اسلام آباد: سپریم کورٹ آف پاکستان کی جانب سے جاری حکم نامے میں انکشاف ہوا ہے کہ فیض آباد دھرنا کیس کے حوالے سے نظر ثانی درخواستوں کو ماضی کے تین چیف جسٹس صاحبان نے سماعت کیلیے مقرر ہی نہیں کیا۔
عدالت کی جانب سے جاری تحریری حکم نامے میں لکھا گیا ہے کہ فیض آباد دھرنے کے فیصلے کیخلاف نظر ثانی درخواستیں دائر تو ہوئیں مگر وہ سماعت کیلیے مقرر نہ ہوسکیں۔ حکم نامے میں لکھا گیا ہے کہ ’عدالتی عملے کے مطابق نظرثانی درخواستیں وقت فوقتاً مختلف چیف جسٹس صاحبان کے سامنے رکھی جاتی رہیں، تینوں ماضی کے چیف جسٹس صاحبان نے نظرثانی درخواستیں سماعت کیلئے مقرر کرنے کیلئے کوئی ہدایات نہیں دیں‘۔
حکم نامے میں لکھا گیا ہے کہ نظرثانی درخواستیں سماعت کیلئے مقرر نہ ہونے کے سبب عدالتی فیصلے پر عمل درآمد نہ ہوا، عدالتی فیصلے کے تناظر میں کسی کو ذمہ دار ٹھہرایا گیا اور نہ ہی تشدد و احتجاج پر کسی کا احتساب ہوا، جس کے نتیجے میں نو مئی کو پیش آنے والے واقعات دیکھنے پڑے۔

Leave a Reply