کراچی:مالی اداروں نے اسٹاک ایکسچینج کے حوالے سے سال 2026ء کی انتہائی حوصلہ افزا پیش گوئیاں جاری کردی ہیں۔ مالیاتی اداروں کی جانب سے حالیہ سروے کے مطابق آئندہ برس کے ایس ای 100 انڈیکس تاریخی سطح کو چھو سکتا ہے ۔ سروے میں شامل 37 فیصد مالیاتی و معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ بینچ مارک 100 انڈیکس 2026ء میں 1 لاکھ 60 ہزار سے 1 لاکھ 80 ہزار پوائنٹس کے درمیان ٹریڈ ہوگا جبکہ 32 فیصد ماہرین نے امکان ظاہر کیا ہے کہ انڈیکس 1 لاکھ 80 ہزار سے 2 لاکھ پوائنٹس کے درمیان رہ سکتا ہے ۔دوسری جانب 25 فیصد شرکاء کو یقین ہے کہ100 انڈیکس 2 لاکھ کی نفسیاتی حد عبور کرتے ہوئے بلند ترین سطح پر پہنچ جائے گا۔ پی آئی اے کی نجکاری، ریکوڈک منصوبے کی پیش رفت، بین الاقوامی بانڈز کے اجراء اور ایشیائی مارکیٹوں میں پاکستان کی مضبوط ہوتی پوزیشن انڈیکس کو ریکارڈ پلس زون میں لے جائے گی۔ تجزیہ کاروں کے مطابق کریڈٹ ریٹنگ میں بہتری، توانائی کے سرکلر ڈیٹ میں کمی اور قطری ایل این جی کارگوز کی عارضی تاخیر بھی سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافہ کرے گی۔سروے میں بتایا گیا کہ اسٹاک ایکسچینج سال 2026ء میں سرمایہ کاروں کو اوسطاً 26 فیصد منافع دے سکتی ہے جبکہ فی حصص آمدنی کی شرح 6.8 فیصد سے بڑھ کر 7.6 فیصد رہنے کا امکان ہے ۔ مالیاتی اداروں کی تازہ رپورٹ میں اوور ویٹ سیکٹرز میں سیمنٹ، آئل اینڈ گیس، ریفائنری اور فارما انڈسٹری کو ممکنہ طور پر نمایاں کارکردگی دکھانے والے شعبے قرار دیے گئے ہیں جبکہ انڈر ویٹ سیکٹرز میں کیمیکل، بینکنگ، فوڈ اور اسٹیل شامل ہوسکتے ہیں۔ مزید برآں 50 فیصد غیر ملکی سرمایہ کاروں نے سال 2026ء میں مجموعی منافع 10 فیصد رہنے کا امکان ظاہر کیا ہے ۔ دوسری جانب معاشی اعدادوشمارمیں مسلسل بہتری بھی اسٹاک ایکسچینج کو مستقبل قریب میں تقویت پہنچائے گی۔ معاشی تجزیہ کاروں کے مطابق ملکی سیاسی استحکام، آئینی پالیسی میں تسلسل اور آئی ایم ایف کے ساتھ اعتماد کی بحالی اسٹاک مارکیٹ کے لیے فیصلہ کن کردار ادا کریں گے۔
آئندہ برس 100انڈیکس کی تاریخی سطح چھونے کی پیشگوئی اسٹاک ایکسچینج سال 2026ء کے دوران اوسطاً 26 فیصد منافع دے سکتی ہے فی حصص آمدنی کی شرح 6.8 سے بڑھ کر 7.6 فیصد رہنے کا امکان ،سروے

Leave a Reply