Deprecated: Creation of dynamic property EPS_Redirects_Plugin::$settings is deprecated in /home2/sangemee/public_html/wp-content/plugins/eps-301-redirects/plugin.php on line 55

Warning: Cannot modify header information - headers already sent by (output started at /home2/sangemee/public_html/wp-content/plugins/eps-301-redirects/plugin.php:55) in /home2/sangemee/public_html/wp-content/themes/twentytwentyfive/functions.php on line 296
Qamar Abbas – Page 1719 – Sange Meel News: Latest news, breaking news, Pakistan

Author: Qamar Abbas

  • عدت نکاح کیس،عمران خان اور بشریٰ بی بی کی سزا کیخلاف اپیلوں پر سماعت ملتوی

    عدت نکاح کیس،عمران خان اور بشریٰ بی بی کی سزا کیخلاف اپیلوں پر سماعت ملتوی

    (سنگ میل نیوز) ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن عدالت اسلام آباد نے بانی پی ٹی آئی عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کیخلاف دوران عدت نکاح کیس میں سزا کے خلاف اپیلوں پر سماعت 11 جون تک ملتوی کر دی۔ تفصیلات کے مطابق ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج افضل مجوکا نے اپیلیں جلد سماعت کے لئے مقرر کرنے اور سزا معطلی کی درخواستوں پر سماعت کی،

    پی ٹی آئی وکیل عثمان ریاض گل اور خالد یوسف چودھری عدالت میں پیش ہوئے تاہم شکایت کنندہ خاور مانیکا کی جانب سے کوئی بھی عدالت پیش نہ ہوا،
    اس موقع پر وکیل عثمان ریاض نے دلائل دیئے کہ عدالت سماعت کیلئے کوئی ایک وقت مقرر کر دے، اڈیالہ جیل میں 190 ملین پاؤنڈز ریفرنس پر سماعت میں بھی پیش ہونا ہے۔

    بعد ازاں عدالت نے خاور مانیکا کے وکیل کے آنے تک کیس کی سماعت میں 10 بجے تک وقفہ کر دیا،وقفے کے بعد سماعت کا دوبارہ آغاز ہوا تو جج نے دریافت کیا کہ آپ اپیلوں پر جلد سماعت چاہتے ہیں یا سزا معطلی پر سماعت چاہتے ہیں؟ وکیل عثمان گل نے جواب دیا کہ عدالت شکایت کنندہ کے کنڈکٹ کو بھی دیکھے،جج افضل مجوکا نے ریمارکس دیئے کہ ہم نے شکایت کنندہ کو نوٹس کیا تھا وہ نہیں آنا چاہتے تو نہ آئیں، عدالت کیس سنے گی۔ یہ بھی پڑھیں: احکامات پرعملدرآمد کرانا آتا ہے،

    جسٹس محسن اختر ،شاعر احمد فرہاد کی بازیابی پٹیشن نمٹا دی جج افضل مجوکا نے مزید ریمارکس دیئے کہ بشریٰ بی بی کی حد تک صرف اپیل فکس نہیں کر سکتے، اس طرح سے عدالت کا مائنڈ ظاہر ہوتا ہے،ان کا مزید کہنا تھا کہ بشریٰ بی بی اور عمران خان دونوں کی جانب سے اپیل ہوتی تو عدالت سماعت کے حوالے سے بہتر پوزیشن میں ہوتی، اس پر وکیل عثمان گل نے کہا کہ عدالت دس منٹ کا وقت دے دے، ہم عمران خان کی طرف سے بھی درخواست دائر کر دیتے ہیں۔

    بعد ازاں عدالت نے بانی پی ٹی آئی کی جانب سے بھی سزا معطلی اور اپیلوں پر جلد سماعت کی درخواست دینے کیلئے وکلا کو مہلت دے دی،عدالت نے کیس کی سماعت میں دس منٹ کا وقفہ کر دیا۔ سماعت کے دوبارہ آغاز پر بانی پی ٹی آئی عمران خان کی جانب سے بھی عدت میں نکاح کیس کی اپیلیں جلد سماعت کیلئے مقرر کرنے اور سزا معطلی کی درخواست دائر کر دی گئی، عدالت نے درخواست کے ساتھ بیان حلفی لگانے کی ہدایت جاری کی،وکیل نیاز اللہ نیازی نے بتایا کہ عدالت اپنے اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے خود بھی دونوں کی درخواستوں کو ایک ساتھ مقرر کر سکتی ہے،

    تاہم اس کے باوجود ہم عمران خان کی جانب سے درخواست دے رہے ہیں۔ جج نے کہا کہ ایک ملزم کی جانب سے جلد سماعت کی درخواست آئی، عدالت نے چیزوں کو بیلنس کرنا ہوتا ہے، سادہ کاغذ پر درخواست دی گئی ہے، بیان حلفی درخواست کے ساتھ لگائیں، درخواست میں کسی کو پارٹی نہیں بنایا گیا ہے،وکیل نیاز اللہ نیازی کا کہنا تھا کہ پہلی عدالت میں کیس کا فیصلہ محفوظ تھا تاہم دوسری عدالت کو کیس ٹرانسفر کر دیا گیا۔ بعد ازاں عدالت نے بانی پی ٹی آئی عمران خان اور بشریٰ بی بی کی عدت میں نکاح کیس میں اپیلوں پر سماعت جلد مقرر کرنے اور سزا معطلی کی اپیلوں پر فریقین کو دوبارہ نوٹس جاری کرتے ہوئے کیس کی سماعت 11 جون تک ملتوی کر دی۔

  • وزیراعظم کا دورہ چین،زبردست پذیرائی ، گریٹ ہال آف پیپل پہنچنے پر گارڈ آف آنر پیش کیا گیا

    وزیراعظم کا دورہ چین،زبردست پذیرائی ، گریٹ ہال آف پیپل پہنچنے پر گارڈ آف آنر پیش کیا گیا

    (سنگ میل نیوز)وزیر اعظم شہباز شریف کادورہ چین،وزیراعظم گریٹ ہال آف پیپل پہنچے جہاں چینی پیپلز لبریشن آرمی کے دستے نے انہیں گارڈ آف آنر پیش کیا۔
    چینی وزیراعظم لی چیانگ نے شہباز شریف کااستقبال کیا، وزیر اعظم شہباز شریف نے چینی ہم منصب لی چیانگ سے اپنے وفد کا تعارف کرایا،

    آرمی چیف جنرل عاصم منیر بھی گارڈ آف آنر کی تقریب میں موجود ہیں۔ نواز شریف کا مطالبہ واضح رہے کہ 3 جون کو ترجمان دفتر خارجہ نے بتایا تھا
    کہ وزیرا عظم محمد شہباز شریف 4 سے 8 جون 2024 تک چین کا سرکاری دورہ کریں گے، وزیر خزانہ محمد اورنگزیب، وزیراطلاعات عطا تارڑ سمیت اہم وفاقی وزرا بھی وزیراعظم کے ہمراہ چین روانہ ہوں گے۔

    ترجمان نے کہا کہ چینی صدر شی جن پنگ اور چین کے وزیر اعظم لی کیانگ کی دعوت پر وزیراعظم چین کا دورہ کر رہے ہیں،
    وزیر اعظم کے دورے کے 3 حصے ہوں گے، بیجنگ کے علاوہ وزیر اعظم ژیان اور شینزین کے شہروں کا بھی دورہ کریں گے۔

    گزشتہ روز بیجنگ میں پاک چائنا فرئنڈ شپ اینڈ بزنس کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا
    کہ پاک چائنا فرینڈ شپ اینڈ بزنس کی تقریب سے خطاب میرے لیے اعزاز ہے۔

    وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ چین کی پیداواری صلاحیت دنیا بھر میں مشہور ہے،
    چین کی مختصر مدت میں تیز رفتار ترقی ہمارے لیے مشعل راہ ہے۔

  • ایک نیب کا سزا یافتہ شخص پلی بارگین کرکے گورنر بن گیا، چیف جسٹس

    ایک نیب کا سزا یافتہ شخص پلی بارگین کرکے گورنر بن گیا، چیف جسٹس

    (سنگ میل نیوز)چیف جسٹس آپ پاکستان نے کہا ہے کہ ایک نیب کا سزا یافتہ شخص پلی بارگین کرکے گورنر بن گیا۔
    جسٹس جمال خان مندوخیل نیب ترامیم کیس کی سماعت کے دوران بولے کہ ایک بات پر تو قوم کے لیے بیٹھ جائیں،
    جوائنٹ سیشن میں نیب قانون کو دوبارہ ٹھیک کرلیں۔ سپریم کورٹ میں قومی احتساب بیورو (نیب) ترامیم کو کالعدم قرار دینے کیخلاف حکومتی اپیلوں پر سماعت ہوئی ۔

