راولپنڈی،اسلام آباد: سکیورٹی فورسز نے خیبرپختونخوا میں 10سے 13ستمبر کے دوران 3مختلف کارروائیوں میں بھارتی پراکسی فتنہ الخوارج سے تعلق رکھنے والے 45 دہشتگردوں کو ہلاک کر دیا جبکہ 19 جوان شہید ہو گئے ۔وزیراعظم شہباز شریف نے کہا افغانستان خارجیوں اور پاکستان میں سے ایک کا انتخاب کر ے ،دہشتگردی کیخلاف مزید مؤثر جواب دینے کیلئے جو ضروری انتظامی و قانونی اقدامات کرنا پڑے کرینگے ، غیر قانونی مقیم افغانوں کا جلد انخلا انتہائی اہم ہے ۔پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق خیبرپختونخوا کے ضلع باجوڑ میں خوارج کی موجودگی کی اطلاع پر سکیورٹی فورسز نے انٹیلی جنس کی بنیاد پر آپریشن کیا، کارروائی کے دوران جوانوں نے خوارج کے ٹھکانے کو مؤثر انداز میں نشانہ بنایا اور شدید فائرنگ کے تبادلے کے بعد بھارتی سرپرستی میں سرگرم 22 خوارج کو ہلاک کر دیا۔ ایک اور جھڑپ جنوبی وزیرستان میں پیش آئی جہاں مزید 13 خوارج کو سکیورٹی فورسز نے ہلاک کیا تاہم شدید فائرنگ کے تبادلے کے دوران وطن کے 12 بہادر سپوت جام شہادت نوش کر گئے ۔سکیورٹی فورسز نے لوئر دیر کے علاقہ لال قلعہ میں بھی آپریشن کیا، کارروائی فتنہ الخوارج کے دہشت گردوں کی موجودگی کی اطلاع پر کی گئی، شدید فائرنگ کے تبادلے میں 10 خوارج ہلاک ہو گئے جبکہ فائرنگ کے تبادلے میں 7 بہادر سپوت وطن پر قربان ہو گئے ۔شہداء میں شمالی وزیرستان کے رہائشی 39 سالہ نائیک عبدالجلیل، لکی مروت کے رہائشی 38 سالہ نائیک گل جان ،لکی مروت کے ہی رہائشی 28 سالہ لانس نائیک عظمت اللہ ،خیبر کے رہائشی 28 سالہ سپاہی عبدالمالک، ملاکنڈ کے رہائشی 27 سالہ محمد امجد، صوابی کے رہائشی 23 سالہ سپاہی محمد داؤد اور ڈی آئی خان کے رہائشی 21 سالہ فضل قیوم شامل ہیں ۔آئی ایس پی آر کے مطابق شہید اہلکاروں نے خوارج کے ہاتھوں یرغمال شہریوں کو چھڑانے کی کوشش میں جان کا نذرانہ دیا۔بھارتی سرپرستی میں سرگرم ہلاک ہونے والے خوارج سے اسلحہ اور گولہ بارود بھی برآمد ہوا جو ان علاقوں میں متعدد دہشت گرد کارروائیوں میں ملوث رہے ۔ انٹیلی جنس رپورٹس نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ ان دہشت گرد کارروائیوں میں افغان شہری براہِ راست ملوث تھے اور افغان سرزمین کا پاکستان کے خلاف استعمال ہونا بدستور تشویشناک معاملہ ہے ۔ پاکستان عبوری افغان حکومت سے توقع رکھتا ہے کہ وہ اپنی ذمہ داریاں پوری کرے اور اپنی سرزمین پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال نہ ہونے دے ۔فورسز کی جانب سے علاقے کو کلیئر کرنے کے لیے سینیٹائزیشن آپریشن جاری ہے ۔پاک فوج نے اس عزم کو دہرایا ہے کہ بھارتی سرپرستی میں ہونے والی دہشت گردی کے ناسور کو جڑ سے اکھاڑ پھینکا جائے گا۔آئی ایس پی آر کے مطابق ہمارے بہادر جوانوں کی قربانیاں ہمارے عزم کو مزید مضبوط کرتی ہیں۔ دریں اثنا وزیر اعظم شہباز شریف نے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے ہمراہ بنوں کا دورہ کیا جہاں انہوں نے فتنہ الخوارج کے خلاف آپریشن میں شہید ہونے والے جوانوں کی نماز جنازہ میں شرکت کے علاوہ زخمی جوانوں کی عیادت کی ،وزیر اعظم اور فیلڈ مارشل نے دہشت گردی سے متعلق اہم اور اعلیٰ سطحی اجلاس میں شرکت بھی کی، اس موقع پر وزیر اعظم نے کہا کہ دہشت گردی کا بھرپور جواب جاری رہے گا اور اس میں کسی قسم کا کوئی ابہام برداشت نہیں کیا جائے گا۔افغانستان پر واضح کر دیا خارجیوں اور پاکستان میں سے ایک کا انتخاب کر لیں،پاکستانی قوم دہشت گردی کے معاملے پر سیاست اور گمراہ کن بیانیے کو مکمل طور پر رد کرتی ہے ،جو بھی خارجیوں اور ہندوستان کی دہشت گرد پراکسیوں کی سہولت کاری اور معاملہ فہمی کی بات کرتا ہے وہ انہی کا آلہ کار ہے اور اُسے بھی اسی زبان میں جواب دیا جائے گا جس کا وہ حق دار ہے ، وزیر اعظم نے کہا کہ پاکستان اور بالخصوص خیبر پختونخوا کے غیور عوام، ریاست اور افواج پاکستان کے ساتھ ملکر ہندوستان کی ان پراکسیوں کے خلاف بنیان مرصوص کی طرح متحد ہیں،دہشت گردی کے خلاف مزید مؤثر جواب دینے کے لئے جو ضروری انتظامی اور قانونی اقدامات کرنا پڑے وہ فوراً کریں گے ،دہشت گردی کے واقعات میں افغان باشندے ملوث ہیں جو افغانستان سے پار آ کر پاکستان میں دہشت گردی کر رہے ہیں۔غیر قانونی طور پر پاکستان میں مقیم افغان باشندوں کا جلد انخلا انتہائی اہم ہے ،سکیورٹی ذرائع کے مطابق پاکستان میں دہشت گردی کرنے والے دہشت گردوں کے سرغنہ اور سہولت کار افغانستان میں ہیں اور ان کی پُشت پناہی ہندوستان کر رہا ہے ، بعدازاںوزیر اعظم اور فیلڈ مارشل نے سی ایم ایچ بنوں میں زخمیوں کی عیادت بھی کی، پشاور کے کور کمانڈر نے علاقے کی سکیورٹی صورتحال پر تفصیلاً بریفنگ دی ، بنوں کنٹونمنٹ پہنچنے پر آرمی چیف نے وزیر اعظم کا استقبال کیا۔علاوہ ازیں صدر آصف علی زرداری نے کہا شہداء کا خون دہشتگردی کے خاتمے کے عزم کو مزید مضبوط کرتا ہے ، افغان عبوری حکومت اپنی ذمہ داریاں پوری کرے ، پاکستان کو تشدد سے جھکایا نہیں جا سکتا،فتنہ الخوارج اور ان کے سرپرستوں کو شکست دی جائے گی۔وزیراعظم شہباز شریف نے کہا دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سکیورٹی فورسز سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی طرح کھڑی ہیں، پوری قوم شہداء کو سلام پیش کرتی ہے ۔وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا شہدا کی قربانیاں دہشت گردی کے خلاف ہمارے مضبوط عزم کی عکاس ہیں، امن کے لیے وطن پر جانیں نچھاور کرنے والے شہداء ہمارا فخر ہیں۔ادھر سعودی عرب کی وزارت خارجہ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں پاکستان میں دہشتگردی کے واقعات پر مذمت کا اظہار کیا ہے ۔