اسلام آباد: سپریم کورٹ نے تحریک لبیک کی فارن فنڈنگ سے متعلق الیکشن کمیشن کی رپورٹ مسترد کرتے ہوئے فنڈنگ کا معاملہ ایک ماہ میں حل کرنے اور رپورٹ پیش کرنے کا حکم دے دیا۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق چیف جسٹس قاضی فائز عیسٰی کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے فیض آباد دھرنا کیس کے فیصلے کے خلاف نظر ثانی درخواستوں کی سماعت کی۔
چیف جسٹس نے الیکشن کمیشن کے وکیل سے کہا کہ آپ خادم رضوی کو حافظ کیوں کہہ رہے ہیں؟ آپ ایک آئینی ادارہ ہیں، یو اے ای میں رہنے والے شخص کی پاکستان میں کیسے پارٹی رجسٹر ہوتی ہے، ایک درخواست آتی ہے اور اگلے دن جماعت رجسٹرڈ ہوجاتی ہے، کچھ لوگ کہتے ہیں فائلوں کو پہیے لگتے ہیں کچھ کہتے ہیں اوپر سے حکم آتا ہے، بتائیں کسی قانونی جماعت کو رجسٹرڈ کرنے کا قانونی طریقہ کار کیا ہے؟ ہمیں فائلوں پر 2000 شہریوں کے شناختی کارڈ بھی نظر نہیں آرہے ابھی مکمل ریکارڈ دکھائیں۔
الیکشن کمیشن کے وکیل نے کہا کہ کل تک کا وقت دیں تمام تفصیلات فراہم کر دیں گے۔
سپریم کورٹ نے ریمارکس دیے کہ الیکشن کمیشن خود تسلیم کر رہا ہے کہ ٹی ایل پی کو 15 لاکھ روپے کی فارن فنڈنگ ہوئی، اگر دس روپے بھی فارن فنڈنگ کے آجائیں تو اس کے بھی نتائج ہوتے ہیں، آپ نے لکھا جو فارن فنڈنگ ٹی ایل پی نے لی، وہ محض مونگ پھلی کے دانے کے برابر ہے، آپ نے 15 لاکھ کی رقم کے لیے پینٹ (مونگ پھلی) کی اصطلاح استعمال کی، کیا یہ کوئی قانونی اصطلاح ہے؟ اس وقت کے فنڈ 50 لاکھ سے کچھ زیادہ تھے، یہ تو 30 فیصد رقم بن جاتی ہے۔
جسٹس اطہر من اللہ نے پوچھا کہ بیرون ملک سے جو انفرادی طور رقوم بھیجی جائیں وہ ممنوعہ نہیں؟ اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ یہ درست ہے صرف کسی دوسرے ملک کی حکومت یا کمپنی سے آئے فنڈز ہی ممنوع ہیں۔ جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ اگر کوئی ممنوع فنڈز پائے جائیں تو وہ ضبط ہی ہوں گے۔

Leave a Reply