بیت المقدس: رفح میں جنگ بندی کے باوجود صیہونی فورسز کی جارحیت کا سلسلہ جاری ہے، جہاں فائرنگ کے نتیجے میں تین فلسطینی شہید ہوگئے۔ فلسطینی عوام صیہونی فورسز کے مظالم کا سامنا کر رہے ہیں جبکہ مقبوضہ علاقوں میں کشیدگی برقرار ہے۔حماس نے 25 جنوری کو مزید چار اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی کا اعلان کیا ہے۔ اس سے قبل، تنظیم نے تین اسرائیلی یرغمالی خواتین کو رہا کیا تھا، جن کے بدلے 90 فلسطینی قیدیوں کو آزادی ملی۔ جنگ بندی کا پہلا مرحلہ 6 ہفتوں پر محیط ہے، جس کے تحت حماس 33 یرغمالیوں کو آزاد کرے گی، اور بدلے میں تقریباً 1900 فلسطینی قیدیوں کی رہائی متوقع ہے۔امدادی سامان کے مزید 630 ٹرک غزہ میں داخل ہو چکے ہیں۔ تاہم، حماس نے کہا ہے کہ جنگ بندی معاہدے پر عمل درآمد اسرائیل کے رویے پر منحصر ہوگا۔ 15 ماہ سے زائد عرصے تک جاری اسرائیلی جارحیت نے پورے علاقے کو ملبے کا ڈھیر بنا دیا ہے، جہاں 23 لاکھ کی آبادی انسانی بحران کا شکار ہے، اور لوگ بنیادی سہولتوں جیسے کہ خوراک اور ادویات سے محروم ہیں۔غزہ کی سول ڈیفنس کے مطابق، ملبے تلے دبی میتوں کی تلاش جاری ہے۔ اب تک جنگ بندی کے بعد 137 شہداء کی میتیں نکالی جا چکی ہیں، جبکہ دس ہزار سے زائد افراد کی لاشیں ابھی تک ملبے تلے دبی ہوئی ہیں۔مقبوضہ مغربی کنارے میں صیہونی آبادکاروں کے حملوں کے نتیجے میں بارہ فلسطینی زخمی ہوگئے۔ ان حملوں میں مقامی لوگوں کی املاک کو نقصان پہنچایا گیا۔ غزہ میں پندرہ ماہ سے جاری جنگ کے دوران ہزاروں خواتین اور بچوں سمیت 46 ہزار 913 فلسطینی شہید اور ایک لاکھ 10 ہزار 700 سے زائد زخمی ہو چکے ہیں۔
جنگ بندی کے باوجود رفح میں صیہونی فورسز کی فائرنگ سے 3 فلسطینی شہید

Leave a Reply