راولپنڈی محض ایک شہر نہیں، ایک نفسیات ہے، ایک مکمل نظامِ زندگی ہے جو اسلام آباد کی خاموش سڑکوں سے چند کلومیٹر دور ایک الگ ہی تال پر دھڑک رہا ہے۔ اسلام آباد کی سڑکیں اگر کسی فلسفی کی خاموشی جیسی ہیں، تو پنڈی کا راجہ بازار کسی من موجی ملنگ کا دھمال ہے۔ اس شہر کا ایسا ہی ایک استعارہ ہے۔ “پنڈی پنڈی اے” (پنڈی تو بس پنڈی ہی ہے)، تو اس مختصر جملے میں وہ دنیا بھر کے جغرافیہ کو چیلنج دیتا ہے۔ پنڈی کی پہلی خوبی اس کے یاروں کی وہ اپنائیت ہے جس میں مروت کم اور لہجے کی کاٹ زیادہ ہوتی ہے، مگر اس کاٹ میں جو خلوص چھپا ہے، وہ شاید آپ کو کسی ایئر کنڈیشنڈ ڈرائنگ روم میں میسر نہ آئے۔
پنڈی کی فضاؤں میں ایک عجیب سی عجلت رچی بسی ہے۔ یہاں کا بندہ ہمیشہ کسی نہ کسی ایسی مہم پر ہوتا ہے جس کا انجام صرف اسے معلوم ہوتا ہے۔ آپ مری روڈ پر کھڑے ہوں تو آپ کو محسوس ہوگا کہ ہر گاڑی، ہر رکشہ اور ہر موٹر سائیکل سوار کسی ایسی منزل کی طرف لپک رہا ہے جہاں دیر ہونے پر شاید کائنات کا توازن بگڑ جائے گا۔ لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ اتنی عجلت کے باوجود، اگر کسی موڑ پر دو یار مل جائیں، تو وقت وہیں تھم جاتا ہے۔ پھر وہیں سڑک کے کنارے کھڑے کھڑے چائے کے کئی دور چلیں گے، سیاست سے لے کر کرکٹ تک کے بخیے ادھڑے جائیں گے، اور وہ “ضروری کام” جس کے لیے وہ بھاگ رہے تھے، کہیں دور دھول میں اڑتا نظر آئے گا۔ یہ تضاد صرف پنڈی کا خاصہ ہے۔
پنڈی کے راستوں کی بھول بھلیاں بھی کمال ہیں۔ یہاں کی گلیوں کا اپنا ایک نقشہ ہے جو گوگل میپس کے بس کی بات نہیں۔ آپ اگر پنڈی کی کسی قدیم گلی میں داخل ہوں، تو وہاں پتہ پوچھنا ایک فن ہے۔ یہاں لوگ گھر نمبر نہیں بتاتے، وہ نشانیاں بتاتے ہیں۔ “وہ جو سامنے پیلے رنگ کی دکان ہے، اس سے ذرا آگے جا کر جہاں ایک کریانے کی دکان ہے، وہاں سے بائیں مڑ جانا، پھر جو تیسرا گیٹ آئے گا جسپرماشاء اللہ لکھا ہے، اس کے ساتھ والی گلی میں چلے جانا”۔ یہ نشانیاں پنڈی کی تاریخ اور جغرافیے کا وہ نچوڑ ہیں جو کسی سرکاری ریکارڈ میں درج نہیں۔ یہاں کا یار آپ کو کبھی راستے میں تنہا نہیں چھوڑے گا، چاہے اسے خود راستہ نہ معلوم ہو، وہ آپ کے ساتھ چل پڑے گا تاکہ آپ دونوں مل کر بھٹک سکیں۔
