پشاور: مشیر اطلاعات خیبر پختونخوا بیرسٹر سیف نے کہا ہے کہ کرم میں اسلحہ جمع کرنے کے لیے فریقین کو 15 دنوں میں مربوط لائحہ عمل دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ بیرسٹر سیف نے مزید کہا کہ کل کرم جانے والے قافلے کے سفری اور حفاظتی انتظامات مکمل کیے جا رہے ہیں، اور ایپکس کمیٹی کے فیصلے کے مطابق کرم کو اسلحہ اور بنکرز سے پاک کرنے کا عمل شروع کیا جائے گا۔
مشیر اطلاعات کے مطابق، کرم میں اسلحے کی آزادانہ نمائش اور استعمال پر سخت پابندی عائد کی جائے گی، اور اسلحہ خریدنے کے لیے چندہ جمع کرنے کی اجازت نہیں ہو گی۔ معاہدے کے تحت کرم میں فریقین کے بنکرز کی تعمیر پر بھی پابندی ہوگی، اور پہلے سے موجود بنکرز کو ایک ماہ میں ختم کیا جائے گا۔ اگر کسی فریق نے بنکرز گرا کر لشکرکشی کرنے کی کوشش کی، تو اسے دہشت گرد سمجھ کر کارروائی کی جائے گی۔
اس حوالے سے ضلعی انتظامیہ نے بتایا کہ پشاور پاراچنار مرکزی شاہراہ پر کل سے قافلہ چلانے کا سلسلہ شروع کیا جائے گا، اور سڑکوں پر کسی بھی قسم کی رکاوٹ برداشت نہیں کی جائے گی۔
یاد رہے کہ ضلع کرم کی صورتحال پر کوہاٹ میں جاری گرینڈ جرگے میں فریقین نے امن معاہدے پر دستخط کیے تھے۔ بیرسٹر سیف کا کہنا تھا کہ معاہدے تک پہنچنے کے لیے 50 نشستیں ہوئیں اور تمام فریقین نے اس میں اہم کردار ادا کیا۔ اس فیصلے کا مقصد کرم میں امن قائم کرنا اور اسلحہ کی آزادانہ نمائش اور استعمال پر قابو پانا ہے۔

Leave a Reply