Deprecated: Creation of dynamic property EPS_Redirects_Plugin::$settings is deprecated in /home2/sangemee/public_html/wp-content/plugins/eps-301-redirects/plugin.php on line 55

Warning: Cannot modify header information - headers already sent by (output started at /home2/sangemee/public_html/wp-content/plugins/eps-301-redirects/plugin.php:55) in /home2/sangemee/public_html/wp-content/themes/twentytwentyfive/functions.php on line 296
شام میں الاسد خاندان کے 50 سالہ اقتدار پر ایک نظر – Sange Meel News: Latest news, breaking news, Pakistan

شام میں الاسد خاندان کے 50 سالہ اقتدار پر ایک نظر

5 دہائیوں سے زائد عرصے تک شام پر حکومت کرنے والے الاسد خاندان کے اقتدار کا سورج غروب ہوگیا ہے شام میں باغیوں نے مختلف شہروں کے بعد 8 دسمبر کو دارالحکومت دمشق پر بھی قبضہ کرلیا جبکہ بشار الاسد ملک سے فرار ہوگئے صدر بشار الاسد کے ملک سے فرار ہونے کے بعد باغی گروپ تحریر الشام ملیشیا کے سربراہ ابو محمد الجولانی نے اپنے بیان میں کہا کہ پُرامن انتقال اقتدار تک سابق وزیراعظم محمد غازی الجلالی تمام ریاستی اداروں کو چلائیں گ آپ نیچے جان سکیں گے کہ کس طرح الاسد خاندان نے شام میں اقتدار کا آغاز کیا اور کس طرح وہ زوال کا شکار ہوا 1970-71 : حافظ الاسد نے بغاوت کی قیادت کی اور صدر بن گئے حافظ الاسد اس وقت شامی حکومت میں وزیر دفاع تھے اور انہوں نے ایک تحریک کی قیادت کرتے ہوئے 16 نومبر 1970 کو فوجی بغاوت کی وہ 1971 میں بعث پارٹی کے امیدوار کے طور پر شام کے صدر منتخب ہوئے کیونکہ ان کے مقابلے پر کوئی امیدوار ہی کھڑا نہیں ہوا 1973 – اسرائیل سے جنگ شام اور مصر نے اسرائیل پر اچانک حملہ کیا تھا تاکہ 1967 کی 6 روزہ جنگ میں اسرائیلی قبضے میں جانے والی زمین کو دوبارہ حاصل کیا جاسکے
مگر اس جنگ میں دونوں ممالک کو شکست ہوئی اور شام گولان کی پہاڑیاں اسرائیل کو دینے پر مجبور ہوگیا 1982 – حماہ میں قتل عام حافظ الاسد حکومت نے حماہ شہر میں اخوان المسلمین کی تحریک کے خلاف خونی آپریشن کیامختلف تخمینوں کے مطابق حکومتی کریک ڈاؤن میں 10 سے 40 ہزار افراد ہلاک ہوئے1994 – باسل الاسد کا انتقال
باسل حافظ الاسد کے بڑے بیٹے اور ممکنہ جانشین تھے جو 1994 میں گاڑی کے ایک حادثے میں ہلاک ہوئے
اس واقعے کے بعد حافظ الاسد نے اپنے چھوٹے بیٹے بشار الاسد کو قیادت کے لیے تیار کرنا شروع کیا، حالانکہ اس وقت بشار الاسد ماہر امراض چشم کے طور پر تربیت حاصل کر رہے تھے2000 – حافظ الاسد کا انتقال اور بشار الاسد کے اقتدار کا آغازلگ بھگ 30 سال تک اقتدار میں رہنے کے بعد حافٖظ الاسد کا انتقال 10 جون 2000 کو ہوا بشار الاسد کی عمر اس وقت 34 سال تھی اور انہیں صدر بنانے کے لیے آئین میں تبدیلیاں کرکے صدر کے لیے کم از کم عمر کی حد کو کم کیا گیا، جس کے بعد وہ صدر منتخب ہوئے کیونکہ ان کے مقابلے پر کوئی امیدوار کھڑا نہیں ہوا 2000-2011 – بشار الاسد کے اقتدار کا ابتدائی عرصہ
ستمبر 2000 میں 100 دانشوروں نے مارشل لا اٹھانے اور زیادہ سیاسی آزادی دینے کا مطالبہ کیا، جسے بہار دمشق کے نام سے جانا جاتا ہے
بشار الاسد نے ابتدا میں محدود اصلاحات متعارف کرائیں جیسے معیشت پر حکومتی کنٹرول کو کم کیا جبکہ کچھ سیاسی پابندیوں کو نرم کردیا، مگر ان اصلاحات کی زندگی مختصر المدت رہی اور حکومت نے ایک بار پھر آمرانہ روش اپناتے ہوئے مخالفین کے ٓخلاف کریک ڈاؤن شروع کر دیاکرپشن، معاشی عدم مساوات اور سیاسی مخالفین کو دبانے کا سلسلہ برقرار رہا جس سے حالات بتدریج خراب ہونے لگے 2011 – شامی خانہ جنگی کا آغازعرب بہار سے متاثر ہوکر شام بھر میں مظاہرین نے سیاسی آزادی اور کرپشن کے خاتمے کا مطالبہ کیا، جس کے جواب میں بشار الاسد کی حکومت نے پرتشدد کریک ڈاؤن کیا جس پر خانہ جنگی کا آغاز ہوگیا

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *