اسلام آباد: وفاقی وزیر قانون اعظم نذیرتارڑ نے کہا ہے کہ پنجاب اور کے پی اسمبلی کو ایک شخص کی انا کی بھینٹ چڑھایا گیا، انتخابات کے شفاف و غیرجانبدارانہ انعقاد کے لیے الیکشن کمیشن بااختیار ہے۔
اعظم نذیرتارڑ نے قومی اسمبلی کے اجلاس میں اظہارخیال کرتے ہوئے کہا کہ دو ججز نے سوموٹو لینے کے حوالے سے ذہن کھول دیا، 7 رکنی بینچ کے 4ججوں نے اکثریتی فیصلہ کردیا اورازخود اختیار کے لیے درخواست خارج کردی، بعد میں 5 رکنی بینچ بناکر تین دو کی رائے لی گئی.
تفصیلی فیصلے میں واضح ہوا 7 میں سے 4 ججوں نے درخواست مسترد کردی۔ معزز ایوان نے وفاقی حکومت کو ہدایت کی کہ اقلیتی فیصلے پر عملدرآمد نہ کرے اور پہلے اجازت لے۔
وفاقی وزیرقانون نے مزید کہا کہ سپریم کورٹ کے بینچ نےاسٹیٹ بینک کو 21 ارب روپے جاری کرنے کی ہدایت کی، ایوان نے فیڈرل کنسولیڈیٹڈ فنڈ سے رقم اجرا کے اپنے آئینی حق کو استعمال کرکے مسترد کردیا۔
وفاقی وزارت خزانہ کی سفارش پرایوان میں بل پیش کیا گیا، وفاقی کابینہ اور پارلیمنٹ نے اسے منظور نہیں کیا۔ فیڈرل کنسولیڈیٹڈ فنڈ سپریم کورٹ اوردیگراداروں کی تنخواہوں اور مراعات کے لیے ہے۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر حکومت 21 ارب روپے جاری بھی کردے اور پارلیمنٹ منظور نہ کرے تو پھراس رقم کا کیا ہوگا۔
وزیرقانون نے کہا کہ سپلیمنٹری گرانٹ اگلے برس کے بجٹ میں پیش کی جاتی ہے ، اس گرانٹ کو پارلیمنٹ منظور یا مسترد کرسکتی ہے۔
اعظم نذیرتارڑ نے مزید کہا کہ سپریم کورٹ کے 19 اپریل کے حکم پر آج وفاقی کابینہ میں غور کیا گیا، آئین کے آرٹیکل 81،82٫83،84 میں واضح لکھا ہے کہ قومی خزانے سے جو بھی رقم خرچ کی جائے گی اس کی ایوان سے منظوری لازمی ہوگی، آج اس معاملے کو کسی بل کی صورت میں نہیں لائے، ایوان کا آئینی اختیار ہے کہ پہلے دیے گئے فیصلوں کی توثیق کرے۔

Leave a Reply