Deprecated: Creation of dynamic property EPS_Redirects_Plugin::$settings is deprecated in /home2/sangemee/public_html/wp-content/plugins/eps-301-redirects/plugin.php on line 55

Warning: Cannot modify header information - headers already sent by (output started at /home2/sangemee/public_html/wp-content/plugins/eps-301-redirects/plugin.php:55) in /home2/sangemee/public_html/wp-content/themes/twentytwentyfive/functions.php on line 296
گندم کی سرکاری گودام میں جبری منتقلی، کراچی میں رمضان سے قبل آٹے کے بحران کا خدشہ – Sange Meel News: Latest news, breaking news, Pakistan

گندم کی سرکاری گودام میں جبری منتقلی، کراچی میں رمضان سے قبل آٹے کے بحران کا خدشہ

کراچی: محکمہ خوراک سندھ کی جانب سے اندرون سندھ سے کراچی کیلیے آنے والے گندم کے ٹرکس روک کر سرکاری گودام میں منتقلی کے اقدام کے باعث رمضان المبارک سے قبل ہی کراچی میں آٹے کا بحران پیداہونے کا خدشہ ہوگیا ہے۔

پاکستان فلورملز ایسوسی ایشن سندھ کے چیئرمین چوہدری عامر نے ایکسپریس کو بتایا کہ محکمہ خوراک سندھ کے حکام نے اندرون سندھ سے آنے والے گندم کے 15 ٹرکس کاٹھور اور نیشنل ہائی پر روک کر قبضے میں لے لیے ہیں جس کی فلور ملز ایسوسی ایشن پرزور مذمت کرتی ہے۔

انھوں نے بتایا کہ گندم جبری طور پر لانڈھی کے سرکاری گودام میں اتاردیے گئے ہیں، نجی شعبے نے کراچی کی فلور ملوں کو سپلائی کرنے کے لیے گندم منگوائی ہے جبکہ حکومت فلور ملوں سے آٹا سستا کرنے کا مطالبہ کررہی ہے، اگر ملوں کے لیے مطلوبہ مقدار میں گندم دستیاب نہیں ہوگی تو آٹا سستا کیسے ممکن ہوگا۔
کراچی میں یومیہ 10ہزار ٹن گندم کی پسائی ہوتی ہے جبکہ اندرون سندھ سے یومیہ 3 سے 4ہزار ٹن کراچی آنے والی گندم کو بھی روکا جارہا ہے جو افسوسناک امر ہے۔ کراچی میں گندم کی پیداوار نہیں ہوتی ہے بلکہ ملیں آٹے کی تیاری کے لیے اندرون سندھ سے ہی گندم منگوائی جاتی ہے۔

انھوں نے کہا کہ شہر میں گندم کے گھٹتے ہوئے ذخائر سے آٹے کی قلت شروع ہوسکتی ہے، حکومت سندھ نجی شعبے کی گندم پر قبضہ کرنے کے بجائے سرکاری گندم کی پرکیورمنٹ خود کرے۔

فلور ملز ایسوسی ایشن حکومت کے لیے بیوپاریوں کے اشتراک سے گندم کی پرکیومنٹ میکنزم مرتب کرسکتی ہے، اندرون سندھ گندم کی ترسیل پر پابندی نہ ہونے کے باوجود کاٹھور اور قومی ہائی وے پر گندم کی کراچی ترسیل روکی جارہی ہے۔

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *