Deprecated: Creation of dynamic property EPS_Redirects_Plugin::$settings is deprecated in /home2/sangemee/public_html/wp-content/plugins/eps-301-redirects/plugin.php on line 55

Warning: Cannot modify header information - headers already sent by (output started at /home2/sangemee/public_html/wp-content/plugins/eps-301-redirects/plugin.php:55) in /home2/sangemee/public_html/wp-content/themes/twentytwentyfive/functions.php on line 296
Qamar Abbas – Page 1718 – Sange Meel News: Latest news, breaking news, Pakistan

Author: Qamar Abbas

  • حکومت کا 200 یونٹ تک بنیادی ٹیرف نہ بڑھانے کا فیصلہ …

    حکومت کا 200 یونٹ تک بنیادی ٹیرف نہ بڑھانے کا فیصلہ …

    (سنگ میل نیوز)غریب بجلی صارفین کی سنی گئی ، حکومت نے ماہانہ 200 یونٹ تک بجلی استعمال کرنے والے صارفین کیلئے بنیادی ٹیرف نہ بڑھانے کا فیصلہ کر لیا۔

    ذرائع کے مطابق حکومت نے ماہانہ 200 یونٹ تک صارفین کیلئے بجلی کا بنیادی ٹیرف بڑھانےکافیصلہ واپس لینے کی تیاری شروع کر دی ،

    ماہانہ200 یونٹ کے پروٹیکیٹڈ، نان پروٹیکیڈصارفین کےلیےٹیرف میں اضافہ واپس لینے کی تجویز آئی ،وزیراعظم نےہنگامی بنیادوں پر سمری کی وفاقی کابینہ سے منظوری لینے کی ہدایت کردی،

    جولائی تاستمبر2024 کے لیےماہانہ 200 یونٹ تک والےصارفین کوریلیف دینے کی تجویز دی گئی ہے ۔ وفاقی حکومت ٹیرف پرریلیف دینے کے لیےتقریبا 50 ارب روپے کی سبسڈی دے گی،

    وفاقی کابینہ نےبجلی کےفی یونٹ بنیادی ٹیرف میں7 روپے 12 پیسے تک اضافہ منظورکیا تھا،اس سےقبل کابینہ نے200یونٹ تک پروٹیکیٹڈ،نان پروٹیکٹیڈصارفین کے لیےاضافہ منظور کیا تھا،

    ایک سے100 یونٹ تک پروٹیکیٹڈ صارفین کےٹیرف میں 3.95 روپے اضافہ منظور کیا گیا تھا، ماہانہ101سے200 یونٹ تک پروٹیکیٹڈ صارفین کا ٹیرف4.10 روپے بڑھانے کی منظوری دی گئی تھی۔

    ماہانہ ایک سے100 یونٹ نان پروٹیکیٹڈصارفین کےٹیرف میں 7.11روپے اضافہ منظور کیا گیا تھا،ماہانہ101سے200 یونٹ نان پروٹیکیٹڈ صارفین کے ٹیرف میں 7.12 روپے اضافہ منظور کیا گیا تھا،

    بجلی کے بنیادی ٹیرف میں اضافے کا اطلاق یکم جولائی 2024 سے کرنے کی تجویز ہے،ماہانہ50یونٹ تک لائف لائن صارفین کے لیے فی یونٹ ٹیرف 3.95 روپے برقرار رہے گا،

    ماہانہ51سے100 یونٹ تک لائف لائن صارفین کے لیے فی یونٹ ٹیرف7.74 روپے برقرار رہے گا۔ یہ بھی پڑھیں:دہشتگردی میں صفحہ اول کا کردار کے پی حکومت کا ہے ،بلاول بھٹو

  • بشریٰ بی بی آڈیو لیکس کیس، اسلام آباد ہائیکورٹ کا حکم نامہ چیلنج؟

    بشریٰ بی بی آڈیو لیکس کیس، اسلام آباد ہائیکورٹ کا حکم نامہ چیلنج؟

    (سنگ میل نیوز ) وفاقی حکومت نےبشریٰ بی بی آڈیو لیکس کیس کا اسلام آباد ہائی کورٹ کا حکم نامہ چیلنج کر دیا۔

    وفاقی حکومت نے ہائی کورٹ کے حکم کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل دائر کر دی،

    اپیل میں کہا گیا کہ اداروں کے سربراہوں کی طلبی اور ان سے رپورٹس منگوانا فیکٹ فائنڈنگ کے مترادف ہے،

    نجم الثاقب کی درخواست پارلیمانی کمیٹی کی طلبی کیخلاف تھی جو معاملہ ختم ہوچکا ہے۔

    حکومت کی اپیل میں یہ بھی کہا گیا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ غیرموثر درخواست کے نکات سے ہٹ کر کارروائی کر رہی ہے، اسلام آباد ہائی کورٹ کو ازخودنوٹس لینے کا اختیار نہیں ہے۔

  • یکم محرم،غلاف کعبہ کی تبدیلی کی تیاریاں مکمل….

    یکم محرم،غلاف کعبہ کی تبدیلی کی تیاریاں مکمل….

    (سنگ میل نیوز)سعودی حکام نے یکم محرم 1446ھ کو غلاف کعبہ کی تبدیلی کی تمام تیاریاں مکمل کرلی ہیں،

    غلا ف کعبہ کی تبدیلی کا کام 159 تکنیکی ماہرین اور کاریگروں کے ذریعے انجام پاتا ہے،

    ہر سال پرانے غلا ف کعبہ کو جن سنہرے کڑوں سے باندھا جاتا ہے ان سے ہٹا کر اس کی جگہ نئے غلا ف کو مکمل طور پر کعبہ شریف پر لگانے کے عمل میں3 سے 4گھنٹے لگتے ہیں۔

    غیر ملکی میڈیا کے مطابق کنگ عبدالعزیز کسوہ کمپلیکس میں خانہ کعبہ کے غلاف کی تیاری پر200 سے زیادہ افراد کام کرتے ہیں یہ تمام افراد غلاف کی تیاری کے مختلف مراحل میں حصہ لیتے ہیں،

    یہاں دنیا کی سب سے بڑی سلائی مشین جو 16 میٹر طویل ہے اور یہ کمپیوٹر سسٹم پر چلتی ہے استعمال ہوتی ہے جس کے ذریعے غلاف کعبہ کے دیگر کام انجام پاتے ہیں۔

    غلاف کعبہ کی تیاری کے لیے ایک ہزار کلو گرام خام ریشم استعمال ہوتا ہے جسے کمپلیکس کے اندر کالا رنگ دیا جاتا ہے۔

    کپڑے کی تیاری کے حوالے سے کمپلیکس میں جدید ترین جیکوارڈ مشینیں موجود ہیں یہاں دیگر مشینیں قرآنی آیات کی کڑھائی،

    آیات اور دعاؤں کیلئے کالا ریشم تیار کرتی ہیں جبکہ سادہ ریشم بھی تیار کرتی ہیں جن پر آیات پرنٹ کی جاتی ہیں اس طرح سونے اور چاندی کے دھاگوں سے کشیدہ کاری بھی کی جاتی ہے۔

    غلاف کعبہ کیلئے 120 کلو گرام سونے اور 100 کلو گرام چاندی کا دھاگہ استعمال ہوتا ہے۔

    غلاف کی تیاری کے ہر عمل میں استعمال ہونے والے مواد کی جانچ بھرپور طریقے سے ہوتی ہے یہاں مواد کی جانچ کیلئے لیبارٹری بھی موجود ہے۔

  • مرغی کے فی کلو گوشت میں 24 روپے کی کمی…

    مرغی کے فی کلو گوشت میں 24 روپے کی کمی…

    (سنگ میل نیوز)مہنگائی سے پریشان عوام کیلئے اچھی خبر، مرغی کے گوشت کی قیمت میں بڑی کمی ہو گئی، فی کلو گوشت 24 روپے سستا ہو گیا۔

    لاہور میں برائلر مرغی کے گوشت کی قیمت میں 24 روپے کمی کے بعد نئی قیمت 392 روپے مقرر کر دی گئی،

    زندہ برائلر مرغی کا تھوک ریٹ 260 روپے کلو جبکہ زندہ برائلر مرغی کا پرچون ریٹ 270 روپے کلو مقرر کیا گیا ہے۔

    اس طرح زندہ برائلر مرغی کے تھوک ریٹ میں 16 روپے کی کمی جبکہ پرچون ریٹ میں 17 روپے فی کلو کمی ہوئی ہے،

    فارمی انڈوں کی فی درجن قیمت 250 روپے کی سطح پر مستحکم ہے، گزشتہ روز مرغی کے گوشت کی قیمت میں 2 روپے کی کمی ہوئی تھی۔

    20 کلو آٹے کا تھیلاکتنے کا ہو گیا؟،قیمت جان کر ہوش اڑ جائیں گے گزشتہ روز برائلر مرغی کا گوشت 416 روپے کلو تھا،

    زندہ برائلر مرغی کا تھوک ریٹ 276 روپے کلو جبکہ پرچون ریٹ 287 روپے فی کلو تھا۔

  • وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈا پور کے وارنٹ گرفتاری منسوخ

    وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈا پور کے وارنٹ گرفتاری منسوخ

    (سنگ میل نیوز) انسداد دہشتگردی عدالت اسلام آباد نے وزیراعلیٰ خیبر پی کے علی امین گنڈا پور کے وارنٹ گرفتاری منسوخ کر دیئے۔

    انسداد دہشت گردی اسلام آباد میں علی امین گنڈا پور کی تھانہ آئی نائن میں درج مقدمے میں جاری وارنٹ گرفتاری کی معطلی کی درخواست پر سماعت ہوئی,

    علی امین گنڈا پور نے عدالت کے سامنے سرنڈر کرتے ہوئے کہا کہ سرکاری مصروفیات کے باعث عدالت میں حاضر نہیں ہوسکا۔

    دوران سماعت وزیراعلیٰ کے پی نے وارنٹ گرفتاری منسوخ کرنے کی استدعا کی جس پر عدالت نے علی امین گنڈا پور کی گرفتاری کے وارنٹ منسوخ کرنے کی درخواست منظور کر لی۔

    خیال رہے کہ وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈا پور نے اسلام آباد کے تھانہ آئی نائن میں درج مقدمے میں جاری وارنٹ کی معطلی کی درخواست دائر کی تھی۔

  • سانحہ ماڈل ٹاؤن استغاثہ کیس, عوامی تحریک کے وکیل جرح کیلئے طلب

    سانحہ ماڈل ٹاؤن استغاثہ کیس, عوامی تحریک کے وکیل جرح کیلئے طلب

    (سنگ میل نیوز) انسداد دہشت گردی عدالت نے سانحہ ماڈل ٹاؤن استغاثہ کیس میں پاکستان عوامی تحریک کے سینئر وکیل مخدوم مجید شاہ کو جرح کیلئے طلب کر لیا۔

    انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت کے جج ارشد جاوید نے سانحہ ماڈل ٹاؤن استغاثہ کیس کی سماعت کی،

    عدالت نے مقدمہ کے مزید گواہوں کو 6 جولائی کو طلب کر لیا,عدالت نے ڈی ایس پی رانا محمود الحسن، کانسٹیبل فیصل رشید اور کانسٹیبل عامر حسن کو بھی طلب کر لیا۔

    خیال رہے کہ سانحہ ماڈل ٹاؤن کیس میں اب تک مجموعی طور پر 98 گواہوں کی شہادت قلمبند ہو چکی ہے،

    سانحہ ماڈل ٹاؤن استغاثہ میں مجموعی طور پر 124 ملزم نامزد ہیں۔ سابق ایس پی عمر ورک، سابق ڈی ایس پی خالد ابوبکر،

    سابق ڈی ایس پی میاں شفقت، سابق انسپکٹر بشیر نیازی نے بریت کی درخواستیں دائر کر رکھی ہیں، سابق آئی جی پنجاب مشتاق سکھیرا اور ڈی آئی جی آپریشنز رانا عبدالجبار سمیت 5 ملزم پہلے ہی بری ہو چکے ہیں۔

  • محرم الحرام کے دوران سوشل میڈیا پر پابندی لگانے کی سفارش….

    محرم الحرام کے دوران سوشل میڈیا پر پابندی لگانے کی سفارش….

