پاکستان کی حکومت عوام کو سستی بجلی فراہم کرنے کا خواب دیکھ رہی تھی، تاہم عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے اس کے راستے میں رکاوٹ ڈالی ہے۔ وفاقی حکومت نے بجلی کے بلوں میں سیلز ٹیکس کی کمی کی تجویز دی تھی تاکہ عوام کو کم نرخوں پر بجلی فراہم کی جا سکے، لیکن آئی ایم ایف نے اس تجویز کو مسترد کر دیا۔
آئی ایم ایف کا کہنا ہے کہ قرض پروگرام کے تحت نئے ٹیکسز سے چھوٹ دینے کی اجازت نہیں ہے کیونکہ اس سے حکومت کے ٹیکس اہداف کا حصول مشکل ہو جائے گا۔ عالمی مالیاتی ادارے کے مطابق سیلز ٹیکس میں کمی کی صورت میں پاکستان کے مالیاتی اہداف پورے کرنا ممکن نہیں رہے گا، جس سے حکومت کی معیشت کے استحکام کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے گزشتہ روز کراچی میں پاکستان اسٹاک ایکسچینج کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اس مسئلے پر بات کی۔ انہوں نے کہا کہ آئی ایم ایف سے کیے گئے وعدوں کو نبھانے کے باوجود وہ جلد ہی اس معاملے پر آئی ایم ایف سے مزید بات کریں گے۔ وزیراعظم نے کہا کہ شرح سود 13 فیصد پر آ چکی ہے اور وہ چاہتے ہیں کہ یہ شرح 6 فیصد تک آ جائے، لیکن اس کے لیے تمام امکانات کا جائزہ لیا جانا ضروری ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے تاجر برادری سے ملاقات کی دعوت دیتے ہوئے کہا کہ انہیں حقیقت پسندانہ جائزہ لینا ہو گا کہ کہاں بہتری ہے اور کہاں مشکلات ہیں۔

Leave a Reply