Deprecated: Creation of dynamic property EPS_Redirects_Plugin::$settings is deprecated in /home2/sangemee/public_html/wp-content/plugins/eps-301-redirects/plugin.php on line 55

Warning: Cannot modify header information - headers already sent by (output started at /home2/sangemee/public_html/wp-content/plugins/eps-301-redirects/plugin.php:55) in /home2/sangemee/public_html/wp-content/themes/twentytwentyfive/functions.php on line 296
پاکستان میں وی پی این کے بڑھتے استعمال نے انٹرنیٹ کی رفتار کو مزید سست کر دیا – Sange Meel News: Latest news, breaking news, Pakistan

پاکستان میں وی پی این کے بڑھتے استعمال نے انٹرنیٹ کی رفتار کو مزید سست کر دیا

پاکستان میں حالیہ دنوں میں وی پی این (ویچرل پرائیویٹ نیٹ ورک) کے بڑھتے استعمال نے انٹرنیٹ کی رفتار کو مزید سست کر دیا ہے، جس کا انکشاف پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) کی حالیہ رپورٹ میں کیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق، وی پی این کے ذریعے انٹرنیٹ کا استعمال بڑھنے سے بینڈوڈتھ پر اضافی بوجھ پڑا ہے اور اس کی وجہ سے انٹرنیٹ سست روی کا سامنا ہے۔

پی ٹی اے کے مطابق، وی پی اینز کی وجہ سے پاکستان کے لیے غیرملکی زرمبادلہ کے نقصان کا سامنا بھی ہوا ہے۔ ہر میگا بائٹس کے وی پی این ٹریفک کے استعمال پر ایک ڈالر کا خرچ آتا ہے، اور ایک ٹی بی پی ایس (ٹیرا بائٹس پر سیکنڈ) کے اضافے سے ملک کو تقریباً 10,000 ڈالر کا نقصان ہوتا ہے۔ اگست میں وی پی این ٹریفک 634 جی بی پی ایس تک پہنچا، ستمبر میں 597 جی بی پی ایس رہا، جبکہ اکتوبر میں یہ تعداد بڑھ کر 815 جی بی پی ایس ہو گئی۔

رپورٹ کے مطابق، وی پی اینز کے استعمال میں اضافے نے پاکستان کے انٹرنیٹ انفراسٹرکچر پر دباؤ بڑھا دیا ہے اور مقامی سی ڈی اینز (کانٹینٹ ڈیلیوری نیٹ ورک) کو نظرانداز کیا جا رہا ہے۔ پاکستان میں 70 فیصد انٹرنیٹ سی ڈی اینز کے ذریعے فراہم کیا جاتا ہے، لیکن وی پی این ان سی ڈی اینز کو بائی پاس کرتے ہوئے ٹریفک کو بین الاقوامی سرورز پر منتقل کر دیتا ہے، جس سے سب میرین کیبل کی موجودہ صلاحیت پر مزید بوجھ پڑتا ہے۔

رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ انٹرنیٹ کی سست روی سے نمٹنے کے لیے سب میرین کیبل کی گنجائش بڑھانے اور مقامی روٹنگ سسٹمز کو بہتر بنانے کی فوری ضرورت ہے تاکہ وی پی این کے بڑھتے استعمال کا اثر کم کیا جا سکے اور انٹرنیٹ کی رفتار میں بہتری لائی جا سکے۔

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *