لاہور:وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ بیرونی محاذ پر پاکستان کی پذیرائی ہماری موثر پالیسیوں اور خصوصاً ملک کے اندر اتحاد و یکجہتی کا مظہر ہے ، دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی یکسوئی ،سنجیدگی اور قربانیاں رنگ لائیں گی اور یہ جنگ نتیجہ خیز ہوگی، پاکستان کی حکومت او رریاست کا اس امر پر اتفاق رائے ہے کہ ہمیں معاشی حوالہ سے خود انحصاری کی منزل پر پہنچناہے جس کیلئے ہمیں اپنے ہاؤس کو بھی آن آرڈر کرنا ہے اور ہر طرح کی دہشت گردی کا سدباب کرنا ہے ، افغانستان ہمارا ہمسایہ ہے اور ہم ان سے بھی اچھی توقعات رکھتے ہیں کہ وہ اپنی سرزمین کو بھی دہشت گردی سے پاک کریں، یہ ان کے مفاد میں بھی ہے اور خطہ میں استحکام کیلئے بھی ضروری ہے ۔پہلے ملک اور پھر سیاست ہوگی ،ملکی ترقی ،معیشت کی مضبوطی، دہشت گردی کا سدباب اور امن و استحکام ہمارا قومی ایجنڈا ہیں اور اس پر سیاست کی کوئی گنجائش نہیں، دہشت گردی کے خلاف ہماری جنگ فیصلہ کن مرحلہ پر ہے ، ہم دہشت گردی کو دفن کرکے دم لیں گے ،پاکستان کی مسلح افواج نے دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ بھی جیت کر دکھائی اوراب بھی ہم سرخرو ہوں گے ۔وزیراعظم شہباز شریف نے روزنامہ دنیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ دوحا کے بعد استنبول مذاکرات کا عمل ایک سنجیدہ پیشرفت ہے جس میں ہمارے اور افغانستان کے ساتھ بعض دوست ممالک حصہ ہیں اور ہم سمجھتے ہیں کہ یہ مشق کامیاب ہونی چاہئے ، پاکستان نے مذاکراتی عمل میں بہت سارے شواہد بھی دئیے ہیں اور باور کرایا ہے کہ ہم اب اس صورتحال کے متحمل نہیں ہوسکتے اور ہمیں آگے بڑھنا ہے تو پھر ہمیں دہشت گردی کی جڑیں بھی کاٹنا ہیں اور دہشت گردوں کوبھی ان کے انجام تک پہنچانا ہے ۔ وزیراعظم نے کہا ہمارے پاس مصدقہ شواہد ہیں کہ کون کون کس طرح سے کن مقاصد کے تحت پاکستان میں دہشت گردی میں ملوث ہے اور کون کس کی پراکسی کے طور پر کام کر رہا ہے ۔ خیبرپختونخواحکومت کے حوالہ سے ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ میں نے نہایت نیک نیتی سے سہیل آفریدی کو تعاون کی پیشکش کی ہے اور مجھے قومی مفاد اور خصوصاً دہشت گردی کے سدباب کے حوالہ سے ان کی جانب سے اچھے جواب کی توقع ہے کیونکہ پختونخوا ہمارا اہم صوبہ ہے۔ہم چاہیں گے کہ یہاں امن قائم ہو ،دہشت گردی کی بیخ کنی ہو او ردہشت گرد اپنے انجام کو پہنچیں۔ شہباز شریف کاکہناتھاکہ اگر خیبر پختونخوا سے تعاون کی بات کر رہا ہوں تو یہ میرے منصب کا تقاضا بھی ہے اور یہ ملک کے بہترین مفاد میں ہے ۔ آج اگر دنیا پاکستان کے کردارکو سراہتی نظر آ رہی ہے تو اس کی بڑی وجہ پاکستان کا ذمہ دارانہ اور موثر کردار ہے اور ہمارا فیصلہ ہے کہ ہم نے ملکی مفاد میں سیاسی مفادات سے بالاتر ہو کر چلنا ہے اور ہمیں اس کے اچھے نتائج ملے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جب ہم کہتے ہیں کہ ہم دفاعی پالیسی پر گامزن ہیں تو یہ ہماری کمزوری نہیں ہماری طاقت اور اعتماد کا مظہر ہے ۔ فیلڈ مارشل عاصم منیر کی قیادت میں پاکستان کی مسلح افواج نے دنیا کو بتا دیا کہ جو پاکستان کی سلامتی کو چیلنج کرے گا انہیں لینے کے دینے پڑیں گے ۔ پاکستان نے بھارت کے مقابلہ میں ناقابل تسخیر ہونے کا ثبوت دیا ہے اور اب ہمارا دشمن اپنے مذموم مقاصد کے تحت اپنے گھناؤنے ایجنڈے کے تحت دہشت گردی کے آپشن کو بروئے کار لا رہا ہے مگر اس کو اس محاذ پر بھی منہ کی کھانا پڑے گی۔
پہلے ملک پھر سیاست ،پاکستان کی دنیا میں پذیرائی اتحاد ویکجہتی کا مظہر:شہباز شریف خودانحصاری کی منزل پر پہنچناہے ،افغانستان سے اچھی توقعات ہیں، آگے بڑھنا ہے تو دہشتگردی کی جڑیں کاٹنا ہوں گی پختو نخوا سے تعاون کی بات کرنا میرے منصب کا تقاضا، ان کی جانب سے اچھے جوا ب کی توقع:روزنامہ دنیا سے گفتگو

Leave a Reply