امریکی صدر جو بائیڈن نے لاس اینجلس میں جنگلات کی آگ سے ہونے والی تباہی کے حوالے سے اہم اعلان کیا ہے۔ صدر بائیڈن نے کہا کہ امریکی حکومت اگلے 6 ماہ تک آگ سے متاثرہ علاقوں کی امداد کے لیے 100 فیصد اخراجات اٹھائے گی۔ ان اخراجات سے متاثرہ علاقوں سے ملبہ ہٹانے، عارضی پناہ گاہیں قائم کرنے، ریسکیو ورکرز کی تنخواہوں اور جان و مال کے تحفظ کے تمام اقدامات کیے جائیں گے۔
بائیڈن نے مزید کہا کہ اگر تعمیراتی کام کے لیے اضافی فنڈز کی ضرورت پیش آئی تو وہ اس سلسلے میں کانگریس سے اپیل کریں گے۔
دوسری جانب، امریکی نومنتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کیلیفورنیا کے گورنر نیوسم سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا۔ ٹرمپ نے کہا کہ امریکا کے خوبصورت ترین علاقوں میں سے ایک اس آگ کی وجہ سے جل کر راکھ بن گیا، اور اس کے لیے ذمہ دار ڈیموکریٹ گورنر ہیں۔
لاس اینجلس میں اس وقت تاریخ کی بدترین آگ لگی ہوئی ہے جس کے نتیجے میں 9 ہزار گھر اور عمارتیں مکمل طور پر تباہ ہو چکی ہیں اور 32 ہزار ایکڑ رقبہ جل کر راکھ ہوگیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ آگ پر قابو پانے کی کوششیں جاری ہیں، لیکن ابھی تک آگ کو مکمل طور پر قابو نہیں پایا جا سکا۔ اس آگ کے نتیجے میں 1 لاکھ 50 ہزار افراد اپنی جگہوں سے نقل مکانی کر چکے ہیں۔
آگ سے ہونے والے نقصانات کا تخمینہ 50 ارب ڈالر سے بھی زائد ہے، اور یہ واقعہ اگر مکمل طور پر قابو نہ پایا گیا تو امریکی تاریخ کا بدترین قدرتی سانحہ بن سکتا ہے۔ ہالی وڈ کی مشہور شخصیات کے اربوں روپے مالیت کے گھروں کو بھی شدید نقصان پہنچا ہے۔

Leave a Reply