پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سیکرٹری جنرل سلمان اکرم راجہ اور پارٹی رہنما شیر افضل مروت کے درمیان ایک دوسرے پر تنقید کا سلسلہ شروع ہوگیا ہے۔ سلمان اکرم راجہ نے ایک ٹی وی انٹرویو میں کہا کہ شیر افضل مروت روزانہ ایسا بیان دیتے ہیں جس کا پارٹی سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ مروت کو پارٹی پالیسی کا ادراک نہیں اور جب انہیں ٹی وی چینل پر بلایا جاتا ہے تو وہ کچھ نہ کچھ کہہ دیتے ہیں۔
اس پر شیر افضل مروت نے بھی سخت ردعمل دیا اور سلمان اکرم راجہ کے پی ٹی آئی سیکرٹری جنرل کے عہدے پر سوال اٹھایا۔ انہوں نے کہا کہ سلمان اکرم راجہ پارٹی آئین کے مطابق سیکرٹری جنرل نہیں بن سکتے اور اگر پارٹی آئین کی پامالی ہوگی تو پاکستان کے آئین کی بات کیسے کی جا سکتی ہے؟
شیر افضل مروت نے مزید کہا کہ سلمان اکرم راجہ ایک سال پہلے پارٹی میں آئے تھے اور اب وہ انہیں سمجھا رہے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ عمر ایوب خان کے استعفے کے بعد فردوس شمیم نقوی پی ٹی آئی کے سیکرٹری جنرل ہیں، اور پارٹی کے تمام نوٹیفکیشنز پر ان کے دستخط ہوتے ہیں۔
انہوں نے طنزیہ انداز میں کہا کہ سلمان اکرم راجہ کو پارٹی امور کا کیا ادراک ہوگا، وہ تو لاہور میں 15 دن رہتے ہیں اور ایک دن اسلام آباد آتے ہیں۔ شیر افضل مروت نے یہ بھی کہا کہ وہ بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں تاکہ اس معاملے پر بات کریں۔

Leave a Reply