Deprecated: Creation of dynamic property EPS_Redirects_Plugin::$settings is deprecated in /home2/sangemee/public_html/wp-content/plugins/eps-301-redirects/plugin.php on line 55

Warning: Cannot modify header information - headers already sent by (output started at /home2/sangemee/public_html/wp-content/plugins/eps-301-redirects/plugin.php:55) in /home2/sangemee/public_html/wp-content/themes/twentytwentyfive/functions.php on line 296
چار روزہ 16 ویں عالمی اردو کانفرنس 30 نومبر سے شروع ہوگی – Sange Meel News: Latest news, breaking news, Pakistan

چار روزہ 16 ویں عالمی اردو کانفرنس 30 نومبر سے شروع ہوگی

کراچی: آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی کے زیر اہتمام چار روزہ ’سولہویں عالمی اردو کانفرنس‘ کا آغاز 30 نومبر سے ہوگا۔

کانفرنس کے حوالے سے منعقدہ پریس کانفرنس میں صدر آرٹس کونسل محمد احمد شاہ، معروف شاعر افتخار عارف، غازی صلاح الدین، نور الہدیٰ شاہ ، قدسیہ اکبر اور سیکریٹری آرٹس کونسل اعجاز فاروقی نے بریفنگ دی۔

محمد احمد شاہ نے اس موقع پر کہا کہ 30 نومبر کو شام 4 بجے چار روزہ 16 ویں عالمی اردو کانفرنس کا افتتاح وزیراعلیٰ سندھ جسٹس (ر) مقبول باقر کریں گے، کانفرنس میں 200 سے زائد ادیب شرکت کریں گے، بھارت سے گلزار اور جاوید صدیقی آن لائن شریک ہوں گے۔
انہوں نے کہا کہ نفرت بہت زیادہ ہوچکی ہے، وقت بہت گزر چکا ہے، کوئی نہیں چاہتا کہ ادب کو عام کردیا جائے ، ہمیں نوجوانوں کو آگے بڑھنے کے مواقع دینا چاہیے۔

افتخار عارف نے کہا کہ احمد شاہ اور ان کی ٹیم کو مبارکباد دیتا ہوں کہ اتنی بڑی کانفرنس کرنے جارہے ہیں، اس کانفرنس میں نہ صرف کراچی بلکہ پوری دنیا سے لوگ شامل ہوتے ہیں، ملک کی مختلف زبانوں کو ایک چھت تلے جمع کرنا بہت بڑی بات ہے، اس عمارت کو اب دیکھتا ہوں تو بہت خوشی ہوتی ہے، احمد شاہ کی ادب کے لیے خدمات قابل تعریف ہیں۔

نور الہدی شاہ نے کہا کہ آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی نے لاہور، کشمیر اورسکھر میں فیسٹیول کیے، اس تجربے سے احمد شاہ اور آرٹس کونسل کے کردار کے معنی بدل گئے، جتنے سیاسی جلسوں میں لوگ نہیں ہوتے اتنے لوگ پاکستان لٹریچر فیسٹیول میں آئے ہوئے تھے۔

غازی صلاح الدین نے کہا کہ عالمی اردو کانفرنس کو ہم تمام فیسٹیولز کی ماں کا درجہ دیتے ہیں، عالمی اردو کانفرنس نوجوان کو ادب سے جوڑنے کی کوشش ہے کیونکہ پاکستان کی بقا کے لیے ضروری ہے کہ نوجوانوں کا ادب سے تعلق ہو۔

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *