پاکستانی شکایت جائز، افغانستان کی خودمختاری کا بھی احترام ضروری:فضل الرحمن مذاکرات ہی حل :محمود اچکزئی، پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس بلایا جائے :حافظ نعیم دعائیں فورسزکیساتھ:بیرسٹرگوہر، عوام کو تنہا نہیں چھوڑیں گے :سہیل آفریدی آپریشن غضب للحق کا آغاز فیصلہ کن اقدام :بلاول، حمزہ ،عبدالعلیم ، اورنگزیب پاک فوج نے پیشہ وارانہ مہارت کا مظاہرہ کیا :محمد احمد،مریم اورنگزیب ودیگر
لاہور، اسلام آباد:سیاسی رہنماؤں نے افغانستان کی بلااشتعال جارحیت کی مذمت کرتے ہوئے اپنے الگ الگ بیانات میں آپریشن غضب للحق پر افواج پاکستان سے اظہار یکجہتی کرتے ہوئے کہا ہے کہ افغان حملہ کھلی جارحیت،پاک فوج نے بروقت اور مؤثر جواب دیا ،کابل رجیم کی غلط حکمت عملی نے پاکستان کو جوابی کارروائی پر مجبور کیا، پوری قوم اپنے محافظوں کے ساتھ سیسہ پلائی دیوار کی مانند کھڑی ہے ۔جے یو آئی کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے پاک افغان سرحدی کشیدگی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کی سکیورٹی سے متعلق شکایات جائز ہیں، تاہم افغانستان کی خودمختاری اور داخلی مشکلات کا بھی احترام ضروری ہے ۔جذباتی رویے دونوں ممالک کے لیے پیچیدگیوں میں اضافہ کر رہے ہیں، یکطرفہ عسکری مہم جوئی مسئلے کا حل نہیں بلکہ مزید پیچیدگی پیدا کرے گی، مسئلے کا پائیدار حل صرف سفارتی مہم جوئی کے ذریعے تلاش کیا جا سکتا ہے ، قومی اسمبلی میں قائدِ حزبِ اختلاف محمود خان اچکزئی نے کہا کہ ہمسایہ ممالک سے لڑائیاں ہمیشہ خطرناک ثابت ہوتی ہیں۔ ہمیں ‘‘جیو اور جینے دو’’ کے اصول پر کاربند رہتے ہوئے کوشش کرنی چاہیے کہ ہمارے اور ہمسایوں کے تعلقات مزید خراب نہ ہوں ۔ مذاکرات ہی مسائل کا حل ہیں ۔پاکستان اور افغانستان کے تعلقات اس نہج پر نہیں پہنچے کہ انہیں دوبارہ امن کی طرف نہ لایا جا سکے ۔پی پی چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے نوڈیرو ہاؤس میں گفتگو کرتے ہوئے آپریشن غضب للحق پر پاک فوج کو خراجِ تحسین پیش کیا اورکہا کہ پاکستان تصادم کا خواہاں نہیں، لیکن اگر ملک کو للکارا گیا تو دشمن کو منہ توڑ جواب دیا جائے گا۔ افغانستان کی موجودہ حکومت بھارت کی پراکسی بن کر خطے کو عدم استحکام سے دوچار کرنا بند کرے ۔کابل رجیم کی غلط حکمت عملی نے پاکستان کو جوابی کارروائی پر مجبور کیا۔ چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر نے ایکس پر اپنے پیغام میں کہا کہ اللہ پاکستان کو ہمیشہ محفوظ رکھے ، ہر دشمن کو انجام تک پہنچائیں گے ۔ سکیورٹی فورسز ان شا اللہ قوم کی دعاؤں سے اپنے ملک کا دفاع کریں گی ، ہماری دعائیں اور حمایت انکے ساتھ ہے ۔ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے کشیدگی کو تشویشناک قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ صوبائی حکومت صورتحال کا بغور جائزہ لے رہی ہے اور متعلقہ اداروں سے مسلسل رابطے میں ہے ۔ پاکستان کے ایک ایک انچ کی حفاظت ہم سب کا قومی فریضہ ہے اور کسی کو بھی سرحدی علاقوں کی سلامتی پر سمجھو تانہیں کرنے دیا جائے گا، پاک افغان سرحد پر کسی بھی قسم کی اشتعال انگیزی اور بیرونی جارحیت کی بھرپور مذمت کرتے ہیں، قومی سلامتی پر کوئی سمجھوتا نہیں ہوگا، سرحدی علاقوں کے عوام کو کسی صورت تنہا نہیں چھوڑا جائے گا۔ امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ طالبان کو سمجھنا ہوگا کہ بھارت ان کا حقیقی دوست نہیں ہو سکتا ، پاکستان و افغانستان کے درمیان کشیدگی کسی کے بھی مفاد میں نہیں۔ حکومتِ پاکستان کی جانب سے اس نازک موقع پر قومی مشاورت سے گریز ناقابلِ فہم ہے ۔
کابل رجیم نے پاکستان کو جوابی کارروائی پر مجبور کیا:سیاسی رہنما

Leave a Reply