اسلام آباد: اسپیکر ایاز صادق کی زیر صدارت قومی اسمبلی کے اجلاس میں اپوزیشن کی جانب سے شدید احتجاج کیا گیا اور ایجنڈے کی کاپیاں پھاڑ دی گئیں۔اجلاس کے آغاز پر اپوزیشن لیڈر عمر ایوب نے پوائنٹ آف آرڈر پر بات کرنے کی اجازت مانگی، تاہم اسپیکر نے وقفۂ سوالات کے دوران پوائنٹ آف آرڈر کی اجازت دینے سے انکار کر دیا۔ اسپیکر نے وضاحت کی کہ ہاؤس بزنس ایڈوائزری کمیٹی میں یہ فیصلہ ہوا تھا کہ وقفۂ سوالات کے دوران پوائنٹ آف آرڈر کی اجازت نہیں ہوگی۔اس فیصلے پر تحریک انصاف کے اراکین نے احتجاج شروع کر دیا اور اپوزیشن کے نعروں سے ایوان گونج اٹھا۔ اس دوران اپوزیشن اراکین نے ایجنڈے کی کاپیاں پھاڑ کر اپنے غصے کا اظہار کیا، لیکن شور شرابے کے باوجود وقفۂ سوالات جاری رہا۔وزارتِ داخلہ کے سوالات کے جوابات نہ آنے پر اسپیکر ایاز صادق نے برہمی کا اظہار کیا اور پوچھا کہ وزارت داخلہ کی نمائندگی کے لیے کون افسر موجود ہے؟ اس دوران معلوم ہوا کہ وزارت داخلہ کے افسران گیلری میں موجود نہیں تھے، جس پر اسپیکر نے سخت ناراضگی ظاہر کی۔بعد ازاں، وزارتِ داخلہ کے سینئر افسر اجلاس میں پہنچے اور اسپیکر کے سوال پر بتایا کہ وہ نماز پڑھنے گئے تھے۔ اس پر اسپیکر نے کہا کہ اجلاس 2 بجے شروع ہونا تھا، اس سے پہلے نماز ادا کرنی چاہیے تھی۔ اسپیکر نے دونوں افسران کو اپنے دفتر میں رہنے کی ہدایت کی اور حکم دیا کہ وہ اجلاس کے اختتام تک وہیں موجود رہیں۔اجلاس کے دوران ڈی جی سی ڈی اے کی موجودگی پر اسپیکر نے تعجب کا اظہار کیا اور کہا کہ غیر متعلقہ افسران کی حاضری ناقابل قبول ہے۔
قومی اسمبلی اجلاس: اپوزیشن کا شور شرابہ، ایجنڈے کی کاپیاں پھاڑ ڈالیں

Leave a Reply