اسلام آباد: وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت دانش اسکولز اور دانش یونیورسٹی کے حوالے سے ایک اہم جائزہ اجلاس منعقد ہوا، جس میں منصوبوں کی موجودہ پیشرفت اور مستقبل کی حکمت عملی پر غور کیا گیا۔اجلاس میں ملک بھر میں 15 نئے دانش اسکولوں کی تعمیر کی پیشرفت کا جائزہ لیا گیا۔ وزیراعظم نے زیر تعمیر دانش اسکولوں اور دانش یونیورسٹی پر کام کی رفتار تیز کرنے کی ہدایت دیتے ہوئے منصوبوں کو اعلیٰ معیار کے مطابق مکمل کرنے پر زور دیا۔ انہوں نے ہدایت کی کہ تمام تعمیرات کی تھرڈ پارٹی ویلیڈیشن لازمی بنائی جائے تاکہ شفافیت اور معیار کو یقینی بنایا جا سکے۔وزیراعظم نے کہا کہ دانش اسکولز اور دانش یونیورسٹی حکومت کے ان ترجیحی منصوبوں میں شامل ہیں جن کا مقصد ملک کے مستحق اور باصلاحیت طلباء کو بین الاقوامی معیار کی تعلیم کی فراہمی ہے۔انہوں نے تمام دانش اسکولز کے کلاس رومز میں اسمارٹ بورڈز کی تنصیب اور ہر اسکول میں ڈیجیٹل لائبریری کے قیام کی ہدایت بھی دی۔ وزیراعظم نے اساتذہ کی تقرری کو مکمل طور پر میرٹ پر مبنی اور شفاف بنانے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ جن علاقوں میں یہ اسکول تعمیر کیے جا رہے ہیں، وہاں کے مقامی اساتذہ کو ترجیح دی جائے۔وزیراعظم نے دانش اتھارٹی کے قیام کے لیے تجاویز پیش کرنے کی بھی ہدایت کی تاکہ ان منصوبوں کی مؤثر نگرانی اور انتظام یقینی بنایا جا سکے۔اجلاس کو بتایا گیا کہ اسلام آباد میں دانش اسکول کا 41 فیصد تعمیراتی کام مکمل ہو چکا ہے اور یہ منصوبہ دسمبر 2025 تک مکمل کر لیا جائے گا۔ گلگت بلتستان کے اضلاع سلطان آباد، گھانچے اور استور میں دانش اسکولز کی تکمیل کی تاریخ 30 جون 2026 مقرر کی گئی ہے، جبکہ بھمبر اور باغ میں یہ اسکولز جون 2026 میں مکمل ہوں گے۔شاردہ، سبی، موسیٰ خیل اور ژوب کے اسکولوں کی فیزیبلٹی اور ڈیزائن مکمل کر لیے گئے ہیں جبکہ حب، کراچی اور چترال کے اسکولوں کے لیے زمین کے حصول پر کام جاری ہے۔اجلاس کو آگاہ کیا گیا کہ وفاقی کابینہ کی منظوری سے دانش یونیورسٹی کے لیے زمین مختص کر دی گئی ہے اور یونیورسٹی کی فیزیبلٹی و ڈیزائن کی پری کوالیفیکیشن کے لیے ماہر کنسلٹنٹ کی تعیناتی کا عمل شروع کیا جا رہا ہے۔وزیراعظم نے تمام متعلقہ اداروں کو ہدایت کی کہ وہ ان منصوبوں کی بروقت تکمیل اور شفاف عمل کو یقینی بنائیں تاکہ ملک کے تعلیمی نظام میں ایک نمایاں بہتری لائی جا سکے۔
وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت دانش اسکولز اور یونیورسٹی سے متعلق اعلیٰ سطح جائزہ اجلاس

Leave a Reply