پنڈی کی خوراک اور اس کے ذائقے بھی ایک الگ کہانی سناتے ہیں۔ اسلام آباد میں لوگ “ڈائننگ ایکسپیرینس” کے لیے جاتے ہیں، پنڈی میں لوگ صرف “کھانے” کے لیے جاتے ہیں۔ کرتار پورہ کی گلیوں میں نہاری کی جو خوشبو صبح صادق بکھرتی ہے، وہ کسی بھی مہنگے پرفیوم سے زیادہ دلکش ہوتی ہے۔ پنڈی وال جب وہاں جاتا ہے، تو وہ ویٹر کو آرڈر نہیں دیتا، بلکہ اسے ایسے مخاطب کرتا ہے جیسے وہ اس کے بچپن کا لنگوٹیا یار ہو۔ “اوئے چھوٹے! ذرا نلی کا پیالہ لانا اور تری ذرا دبا کے ڈالنا”۔ یہ جو “دبا کے ڈالنا” ہے، یہی دراصل پنڈی کی سخاوت کا پیمانہ ہے۔ یہاں کھانے میں کنجوسی کو گناہ سمجھا جاتا ہے۔ آپ چاہے جتنے بھی ڈائٹ کانشس ہوں، پنڈی وال آپ کو ایسی منطق سنائے گا کہ آپ پراٹھوں کے سامنے ہتھیار ڈالنے پر مجبور ہو جائیں گے۔
اس شہر کی ایک اور انوکھی خوبی یہاں کی ٹریفک کی “جمہوریت” ہے۔ یہاں ویگن کا ڈرائیور خود کو جہاز کا پائلٹ سمجھتا ہے اور سوزوکی پک اپ والا اپنی گاڑی کو کسی بھی تنگ گلی میں ایسے گزار لیتا ہے جیسے سوئی میں دھاگہ ڈالا جا رہا ہو۔ پنڈی کے رکشے والے دنیا کے سب سے بڑے ماہرِ عمرانیات ہیں۔ وہ آپ کو کرائے پر بات کرتے کرتے ملک کے معاشی بحران کا حل بھی بتا دیں گے اور یہ بھی سمجھا دیں گے کہ اصل مسئلہ کیا ہے۔ یہاں کی ٹریفک میں ایک شور ہے، ایک ہنگامہ ہے، لیکن اس شور میں بھی ایک خاص قسم کی ہم آہنگی ہے۔ یہاں کوئی کسی کو راستہ نہیں دیتا، بلکہ راستہ “بنایا” جاتا ہے۔ پنڈی وال کبھی زندگی سے مایوس نہیں ہوتا، کیونکہ اسے معلوم ہے کہ اگر ایک گلی بند ہے تو وہ دوسری گلی سے نکل جائے گا۔
پنڈی کے لوگ اپنی “دبنگ” شخصیت کے لیے مشہور ہیں۔ یہاں کا لب و لہجہ، جسے “پنڈی بوائے” کے نام سے ایک خاص رنگ دے دیا گیا ہے، دراصل ایک خود اعتمادی کی علامت ہے۔ پنڈی وال جب اپنی پرانی موٹر سائیکل پر سوار ہوتا ہے، جس کا سائلنسر شاید پنڈی کی شورش کا مقابلہ کرنے کے لیے ہی بنایا گیا ہے، تو وہ خود کو کسی بادشاہ سے کم نہیں سمجھتا۔ اس کے لیے اسلام آباد کے بڑے بڑے بنگلے محض “ڈبے” ہیں جہاں زندگی قید ہے۔ وہ کہتا ہے، “بھائی جی! زندگی تو یہاں ہے، جہاں دیواریں چھوٹی اور دل بڑے ہیں”۔ اس کی یہ بات سن کر اکثر مجھے لگتا ہے کہ ہم نے ترقی کے نام پر جو خاموشی خریدی ہے، وہ شاید پنڈی کے اس شور سے زیادہ مہنگی پڑ رہی ہے۔
پنڈی کی شامیں بھی عجیب سحر انگیز ہوتی ہیں۔ ڈھوک رتہ ہو یا اصغر مال، ہر جگہ چھتوں پر پتنگوں کا ایک جال بسا ہوتا ہے۔ اگرچہ پابندیاں آتی جاتی رہتی ہیں، مگر پنڈی کے آسمان پر رنگ بکھیرنے کا جو جنون ہے، وہ کبھی کم نہیں ہوا۔ یہ شہر کبھی سوتا نہیں، یا شاید یہ کہنا بہتر ہوگا کہ یہ شہر کبھی تھکتا نہیں۔ رات کے دو بجے بھی آپ کو کسی کونے پر کوئی ایسا یار مل جائے گا جو تندوری روٹی اور چائے کے ساتھ زندگی کے فلسفے جھاڑ رہا ہوگا۔ پنڈی کی یہ زندہ دلی ہی اس کی وہ خوبی ہے جو اسے دنیا کے دیگر شہروں سے ممتاز کرتی ہے۔ یہاں غم کو بھی مذاق میں اڑا دینے کا فن پایا جاتا ہے۔
پنڈی وال کی سب سے بڑی خوبی اس کا وہ “رابطہ” ہے جو پورے شہر سے جڑا ہوا ہے۔ اسے معلوم ہے کہ شہر کے کس کونے میں سب سے بہترین چپل ملتی ہے اور کہاں سے سب سے سستا الیکٹرونکس کا سامان مل سکتا ہے۔ پنڈی میں ہر کام کے لیے ایک “بندہ” موجود ہوتا ہے۔ “فکر نہ کر، اپنا بندہ ہے وہاں”۔ یہ جملہ پنڈی کی وہ چابی ہے جو ہر بند تالے کو کھول دیتی ہے۔ یہ “اپنا بندہ” ہونا دراصل اس شہر کے سماجی تانے بانے کا وہ دھاگا ہے جو اجنبیوں کو بھی ایک دوسرے سے جوڑ دیتا ہے۔ پنڈی میں کوئی اجنبی نہیں ہوتا، بس تھوڑی دیر کی شناسائی چاہیے ہوتی ہے، جس کے بعد آپ بھی کسی نہ کسی کے “اپنے بندے” بن جاتے ہیں۔
پنڈی کی ایک اور کمال صفت اس کی وہ “برداشت” ہے جو کسی اور شہر کے حصے میں نہیں آئی۔ آپ اسلام آباد میں ذرا سی اونچی آواز میں بات کریں تو ہمسائے پولیس بلا لیتے ہیں، لیکن پنڈی میں اگر آپ کے گھر کے سامنے کوئی باراتی بینڈ بجا رہا ہو یا کوئی سیاسی جلوس گزر رہا ہو، تو گھر والے غصہ کرنے کے بجائے بالکونی میں آ کر یہ دیکھنے لگتے ہیں کہ دولہا نے سہرا کیسا پہنا ہے یا مقررِ خاص کی تقریر میں کتنا دم ہے۔ میرا یار کہتا ہے کہ پنڈی میں رازداری کا تصور ہی نہیں ہے، کیونکہ یہاں ہر بندہ دوسرے کے دکھ سکھ میں “بن بلائے” شامل ہونے کا پیدائشی حق رکھتا ہے۔ یہاں اگر آپ گلی میں پریشان کھڑے ہوں، تو چار اجنبی رک کر آپ سے یہ ضرور پوچھیں گے کہ “پائی جی! خیر تے اے نا؟” (بھائی صاحب! خیر تو ہے نا؟)۔ یہ جو ایک دوسرے کے معاملات میں مداخلت ہے، دراصل یہی وہ انسانی رشتہ ہے جو بڑے شہروں کی کنکریٹ کی دیواروں میں دفن ہو چکا ہے۔
میرا یار اکثر مجھے راجہ بازار کی ان تنگ گلیوں میں لے جاتا ہے جہاں تاریخ اور جدیدیت ایک دوسرے کے ساتھ گتھم گتھا ہیں۔ وہاں کی دکانیں اتنی چھوٹی ہیں کہ دکاندار خود باہر سٹول پر بیٹھا ہوتا ہے، لیکن اس کی دکان میں سوئی سے لے کر ہوائی جہاز کے پرزے تک سب مل جاتا ہے۔ پنڈی کی مارکیٹوں کی اپنی ایک منطق ہے۔ یہاں ریٹ وہ نہیں ہوتا جو لکھا ہے، بلکہ وہ ہوتا ہے جو آپ کی “خوبی ءبحث” طے کرتی ہے۔ میرا یار جب دکاندار سے بھاؤ تاؤ کرتا ہے، تو وہ ایک باقاعدہ فن پارہ ہوتا ہے۔ وہ دکاندار کو ایسے جتاتا ہے جیسے وہ اس کا پرانا گاہک نہ ہو بلکہ بچھڑا ہوا بھائی ہو، اور آخر میں دکاندار ہنس کر کہتا ہے، “جا یار ! تو وی یاد کی کریں گا”۔ یہ جو لین دین کے درمیان مسکراہٹ کا تبادلہ ہے، یہ صرف اسی مٹی کا خاصہ ہے۔
پنڈی کے “اڈوں” کی اپنی ایک ثقافت ہے۔ پیر ودھائی ہو یا فیض آباد، یہاں کی بسوں پر لکھے اشعار اور نقش و نگار دیکھ کر لگتا ہے کہ ہر بس ایک چلتا پھرتا آرٹ گیلری ہے۔ ان بسوں کے کنڈکٹر وہ جادوگر ہیں جو چلتی گاڑی سے لٹک کر نہ صرف سواریاں گن سکتے ہیں بلکہ بیک وقت چار مختلف زبانوں میں آوازیں بھی لگا سکتے ہیں۔ پنڈی کی ٹرانسپورٹ میں سفر کرنا ایک ایسا تجربہ ہے جس کے بعد آپ کو دنیا کا کوئی بھی خطرہ، خطرہ نہیں لگتا۔ میرا یار جب ویگن میں بیٹھتا ہے، تو وہ ڈرائیور سے بھی ایسے ہی گپ شپ لگاتا ہے جیسے وہ اسے برسوں سے جانتا ہو۔ پنڈی میں طبقہ بندی کا وہ احساس نہیں ملتا جو باقی شہروں میں نمایاں ہے۔ یہاں ایک مرسڈیز والا بھی اسی ٹھیلے سے گول گپے کھا رہا ہوتا ہے جہاں ایک مزدور کھڑا ہوتا ہے۔
اس شہر کی سب سے بڑی خوبی اس کا “کھلا پن” ہے۔ پنڈی کے لوگ دل کے صاف اور زبان کے کھرے ہوتے ہیں۔ یہاں منافقت کی گنجائش بہت کم ہے۔ اگر پنڈی وال کو آپ کی کوئی بات بری لگی ہے، تو وہ اسے کسی لگی لپٹی کے بغیر آپ کے منہ پر کہہ دے گا، اور اگر اسے آپ سے محبت ہے، تو وہ آپ کے لیے کسی سے بھی لڑنے کو تیار ہو جائے گا۔ میرے یار کی دوستی کا معیار بھی یہی ہے؛ وہ میرے منہ پر میری وہ وہ برائیاں کرتا ہے جو میرے دشمن بھی نہیں کر پاتے، لیکن پیٹھ پیچھے وہ میری وہ وہ خوبیاں بیان کرتا ہے جو مجھ میں ہیں بھی نہیں۔ پنڈی کی یاریاں موسموں کی محتاج نہیں ہوتیں، یہ وہ تناور درخت ہیں جن کی جڑیں مری روڈ کے نیچے دبی قدیم تہذیب میں پیوست ہیں۔
