اسلام آباد: سینیٹ کے اجلاس میں پانی کی تقسیم کے معاملے پر حکومت اور اتحادی جماعت پیپلز پارٹی کے درمیان اختلافات شدت اختیار کر گئے۔ پیپلز پارٹی کی سینیٹر شیری رحمان نے حکومت پر دریائے سندھ پر کینال تعمیر کر کے سندھ کے پانی میں کٹوتی کا الزام عائد کیا، جبکہ سینیٹر عرفان صدیقی نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ اگر پنجاب اپنے حصے کے پانی سے کینال بنا رہا ہے تو اعتراض نہیں بنتا۔
پیپلز پارٹی کی سینیٹر شیری رحمان نے تحریک التوا پیش کرتے ہوئے کہا کہ دریائے سندھ پر بیراج، ڈیمز اور کینال کی تعمیر سے سندھ میں پانی کی شدید قلت پیدا ہو رہی ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ حکومتی فیصلے پر سندھ سے کوئی مشاورت نہیں کی گئی اور سندھ کے کئی علاقوں میں اس فیصلے کے خلاف شدید احتجاج ہو رہا ہے۔ پانی کی کمی کا بحران: ارسا نے خود 13 فیصد پانی کی کمی کی بات کی ہے، جس سے پنجاب اور سندھ دونوں متاثر ہو رہے ہیں۔ کراچی کی صورتحال: ملک کے سب سے بڑے شہر کراچی میں لوگ پانی کی بوند بوند کو ترس رہے ہیں۔ وفاقی حکومت پر اعتراض: وفاقی حکومت کو سندھ کے ساتھ اس معاملے پر مشاورت کرنی چاہیے تاکہ مسئلے کا حل نکالا جا سکے۔
سینیٹر عرفان صدیقی نے واضح کیا کہ اگر پنجاب اپنے حصے کے پانی سے کینال بنا رہا ہے تو اعتراض نہیں ہونا چاہیے۔ انہوں نے تکنیکی معاملات پر زور دیا کہ پانی کی تقسیم پر اعتراضات کو تکنیکی بنیادوں پر سلجھایا جانا چاہیے۔
شیری رحمان نے مطالبہ کیا کہ پانی کی تقسیم کا مسئلہ حل کرنے کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دی جائے جو تمام متاثرہ فریقین، خاص طور پر سندھ اور بلوچستان، کو سنے اور ایک قابل قبول حل پیش کرے۔ انہوں نے کہا کہ پانی کی تقسیم ایک حساس مسئلہ ہے، اسے سیاست کی نذر نہ کیا جائے۔
سینیٹ اجلاس: پانی کی تقسیم پر حکومت اور پیپلز پارٹی آمنے سامنے

Leave a Reply