کوئٹہ/کراچی: بلوچستان اسمبلی نے بجٹ 25-26ء کی منظوری دیدی، ایوان نے 94 مطالبات زر منظور کرلیے، اپوزیشن کی کٹوتی کی 12 تحاریک مسترد کردی گئیں۔بلوچستان اسمبلی نے مالی سال 2025-26ء کا بجٹ منظور کرلیا، ایوان نے نئے مالی سال کے 94 مطالبات زر کی منظوری دی، اپوزیشن کی کٹوتی کی 12 تحاریک کثرت رائے سے مسترد کردی گئیں۔بلوچستان اسمبلی میں بجٹ تجاویز سے متعلق مطالبات زر صوبائی وزیر خزانہ نے پیش کیے، غیرترقیاتی اخراجات کیلئے 53 مطالبات زر جبکہ ترقیاتی اخراجات کیلئے 41 مطالبات زر ایوان میں پیش کیے گئے۔بجٹ کی منظوری کے بعد خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے کہا کہ اتحادیوں نے ہمیشہ رہنمائی کی اور ساتھ دیا، اپوزیشن نے اختلاف کیا لیکن ان کی سوچ بھی بجٹ کا حصہ ہے، اپنی حکومت کا دوسرا بجٹ پاس کروانے پر ایوان کا شکر گزار ہوں، وزیراعظم شہباز شریف کا شکریہ ادا کرتا ہوں کہ انہوں نے ہمیشہ بلوچستان کو ترجیح دی، افواج پاکستان نے ہمیشہ بلوچستان کی مدد کی، افواج پاکستان ہمیشہ بلوچستان حکومت کے ساتھ کھڑی رہیں۔
دوسری جانب سندھ اسمبلی نے بھی آئندہ مالی سال کے بجٹ کی منظوری دے دی۔وزیراعلیٰ سندھ کی جانب سے پیش کیے گئے 3.45 سے زائد کا مالی سال 2025، 26 کا بجٹ سندھ اسمبلی نے منظور کرلیا۔ اپوزیشن کی دو ہزار سے زائد کٹوتی کی تحاریک مسترد کردی گئی۔سندھ بجٹ کا حجم گزشتہ سال سے 12.9 فیصد زیادہ ہے،ایوان میں 156.069 ارب روپے کا ضمنی بجٹ بھی منظور کرلیا گیا۔سندھ اسمبلی نے نئے مالی سال کے لیے تمام گرانٹس منظورکر لیں، سندھ حکومت کے مطابق عوام کو 5 ارب روپے کا ریلیف دیا گیا ہے، عوامی فلاح کے لیے محصولات میں بڑی نرمی کی ہے۔بجٹ میں پارلیمنٹ واسمبلی، بلدیاتی نمائندے، جج ٹریبیونل اراکین کی سرکاری خدمات بھی سیل ٹیکس سے مستثنیٰ قرار دیا گیا۔ ایکسپورٹ پروسیسنگ اور اسپیشل اکنامک زون کو سروسز ٹیکس پر چھوٹ مل گیا۔
بلوچستان اورسندھ اسمبلی نے بجٹ 25-26 کی منظوری دیدی

Leave a Reply