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسٰی کی سربراہی میں 5 رکنی لارجر بینچ مقدمے کی سماعت کررہا ہے، جسٹس امین الدین،جسٹس جمال مندوخیل ،جسٹس اطہر من اللہ اور جسٹس حسن اظہر رضوی بینچ کا حصہ ہیں۔
    دوران سماعت خواجہ حارث نے عدالت کو بتایا کہ 9 اے 5 کو ترمیم کے بعد جرم کی تعریف سے ہی باہر کردیا گیا،
    جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ جسٹس منصور نے اپنے نوٹ میں لکھا کہ کیسز دیگر فورمز پر جائیں گے،

    اس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ایمنسٹی پارلیمنٹ نے نہیں دی تھی، وکیل نے بتایا کہ ایمنسٹی سے فوجداری پہلو ختم نہیں ہوا۔
    جسٹس جمال مندوخیل کا کہنا تھا کہ اربوں کی جائیداد کا غبن کرکے کروڑوں روپے کی رضاکارانہ واپسی کا اختیار بھی ایمنسٹی ہے، وکیل خواجہ حارث نے کہا کہ ایمنسٹی حکومت کی پالیسی ہے،
    جسٹس جمال خان مندوخیل نے بتایا کہ ایمنسٹی سے حکومت جو کام ختم کرسکتی ہے وہ کام پارلیمنٹ کیوں ختم نہیں کرسکتا؟

    اس پر وکیل خواجہ حارث نے کہا کہ رضاکارانہ رقم واپسی پر عملدرآمد سپریم کورٹ نے روک رکھا ہے، رضاکارانہ رقم واپسی اور پلی بارگین کی رقم کا تعین چیئرمین نیب کرتا ہے۔
    بعد ازاں وکیل خواجہ حارث کی جانب سے بحریہ ٹاؤن کراچی کیس کا حوالہ دیا گیا۔انہوں نے دریافت کیا کہ بحریہ ٹاؤن کیس میں پلی بارگین ہوئی تھی
    یا رضاکارانہ رقم واپسی؟ 460 ارب روپے کے عوض سپریم کورٹ نے ریفرنس ختم کردیے تھے۔ جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ اگر تمام مقدمات متعلقہ فورم پر چلے جائیں تو کیا کوئی اعتراض ہے؟

    وکیل نے جواب دیا کہ نیب ترامیم کالعدم کیے بغیر مقدمات منتقل نہیں ہوسکتے، جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیے کہ نیب کی 2023 ترامیم مقدمات منتقلی کے حوالے سے تھیں،
    سپریم کورٹ میں مقدمے کے دوران منتقلی سے متعلق نیب ترمیم کا جائزہ نہیں لیا۔ اس موقع پر چیف جسٹس قاضی فائز عیسی نے کہا کہ ممکن ہے نیب ترامیم کا آپ کے مؤکل کو فائدہ ہو،
    خواجہ صاحب آپ کا ریکارڈ ہے، کیس ترپن سماعتوں میں سنا گیا۔وکیل نے مزید کہا کہ ایمنسٹی پروٹیکشن آف اکنامکس ایکٹ کے تحت ہوتی ہے،

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسی نے ریمارکس دیے کہ ایک نیب کا سزا یافتہ شخص پلی بارگین کرکے گورنر بن گیا۔
    جسٹس جمال خان مندوخیل نے ریمارکس دیے کہ ایک بات پر تو قوم کے لیے بیٹھ جائیں، جوائنٹ سیشن میں نیب قانون کو دوبارہ ٹھیک کرلیں۔
    جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ خرابیوں کا مل بیٹھ کر حل نکالنا چاہیے، اس پر عدالتی معاون فاروق ایچ نائیک نے بتایا کہ صدر مملکت نے بات چیت کے ذریعے مسائل حل کرنے کی بات کی لیکن کوئی نہیں بیٹھا،
    ا
    س موقع پر چیف جسٹس نے ان سے مکالمہ کیا کہ آپ بیٹھ جائیں۔ جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ مائنڈ نا کیجئے گا آپ کو نیب پر بہت اعتماد ہے،
    کیا اب نیب ٹھیک ہوگیا ہے ؟ چیف جسٹس نے بتایا کہ نہیں اب ٹھیک نہیں ہے، نیب پہلے ٹھیک تھا۔