راولپنڈی ،لاہور،ملتان(خصوصی نیوز رپورٹر، نمائندگان دنیا،مانیٹرنگ ڈیسک) فیلڈ مارشل چیف آف آرمی سٹاف سید عاصم منیر نے گزشتہ روز قصور سیکٹر،جلالپور پیر والا اور ملتان میں فلڈ ریلیف کیمپس کا دورہ کیا۔ سیلاب کی موجودہ صورتحال اور جاری امدادی سرگرمیوں کا جائزہ لیا۔ آئی ایس پی آر کے مطابق قصور اور ملتان کے سیلاب سے متاثرہ علاقوں کا دورہ سول انتظامیہ اور فوج کے درمیان ہم آہنگی بڑھانے پر مرکوز تھا تاکہ متاثرہ آبادی کیلئے موثر امداد کو یقینی بنایا جا سکے ۔ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے سیلاب متاثرین کی دوبارہ آبادکاری اور بحالی میں مکمل تعاون کی یقین دہانی کراتے ہوئے کہا کہ ریاست ہرسال قیمتی جانوں اور املاک کے نقصان کی متحمل نہیں ہو سکتی،انہوں نے گڈگورننس پر زور دیتے ہوئے کہاکہ عوام کو بار بار آنے والے سیلاب کی تباہ کاریوں سے بچانے کیلئے درکار تمام ضروری اقدامات اور انفرا سٹرکچر کی ترقی کو تیز کیا جانا چاہئے ۔فیلڈ مارشل نے سیلاب متاثرین کے مسائل حل کرنے میں سول اور فوجی اداروں کے تعاون کی اہمیت کو اجاگر کیا اور سول انتظامیہ سے گفتگو کرتے ہوئے اچھی طرزِ حکمرانی ،گڈ گورننس اور عوام پر مبنی ترقی کی اہمیت پر زور دیا۔چیف سیکرٹری پنجاب اور سول انتظامیہ کے دیگر اعلیٰ حکام بھی آرمی چیف کے ہمراہ موجود تھے ، آرمی چیف کو زمینی صورتحال اور سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں جاری ریسکیو اور امدادی کارروائیوں کے بارے میں بریفنگ دی گئی۔فیلڈ مارشل نے عوامی فلاح و بہبود کیلئے کئے گئے تمام اقدامات کی حمایت کے حوالے سے پاک فوج کے غیر متزلزل عزم کا اعادہ بھی کیا۔آرمی چیف سید عاصم منیر نے محفوظ مقامات پر منتقل کئے گئے سیلاب متاثرین سے بھی ملاقات کی،سیلاب متاثرین کے ساتھ اپنی بات چیت کے دوران فیلڈ مارشل نے انہیں ان کی آباد کاری اور بحالی میں تعاون جاری رکھنے کا یقین دلایا، متاثرین نے نازک موڑ پر بروقت امداد پر پاک فوج کا تہہ دل سے شکریہ ادا کیا۔فیلڈ مارشل نے ریلیف آپریشنز میں مصروف فوجی جوانوں، ریسکیو 1122کے اہلکاروں اور پولیس افسروں سے بھی ملاقات کی اور ان کے بلند حوصلے ، تیاری اور انتہائی مشکل حالات میں قوم کی خدمت کے جذبے کو سراہا۔انہوں نے نقصان کے پیمانے اور جاری امدادی سرگرمیوں کا جائزہ لینے کیلئے لاہور،قصور اور ملتان،جلالپور پیر والا کے سیلاب سے متاثرہ علاقوں کا فضائی جائزہ بھی لیا۔ سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں پہنچنے پر لاہور اور ملتان کور کے کور کمانڈرز نے فیلڈ مارشل کا استقبال کیا۔
خیبر پختو نخوا:فتنہ الخوارج کے 45دہشتگرد ہلاک ،19جوان شہید:افغانستان خارجیوں اور پاکستان میں سے ایک کا انتخاب کرے:شہباز شریف

Leave a Reply