Deprecated: Creation of dynamic property EPS_Redirects_Plugin::$settings is deprecated in /home2/sangemee/public_html/wp-content/plugins/eps-301-redirects/plugin.php on line 55

Warning: Cannot modify header information - headers already sent by (output started at /home2/sangemee/public_html/wp-content/plugins/eps-301-redirects/plugin.php:55) in /home2/sangemee/public_html/wp-content/themes/twentytwentyfive/functions.php on line 296
این آئی ایچ نے پاکستان میں کورونا وائرس کی نئی لہر کی خبروں کی تردید کر دی – Sange Meel News: Latest news, breaking news, Pakistan

این آئی ایچ نے پاکستان میں کورونا وائرس کی نئی لہر کی خبروں کی تردید کر دی

اسلام آباد: نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ (NIH) نے پاکستان میں کورونا وائرس کے کیسز میں اضافے کی خبروں کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ ملک میں صورتحال مکمل طور پر قابو میں ہے۔ NIH کے سینٹر فار ڈیزیز کنٹرول کے سربراہ ڈاکٹر ممتاز خان نے اے آر وائی نیوز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ کورونا وائرس کے کیسز میں تیزی سے اضافے کی افواہیں بے بنیاد ہیں۔ڈاکٹر ممتاز نے وضاحت کی کہ کورونا، فلو اور موسمی زکام کی علامات میں مماثلت عوام میں الجھن پیدا کر رہی ہے۔ انہوں نے یقین دلایا کہ موسم سرما کے دوران سانس کی بیماریوں میں معمول کے مطابق اضافہ ہوتا ہے اور اس عرصے میں انفلوئنزا اور ایچ ون این ون کے کیسز سامنے آنا کوئی غیرمعمولی بات نہیں۔NIH نے ملک گیر سطح پر بیماریوں کی نگرانی کے نظام کو مزید مضبوط کر دیا ہے تاکہ کسی بھی ممکنہ صورتحال کا فوری جائزہ لیا جا سکے۔ ڈاکٹر ممتاز خان نے مزید بتایا کہ کورونا وائرس، انفلوئنزا اور ایچ ون این ون کیسز سے متعلق تفصیلی رپورٹ قومی اسمبلی کو بھیج دی گئی ہے۔دوسری جانب، کراچی میں کھانسی اور زکام کی شکایات کے ساتھ مریضوں کی تعداد میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ ڈاؤ اسپتال کے ماہرِ متعدی امراض پروفیسر سعید خان کے مطابق، کراچی میں 25-30 فیصد مریضوں میں کورونا وائرس کی تشخیص ہوئی ہے، جبکہ 10-12 فیصد افراد میں ایچ ون این ون پایا گیا ہے۔ بچوں میں سانس کی بیماریوں کے کیسز بھی بڑھ رہے ہیں۔ماہرین صحت نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ حفاظتی تدابیر اپنائیں اور علامات ظاہر ہونے کی صورت میں فوری طبی مشورہ لیں۔

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *