بینک آف چائنا کے سابق چیئرمین 68 سالہ لیو لیانج نے اپنے بیٹے کی منگیتر سے شادی کرنے کے لیے ایک متنازعہ فیصلہ کیا، جس کے نتیجے میں نہ صرف ان کی ذاتی زندگی بلکہ پیشہ ورانہ شہرت بھی تباہ ہو گئی۔ لیو لیانج نے اپنی پہلی تین شادیاں کرنے کے بعد چوتھی شادی اپنے بیٹے کی منگیتر سے کی، جس کی تفصیلات میڈیا میں زیر بحث آئیں۔
غیر ملکی خبر رساں اداروں کے مطابق، 2023 میں لیو لیانج کو رشوت لینے اور غیر قانونی قرضے جاری کرنے کے الزامات کے تحت سزا سنائی گئی، اور ان کی بدعنوانیوں کا سلسلہ مزید پیچیدہ ہوگیا۔ ان پر 17 ملین ڈالر رشوت لینے اور 450 ملین ڈالر سے زائد غیر قانونی قرضے جاری کرنے کا الزام تھا، جس کی بنیاد پر انہیں دو سال کی مہلت کے ساتھ پھانسی کی سزا سنائی گئی۔
چینی میڈیا کے مطابق، لیو لیانج نے اپنے بیٹے کی منگیتر سے شادی کرنے کے لیے نہ صرف جھوٹے الزامات لگائے بلکہ بیٹے کو اس کی گرل فرینڈ سے الگ کرنے کے لیے مختلف تدابیر بھی اپنائیں۔ سب سے پہلے انہوں نے اپنے بیٹے کو اس کی گرل فرینڈ کے خلاف مائل کیا اور پھر اسے مہنگے تحائف دے کر اس کی منگیتر کو خود سے شادی کے لیے راضی کر لیا۔
اس کے بعد لیو لیانج نے اپنے بیٹے کو اس کی سابقہ منگیتر کے ساتھ دوبارہ رابطہ کرنے کی کوششوں سے بھی روکا، اور ایک وقت آیا جب بیٹے کو یہ علم ہوا کہ اس کی سابقہ منگیتر اب اس کا سوتیلا ماں بن چکی ہے، جس کے بعد وہ شدید ڈپریشن کا شکار ہو گیا۔
لیو لیانج کی چوتھی شادی کے بعد بھی وہ بدعنوانی اور رشوت کے مقدمات میں پھنسے رہے اور عدالت نے ان کے خلاف سخت سزا سنائی۔ اس واقعے نے نہ صرف ان کی ذاتی زندگی کو متاثر کیا بلکہ ان کے پیشہ ورانہ کیریئر کو بھی نقصان پہنچایا۔

Leave a Reply