects/plugin.php on line 55

Warning: Cannot modify header information - headers already sent by (output started at /home2/sangemee/public_html/wp-content/plugins/eps-301-redirects/plugin.php:55) in /home2/sangemee/public_html/wp-content/themes/twentytwentyfive/functions.php on line 296
اڈیالہ جیل انتظامیہ نے شیخ رشید کیلیے گھر سے آیا کھانا واپس بھیج دیا – Sange Meel News: Latest news, breaking news, Pakistan

اڈیالہ جیل انتظامیہ نے شیخ رشید کیلیے گھر سے آیا کھانا واپس بھیج دیا

راولپنڈی: اڈیالہ جیل کی انتظامیہ نے عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید احمد کیلیے گھر سے بھیجا جانے والا پسندیدہ کھانا واپس کردیا۔

جیل انتطامیہ نے گھر سے شیخ رشید کے لیے بجھوایا جانے والا کھانا، یخنی، دال گوشت اور سفید چاول وصول کرنے سے انکار کرتے ہوئے اسے شیخ رشید تک پہنچانے کی اجازت نہ دی۔

شیخ رشید کے بھتیجے و سابق ممبر قومی اسمبلی شیخ راشد شفیق کہنا تھا کہ شیخ رشید احمد کھانے میں چنے کی دال گوشت ، اور سفید چاول پسند کرتے ہیں، قریبی عزیز یخنی، دال گوشت اور چاول لیکر سینٹرل جیل اڈیالہ گیا لیکن جیل اسٹاف نے اسے وصول کرکے شیخ رشید تک پہنچانے سے انکار کردیا جسکے بعد کھانا واپس لے آئے۔

اس حوالے سے رابطہ کرنے پر جیل انتظامیہ کا کہنا تھا کہ اتوار کے دن تعطیل ہوتی ہے اس دن اسیران سے ملاقات اور انھیں کسی قسم کا سامان پہنچانے کے لئے وصول نہیں کیا جاتا۔

سابق وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید احمد جو تھانہ کوہسار کے مقدمے میں دو روزہ ریمانڈ کے بعد گذشتہ روز جوڈیشل ریمانڈ پر جیل منتقل کیے گئے اور سینٹرل جیل اڈیالہ کی ہائی سیکورٹی بیرک میں رکھ گئے ہیں، اُن کی پہلے دن طبعیت ناساز ہوئی جس پر انتظامیہ نے جیل کے میڈیکل آفیسر کے زریعے انکا طبعی معائنہ کروایا۔

میڈیکل آفیسر نے شیخ رشید احمد کا ٹمپریچر ، بلڈ پریشر ، سمیت پلس وغیرہ کی ریڈنگ لی جس میں شیخ رشید احمد کا ٹمپریچر 99 نکلا اسی طرح دیگر ریڈنگز بھی نارمل آئیں تاہم میڈیکل آفیسر نے ا نہیں حرارت کے لیے پیندا ڈول تجویز کردی۔ ادھر جیل انتظامیہ کا کہنا ہے کہ شیخ رشید کی طبیعت بہتر ہے۔

یا د رہے کہ شیخ رشید احمد ضلع کچہری میں عدالت پیشی کے موقع پر بھی توازن برقرار رکھنے کے باعث لڑکھڑا کر گرتے گرتے بچ گئے تھے۔

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *