Deprecated: Creation of dynamic property EPS_Redirects_Plugin::$settings is deprecated in /home2/sangemee/public_html/wp-content/plugins/eps-301-redirects/plugin.php on line 55

Warning: Cannot modify header information - headers already sent by (output started at /home2/sangemee/public_html/wp-content/plugins/eps-301-redirects/plugin.php:55) in /home2/sangemee/public_html/wp-content/themes/twentytwentyfive/functions.php on line 296
Qamar Abbas – Page 1717 – Sange Meel News: Latest news, breaking news, Pakistan

Author: Qamar Abbas

  • سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد پارٹی پوزیشن تبدیل،حکمران اتحاد کی دوتہائی اکثریت چھن گئی.

    سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد پارٹی پوزیشن تبدیل،حکمران اتحاد کی دوتہائی اکثریت چھن گئی.

    (سنگ میل نیوز )مخصوص نشستوں سے متعلق فیصلے کے بعد قومی اسمبلی میں پارٹی پوزیشن تبدیل ،

    پاکستان تحریک انصاف کے ارکان کی تعداد 84 سے بڑھ کر 106تک پہنچ جائے گی ،اپوزیشن اتحاد کی تعداد 125 تک پہنچ جائے گی ،

    جبکہ اپوزیشن اتحاد میں پی ٹی آئی کے ساتھ پختونخوا میپ، ایم ڈبلیو ایم شامل ہیں ۔جے یو آئی، بی این پی بھی اپوزیشن اتحادکا حصہ ہیں۔

    سپریم کورٹ کے فیصلے سے وفاق میں حکمران اتحاد کی دو تہائی اکثریت برقرار نہیں رہ سکے گی ۔سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد حکومت کے پاس تاحال 210 ارکان ہیں ۔

    اپوزیشن بینچوں کی تعداد دو درجن کے قریب بڑھ جائے گی ،اپوزیشن اتحاد میں ایک مرتبہ پاکستان تحریک انصاف بطور پارٹی شامل ہوجائے گی ۔

    ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت کو مستقبل میں قانون سازی خصوصاََ آئینی ترمیم میں بڑی رکاوٹ کھڑی ہوگی۔

    پارلیمانی ذرائع کا کہنا ہے آئینی ترمیم کیلئے حکمران اتحاد کیلئے دو تہائی اکثریت لازم درکار تھی،شہباز حکومت کو مستقبل میں قومی اسمبلی میں ایوان چلانا بھی مشکل ہوگا،

    حکمران اتحاد میں مسلم لیگ نون 108، پیپلز پارٹی 68، متحدہ قومی موومنٹ پاکستان 22، مسلم لیگ ق 5، آئی پی پی کی 4 نشستیں ہیں۔قومی اسمبلی میں بلوچستان عوامی پارٹی،

    مسلم لیگ ضیا اور نیشنل پارٹی کا ایک ایک رکن ہے۔ ضرورپڑھیں:پی ٹی آئی مخصوص نشستوں کیلئے اہل قرار ،

    مخصوص نشستوں سے متعلق سپریم کورٹ نےفیصلہ سنادیا اپوزیشن اتحاد میں سنی اتحاد کونسل کے 84، تحریک انصاف کے حمایت یافتہ آزاد 8،

    یہ بھی پرھیں: عدت نکاح کیس, عمران خان اور بشریٰ بی بی کی مرکزی اپیلوں پر سماعت ملتوی

    جے یو آئی کے 8 ارکان ہیں، بی این پی ایک، ایم ڈبلیو ایم ایک پختون خواہ ملی عوامی پارٹی کا ایک رکن ہے،اس وقت 22 مخصوص نشستوں پر رکنیت معطل ہے ۔

    یاد رہے کہ سپریم کورٹ کی طرف سے پشاور ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دیا گیا ہے،عدالت عظمیٰ کے فیصلے میں پی ٹی آئی کو بطور پارلیمانی پارٹی تسلیم کیا گیا ہے۔

  • عدت نکاح کیس, عمران خان اور بشریٰ بی بی کی مرکزی اپیلوں پر سماعت ملتوی

    عدت نکاح کیس, عمران خان اور بشریٰ بی بی کی مرکزی اپیلوں پر سماعت ملتوی

    (سنگ میل نیوز)اسلام آباد کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن عدالت نے سابق وزیر اعظم عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کیخلاف عدت نکاح کیس پر سماعت کل تک ملتوی کردی۔ پی ٹی کے بانی عمران خان اور بشریٰ بی بی کیخلاف دوران عدت نکاح کیس میں سزا کے خلاف مرکزی اپیلوں پر سماعت ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج محمد افضل مجوکا نے کی،خاور مانیکا کے وکیل زاہد آصف نے اپنے دلائل کا آغاز کرتے ہوئے عدالت کو بتایا

    کہ اعلیٰ عدلیہ کے ججز کی توہین پر نوٹس ہوجاتا ہے تو ماتحت عدالتوں کے ججز کی توہین پر نوٹس کیوں نہیں ہوتا؟ دورانِ سماعت وکیل خاور مانیکا نے سابق امریکی صدر بل کلنٹن کا ذکر بھی کیا،انہوں نے کہا کہ عمران خان کی جانب سے قوم سے معافی مانگی جاتی تو شکایت کنندہ خاور مانیکا بھی معاف کرسکتے ہیں، اس عدالت نے دیکھنا کہ شکایت تاخیر سے جان بوجھ کر درج کرائی گئی یا نہیں؟

    قانون میں کوئی قدغن نہیں کہ شکایت کتنے عرصے بعد درج کرائی گئی۔ وکیل نے دریافت کیا کہ کیا وراثت کا کیس 100 سال بعد نہیں سنا جاسکتا ہے ؟،انہوں نے مزید کہا کہ دوسری طرف سے عدت کے حوالے سے بیان کے ویڈیو کلپ پر دلائل دیے گئے، آج یہ یکم جنوری والے نکاح کو تسلیم کرتے ہیں اس سے پہلے اس سے انکار کرتے رہے ، خاور مانیکا کا کلپ چلایا گیا کہ وہ بشریٰ بی بی کی بڑی تعریفیں کررہے ہیں۔

    خاور مانیکا کے وکیل نے عدالت میں خاور مانیکا کا ویڈیو بیان چلانے کی استدعا کردی جس پرخاور مانیکا کے ساتھ ساتھ ان کے صاحبزادے کا ویڈیو بیان عدالت کے سامنے چلایا گیا۔ بعد ازاں وکیل نے بتایا کہ عمران خان اور خاور مانیکا کے صاحبزادے نے یکم جنوری کے نکاح سے انکار کیا تھا، خاور مانیکا کے وکیل نے پی ٹی آئی کا تردیدی آفیشل لیٹر عدالت کے سامنے بھی پیش کردیا،

    اس پر جج افضل مجوکا نے ریمارکس دیئے کہ ٹرائل کورٹ میں جب خاور مانیکا کا بیان ہوا تب یہ دستاویزات پیش کی گئیں تھی؟ وکیل زاہد آصف نے کہا کہ نہیں، اس وقت نہیں پیش کیا گیا ، ٹرائل کورٹ کے سامنے خاور مانیکا کا بیان چلایا گیا مگر ان کے صاحبزادے کا بیان نہیں چلایا گیا۔ جج نے مزید دریافت کیا کہ آپ کا گواہ تو کہتا ہے مجھے دوسرے دن ہی شادی کا پتا لگ گیا تھا،

    پی ٹی آئی مخصوص نشستوں کیلئے اہل قرار ،مخصوص نشستوں سے متعلق سپریم کورٹ نےفیصلہ سنادیا

    آپ لوگ طلاق کو تو مانتے ہیں نا؟ آپ دونوں حنفی کے پیروکار ہیں ، اور حنفی میں تین طلاق کے بعد رجوع کا حق ختم ہوجاتا ہے۔ وکیل خاور مانیکا نے کہا کہ شکایت میں پتا لگا کہ عدت میں نکاح کیا گیا ، جج نے ریمارکس دیے کہ فقے کے نظریات کو کورٹ میں چیلنج نہیں کیا جاسکتا ہے، یہ فقہ حنفیہ سے ہیں اور اس کے مطابق طلاق ہوگئی ہے تو عدت کا کیس تو بنتا ہی نہیں ہے۔

    وکیل خاور مانیکا نے مزید بتایا کہ ان کے مطابق اگر شکایت کنندہ نے کسی پریشر میں شکایت درج کروائی ہے تو ان کو ثابت کرنا ہوگا ، میرے خلاف ایک مقدمہ درج ہوا اس کے بعد ضمانت ہوئی تو میں رہا ہوگیا ، ثابت کیسے ہوا کہ میں دباؤ میں تھا؟ اسلام آباد ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر گزشتہ رات ایک ٹاک شو میں بیٹھے ہوئے کچھ بول رہے تھے لگتا ہے ریاست علی آزاد ایڈووکیٹ بھی سوشل میڈیا ایکٹوسٹ سے متاثر ہوگئے ہیں۔

    خاور مانیکا کے وکیل کی جانب سے ٹرائل کورٹ کے دوران دکھائے گئے ویڈیو کلپ کے حوالے سے دلائل جاری دیتے ہوئے کہا کہ اگر گواہ کا بیان پولیس کی جانب سے ریکارڈ کیا گیا ہو تب اس پر پوچھا جا سکتا تھا کہ یہ ویڈیو آپ کی ہے۔ اس پر جج افضل مجوکا نے بتایا کہ گواہوں کے بیان کے بعد جرح کے دوران گواہ سے یہ نہیں پوچھا جا سکتا کہ آپ نے یہ کہا ہے۔

    بعد ازاں بشری بی بی کے وکیل عثمان ریاض گل نے کہا کہ جرح کے دوران کوئی دستاویزات پروڈیوس ہوتی ہیں تو اس پر گواہ سے سوال پوچھا جا سکتا ہے اور انہوں نے عدالتی فیصلے کا حوالہ دیا۔ خاور مانیکا کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ ایسے دستاویزات کو لیگل ڈاکومنٹس کا حصہ نہیں بنایا جا سکتا ، ویڈیو ثبوت پیش کرنے کے لیے فرانزک کنفرنٹ کرانے سمیت 21 پوائنٹس زیر غور آتے ہیں ،

    میں اس کیس میں دوسری شکایت کے قابل سماعت ہونے پر دلائل دوں گا، روزانہ کی بنیاد پر ٹرائل کرنے کے فیصلے کے بعد ٹرائل 24 دن میں مکمل ہوا اس پر وکیل پی ٹی آئی عمران صابر نے دریافت کیا کہ ایک سوال ہے کہ کیا جلدی ٹرائل رات کے وقت بھی ہوسکتا ہے ؟ وکیل زاہد آصف نے کہا کہ یہ عدالت کی صوابدید ہے کہ وہ جس وقت بھی ٹرائل کرنا چاہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ 2 گواہ بانی پی ٹی آئی کے اپنے بندے تھے ، عون چوہدری بانی پی ٹی آئی کے پرسنل سیکریٹری تھے اور مفتی سعید پی ٹی آئی کے کور کمیٹی کے رکن تھے۔ وکیل نے بتایا کہ آج اتنے کافی ،میں اپنے دلائل کل مکمل کرلوں گا ، کل 3 سے چار گھنٹے لوں گا دلائل مکمل کرنے کے لیے، میں کل عدت اور کچھ ججمنٹس پر دلائل دوں گا۔ اس پر پی ٹی آئی کے وکیل عثمان ریاض گل نے کہا کہ اگر ممکن ہو تو یہ اپنے پوائنٹس بتا دیں،

    ہم اس پر جواب الجواب آج دے دیتے ہیں یہ کل دلائل مکمل کرلیں گے، کیس کی پراسکیوشن کے لیے ہمارے پاس دو آپشن تھے کہ دستاویزات یا زبانی طور پر ثابت کرسکیں۔ بعد ازاں عدالت نے کیس کی سماعت کل صبح ساڑھے 8 بجے تک ملتوی کردی۔ یادرہے کہ گزشتہ روز اسلام آباد کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن عدالت نے سابق وزیر اعظم عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کی سزا کے خلاف مرکزی اپیلوں پر سماعت ملتوی کردی تھی۔

  • پی ٹی آئی مخصوص نشستوں کیلئے اہل قرار ،مخصوص نشستوں سے متعلق سپریم کورٹ نےفیصلہ سنادیا

    پی ٹی آئی مخصوص نشستوں کیلئے اہل قرار ،مخصوص نشستوں سے متعلق سپریم کورٹ نےفیصلہ سنادیا

    (سنگ میل نیوز )انتخابی نشان واپس لینا سیاسی جماعت کو انتخابات سے باہر نہیں کرسکتا،الیکشن کمیشن نے سپریم کورٹ کے فیصلے کی غلط تشریح کی،پی ٹی آئی ایک سیاسی جماعت تھی اور ہے،عدالت کا پی ٹی آئی کو 15 روز میں لسٹیں جمع کرانے کا حکم دیدیا

    پی ٹی آئی مخصوص نشستوں کیلئے اہل قرار، سپریم کورٹ نے 5-8 کے تناسب سے فیصلہ سنادیا، سپریم کورٹ نے پشاور ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دیدیا،

    الیکشن کمیشن کا فیصلہ بھی کالعدم قرار، مخصوص نشستوں کانوٹیفکیشن کینسل کردیا، سپریم کورٹ نے فیصلے میں کہا ہے کہ انتخابی نشان واپس لینا سیاسی جماعت کو انتخابات سے باہر نہیں کرسکتا،

    الیکشن کمیشن نے سپریم کورٹ کے فیصلے کی غلط تشریح کی،پی ٹی آئی ایک سیاسی جماعت تھی اور ہے،عدالت کا پی ٹی آئی کو 15 روز میں لسٹیں جمع کرانے کا حکم دیدیا۔

    جمعہ کے روز سنی اتحاد کونسل کی مخصوص نشستوں کے متعلق کیس کی سماعت شروع ہوئی تو چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے جسٹس منصور علی شاہ کو فیصلہ پڑھنے کی ہدایت کی ،

    جسٹس منصور علی شاہ نے فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ یہ اکثریتی فیصلہ ہے،سپریم کورٹ نے پشاور ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم قراردیا، الیکشن کمیشن کا فیصلہ بھی کالعدم قرار دے دیا گیا،

    الیکشن کمیشن کا مخصوص نشستوں سے متعلق نوٹیفکیشن بھی کالعدم قرار دے دیا گیا،سپریم کورٹ نے فیصلے میں کہا ہے کہ انتخابی نشان واپس لینا سیاسی جماعت کو انتخابات سے باہر نہیں کر سکتا،

    الیکشن کمیشن نے سپریم کورٹ کے فیصلے کی غلط تشریح کی۔ فیصلے میں کہا گیا ہے کہ پی ٹی آئی ایک سیاسی جماعت تھی اور ہے،80 آزاد ارکان میں سے 41 تحریک انصاف کے تھے،

    عدالت کا پی ٹی آئی کو 15 روز میں لسٹیں جمع کرانے کا حکم دیدیا ہے۔عدالت نے حکم دیا ہے کہ پی ٹی آئی میں شامل ہونے کے بعد آزاد ارکان کے حساب سے مخصوص نشستیں دی جائیں۔

    سنی اتحاد کونسل نے انتخابات میں حصہ نہیں لیا،مخصوص نشستوں کیلئے اہل نہیں:جسٹس یحیی آفریدی جسٹس یحیی آفریدی نے الگ سے مختصر فیصلہ تحریر کیا، جسٹس یحیی آفریدی نے فیصلے میں لکھا

    کہ سنی اتحاد کونسل نے انتخابات میں حصہ نہیں لیا،مخصوص نشستوں کیلئے اہل نہیں،مخصوص نشستیں سنی اتحاد کونسل کے بجائے پی ٹی آئی کو دی جائیں،دیگر جماعتوں میں شامل ہونے والوں نے ووٹرز کو دھوکہ دیا،

    سنی اتحاد کونسل کی مخصوص نشستوں سے متعلق اپیلیں مسترد کی جاتی ہیں۔ جسٹس امین الدین خان اور جسٹس نعیم اختر افغان نے پشاور ہائیکورٹ کا فیصلہ برقرار رکھا،

    جسٹس امین الدین اور جسٹس نعیم اختر افغان نے سنی اتحاد کونسل کی اپیلیں مسترد کر دیں، چیف جسٹس نے ریمارکس دئیےکہ میں نے اور جسٹس جمال مندوخیل نے ایک جیسا فیصلہ دیا ،

    چیف جسٹس اور جسٹس جمال مندوخیل نے الیکشن کمیشن کا فیصلہ برقرار رکھا، سپریم کورٹ کے چار ججز نے پشاور ہائیکورٹ کا فیصلہ برقرار رکھا۔چیف جسٹس اور جسٹس جمال مندوخیل نے فیصلہ دیا

    کہ سنی اتحاد کونسل کے امیدواروں کی مخصوص نشستیں خالی تصور ہوں گی ۔ یاد رہے کہ گزشتہ روز سپریم کورٹ کی جانب سے سنی اتحاد کونسل کی مخصوص نشستوں سے متعلق کیس کی کاز لسٹ جاری کی گئی تھی

    جس میں بتایا گیا تھا کہ کیس کا فیصلہ 12 جولائی کی صبح 9 بجے سنایا جائے گا تاہم بعد میں فیصلہ سنانے کا وقت تبدیل کر کے دوپہر 12 بجے رکھ دیا گیا تھا۔

    چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں 13 رکنی بینچ نے سنی اتحاد کونسل کی مخصوص نشستوں سے متعلق درخواست پر 3 روز قبل فیصلہ محفوظ کیا تھا۔

    سپریم کورٹ کے باہرسکیورٹی ہائی الرٹ کردی گئی ،پولیس کی اضافی نفری تعینات کر دی گئی ، سپریم کورٹ کے باہر قیدیوں کی وین بھی منگوا لی گئی ۔ کیس میں کب کیا ہوا؟

    سنی اتحاد کونسل نے مخصوص نشستوں کے حصول کیلئے 21 فروری کو الیکشن کمیشن میں درخواست دائر کی،28 فروری کو الیکشن کمیشن نے سنی اتحاد کونسل کی مخصوص نشستوں سے متعلق کیس پر فیصلہ محفوظ کیا،

    4 مارچ کو الیکشن کمیشن نے سنی اتحاد کونسل کی مخصوص نشستوں کی درخواست پر 1-4 کے تناسب سے فیصلہ سنایا۔

    6 مارچ کو سنی اتحاد کونسل نے مخصوص نشستوں کیلئے پشاور ہائیکورٹ سے رجوع کیا،14 مارچ کو پشاور ہائیکورٹ نے سنی اتحاد کونسل کی مخصوص نشستوں کیلئے دائر درخواستیں خارج کر دیں،

    پشاور ہائیکورٹ کے 5 رکنی لارجر بنچ نےمتفقہ طور پر سنی اتحاد کونسل کی مخصوص نشستیں نہ ملنے کے خلاف درخواست کو مسترد کیا،2 اپریل کو مخصوص نشتوں کیلئے سنی اتحاد کونسل نے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی۔

    6 مئی کو جسٹس منصور علی شاہ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے پشاور ہائیکورٹ اور الیکشن کمیشن کا فیصلہ معطل کر دیا،تین رکنی بینچ نے آئینی معاملہ ہونے کے باعث لارجر بینچ کی تشکیل کیلئے معاملہ ججز کمیٹی کو بھیج دیا۔

    31 مئی کو سنی اتحاد کونسل کی مخصوص نشستوں کے کیس کی سماعت کیلئے فل کورٹ تشکیل دیا گیا،فل کورٹ نے 3 جون کو سنی اتحاد کونسل کی مخصوص نشستوں سے متعلق کیس کی پہلی سماعت کی

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسی کی سربراہی میں فل کورٹ نے 9 سماعتوں کے بعد 9 جولائی کو فیصلہ محفوظ کیا تھا۔

  • عدالتی فیصلہ تاریخ میں یاد رکھا جائے گا، ہمارا حق ہمیں مل گیا :بیرسٹر گوہر خان…

    عدالتی فیصلہ تاریخ میں یاد رکھا جائے گا، ہمارا حق ہمیں مل گیا :بیرسٹر گوہر خان…

    (سنگ میل نیوز)چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر خان نےکہاہے کہ امید ہے ہمیں ہماری سیٹیں ملیں گی،ہماری سیٹیں جمہوریت کو مضبوط کریں گی۔

    سپریم کورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر خان نے کہاکہ عوام کے انتظار کی گھڑیاں ختم ہونے والی ہیں،

    سپریم کورٹ سے امید لگائے بیٹھے ہیں،یہ25کروڑ عوام کے بنیادی حقوق کا مسئلہ ہے،بیرسٹر گوہر خان نے کہاکہ امید ہے ہمیں ہماری سیٹیں ملیں گی،ہماری سیٹیں جمہوریت کو مضبوط کریں گی۔

    بیرسٹرگوہر نے کہا ہے کہ سپریم کورٹ کے فل کورٹ نے پاکستان تحریک انصاف کے مخصوص نشستوں پر انصاف پر فیصلہ دیا ہے ،

    آج پورے ملک اور 25 کروڑ عوام کیلئے خوشی کا دن ہے ، آپ نوافل ادا کریں، اللہ کا شکر ادا کریں۔ پی ٹی آئی مخصوص نشستوں کیلئے اہل قرار ،مخصوص نشستوں سے متعلق سپریم کورٹ نےفیصلہ سنادیا

    بیرسٹر گوہر نے سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد رد عمل دیتے ہوئے کہا کہ یہ فیصلہ تاریخ میں یاد رکھا جائے گا،

    ہمارا حق ہمیں مل گیا ، یہ وہی حق تھا جس کیلئے ہم کہتے رہے کہ تحریک انصاف کے حق پر ڈاکہ ڈالا جارہاہے ،

    8 اور 5 تناسب سے پاکستان کو تحریک انصا ف کو سیٹیں ملیں گی ، پی ٹی آئی دوبارہ بحال ہو گئی ہے ،

    ہم کمیشن سے مطالبہ کرتے ہیں سپریم کورٹ کے احکامات پر فوری عملدرآمد کیا جائے ، الیکشن کمیشن ہمارے انٹر ا پارٹی کا سرٹیفکیٹ اسی ہفتے میں جاری کرے

  • سپریم کورٹ کا مخصوص نشیستیں   پی ٹی آئی کو دینے کا فیصلہ…

    سپریم کورٹ کا مخصوص نشیستیں پی ٹی آئی کو دینے کا فیصلہ…

    (سنگ میل نیوز ) پی ٹی آئی کی خواتیں، مخصوص نشستوں کیلیے 15 دن کے اند ر درخواست دے.

    سپریم کورٹ نے 8 کے مقابلے میں 5 کے تنا سب سے فیصلہ سنایا ہے.

    چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں عدالت عظمیٰ کے 13 رکنی لارجر بینچ نے سنی اتحاد کونسل کی مخصوص نشستوں کے حوالے سے کیس کا فیصلہ محفوظ کیا تھا، جسے جسٹس منصور علی شاہ نے سنایا۔

    اٹارنی جنرل منصور اعوان، الیکشن کمیشن کے وکیل سکندر بشیر اور پی ٹی آئی رہنماؤں کی موجودگی میں سپریم کورٹ کے کمرہ نمبر ایک میں فیصلہ سنایا گیا ہے،

    جس میں عدالت نے 13مئی کا الیکشن کمیشن کا نوٹیفکیشن غیر آئینی قرار دے دیا۔ سپریم کورٹ کے اکثریتی فیصلے میں کہا گیا ہے کہ انتخابی نشان سے محروم رکھ کر کسی پارٹی کو انتخابی عمل سے محروم نہیں کیا جاسکتا۔

    سپریم کورٹ نے اکثریتی فیصلے میں قرار دیا کہ پی ٹی آئی ایک سیاسی جماعت ہے۔ پی ٹی آئی خواتین اور اقلیتی نشستوں کی حقدار ہے۔

    27جون کو الیکشن کمیشن نے ایک آرڈر پیش کیا، اس دستاویز میں کہا گیا کہ کچھ کاغذات نامزدگی ایسے تھے جن کی پارٹی وابستگی تھی۔ 80میں سے 40 افراد 15 دنوں میں طے کریں کہ کس جماعت سے تعلق رکھنا ہے۔

    سپریم کورٹ نے فیصلے میں کہا کہ قومی اور صوبائی اسمبلی کے منتخب اراکین تحریک انصاف کا حلف نامہ جمع کرائیں۔

    الیکشن کمیشن کا فیصلہ آئین کے خلاف ہے۔ انتخابی نشان سے محرومی کسی جماعت کا الیکشن میں حصہ لینے کا حق ختم نہیں کرتی۔

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ، جسٹس جمال مندوخیل، جسٹس نعیم افغان، جسٹس امین الدین خان نے اکثریتی فیصلے کی مخالفت کی۔

    جسٹس یحییٰ آفریدی نے اپنے اختلافی نوٹ میں کہا کہ وہ امیدوار جنہوں نے سرٹیفکیٹ دیے ہیں کہ وہ پی ٹی آئی سے ہیں انہیں پی ٹی آئی کے امیدوار قرار دیا جائے۔

    پی ٹی آئی کو اسی تناسب سے مخصوص نشستیں دی جائیں۔ وہ امیدوار جنہوں نے دوسری پارٹیاں جوائن کیں انہوں نے عوام کی خواہش کی خلاف ورزی کی۔

    اختلافی نوٹ میں مزید کہا گیا کہ الیکشن کمیشن صوبوں اور قومی اسمبلی کی مخصوص نشستوں کا دوبارہ جائزہ لے۔

    جسٹس امین الدین خان نے اپنے اختلافی نوٹ میں کہا کہ سنی اتحاد کونسل کی اپیل مسترد کرتے ہیں۔ جسٹس نعیم افغان نے کہا کہ میں بھی جسٹس امین الدین خان کے اختلافی نوٹ سے اتفاق کرتا ہوں۔

    چیف جسٹس اور جسٹس جمال خان مندوخیل نے اختلافی نوٹ میں کہا کہ سنی اتحاد کونسل کوئی ایک نشست بھی نہ جیت سکی۔ سنی اتحاد کونسل نے مخصوص نشستوں کی لسٹ بھی جمع نہیں کرائی۔ آئین نے متناسب نمائندگی کا تصور دیا ہے۔

    فیصلہ سنائے جانے کے موقع پر پاکستان تحریک انصاف کے رہنماؤں نے سپریم کورٹ کے احاطے میں نعرے بازی کی جب کہ کمرہ عدالت میں موجود تمام افراد کھڑے ہو کر فیصلہ سنتے رہے۔

    یاد رہے کہ فیصلہ محفوظ ہونے کے بعد جمعرات کے روز چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی زیر صدارت 13 رکنی ججز کا مشاورتی اجلاس ہوا،

    تھا جبکہ بدھ کے روز بھی تقریباً ایک گھنٹے سے زائد وقت تک مشاورتی اجلاس جاری رہا تھا۔

    28فروری 2024کو چیف الیکشن کمشنر کی سربراہی میں 5 رکنی بینچ نے متفقہ تحریری فیصلہ جاری کرتے ہوئے قرار دیا تھا کہ سنی اتحاد کونسل مخصوص نشستوں کی حقدار نہیں،

    4 ممبران نے نشستیں دیگر سیاسی جماعتوں کو دینے کا فیصلہ دیا تاہم ممبر پنجاب بابر حسن بھروانہ نے اختلافی نوٹ میں کہا کہ آرٹیکل 51اور 106میں ترمیم تک نشستیں دیگر سیاسی جماعتوں میں بانٹے کے بجائے خالی رکھی جائیں۔

    سنی اتحاد کونسل نے الیکشن کمیشن کے فیصلے کو پشاورہائیکورٹ میں چیلنج کیا۔ مارچ میں پشاور ہائیکورٹ کے 5 رکنی لارجر بینچ نے الیکشن کمیشن کے فیصلے کو برقرار رکھتے ہوئے سنی اتحاد کونسل کی اپیل خارج کردی۔

    بعد ازاں مئی میں معاملہ سپریم کورٹ پہنچا جہاں جسٹس منصور علی شاہ کی سربراہی میں جسٹس اطہر من اللہ اور جسٹس محمد علی مظہر پر مشتمل 3 رکنی بنچ نے 6مئی2024کو پہلی سماعت میں ہی پشاور ہائیکورٹ اور الیکشن کمیشن کے فیصلے کو معطل کردیا۔

    سپریم کورٹ کے 3 رکنی بینچ نے آئینی و قانونی تشریح کے سوالات مرتب کرتے ہوئے لارجر بینچ کی تشکیل کیلیے معاملہ پریکٹس اینڈ پروسیجر کمیٹی کو بھجوا دیا۔

    چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسیٰ ،جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس منیب اختر پر مشتمل کمیٹی اجلاس میں اکثریتی فیصلے سے فل کورٹ تشکیل دینے کا فیصلہ ہوا

    اور پھر 13 رکنی فل کورٹ نے 6طویل سماعتوں کے بعد 9جولائی کو سماعت مکمل کرتے ہوئے فیصلہ محفوظ کر لیا۔

    اہم بات یہ ہے کہ ماضی میں ایسے کئی اہم فیصلوں کی مثالیں موجود ہیں جو جمعے کے روز جاری ہوئے۔

    سابق چیف جسٹس افتخار چوہدری کی بحالی کا فیصلہ 20جولائی 2007 بروز جمعہ سپریم کورٹ نے سنایا گیا تھا۔

    اسی طرح سابق وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف کو پاناما کیس میں خیالی تنخواہ پر نااہل کرنے کا فیصلہ بھی 28جولائی 2017جمعہ کے روز ہی سنایا گیا تھا

    جب کہ غیر ملکی جائیداد یں بنانے کے الزام میں بانی پی ٹی آئی کو کلین چٹ اور جہانگیر خان کو نااہل قرار دینے کا فیصلہ بھی 15دسمبر 2017کو جمعہ کے روز ہی سنایا گیا تھا ۔

  • فوجی عدالتوں میں شہریوں کا ٹرائل، انسانوں کے ساتھ غیر انسانی برتاؤ نہ کریں، سپریم کورٹ

    فوجی عدالتوں میں شہریوں کا ٹرائل، انسانوں کے ساتھ غیر انسانی برتاؤ نہ کریں، سپریم کورٹ

    (سنگ میل نیوز )سپریم کورٹ میں فوجی عدالتوں میں شہریوں کے ٹرائل کے خلاف کیس کی سماعت کے دوران جسٹس عرفان سعادت نے کہا کہ انسانوں کے ساتھ غیر انسانی برتاؤ نہ کریں۔

    جسٹس امین الدین کی سربراہی میں 7 رکنی لارجر بینچ نے کیس کی سماعت کی,سماعت کے آغاز پر اٹارنی جنرل منصور اعوان روسٹرم پر آگئے،

    انہوں نے بتایا کہ ملزموں کے ساتھ میٹنگ فکس ہیں، صرف لاہور میں ملاقات کا مسئلہ بنا تھا، حسان نیازی لاہور میں ہیں، میں نے متعلقہ حکام کو تجویز دے دی ہیں،

    اس پر جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ اگر تفتیش مکمل ہوگئی تو جوڈیشل کسٹڈی میں کیوں ہیں؟ پھر تو معاملہ ہی ختم ہوگیا، انسانوں کے ساتھ انسانوں والا سلوک کریں،

    جسٹس عرفان سعادت نے ریمارکس دیے کہ انسانوں کے ساتھ غیر انسانی برتاؤ نہ کریں۔ اس موقع پر وکیل لطیف کھوسہ نے بتایا کہ میاں عباد فاروق فوجی تحویل میں ہیں،

    ان کے 5 سال کے بیٹے کی وفات ہوئی ہے مگر اس کے باوجود بھی میاں عباد فاروق کو ملاقات کی اجازت نہیں دی گئی،اٹارنی جنرل نے یقین دہانی کروائی کہ آج ان کی ملاقات ہو جائے گی،

    آج حفیظ اللہ نیازی صاحب کی بھی اپنے بیٹے سے ملاقات ہونی ہے۔ بعد ازاں جسٹس محمد علی مظہر نے استفسار کیا کہ کیا ہر سماعت پر ہمارا آرڈر درکار ہے؟ جسٹس جمال مندوخیل نے دریافت کیا

    کہ ملزمان کا اگر جسمانی ریمانڈ ختم ہو گیا ہے تو وہ جیل میں کیوں نہیں ہیں ؟ اٹرانی جنرل نے بتایا کہ ملٹری کورٹس میں جوڈیشل ریمانڈ نہیں دیا جاتا، اس پر جسٹس جمال مندوخیل نے دریافت کیا

    کہ اہل خانہ سے ملاقاتیں کرانے کے لیے فوکل پرسن کون ہے؟ اس موقع پر ڈائریکٹر لا بریگیڈیئر عمران عدالت میں پیش ہوئے۔ انہوں نے عدالت کو آگاہ کیا کہ ایک نمبر ملزمان کے اہلخانہ کو دیا گیا ہے

    جس پر وہ رابطہ کرسکتے ہیں، وہ نمبر ہر وقت رابطے کیلئے میسر رہتا ہے،جسٹس حسن اظہر رضوی نے دریافت کیا کہ آپ کے پاس کوئی تفصیلات ہیں ملزموں کے اہلخانہ سے متعلق؟

    ڈائریکٹر لا نے جواب دیا کہ میرے پاس اس وقت تفصیلات نہیں ہیں، جسٹس حسن اظہر علی نے مزید کہا کہ جن کے بچے کی وفات ہوئی ہے انہیں اہلخانہ سے فوری طور پر ملوایا جائے۔

    بعد ازاں اٹارنی جنرل نے وفاقی حکومت کی جانب سے دلائل کا آغاز کر دیا۔ جسٹس امین الدین خان نے اٹارنی جنرل سے دریافت کیا کہ زیر حراست افراد کی اہلخانہ سے ملاقات کیوں نہیں کرائی جا رہی؟

    اٹارنی جنرل منصور اعوان نے بتایا کہ متعلقہ حکام کو بتایا تھا کہ ملاقات کرانے کا حکم عدالت کا ہے، تسلیم کرتا ہوں کہ ملاقاتوں کا سلسلہ نہیں رکنا چاہیے تھا، آج 2 بجے زیرحراست افراد کو اہلخانہ سے ملوایا جائے گا۔

    جسٹس جمال مندوخیل نے استفسار کیا کہ جن سے تفتیش مکمل ہوچکی وہ جیلوں میں کیوں نہیں بھیجے گئے؟ تفتیش کے لیے متعلقہ اداروں کے پاس ملزم رہے تو سمجھ آتی ہے،

    تفتیش مکمل ہوچکی تو ملزمان کو جیلوں میں منتقل کریں،اس پر اٹارنی جنرل نے بتایا کہ جیلوں میں منتقلی میں کچھ قانونی مسائل بھی ہیں، جسٹس عرفان سعادت خان نے ریمارکس دیے

    کہ انسانوں کے ساتھ غیرانسانی سلوک نہیں ہونا چاہیے۔ اس موقع پر جسٹس شاہد وحید اور جسٹس محمد علی مظہر کے درمیان جملوں کا تبادلہ ہوا، جسسٹس شاہد وحید نے کہا کہ آپ ہمیں غلط دکھائے بغیر ہم سے نیا اور الگ فیصلہ چاہتے ہیں،

    جسٹس محمد علی مظہر نے بتایا کہ اپیل میں اگر کیس آیا ہے، تو پھر سب کچھ کھل گیا ہے، جسٹس شاہد وحید نے کہا کہ یہ نکتہ نظر میرے ساتھی کا ہوسکتا ہے میرا نہیں،ہمیں اس اپیل کا اسکوپ دیکھنا ہے۔

    اٹارنی جنرل نے کہا کہ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کی سیکشن 5 کے تحت اپیل کا اسکوپ وسیع ہے، جسٹس شاہد وحید نے استفسار کیا کہ ہم اپیل میں اس کیس کو ریمانڈ بھی کرسکتے ہیں ؟

    اٹارنی جنرل منصور اعوان نے کہا کہ آپ کے پاس ریمانڈ کرنے کا اختیار نہیں ہے۔ جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس دیئے کہ آپ یہ کیسے کہہ سکتے ہیں؟ اپیل میں فیصلہ کالعدم برقرار یا ریمانڈ کیا جاسکتا ہے،

    جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ آپ یہ کہہ رہے ہیں کہ اپیل کا اسکوپ وسیع ہے تو آگے بڑھیے ، جسٹس عرفان سعادت خان نے بتایا کہ اٹارنی جنرل صاحب ایک جواب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ یہ اپیل ہے، ریویو نہیں۔

    بعد ازاں اٹارنی جنرل نے دلائل دیئے کہ وفاق یہاں عدالت کے سامنے ایک قانون کا دفاع کرنے کھڑا ہے، عدالت کو اس بات کو سراہنا چاہیے، جس قانون کو کالعدم کیا گیا وہ ایسا تنگ نظر قانون نہیں تھا جیسا کیا گیا۔

    اس پر اٹارنی جنرل نے آرمی ایکٹ کی کالعدم شقوں سے متعلق دلائل دیئے،جسٹس شاہد وحید نے دریافت کیا کہ کیا اپیل کا حق ہر ایک کو دیا جا سکتا ہے؟ ہر کسی کو اپیل کا حق دیا گیا تو یہ کیس کبھی ختم نہیں ہوگا،

    کل کو عوام میں سے لوگ اٹھ کر آجائیں گے کہ ہمیں بھی سنیں۔ جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ ایک قانون سارے عوام سے متعلق ہوتا ہے، جسٹس شاہد وحید نے کہا کہ متاثرہ فریق ہونا ضروری ہے

    اپیل دائر کرنے کیلئے،اس پر جسٹس شاہد حید نے ریمارکس دیے کہ اٹارنی جنرل کو اختیار ہے جس وکیل سے چاہے معاونت لے سکتا ہے۔ بعد ازاں عدالت نے خواجہ حارث کو وزارت دفاع کی جانب سے دلائل دینے کی اجازت دے دی۔

    وزارت دفاع کے وکیل خواجہ حارث نے دلائل کا آغاز کریا جس پر جسٹس شاہد وحید نے استفسار کیا کہ کیا فرد جرم سے پہلے کیس ٹرانسفر ہوسکتا ہے؟ جسٹس محمد علی مظہر نے بتایا کہ کیس فرد جرم سے پہلے یا بعد میں کسی بھی وقت ٹرانسفر ہوسکتا ہے۔

    جسٹس جمال مندوخیل نے خواجہ حارث سے مکالمہ کیا کہ کیس کے دائرہ اختیار کے حوالے سے بھی ہمیں آگاہ کریں۔ اسی کے ساتھ عدالت نے کیس کی سماعت غیر معینہ مدت کیلئے ملتوی کردی،

    عدالت نے ریمارکس دیئے کہ بینچ کی دستیابی پر کیس دوبادہ سماعت کیلئے مقرر ہوگا۔

    یاد رہے کہ 8 جولائی کو سپریم کورٹ نے فوجی عدالتوں میں سویلین ٹرائل کے خلاف کیس کی سماعت کے دوران جسٹس جمال مدوخیل نے ریمارکس دیے کہ قائد اعظم نے جہاں زندگی کے آخری ایام گزارے، اسے آگ لگائی گئی۔

  • ریاض سے پشاور پہنچنے والی پرواز میں فنی خرابی، ٹائروں میں آگ لگ گئی

    ریاض سے پشاور پہنچنے والی پرواز میں فنی خرابی، ٹائروں میں آگ لگ گئی

    (سنگ میل نیوز)سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض سے پشاور پہنچنے والی پرواز میں فنی خرابی کے باعث کریش لینڈنگ سے طیارے میں آگ لگ گئی۔

    تفصیلات کے مطابق غیرملکی پرواز کے لینڈنگ گیئر میں فنی خرابی ہوئی، پرواز کے پائلٹ نے ایئر ٹریفک کنٹرول کی رہنمائی سے طیارے کو انتہائی مہارت سے ایئرپورٹ پر اتارا،

    تاہم طیارے نے جب پشاور ایئرپورٹ پر لینڈنگ کی تو اس کے ٹائروں میں چنگاریاں نکلنا شروع ہوگئیں۔

    ترجمان سول ایوی ایشن نے بتایا ہے کہ ریاض سے پیشاور پہنچنے والی سعودی ائیرلائن کے لینڈنگ گئیر میں آتشزدگی کا واقعہ پیش آیا،

    سعودی ائیرلائن ایس وی 792 کی پشاور ائیرپورٹ پر لینڈنگ کے بعد ائیر ٹریفک کنٹرولر نے طیارے کے بائیں لینڈنگ گئیر میں دھواں اٹھتا ہوا

    اور چنگاریاں دیکھیں تو ائیر ٹریفک کنٹرولر نے پائلٹ کو فوری اس سے آگاہ کیا، سول ایوی ایشن ائیر ٹریفک کنٹرولر نے فوراً فائیر اینڈ ریسکیو سروسز کو مطلع کیا جو بروقت موقع پر پہنچ گئے،

    فائر ٹینڈرز نے بروقت کارروائی کی اور لینڈنگ گئیر میں ہونے والی آتشزدگی پر فوراً قابو پاکر جہاز کو بڑے حادثہ سے بچا لیا، تمام 276 مسافر اور عملہ کے 21 ارکان انفلیٹبل سلائیڈ کے ذریعے بحفاظت جہاز سے باہر آئے۔

  • غصے میں کئے گئے فیصلے اچھے نہیں ہوتے: چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ

    غصے میں کئے گئے فیصلے اچھے نہیں ہوتے: چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ

    (سنگ میل نیوز) چیف جسٹس اسلام ہائیکورٹ عامر فاروق نے کہا ہے کہ جج کے غصے میں کئے گئے فیصلے اچھے نہیں ہوتے۔

    چیف جسٹس اسلام ہائیکورٹ کا اسلام آباد ہائیکورٹ بار کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہنا تھا کہ پہلے وکیل آتا تھا تو 6ماہ سینئر وکیل کے ساتھ گزارتا تھا،

    وہ وکیل کے چیمبر سے بہت کچھ سیکھتا تھا، جس سے اس کی گرومنگ ہوتے تھی،میں پروفیشنل گرومنگ کیلئے کبھی کبھار غصہ بھی کرتا ہوں،

    شائستگی سے کی گئی بات کی اہمیت نہیں رہی ، جج کے غصے میں کئے گئے فیصلے اچھے نہیں ہوتے، ہم نے معاشرے میں اپنا کردار ادا کرنا ہے۔

    چیف جسٹس عامر فاروق کا کہنا تھا کہ چیمبر انسٹی ٹیوشن کا نظریہ ختم ہوتا جارہا ہے ، پیسہ کمانے سے زیادہ ہمیں اپنی عزت کو بھی دیکھنا ہے ،

    آج کی بار کل کا بنچ ہے ،بارجوڈیشنل سسٹم میں نرسری کی طرح ہے، بار وکلا کیلئے گپ شپ لگانے کیلئے نہیں بنی بلکہ اپنی استعداد کار بڑھانے کیلئے بنائی گئی ہے۔

    انہوں نے کہا کہ میں سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کے چیمبر کا حصہ رہا ، سابق چیف جسٹس ثاقب نثار اور ان کے والد میاں نثار چیمبر چلاتے تھے ،

    مجھے ان سے بہت کچھ سیکھنے کا موقع ملا، وکلا کو نوٹس بنا کر اور کیس کی تیاری کرکے آنا چاہیے۔

    چیف جسٹس عامرفاروق کا مزید کہنا تھا کہ ہمارے بزرگوں نے بار انسٹی ٹیوشن کو زندہ رکھا ہے ،

    گزشتہ دس سالوں سے چیمبر کا وجود ختم ہوتا جارہا ہے، بہت سے نوجوان وکلا کو بہت سی چیزوں کا علم نہیں ہوتا،

    عدالت میں کھڑے ہو کر کیس پیش کرنے کا بھی طریقہ ہوتا ہے،عدالت میں اچھے سے اٹھنے ، بیٹھنے کا بھی طریقہ ہے، اچھائی اور برائی ہر زمانے میں رہی ہے۔

  • افغانیوں کی دوہری شہریت نہیں مانتے،افغانستان دہشتگردی روکے،پاکستان..

    افغانیوں کی دوہری شہریت نہیں مانتے،افغانستان دہشتگردی روکے،پاکستان..

    (سنگ میل نیوز)ترجمان دفتر خارجہ ممتاز زہرہ کا کہنا ہے کہ پاکستان افغان شہریوں کی دوہری شہریت کو تسلیم نہیں کرتا،

    افغانستان اپنی سرزمین کا پاکستان کے خلاف دہشت گردی کیلئےاستعمال روکے۔ ترجمان دفتر خارجہ ممتاز زہرہ نے ہفتہ وار بریفنگ میں کہا ہے.

    کہ ایران کے صدر کی تقریب حلف برداری کی تفصیلات کا انتظار ہے،تفصیلات موصول ہوتے ہی شرکت کی تفصیلات جاری کریں گے،

    چند ہفتے قبل پاکستان کو اقوام متحدہ سلامتی کونسل میں غیر مستقل رکن منتخب کیا گیا،ہم شہید برہان احمد وانی کو تحریک کشمیر کا آئیکن سمجھتے ہیں۔

    9 مئی کو بدامنی پرہم نے واضح کیا کہ پاکستان ایک قانون اور آئین رکھنے والا ملک ہے،9 مئی پر ہم اپنے قوانین اور آئین کی بالا دستی کے لیے پرعزم ہیں،

    اس آئین میں عوام کی جانوں اور جائیدادوں کا تحفظ شامل ہے۔ ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں افغان مہاجرین کی مختلف کیٹیگریز موجود ہیں،

    پاکستانی کابینہ نے افغان مہاجرین کے لیے پی او آر میں ایک برس کی توسیع کر دی ہے،ڈپٹی وزیر اعظم کسی بھی ملک کا دورہ اس ملک کے ساتھ مشاورت کے بعد کریں گے،

    غیر قانونی مقیم غیر ملکیوں کے خلاف شروع کیے جانے والے آئی ایف آر پی کا پہلا مرحلہ مکمل ہونے والا ہے،ابتداء میں وہاں بھیجے جانے والے غیر قانونی غیر ملکیوں بالخصوص افغان شہریوں کی تعداد کافی زیادہ تھی۔

    ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ پاکستان اور افغانستان دہشت گردی کے معاملے پر گذشتہ کئی ماہ سے بات چیت کر رہے ہیں،ہم افغانستان پر زور دیتے ہیں

    کہ پاکستان کے خلاف دہشت گردی میں ملوث گروہوں کے خلاف کنکریٹ کاروائی کرے،افغانستان اپنی سرزمین کا پاکستان کے خلاف دہشت گردی لیے استعمال روکے،

    پاکستان افغان شہریوں کی دوہری شہریت کو تسلیم نہیں کرتا،پاکستان نے بار ہا کہا ہے کہ بھارت کی ہر چیز بالخصوس مقبوضہ کشمیر میں ہونے والے واقعات پر پاکستان مخالف الزام تراشی کی پرانی عادت ہے۔

    ممتاز زہرہ نے کہا ہے کہ پاکستان افغانستان کی سالمیت اور علاقائی خودمختاری کا احترام کرتا ہے،ہم چاہتے ہیں کہ افغانستان بھی اپنی سالمیت کا احترام یقینی بنائے

    اور افغانستان میں موجود دہشت گرد گروہوں کے خلاف کارروائی کرے،پاکستان اور روس کے درمیان تعلقات کی مثبت ٹریجیکٹری ہے۔

    آئی ایف آر پی کے تحت متعدد ممالک کے غیرقانونی غیرملکیوں کو ڈی پورٹ کیا گیا پاکستان اور امریکہ کے درمیان سیکیورٹی اور دفاع کے حوالے سے تعاون کی پرانی تاریخ ہے،

    آئی ایف آر پی پاکستانی قوانین پر عملدرآمد کے لیے ہے،یہ ان غیر ملکیوں کے خلاف کارروائی کے لیے ہے ،آئی ایف آر پی کے تحت متعدد ممالک کے غیرقانونی غیرملکیوں کو ڈی پورٹ کیا گیا،

    عاصم افتخار احمد کی اقوام متحدہ مستقل مشن میں تقرری کا فیصلہ حکومت پاکستان کا ہے،عاصم افتخار احمد کو حکومت نے تمام ذمہ داریاں,

    اختیارات اور دیگر فوائد دیے ہیں،پاکستان مرحلہ وار آئی ایف آر پی کی تکمیل کے لیے پرعزم ہے،آئی ایف آر پی کا پہلا مرحلہ گذشتہ کئی ماہ سے جاری تھا،

    یہ ضروری دستاویزات کے بغیر پاکستان میں مقیم غیر قانونی شہریوں کے خلاف تھا۔

  • مذاکرات ناکام، فلور ملز نےملک بھر میں آٹے کی ترسیل روک دی

    مذاکرات ناکام، فلور ملز نےملک بھر میں آٹے کی ترسیل روک دی

    (سنگ میل نیوز)فلورملز ایسوسی ایشن کے مذاکرات ناکام،پاکستان فلورملز نے ہڑتال کا اعلان کر دیا ۔

    پاکستان فلورملزایسوسی ایشن نے ود ہولڈنگ ٹیکس کےخلاف آج سے غیرمعینہ مدت کے لئے ہڑتال کا اعلان کر دیا۔

    تمام فلورملز غیرمعینہ مدت کے لئے بند،ملک بھر میں آٹے کی ترسیل روک دی گئی۔

    پاکستان فلورملزایسوسی ایشن کے مطابق یہ ناجائزٹیکس ہے جوفلورملز انڈسٹری پرنافذ کیاگیاہے،مطالبات کی منظوری تک ہڑتال جاری رہے گی۔

    چوہدری عامرعبداللہ کا کہنا ہے کہ ہم پہلے سے ٹیکس پیئرہیں، ہم پرٹیکس کامزیدبوجھ ڈالاگیاہے،اپنےمطالبات پرپورے پاکستان کےفلورملرمتحد اوریکجاں ہیں۔