کراچی:پاکستان میں ایندھن کے درآمدی بل میں ستمبر 2025 کے دوران نمایاں اتار چڑھاؤ ریکارڈ کیا گیا جس کے مطابق خام تیل اور پٹرولیم مصنوعات کی درآمدات میں اضافہ جبکہ آر ایل این جی کی درآمد میں واضح کمی دیکھی گئی۔ مالیاتی اور اعدادوشمار کے اداروں کی جانب سے جاری رپورٹ کے مطابق عالمی منڈی میں قیمتوں میں اتار چڑھاؤ اور مقامی توانائی کی طلب میں اضافے نے ملک کے درآمدی اخراجات پر نمایاں اثر ڈالا ہے ۔ ادارہ شماریات اور آئل کمپنیز ایڈوائزری کاؤنسل کے اعداد و شمار کے مطابق ستمبر 2025 میں خام تیل کی درآمد ماہانہ بنیادوں پر 11.3 فیصد اور سالانہ بنیادوں پر 30.5 فیصداضافے سے 9 لاکھ 3 ہزار ٹن تک پہنچ گئی ۔ خام تیل کی درآمدی مالیت میں بھی 11.5 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا جس کے بعد اس کی مجموعی قدر 54 کروڑ 10 لاکھ ڈالر رہی،اسی طرح پٹرولیم مصنوعات جیسے موٹر فیول اور ڈیزل وغیرہ کی درآمد بھی سالانہ بنیادوں پر 7.2 فیصد بڑھ کر 6 لاکھ 52 ہزار 280 ٹن تک جا پہنچی جبکہ اس کی مالیت میں 21 فیصد اضافہ ہوا اور درآمدی لاگت 40 کروڑ 60 لاکھ ڈالر تک جا پہنچی۔ ماہرین کے مطابق پٹرولیم مصنوعات کی بڑھتی ہوئی درآمد اس بات کا اظہار ہے کہ مقامی ریفائنریوں کی پیداوار ملک کی طلب پوری کرنے میں ناکافی رہی، جس کے باعث درآمدات پر انحصار مزید بڑھ گیا۔ ستمبر 2025 میں آر ایل این جی کی درآمد سالانہ 20 فیصد گھٹ کر 804 ایم ایم سی ایف ڈی (ملین مکعب فٹ یومیہ)رہی۔
خام تیل کی درآمد میں 30 فیصد اضافہ، 9.3لاکھ ٹن ریکارڈ پٹرولیم مصنوعات کی درآمد 7.2فیصد بڑھ کر6.52لاکھ ٹن تک جاپہنچی آر ایل این جی کی امپورٹ20فیصد گھٹ کر 804 ایم ایم سی ایف ڈی رہی

Leave a Reply