کراچی: امیرجماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمٰن نے کہا ہے کہ کراچی پولیس میں 80 فیصد بھرتی کراچی سے ہی کی جائے۔
امیرجماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمٰن نے کراچی میں تیزی سے بڑھتے ہوئے اسٹریٹ کرائمز میں اضافے اور کرائمز کے واقعات میں پولیس افسران کی ملی بھگت پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ کراچی کے ساڑھے تین کروڑ عوام کے محافظ ہی عوام کی جان و مال کے دشمن بن گئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اسٹریٹ کرائمز کی صورتحال انتہائی تشویشناک ہے، شہر میں ڈکیتی کا چوتھا واقعہ ہوا جس میں پولیس کے اہلکار ملوث ہیں، پولیس کے محکمے میں کالی بھڑیں شامل ہوگئی ہیں جو سسٹم پر بد نما داغ بنے ہوئے ہیں۔
حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ پولیس نے کرپشن کا بازار گرم کیا ہوا ہے اور سپاہی سے لے کر ایس ایچ او، ڈی ایس پی سمیت سب کے سب کرپشن کے نظام میں ملوث ہیں اور اس نظام کی سپرستی کرنے والے سسٹم میں موجود ہیں، اگر کوئی ڈکیت پکڑا جائے اور وہ پولیس والا نکلے تو پھر شہریوں کو کیسے تحفظ کا احساس دلایا جاسکتا ہے۔
انہوں نے مزیدکہا کہ سندھ حکومت اسٹریٹ کرائم کو روکنے میں بری طرح ناکام ہوگئی، شہریوں کو شدید مالی اور ذہنی اذیت کا سامنا ہے۔ پولیس کی عدم توجہی اور محکمہ پولیس میں کالی بھیڑوں کی موجودگی کے باعث جرائم پیشہ عناصر اور گروہ بڑے پیمانے پر بلاخوف و خطرچھینا جھپٹی اور لوٹ مار کی وارداتیں کر رہے ہیں جس کے باعث عام شہری مسلسل اپنے آپ کو غیر محفوظ اور بے بس تصور کر رہے ہیں۔
حافظ نعیم نے مزید کہا کہ اخباری اطلاعات کے مطابق رواں برس اسٹریٹ کرائمز کے 77ہزار744واقعات ہوئے،واقعات میں 100سے زائد افراد قتل جب کہ 432زخمی ہوئے،دہشت گردوں کے رحم و کرم پر کراچی کے عوام کو چھوڑا ہوا ہے۔اسٹریٹ کرائمز کی وارداتوں کی روک تھام کے لیے پولیس کے محکمے میں کراچی سے 80فیصد بھرتی کی جائے،چاہے وہ کوئی بھی زبان بولنے والا ہوں لیکن کراچی کا مستقل رہائشی ہو اور پولیس کے محکمے میں اسکروٹنی کی جائے۔
انہوں نے کہا کہ نیشنل ایکشن پلان میں سیف سٹی پروجیکٹ بھی طے کیا گیا تھا، اربوں روپے خرچ کرنے کے باوجود بھی آج تک کی تاریخ میں سیف سٹی پروجیکٹ مکمل نہیں ہوا، اس کے نتیجے میں ڈاکو کھلے عام دندناتے پھررہے ہیں۔اسٹریٹ کرائمز کی سب سے بڑی وجہ اسٹریٹ لائٹ کا نہ ہونا ہے۔حکومت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی ذمہ داری ہے کہ کراچی کے شہریوں کو ہر قسم کا تحفظ فراہم کریں اور اسٹریٹ کرائمز میں ملوث عناصر کے خلاف فوری عملی اقدامات کریں۔

Leave a Reply