پنڈی کے تعلیمی اداروں اور وہاں کے “ہوسٹل لائف” کا تذکرہ کیے بغیر یہ کالم ادھورا ہے۔ گورنمنٹ کالج ہو یا اصغر مال کالج، یہاں سے نکلنے والے نوجوانوں میں ایک خاص قسم کی خود اعتمادی ہوتی ہے۔ وہ زندگی کے کٹھن حالات کا مقابلہ ہنستے ہوئے کرنے کے عادی ہوتے ہیں۔ میرے یار کا کہنا ہے کہ پنڈی نے ہمیں کتابوں سے زیادہ “سڑکوں” سے سکھایا ہے۔ یہاں کا بچہ جب گھر سے نکلتا ہے، تو اسے معلوم ہوتا ہے کہ اسے اپنا راستہ خود بنانا ہے۔ یہ شہر آپ کو سستی اور کاہلی کی اجازت نہیں دیتا۔ یہاں کی صبحیں ناشتے کی دکانوں پر شور سے شروع ہوتی ہیں اور راتیں قہوے کے کپوں پر سیاسی بحثوں پر ختم ہوتی ہیں۔
پنڈی کی ایک اور خصوصیت یہاں کا “فوجی پس منظر” ہے۔ شہر کے آدھے حصے میں کینٹ کی نظم و ضبط والی زندگی ہے اور باقی آدھے میں شہر کا اپنا بے لگام حسن۔ یہ دونوں متضاد دنیائیں ایک دوسرے کے ساتھ ایسے جڑی ہوئی ہیں کہ پنڈی کا مزاج ان دونوں کا حسین امتزاج بن گیا ہے۔ ایک طرف ڈسپلن ہے تو دوسری طرف موج مستی۔ میرا یار کہتا ہے کہ پنڈی وہ واحد شہر ہے جہاں آپ ایک سڑک پار کریں تو آپ ایک مختلف ملک میں پہنچ جاتے ہیں۔ کینٹ کی صفائی ستھرائی اور شہر کی “رنگین بے ترتیبی” مل کر ایک ایسا کینوس بناتی ہیں جو دیکھنے والے کو حیران کر دیتا ہے۔ یہاں کی سڑکوں پر ریٹائرڈ فوجیوں کی رعب دار شخصیت اور نوجوانوں کی شوخی ساتھ ساتھ چلتی ہے۔
کالم ختم کرتے ہوئے میں یہ کہوں گا کہ پنڈی کی اصل خوبصورتی اس کی سڑکوں، عمارتوں یا پارکوں میں نہیں، بلکہ ان لوگوں میں ہے جو اسے “زندہ” رکھتے ہیں۔ وہ یار جو آدھی رات کو بھی آپ کی ایک کال پر بائیک سٹارٹ کر کے پہنچ جاتا ہے، وہ دکاندار جو پیسے کم ہونے پر بھی سودا دے دیتا ہے، اور وہ بوڑھا جو بینچ پر بیٹھ کر اجنبیوں کو ماضی کے قصے سناتا ہے۔ پنڈی ایک احساس کا نام ہے، ایک ایسی خوشبو کا نام ہے جو آپ کے کپڑوں سے نہیں، آپ کی روح سے لپٹ جاتی ہے۔ میرا یار اکثر کہتا ہے، “اسلام آباد وہ شہر ہے جہاں لوگ رہتے ہیں، لیکن پنڈی وہ شہر ہے جہاں زندگی بستی ہے”۔
پنڈی وال ہونا ایک اعزاز ہے، کیونکہ یہ شہر آپ کو سکھاتا ہے کہ زندگی کو کیسے اس کے تمام تر رنگوں، تلخیوں اور مٹھاس کے ساتھ قبول کرنا ہے۔ میرا یار پنڈی دا، اس کا لہجہ، اس کی بے تکلفی اور اس کا شہر، یہ سب مل کر پاکستان کی اس عوامی ثقافت کا استعارہ ہیں جس پر ہمیں فخر ہونا چاہیے۔ سچ تو یہ ہے کہ جس نے پنڈی نہیں دیکھا، اس نے زندگی کا وہ اصل رخ ہی نہیں دیکھا جہاں انسان، انسان کے لیے دھڑکتا ہے۔
میرا یار پنڈی دا

Leave a Reply