وفاقی حکومت نے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے ساتھ طے شدہ ایک کھرب 70 ارب روپے کے منی بجٹ کے تحت نئے ٹیکسز نافذ کرنا شروع کر دیے ہیں۔
ایف بی آر نے جی ایس ٹی کی شرح 17 سے بڑھا کر 18 فیصد کر دی ہے، اسی طرح جنرل سیلز ٹیکس کی شرح 17 فیصد سے بڑھ کر 18 فیصد کر دی گئی ہے جب کہ منی بجٹ کے لیے حکومت نے سیکڑوں پُر تعیش اشیاء پر 25 فیصد جی ایس ٹی لگانے کی بھی منظوری دے دی ہے۔
کسی بھی حکومت کا عوام کی توقعات پر پورا اُترنا آسان نہیں ہوتا ، بالخصوص ایسے حالات میں جب کہ قرض حاصل کرنے کے لیے عالمی معاہدوں کے تحت حکومتی آمدنی کے ذرایع بصورت محصولات میں اضافے جیسی شرائط تسلیم کر لی گئی ہوں۔
بد قسمتی سے ہر حکومت اپنے غیر ترقیاتی اخراجات کو پورا کرنے کے لیے کچھ عرصہ بعد بنیادی ضروریات زندگی کی اشیاء کی قیمت میں اضافہ کرنے سے پہلے ایک رٹا رٹایا جملہ ’’ معیشت کی بحالی کے لیے ہمیں یہ سخت فیصلہ کرنا پڑ رہا ہے ‘‘دہرا کر مہنگائی کی ایک اینٹ اور رکھ دیتی ہے۔
کبھی کسی حکومت نے یہ نہیں سوچا کہ روزمرہ ضرورت کی اشیاء کی قیمتیں یوں بڑھا کر معیشت بہتر نہیں ہوتی۔ہمارا ٹیکس کا نظام غریبوں پر بوجھ امیروں سے زیادہ ڈالتا ہے۔
تقریباً 80 فیصد سے زیادہ ٹیکس وصولی متوسط اور غریب طبقے سے بجلی، گیس ، ٹیلی فون، پٹرول اور عام استعمال کی دیگر اشیاء پر عائد ایکسائز ڈیوٹی اور جی ایس ٹی کے ذریعے کی جاتی ہے جب کہ امیر ترین طبقے سے صرف 5 فیصد ٹیکس وصولی ہوتی ہے ، چنانچہ اس غیر منصفانہ ٹیکس نظام میں ازسر نو اصلاحات کر کے غربت میں کمی لائی جا سکتی ہے۔

Leave a Reply