Deprecated: Creation of dynamic property EPS_Redirects_Plugin::$settings is deprecated in /home2/sangemee/public_html/wp-content/plugins/eps-301-redirects/plugin.php on line 55

Warning: Cannot modify header information - headers already sent by (output started at /home2/sangemee/public_html/wp-content/plugins/eps-301-redirects/plugin.php:55) in /home2/sangemee/public_html/wp-content/themes/twentytwentyfive/functions.php on line 296
بٹگرام چیئرلفٹ میں پھنسے 2 بچے باحفاظت ریسکیو، زمینی آپریشن جاری – Sange Meel News: Latest news, breaking news, Pakistan

بٹگرام چیئرلفٹ میں پھنسے 2 بچے باحفاظت ریسکیو، زمینی آپریشن جاری

بٹگرام: خیبرپختونخوا کے ضلع بٹگرام کے علاقے آلائی پاشتو میں 900 فٹ کی بلندی پر رسی ٹوٹنے سے باعث لٹکی چیئرلفٹ میں پھنسے 8 افراد میں سے 2 بچوں کو سلنگ آپریشن کے ذریعے باحفاظت ریسکیو کرلیا گیا ہے، سورج غروب ہونے اور موسم کے باعث ہیلی کاپٹر کے ذریعے ریسکیو کے عمل کو روک کر زمینی آپریشن شروع کردیا گیا ہے، جس کے لیے مانسہرہ کے ماہر امدادی کارکن موقع پر موجود ہیں۔

قدرتی آفات سے نمٹنے والے قومی ادارے (این ڈی ایم اے) اور پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) نے تصدیق کی کہ ہیلی کاپٹر کے ذریعے ریسکیو آپریشن کے دو بچوں کو ریسکیو کیا گیا جبکہ باقی افراد کو بچانے کے لیے آپریشن جاری ہے۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کی جانب سے جاری ایک اور بیان میں بتایا گیا ہے کہ زمینی آپریشن کیلیے شمالی علاقہ جات سے لوکل کیبل کراسنگز ایکسپرٹ کی خدمات حاصل کر کے ریسکیو کرنے کے لیے اقدامات بروئے کار لائے جارہے ہیں۔

آئی ایس پی آر کے مطابق چیئر لفٹ کے ساتھ ایک اور چھوٹی ڈولی سے کھانے پینے کی ایشیا پھنسے ہوئے افراد کو بھیجی جا رہی ہیں اور اسی ڈولی میں ایک ایک کر کے انتہائی احتیاط کے ساتھ بچوں کو ریسکیو کرنے کی کوشش جاری ہے۔

ریسکیو آپریشن

جی او سی سی کی نگرانی میں پاک فوج کے کمانڈوز نے ریسکیو آپریشن کی آخری کوشش کی اور حکمت عملی تبدیل کر کے آدھے گھنٹے کے دوران 2 بچوں کو ریسکیو کیا اور پھر انہیں ہنگامی طبی امداد کے لیے آرمی کے میڈیکل کیمپ منتقل کیا۔

بچے کو جیکٹ کی مدد سے نکالا گیا

ذرائع کے مطابق ہیلی کاپٹر سے مخصوص جیکٹ چیئرلفٹ میں پھینکی گئی جس کے بعد بچے نے اسے اپنے جسم پر باندھا اور پھر اُسے باحفاظت بازیاب کروایا جائے گا۔ امکان ظاہر کیا جارہا ہے کہ آئندہ آدھے گھنٹے میں تمام لوگوں کو باحفاظت ریسکیو کرلیا جائے گا۔

مانسہرہ کے ماہر امدادی کارکنان نے ریسکیو آپریشن شروع کردیا

خیبرپختونخوا کے علاقے مانسہرہ بالاکوٹ نور ویلی میں نصب دنیا کی بلند اور ایشیا کی لمبی زپ لائن کے تین امدادی ماہر وقوعہ پر پوری تیاری کے ساتھ پہنچے اور انہوں نے اندھیرا کم ہونے اور ہیلی کاپٹر کے ذریعے آپریشن بند ہونے کے بعد ریسکیو آپریشن کا آغاز کردیا۔

اندھیرے اور موسم کے باعث فضائی آپریشن روک دیا گیا

موسم اور سورج غروب ہونے کے بعد زمینی آپریشن شروع کردیا گیا ہے، لفٹ میں پھنسے افراد کو بچانے کے لیے پاکستان آرمی کے کمانڈوز نے متبادل حکمت عملی پر بھی کام شروع کردیا ہے۔ جس کے تحت ایک اور چھوٹی ڈولی کو اسی تار پر ڈال کر متاثرہ ڈولی کے قریب لایا جا رہا ہے جس سے ایک ایک کر کے سب کو ریسکیو کیا جائے گا۔

ہیون وے انتظامیہ کا کہنا ہے کہ ہماری ٹیم کے پاس جدید ریسکیو کٹ موجود ہے، اس سے قبل بھی امدادی کارکن بلندی پر پھنسے لوگوں کو ریسکیو کر چکے ہیں۔

ڈی پی او سونیا شمروز نے بتایا کہ دو ہیلی کاپٹر لفٹ سے مزید افراد کو نکالنے میں مصروف ہیں اور ریسکیو آپریشن جاری ہے۔

بٹگرام کے پہاڑی علاقے آلائی پاشتو میں صبح آٹھ بجے سات بچے اور ایک استاد اسکول جانے کے لیے سوار ہوئے تاہم راستے میں یہ واقعہ پیش آیا، اس کیبل کار کے تین تار تھے جن میں سے دو ٹوٹ چکے ہیں اور صرف ایک تار سے چیئر لفٹ ہوا میں رکی ہوئی ہے۔ پھنسنے والی لفٹ تقریباً دو ہزار میٹر کی بلندی پر ہوا میں معلق ہے جس کے سبب مقامی لوگ امدادی کارروائی سے قاصر ہیں۔

پاک فوج کے دو ہیلی کاپٹر اور ایس ایس جی کمانڈوز کا امدادی آپریشن

اطلاع ملنے پر پاک فوج نے بٹگرام میں چیئر لفٹ میں پھنسے ہوئے افراد کو ریسکیو کرنے کے لیے آپریشن شروع کیا، دو ہیلی کاپٹر آپریشن میں حصہ لے رہے ہیں۔ ریسکیو کے لیے پاک فوج کے اسپیشل سروسز گروپ (ایس ایس جی) کی سلنگ آپریشن کے ماہرین کی ٹیم بھی آپریشن میں مصروف عمل ہے۔ پاک فوج کے ایک ہیلی کاپٹر میں بیس کمانڈوز موجود ہیں۔

چیئر لفٹ کے 3 میں سے 2 تار ٹوٹ چکے ہیں اور ہیلی کاپٹر سے پیدا ہونے والے ہوائی پریشر سے اکیلا بچ جانے والا تار بھی ٹوٹ سکتا ہے، اس لیے ہیلی کاپٹر سے ریسکیو آپریشن کو انتہائی محتاط انداز میں کیے جانے کی کوشش کی جائے گی۔ چیئرلفٹ کو ہیلی کاپٹر کے ذریعے اٹھا کر لے جانا ایک مشکل آپریشن ہے کیوں کہ واحد بچ جانے والا تار معمولی سے بھی ہوائی دباؤ کے سبب ٹوٹ سکتا ہے۔

ہیلی کاپٹر کے نزدیک آتے ہی چیئرلفٹ ہلنے لگتی ہے

آپریشن کے دوران دیکھا گیا کہ جیسے ہی ہیلی کاپٹر چیئر لفٹ کے قریب پہنچا ہوا کے دباؤ سے لفٹ نے ہلنا شروع کردیا جس پر ہیلی کاپٹر کو واپس دور جانا پڑا۔

بعد ازاں ہیلی کاپٹر بلندی پر رکے اور ایک ایس ایس جی کمانڈو کو رسی کی مدد سے چئیرلفٹ کے پاس پہنچایا جس نے چیئر لفٹ تک رسائی حاصل کرلی اور پہلے مرحلے میں خوراک اور دوائیں چیئرلفٹ میں پہنچادیں کیوں کہ صبح آٹھ بجے سے بچے اور استاد بھوکے پیاسے وہاں قید ہوکر رہ گئے ہیں۔ ایس ایس جی کمانڈو نے بچوں کو یقین دلایا کہ انہیں بچالیا جائے گا۔

ادویات اور خوراک پہنچانے کے بعد دونوں ہیلی کاپٹرز واپس چلے گئے اور دوبارہ پہنچے جس کے بعد متاثرین کو نکالنے کے لیے آپریشن کا دوسرا مرحلہ جی او سی، ایس ایس جی سی کی نگرانی میں شروع کیا جائےگا۔

لفٹ میں پھنسے افراد کی تفصیلات

بٹگرام میں چیئرلفٹ میں پھنسے افراد اور حادثے سے متعلق مزید تفصیلات سامنے آ گئی۔ لفٹ میں نویں جماعت کے سات طلبا اور ایک استاد موجود ہیں۔ پھنسنے والوں میں ابرار عبدالغنی،عرفان عمر عزیز، گلفراز حاکم داد، اسامہ شریف، رضوان عبدالقیوم، عطااللہ، نیاز محمد اور شیر نواز شامل ہیں۔ اطلاعات کے مطابق لفٹ میں موجود 2 بچے بے ہوش ہوچکے ہیں۔

واضح رہے کہ لفٹ کی رسی صبح ساڑھے 8 بجے ٹوٹی ہے جب کہ لفٹ تقریباً 2 ہزار میٹر کی بلندی پر ہوا میں معلق ہے۔

نگراں وزیراعظم کی تمام وسائل بروئے کار لانے کی ہدایات

نگراں وزیراعظم انوار الحق کاکڑ نے بٹگرام میں پاشتو کے مقام پر چیئرلفٹ میں پھنسے افراد کو فوری ریسکیو کرنے کی ہدایات جاری کی ہیں۔ انہوں نے این ڈی ایم اے، پی ڈی ایم اے اور تمام دیگر متعلقہ ریسکیو اداروں کو تمام وسائل بروئے کار لا کر طالب علموں اور اساتذہ کو ریسکیو کرنے کی ہدایت کی ہے۔

انہوں نے پہاڑی علاقوں میں موجود ایسی تمام چیئر لفٹس پر حفاظتی انتظامات یقینی بنانے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ خستہ حال اور حفاظتی معیار پر پورا نہ اترنے والی چیئرلفٹس کو فوری طور پر بند کردیا جائے۔

دریں اثنا نگراں وزیر داخلہ سرفراز احمد بگٹی نے بھی بٹگرام میں چیئر لفٹ میں پھنسے بچوں اور اساتذہ کو بچانے کے لیے ریسکیو آپریشن تیز کرنے کی ہدایت کی ہے۔

شام تک موسم خراب ہونے کی توقع ہے، محکمہ موسمیات

دوسری جانب محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ بٹگرام کے علاقے میں موسم تاحال صاف ہے، ممکنہ ریسکیو آپریشن میں موسم کی موجودہ صورتحال رکاوٹ نہیں ہے تاہم رات کو اس علاقے میں بارش کے امکانات موجود ہیں، کشمیر کی طرف بادل جمع ہوگئے ہیں جو لفٹ والی سائیڈ پر موو کرسکتے ہیں۔ آئندہ 3 سے 4 گھنٹوں میں لفٹ والے علاقے میں موسم صاف رہے گا۔ شام کے قریب اس علاقے میں موسم خراب ہونے کی توقع ہے۔

بریگیڈیئر ریٹائرڈ راحیل سہگل

ایوی ایشن ماہر بریگیڈیئر (ر) راحیل سہگل نے بتایا کہ ایس ایس جی کمانڈوز نے دو بار ریسکیو کرنے کی کوشش کی مگر کامیابی نہیں ملی، ریسکیو آپریشن کیلیے بہت ساری چیزوں کو دیکھنا ضروری ہے کیونکہ معاملہ بہت حساس ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر متبادل ریسکیو آپریشن کی طرف بھی گئے تو بھی آج روشنی میں ریسکیو ہونا مشکل ہے۔

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *