پاکستان اور بھارت کے درمیان سالانہ بنیادوں پر جوہری تنصیبات، قیدیوں اور گرفتار ماہی گیروں کی فہرستوں کا تبادلہ ایک اہم سفارتی عمل ہے جو دونوں ممالک کے درمیان اعتماد سازی اور قونصلر رسائی کے معاہدے کا حصہ ہے۔ یکم جنوری 2025 کو دونوں ممالک نے یہ فہرستیں آپس میں تبادلہ کیا، جس میں پاکستان نے بھارت کو اپنی جوہری تنصیبات کی فہرست فراہم کی جبکہ بھارت نے پاکستان کے نمائندے کو اپنے جوہری تنصیبات کی فہرست دی۔ یہ فہرستیں دونوں ممالک کے درمیان جوہری حملوں کی روک تھام کے معاہدے کے تحت فراہم کی جاتی ہیں اور اس کا مقصد کسی بھی قسم کی غلط فہمی یا تناؤ کی صورتحال سے بچنا ہے۔
اسی طرح، قیدیوں اور گرفتار ماہی گیروں کی فہرستوں کا تبادلہ بھی 2008 کے قونصلر رسائی معاہدے کے تحت کیا جاتا ہے۔ معاہدے کے مطابق، دونوں ممالک ہر سال یکم جنوری اور یکم جولائی کو قیدیوں کی فہرستوں کا تبادلہ کرنے کے پابند ہیں تاکہ ایک دوسرے کی تحویل میں موجود قیدیوں کی معلومات کا تبادلہ کیا جا سکے۔ اس سال بھی، پاکستان نے بھارتی ہائی کمیشن کے نمائندے کو اپنے 266 قیدیوں کی فہرست فراہم کی، جن میں 49 شہری قیدی اور 217 ماہی گیر شامل ہیں۔ اس کے جواب میں بھارت نے پاکستان کو اپنی جیلوں میں قید 462 پاکستانی قیدیوں کی فہرست فراہم کی، جس میں 381 شہری اور 81 ماہی گیر شامل ہیں۔
پاکستان نے اس موقع پر بھارتی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ ان پاکستانی قیدیوں کو جلد از جلد رہا کیا جائے جن کی سزا مکمل ہو چکی ہے۔ اس میں 52 شہری قیدی اور 56 ماہی گیر شامل ہیں جنہیں فوری طور پر رہا کرنے کی درخواست کی گئی ہے۔ پاکستان نے یہ بھی کہا کہ بھارتی حکومت ان قیدیوں کی حفاظت کو یقینی بنائے جو اپنے وطن واپس جانے کا انتظار کر رہے ہیں۔
یہ فہرستوں کا تبادلہ دونوں ممالک کے درمیان انسانی حقوق کے حوالے سے تعاون کا ایک اہم جزو ہے اور دونوں طرف کے قیدیوں کی رہائی اور ان کے ساتھ انصاف کی فراہمی کے لیے ایک اہم قدم ثابت ہوتا ہے۔ اس عمل کے ذریعے دونوں ممالک کی جانب سے ایک دوسرے کے شہریوں کی بہتر دیکھ بھال اور حفاظت کے عزم کا اظہار کیا جاتا ہے۔

Leave a Reply