    (سنگ میل نیوز ) پنجاب میں محرم الحرام کے دوران سوشل میڈیا پر پابندی لگانے کی سفارش کر دی گئی ۔

    نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق محکمہ داخلہ پنجاب نے محرم الحرام کے دوران صوبے میں سوشل میڈیا پر پابندی لگانے کی سفارش کی ہے

    جس کے لیے وفاقی سیکرٹری داخلہ کو مراسلہ بھجوادیا گیا ہے۔ مراسلے میں سفارش کی گئی ہے

    کہ کابینہ کی قائمہ کمیٹی برائے امن و امان کے فیصلے کی روشنی میں پنجاب میں 6 سے11محرم الحرام تک سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کی سروسز معطل کی جائیں۔

    فیس بک، واٹس ایپ، انسٹا گرام ، یو ٹیوب، ٹوئٹر اور ٹک ٹاک کی سروسز معطل کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔

    20 کلو آٹے کا تھیلا 300 روپے مہنگا محکمہ داخلہ پنجاب نے اس سلسلے سے چیئرمین پی ٹی اے،

    آئی جی پنجاب، ایڈیشنل آئی جیز اسپیشل برانچ اور سی ٹی ڈی کو بھی آگاہ کر دیا ہے،ذرائع کے مطابق سوشل میڈیا پر پابندی کا حتمی فیصلہ وفاقی حکومت کرے گی۔

  • مخصوص نشستوں کا کیس،پاکستان کو ایک بار آئین کے راستے پر چلنے دیں: چیف جسٹس

    مخصوص نشستوں کا کیس،پاکستان کو ایک بار آئین کے راستے پر چلنے دیں: چیف جسٹس

    (سنگ میل نیوز)سپریم کورٹ میں سنی اتحاد کونسل کی مخصوص نشستوں سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیئے کہ سپریم کورٹ کے فیصلے انصاف پر مبنی ہیں،ہر فیصلے نے آئین کو فالو کیا، کچھ ججز دانا ہوں گے میں اتنا دانا نہیں،پاکستان کو ایک بار آئین کے راستے پر چلنے دیں۔ چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں سپریم کورٹ کا فل کورٹ بینچ معاملے کی سماعت کی،

    اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان نےدلائل دیئے۔ جسٹس سید منصور علی شاہ، جسٹس منیب اختر، جسٹس یحییٰ آفریدی، جسٹس امین الدین خان، جسٹس جمال خان مندوخیل، محمد علی مظہر، عائشہ ملک، اطہر من اللہ، سید حسن اظہر رضوی، شاہد وحید، عرفان سعادت خان اور نعیم اختر افغان فل کورٹ کا حصہ ہیں۔ کیس کی سماعت سپریم کورٹ کی ویب سائٹ اور یوٹیوب چینل پر براہ راست نشر کی گئی۔ اٹارنی جنرل نے دلائل دیتے ہوئے بتایا کہ میرے پاس ریکارڈ آگیا ہے، 2002 اور 2018 میں مخصوص نشستوں سے متعلق بھی ریکارڈ ہے، وکیل مخدوم علی خان نے بتایا آئین کے مطابق سیٹیں سیاسی جماعتوں کو ملیں گی نہ کہ آزادامیدواروں کو،

    سیاسی جماعتیں تب مخصوص نشستوں کی اہل ہوں گی جب کم سے کم ایک سیٹ جیتی ہوگی، مخصوص نشستوں سے متعلق 2002 میں آرٹیکل 51 کو بروئے کار لایاگیا۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ غیر مسلمانوں کی مخصوص نشستوں کی تعداد 10 ہے،اس کے بعد اٹارنی جنرل منصوراعوان نے 2018 میں مخصوص نشستوں کے حوالے سے آئین پڑھنا شروع کردیا۔ انہوں نے کہا کہ 272 مکمل سیٹیں تھیں،3 پر انتخابات ملتوی ہوئے، 13 آزاد امیدوار منتخب ہوئے، 9 سیاسی جماعتوں میں شامل ہوئے، مخصوص نشستوں کا فارمولا 256 نشستوں پر نافذ ہوا، مخصوص نشستوں سے متعلق 2002 میں آرٹیکل 51 کو بروئے کار لایا گیا۔

    اٹارنی جنرل منصور اعوان نے مزید کہا کہ 2018 میں 60 خواتین، 10 غیر مسلم سیٹیں مخصوص تھیں، اٹارنی جنرل نے 2018 میں صوبائی اسمبلیوں میں مخصوص نشستوں کے حوالے سے بتایا، اٹارنی جنرل منصور اعوان نے 2002 میں مخصوص نشستوں کے حوالے سے سپریم کورٹ کو آگاہ کیا۔ اٹارنی جنرل نے کہا کہ انتخابات 2002 میں بلوچستان میں 20 فیصد آزاد امیدوار منتخب ہوئے تھے، مخصوص نشستوں کے تعین میں آزاد امیدواروں کو شامل نہیں کیا گیا تھا، جو آزاد امیدوار سیاسی جماعت میں شامل ہوجائے وہ پارٹی کا رکن تصور ہوتا ہے، 2002 میں قومی اسمبلی میں پہلی مرتبہ آرٹیکل 51 کے تحت مخصوص نشستوں کا تعین کیا گیا،

    اسمبلیوں میں آرٹیکل 51 کا مقصد خواتین، اقلیتیوں کی نمائندگی دینا ہے، آزادامیدوار اگر سیاسی جماعت میں شامل ہو جائیں تو انہیں پارٹی کا حصہ تصور کیاجائےگا، سیاسی جماعت جتنے مخصوص نشستوں کے لیے نام دینا چاہیں دے سکتے ہیں۔ اٹارنی جنرل منصوراعوان کا مزید کہنا تھا کہ الیکشن ایکٹ کے تحت اسمبلی کی مدت ختم ہونے کے اندر 4 ماہ میں الیکشن کمیشن کو تمام انتظامات پورے کرنے ہوتے ہیں۔ اس پر جسٹس جمال مندو خیل نے ریمارکس دیئے کہ آرٹیکل 51 میں سیٹوں کا ذکر ہے، ممبر شپ کا نہیں، جسٹس منیب اختر نے کہا کہ آرٹیکل 224 رعایت ہے ورنہ کوئی اسمبلی کی سیٹ خالی نہیں چھوڑی جا سکتی، پارلیمانی نظام کی بنیاد سیاسی جماعتوں پر ہے،

    سوال یہ ہے آزاد امیدواروں کی اتنی بڑی تعداد کہاں سے آئی؟ کیا لوگوں نے خود ان لوگوں کو بطور آزاد امیدوار چنا؟ کیا الیکشن کمیشن نے خود ان لوگوں کو آزاد نہیں قرار دیا؟ جب ایسا ہوا ہے تو کیا عدالت کو یہ غلطی درست نہیں کرنی چاہیے؟ کیا وہ قانونی آپشن نہیں اپنانا چاہیے جو اس غلطی کا ازالہ کرے؟ جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیئے کہ پارلیمانی نظام کی بنیاد سیاسی جماعتوں پر ہے،سوال یہ ہے آزاد امیدواروں کی اتنی بڑی تعداد کہاں سے آئی؟کیا لوگوں نے خود ان لوگوں کو بطور آزادامیدوار چنا؟کیا الیکشن کمیشن نے خود ان لوگوں کو آزادقرار نہیں دیا؟جب ایسا ہوا ہے تو کیا عدالت کو یہ غلطی درست نہیں کرنی چاہئے؟

    کیا وہ قانونی آپشن نہیں اپنانا چاہئے جو اس غلطی کا ازالہ کرے ؟ بعد ازاں چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ کسی فریق کو یہ کہتے نہیں سنا کہ نشستیں خالی رہیں، ہر فریق یہی کہتا ہے کہ دوسرے کو نہیں نشستیں مجھے ملیں، آپ پھر اس پوائنٹ پر اتنا وقت کیوں لے رہے ہیں کہ نشستیں خالی نہیں رہ سکتیں؟ موجودہ صورتحال بن سکتی ہے یہ آئین بنانے والوں نے کیوں نہیں سوچا؟ یہ ان کا کام ہے، آئین میں کیا کیوں نہیں ہے، یہ دیکھنا ہمارا کام نہیں ہے، بار بار کہہ رہا ہوں ہمارے سامنے موجود آئین کے متن پر رہیں۔ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے مزید کہا کہ میں بار بار آئین میں لکھے الفاظ کی بات کر رہا ہوں،

    اگر آئین میں اس صورتحال کا ذکر نہیں یا غلطی ہے تو آئین جانے اور بنانے والے جانے۔ اٹارنی جنرل منصور اعوان نے بتایا کہ پارلیمانی پارٹی کےلیے ضروری ہے کہ سیاسی جماعت نے انتخابات میں نشست جیتی ہو، پارلیمانی پارٹی ارکان کے حلف لینے کے بعد وجود میں آتی ہے، جسٹس منصور علی شاہ نے دریافت کیا کہ پارلیمانی پارٹی کی مثال غیرمتعلقہ ہے کیونکہ اس معاملے کا تعلق انتخابات سے پہلے کا ہے، پارلیمانی پارٹی کی تشکیل کا ذکر آئین میں کہاں ہے؟ اٹارنی جنرل منصور اعوان نے کہا کہ پارلیمانی پارٹی کا ذکر صرف آرٹیکل 63 اے میں ہے، آرٹیکل 63 اے کے اطلاق کے لیے ضروری ہے کہ پارلیمانی پارٹی موجود ہو، فیصل صدیقی نے کہا تھا اگر سنی اتحاد کونسل کو نشستیں نہیں ملتی تو خالی چھوڑ دیں۔ جسٹس عائشہ ملک نے استفسار کیا کہ ایسا ہوسکتا کہ سیاسی جماعت اگر پارلیمانی پارٹی نہ ہو لیکن سیٹ جیتے تو پارلیمانی پارٹی تصور کی جائے؟

    اٹارنی جنرل نے کہا کہ انتخابات ہی تعین کریں گے کہ پارلیمانی پارٹی کون ہوگی، آزاد امیدوار اگر ہوں تو پارلیمانی پارٹی میں شامل ہو سکتے ہیں۔ جسٹس عائشہ ملک نے مزید بتایا کہ میں آزاد امیدوار کے بارے میں نہیں پوچھ رہی، میں انتخابات میں حصہ لینے کے حق کے حوالے سے پوچھ رہی، آپ کے مطابق سیاسی جماعت ہی پارلیمانی پارٹی بنے گی، ابھی تو ہم دیکھ رہے آزاد امیدوار سیاسی جماعت ہیں یا نہیں۔ جسٹس یحیی آفریدی نے کہا کہ آپ کے مطابق آرٹیکل 51 کے تحت سنی اتحاد کونسل سیاسی جماعت نہیں، لیکن ضمنی الیکشن جیتنے کے بعد پارلیمانی پارٹی بن چکی؟

    اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ اگر سنی اتحاد ضمنی انتخابات میں جیتتی ہے تو پارلیمانی پارٹی بن سکتی، جسٹس عائشہ ملک نے کہا کہ اگر الیکشن کمیشن سنی اتحاد کونسل کو سیاسی جماعت تصور نہیں کرتا تو پارلیمانی پارٹی کیسے بن سکتی ہے؟ جسٹس عرفان سعادت نے کہا کہ جو آزادامیدواروں کسی پارلیمانی پارٹی میں شامل نہ ہوں تو کیا ہوگا؟ قانون تو کہتا ہے کہ 3 روز میں سیاسی جماعت میں شامل ہو، آزاد امیدوار کیسے رہیں گے؟ اس پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ آزاد امیدوار اگر شامل کسی جماعت میں نہیں ہوتے تو آزاد ہی رہیں گے۔ اسی کے ساتھ اٹارنی جنرل کے دلائل مکمل ہوگئے، سنی اتحاد کونسل کے وکیل نے کہا کہ میں 15 منٹ میں جواب الجواب ختم کر دوں گا۔

    بعد ازاں سپریم کورٹ نے مخصوص نشستوں سے متعلق مزید سماعت 9 جولائی تک ملتوی کر دی۔ یاد رہے کہ گزشتہ روز سپریم کورٹ میں سنی اتحاد کونسل کی مخصوص نشستوں سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس قاضی فائز عیسی نے ریمارکس دیے کہ تحریک انصاف ایک سال کا وقت لینے کے باوجود انٹراپارٹی انتخابات نہیں کروا سکی۔ واضح رہے کہ 27 جون کو سپریم کورٹ میں مخصوص نشستوں سے متعلق سنی اتحاد کونسل کی اپیل پر سماعت کے دوران جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیے کہ سپریم کورٹ کا مقصد تحریک انصاف کو انتخابات سے باہر کرنا ہر گز نہیں تھا۔

  • سنی اتحاد کونسل کو مخصوص نشستیں نہ ملنے کیخلاف کیس کی سماعت

    سنی اتحاد کونسل کو مخصوص نشستیں نہ ملنے کیخلاف کیس کی سماعت

    (سنگ میل نیوز)سنی اتحاد کونسل کو مخصوص نشستیں نہ ملنے کیخلاف کیس کی سماعت شروع ہو گئی،

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسی کی سربراہی میں 13 رکنی فل کورٹ سماعت کر رہا ہے۔

    تفصیلات کے مطابق اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان آج بھی دلائل جاری رکھیں گے ۔

    پیپلزپارٹی کے وکیل فاروق ایچ نائیک کے دلائل رہتے ہیں،

    عدالت نے الیکشن کمیشن سے 2018 اور 2024 کے انتخابات میں مخصوص نشستوں کی الاٹنمنٹ کا ریکارڈ طلب کر رکھا ہے، تحریک انصاف نے کیس میں فریق بننے کی درخواست دائر کر رکھی ہے۔

  • عدت میں نکاح کیس,سزا کیخلاف اپیلوں پر سماعت کل تک ملتوی

    عدت میں نکاح کیس,سزا کیخلاف اپیلوں پر سماعت کل تک ملتوی

    (سنگ میل نیوز) اسلام آبادکی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ نے بانی پی ٹی آئی عمران خان اور بشریٰ بی بی کی دوران عدت نکاح کیس میں سزاکے خلاف اپیلوں پر سماعت کل تک کیلئے ملتوی کر دی۔
    ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ کے ایڈیشنل سیشن جج افضل مجوکا بانی پی ٹی آئی عمران خان اور بشریٰ بی بی کی دورانِ عدت نکاح کیس میں سزاکے خلاف اپیلوں پر سماعت کی،

    دوران سماعت بانی پی ٹی آئی عمران خان کے وکلاء زاہد بشیر ڈار اور مرتضیٰ طوری عدالت میں پیش ہوئے۔ عمران خان کے وکیل نے عدالت سے استدعا کی کہ سینئر وکیل سلمان صفدر تھوڑی دیر میں آ رہے ہیں، اس لیے سماعت میں مختصر وقفہ کر دیں۔ دوسری جانب خاور مانیکاکے جونیئر وکیل نے بھی استدعا کی کہ سینئر وکیل زاہد آصف 11 بجے پیش ہوں گے، لہٰذا سماعت میں وقفہ کیا جائے۔

    ایڈیشنل سیشن جج افضل مجوکا نے کہا کہ اس کیس کا فیصلہ کرنا ہے، سلمان صفدر دلائل دیں، عدالت نوٹ کر لے گی اوراس کے ساتھ ہی عدالت نے سلمان صفدر کے آنے تک سماعت میں وقفہ کر دیا۔ مختصر وقفے کے بعد سماعت دوبارہ شروع ہوئی تو بانی پی ٹی آئی عمران خان کے وکیل سلمان اکرم راجہ نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ میں آج جزوی دلائل دوں گا، باقی کل کے لیے کیس رکھ لیں،

    سپریم کورٹ میں آج مخصوص نشستوں کا کیس ہے، سزا معطلی کی درخواست پر آرڈر دیکھا ہے، میرے کچھ پوائنٹ فیصلے میں تحریر نہیں،جج افضل مجوکا نے سلمان اکرم راجہ سے کہا کہ آپ کے پاس پورا ٹائم ہے، آج اور کل بھی ہے، بانی پی ٹی آئی کے وکیل سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ بدنیتی اور فراڈ میں جو چیز مشترکہ ہے وہ ارادہ ہوتا ہے۔

    جج افضل مجوکا نے سوال کیا کہ اگر رجوع کا حق تھا تو وہ ایک سول معاملہ ہے، اس کا کرمنل سے کیا تعلق؟، عمران خان کے وکیل سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ یہ کہہ دینا کافی نہیں کہ میں رجوع کر لیتا، اگر فراڈ ہوا تھا تو اسی وقت عدالت جاتے اور کہتے کہ میں نے رجوع کرنا تھا، ایک دن نکاح ہوا، دوسرے دن خاور مانیکا کو پتہ چل گیا لیکن وہ خاموش رہے۔ بعدازاں عدالت نے عدت میں نکاح کیس میں سزا کیخلاف اپیلوں پر سماعت کل تک کیلئے ملتوی کر دی۔