Deprecated: Creation of dynamic property EPS_Redirects_Plugin::$settings is deprecated in /home2/sangemee/public_html/wp-content/plugins/eps-301-redirects/plugin.php on line 55

Warning: Cannot modify header information - headers already sent by (output started at /home2/sangemee/public_html/wp-content/plugins/eps-301-redirects/plugin.php:55) in /home2/sangemee/public_html/wp-content/themes/twentytwentyfive/functions.php on line 296
اوپن مارکیٹ میں ڈالر مزید 3 روپے سستا، انٹربینک قیمت میں 32 پیسے اضافہ – Sange Meel News: Latest news, breaking news, Pakistan

اوپن مارکیٹ میں ڈالر مزید 3 روپے سستا، انٹربینک قیمت میں 32 پیسے اضافہ

کراچی: زرمبادلہ کی دونوں مارکیٹیں بدھ کو بھی ایک دوسرے کی مخالف سمت پر گامزن رہیں، انٹربینک میں ڈالر کی قدر میں اتار چڑھاؤ کے بعد محدود تیزی رہی جبکہ اسکے برعکس اوپن مارکیٹ میں ڈالر کی قدر میں نمایاں کمی کا سلسلہ جاری رہا۔

انٹربینک مارکیٹ میں کاروباری دورانئیے کے دوران ڈالر ایک موقع پر صرف 4 پیسے کی کمی واقع ہوئی لیکن کچھ ہی وقفے بعد ڈالر کی پیش قدمی شروع ہوئی جس سے ایک موقع پر ڈالر کے انٹربینک ریٹ 39 پیسے کے اضافے سے 286.95 روپے کی سطح پر پہنچ گیا، تاہم کاروبار کے اختتام پر انٹربینک مارکیٹ میں ڈالر کی قدر 32 پیسے کے اضافے سے 286.88 روپے کی سطح پر بند ہوئی، اوپن کرنسی مارکیٹ میں ڈالر 3 روپے کی کمی سے 300 روپے کی سطح پر بند ہوئی۔

اوپن مارکیٹ میں وزیراعظم کے جون میں ہی آئی ایم ایف سے پروگرام کا معاہدہ طے پانے کے اعلان کے بعد زائد قیمتوں پر ڈالر فروخت کرنے والوں کی خواہش دھری کی دھری رہ گئی ہے اور ان خواہشمندوں نے اپنے ڈالر کے ذخائر مزید ہولڈ کرنے کے بجائے فروخت کرنا شروع کردیے ہیں جس سے اوپن کرنسی مارکیٹ میں ڈالر کی سپلائی قدرے بہتر ہورہی ہے اور ڈالر کے اوپن ریٹ میں تیزی سے کمی کا رجحان غالب ہوگیا ہے۔

اسکے برعکس انٹربینک مارکیٹ پر جون میں 3.7 ارب ڈالر کی ادائیگیوں کے دباؤ، چین کے وعدے کے باوجود ایک تا دو ارب ڈالر کے قرضے تاحال رول اوور نہ ہونے اور ملکی زرمبادلہ کے ذخائر میں تسلسل سے دباؤ بڑھتا جارہا ہے جس کی وجہ سے ڈالر کے انٹربینک ریٹ محدود پیمانے پر اتارچڑھاؤ کی زد میں ہے۔

اوپیک کی جانب سے خام تیل کی پیداوار میں کمی کا اعلان کے نتیجے میں خام تیل کی عالمی قیمت میں اضافہ ہونا شروع ہوگیا ہے۔ پاکستان کے درآمدی بل کا ایک بڑا حصہ چونکہ خام تیل کی درآمدات پر منحصر ہے لہذا خام تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے منفی اثرات پاکستان کےدرآمدی بل مرتب ہوسکتے ہیں۔ ان عوامل اور نئے انفلوز نہ آنے سے انٹربینک میں ڈالر کی نسبت روپیہ دباؤ کا شکار ہوگیا ہے۔

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *