کراچی: الیکشن کمیشن کی جانب سے وفاقی، صوبائی اور مقامی حکومتوں پر پر قسم کے نئے ترقیاتی منصوبوں کے ٹینڈرز کرنے پر عائد پابندی کے باوجود بلدیہ عظمی کراچی نے 21 کروڑ لاگت کی 13 جبکہ پی ڈبلو ڈی نے ساڑھے چار ارب لاگت کے530 ترقیاتی اسکیموں کیلئے ٹینڈرز طلب کرلیے۔
تفصیلات کے مطابق فنڈز کی عدم موجودگی کے باوجود اربوں لاگت کے ٹینڈر ز طلب کیے جانے پر کراچی کے سینئر کنٹریکٹرز اور قانونی حلقوں میں شدید تشویش کی لہر دوڑ گئی اور عدالت سمیت الیکشن کمیشن سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کردیا۔
الیکشن کمیشن آف پاکستان کی جانب سے 15 اگست 2023 کو ایک نوٹی فکیشن کے ذریعے وفاقی، صوبائی اور مقامی حکومتوں پر ہر قسم کے ترقیاتی کاموں کے ٹینڈرز کرنے پر پابندی عائد کی گئی تھی۔
مذکورہ نوٹی فکیشن کے بعد سندھ کی افسر شاہی اربوں لاگت کے ٹھیکوں کی خریدوفروخت کیلئے مختلف حربے استعمال کرنے کی سر توڑ کوششوں میں مصروف ہے تاہم دوسری طرف پاکستان پبلک ورکس ڈیپارٹمنٹ نے تقریباً ساڑھے چار ارب لاگت کی530 ترقیاتی اسکیموں کیلئے ٹینڈرز طلب کرلیے ہیں۔
علاوہ ازیں بلدیہ عظمی کراچی محکمہ زو سفاری اینڈ ریکریشن نے بھی 21کروڑ لاگت کی13 اسکیموں کیلئے ٹینڈرز طلب کرکے سب کو حیران کردیا ہے، اس سلسلے میں کراچی کے سینئر کنٹریکٹرز کا کہنا ہے کہ پی ڈبلو ڈی اور کے ایم سی کے حکام نے الیکشن کمیشن کی پابندی کو مذاق بناکر رکھ دیا ہے۔
سینئر کنٹریکٹر بشیر مندوخیل کے مطابق پی ڈبلو ڈی کے پاس فنڈز موجود ہی نہیں اور ٹھیکیداروں کے کروڑوں روپے کے پے آرڈر فنڈز کی عدم دستیابی کے باعث محکمے میں پہلے ہی پھنسے ہوئے ہیں اس کے باوجود اربوں روپے لاگت کے مزید نئے ٹینڈرز طلب کرکے بڑی لوٹ مار کا منصوبہ بنالیا گیا ہے اور الیکن کمیشن کی ٹینڈرز پر عائد پابندی کے باوجود ٹھیکوں کی خریدوفروخت کی تیاریاں کرلی گئی ہیں۔

Leave a Reply