Deprecated: Creation of dynamic property EPS_Redirects_Plugin::$settings is deprecated in /home2/sangemee/public_html/wp-content/plugins/eps-301-redirects/plugin.php on line 55

Warning: Cannot modify header information - headers already sent by (output started at /home2/sangemee/public_html/wp-content/plugins/eps-301-redirects/plugin.php:55) in /home2/sangemee/public_html/wp-content/themes/twentytwentyfive/functions.php on line 296
سپریم کورٹ کا کام پنچائیت نہیں قانون کے مطابق فیصلے کرنا ہے، شہباز شریف – Sange Meel News: Latest news, breaking news, Pakistan

سپریم کورٹ کا کام پنچائیت نہیں قانون کے مطابق فیصلے کرنا ہے، شہباز شریف

اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ سپریم کورٹ کو ضامن یا ثالث بننے کا حق نہیں دے سکتے، اعلیٰ عدالت کا کام پنجائیت نہیں قانون اور آئین کے مطابق فیصلے کرنا ہے۔

وزیراعظم نے اتحادی جماعتوں کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ کے 3رکنی بینچ کا فیصلہ پارلیمان نے قبول نہیں کیا، آج بھی حکومت اور پارلیمان تین چار کا فیصلہ آئینی و قانونی سمجھتی ہے اور 3/2 یا پانچ دو کا فیصلہ غلط اور غیر آئینی و غیر قانونی ہے، لیکن سپریم کورٹ تین رکنی بنچ کے ساتھ معاملات آگے لے جانا چاہتی ہے، کل اس بنچ نے الیکشن فنڈز کا جواب مانگا ہے۔

وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ پارلیمنٹ بالادست ادارہ ہے اس کے فیصلوں کو تسلیم کرنا پڑیگا، الیکشن کے فنڈز کا معاملہ دوبارہ پارلیمان میں آئے گا اور وہی اسے حل کرے گی، کسی بھی ممکنہ عدالتی فیصلے کے پیش نظر پارلیمنٹ کا فورم استعمال کیا جائیگا۔

شہباز شریف نے کہا کہ میں یا آپ کو سپریم کورٹ کو ضامن نہیں بنانا چاہیے، پنچایت سپریم کورٹ کا کام نہیں، سپریم کورٹ کو ضامن ، ثالث کا حق نہیں دے سکتے، یہ ان کا کام نہیں، ضامن بننا اور پنچایت کروانا سپریم کورٹ کا کام نہیں، ان کا کام قانون کے مطابق فیصلے دینا ہے، الیکشن ایک دن ہونے چاہئیں اور کب ہونے چاہئیں اس پر حکومتی اتحادی جماعتوں میں اتفاق رائے ہے۔

وزیراعظم نے زور دیا کہ اتحادی متفق ہیں کہ 13 اگست کو پارلیمنٹ کی مدت پوری ہورہی ہے ، الیکشن کی تاریخ اکتوبر یا نومبر میں بنتی ہے۔

پی ٹی آئی سے مذاکرات کے بارے میں انہوں نے کہا کہ بیرون ملک پی ٹی آئی کے ایجنٹس پاکستان کے دشمن ہیں، تاہم ہمیں گفتگو کا دروازہ بند نہیں کرنا چاہیے، اسپیکر قومی اسمبلی کے ذریعے پی ٹی آئی سے بات ہوسکتی ہے، پارلیمانی کمیٹی معاملے کو دیکھ سکتی ہے اور پارلیمنٹ میں گنجائش پیدا کرسکتی ہے۔

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *