کراچی: سٹاک ایکسچینج کاروباری ہفتے کے تیسرے روز اتار چڑھاؤ کا شکار رہی ۔ عالمی کشیدہ صورتحال اور منی بجٹ کی آمد سے متعلق زیر گردش خبروں سے مارکیٹ میں جاری تیزی کی شرح پہلے کم ہوئی اور پھر مندی میں تبدیلی ہوگئی ۔100 انڈیکس کی ٹریڈنگ کا آغاز 700 پوائنٹس کی تیزی سے ہوا،انڈیکس جلد ہی 1 ہزار پوائنٹس کی تیزی سے 1 لاکھ 57 ہزار کی حد پار کرتا ہوا یومیہ 1 لاکھ 57 ہزار 196 پوائنٹس کی حد تک ٹریڈ ہوا ،تاہم مذکورہ تیزی کی رفتار مدھم پڑتی رہی اور انڈیکس 1 لاکھ 57 ہزار اور 1 لاکھ 56 ہزار کی دو نفسیاتی حدوں کو گنواتا ہوا یومیہ 1 لاکھ 55 ہزار 960 پوائنٹس کی کم ترین سطح تک ٹریڈ ہوا ۔ دن بھر آئل اینڈ گیس ، فارما اور سیمنٹ سیکٹرز کے حصص میں کاروبار ہوا تاہم سرمایہ کاری کے انخلاء سے مندرجہ بالا سیکٹرز کے حصص بھی منفی زون میں آگئے اور انڈیکس پرافٹ ٹیکنگ کے باعث معمولی نوعیت کی مندی کا شکار ہوگیا ۔ کاروبار کے اختتام پر کے ایس ای 100 انڈیکس3.13 پوائنٹس کی کمی سے 1 لاکھ 56 ہزار 177 پوائنٹس پر بند ہو ۔اس دوران سرمایہ کاروں کو 26ارب روپے کا منافع ہواجس کے نتیجے میں سرمائے کا مجموعی حجم گھٹ کر 18 ہزار 357 ارب روپے رہا ۔مجموعی طور پر485 کمپنیوں کے حصص کا کاروبار ہوا جس میں سے 235 کمپنیوں کے شیئرز کی قیمتوں میں اضافہ ،219میں کمی اور 31 میں استحکام رہا۔

Leave a Reply