  • یوٹیوب پر 28 ملین بار دیکھا جانیوالا گانا’بدوبدی‘ڈیلیٹ

    یوٹیوب پر 28 ملین بار دیکھا جانیوالا گانا’بدوبدی‘ڈیلیٹ

    (سنگ میل نیوز)یوٹیوب پر 28 ملین بار دیکھا جانیوالا گانا’بدوبدی‘ڈیلیٹ کردیا گیا ۔

    چاہت فتح علی خان نے اس گانے کو گایا اور وجدان راؤ اس کی ماڈل تھیں۔

    مزاحیہ انداز میں گلوکاری کرکے سوشل میڈیا پر شہرت پانے والے چاہت فتح علی خان کے مشہور گانے ’بدو بدی‘ کو یوٹیوب نے ڈیلیٹ کردیا۔

    چاہت فتح علی خان کا یہ گانا ماضی کے مقبول گانے ’اکھ لڑی بدو بدی‘ کا ری میک تھا جس نے یوٹیوب پر دیکھتے ہی دیکھتے 28 ملین ویوز حاصل کر لیے تھے۔

    یہ گانا ناصرف پاکستانی سوشل میڈیا صارفین اپنی ریلز (مختصر ویڈیوز) پر لگارہے تھے بلکہ بھارتی صارفین سمیت چند بھارتی اداکاروں نے بھی اس پر ویڈیوز بنائیں،

    تاہم اس وائرل گانے بدو بدی کو اب یوٹیوب سے ڈیلیٹ کر دیا گیا ہے جس کی وجہ کاپی رائٹ ہے۔

    کہ یوٹیوب کی جانب سے چاہت فتح علی خان کے گانے بدو بدی کو غیر قانونی طور پر گانے اور اپنے یوٹیوب چینل پر اپلوڈ کرنے کے نتیجے میں حذف کیا گیا ہے۔

    یاد رہے کہ چاہت فتح علی خان نے اپنے متعدد گانوں کے بعد بدو بدی گزشتہ ماہ ریلیز کیا تھا،

    معروف پنجابی گانا ’اکھ لڑی بدو بدی‘ ملکہ ترنم نور جہاں کی ملکیت ہے جسے چاہت فتح علی خان نے بغیر اجازت کے گایا اور یوٹیوب پر اپلوڈ کیا تھا۔

  • روپے کے مقابلے میں ڈالر کی قدر میں معمولی اضافہ

    روپے کے مقابلے میں ڈالر کی قدر میں معمولی اضافہ

    (سنگ میل نیوز)انٹربینک میں پاکستانی روپے کے مقابلے میں امریکی ڈالر آج بھی معمولی مہنگا ہوا۔

    کرنسی ڈیلرز کے مطابق انٹر بینک میں امریکی کرنسی کی قیمت میں 20 پیسے کا اضافہ ہوا جس کے بعد انٹر بینک میں ڈالر 278 روپے 50 پیسے پر فروخت ہو رہا ہے،

    گزشتہ روز کاروبار کے اختتام پر ڈالر 278 روپے 30 پر بند ہوا تھا، اوپن مارکیٹ میں بھی ڈالر کا بھاؤ 279 روپے 59 پیسے برقرار ہے۔

    اسٹاک ایکسچینج میں مثبت رجحان رہا ، 100 انڈیکس میں 263 پوائنٹس کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا جس سے انڈیکس 74 ہزار 482 پوائنٹس کی سطح پر پہنچ گیا۔

  • نیب ترامیم کالعدم قرار دینے کیخلاف اپیل,کونسا بنیادی حق نیب ترامیم سے متاثر ہوا؟ چیف جسٹس

    نیب ترامیم کالعدم قرار دینے کیخلاف اپیل,کونسا بنیادی حق نیب ترامیم سے متاثر ہوا؟ چیف جسٹس

    (سنگ میل نیوز)سپریم کورٹ میں قومی احتساب بیورو (نیب) ترامیم کو کالعدم قرار دینے کیخلاف حکومتی اپیلوں پر سماعت کا آغاز ہوگیا ،
    سابق وزیر اعظم عمران خان کو بذریعہ ویڈیو لنک عدالت میں پیش کردیا گیا ، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے دریافت کیا کہ کونسا بنیادی حق نیب ترامیم سے متاثر ہوا ہے؟
    چیف جسٹس قاضی فائز عیسٰی کی سربراہی میں 5 رکنی لارجر بینچ مقدمے کی سماعت کررہا ہے،

    جسٹس امین الدین،جسٹس جمال مندوخیل ،جسٹس اطہر من اللہ اور جسٹس حسن اظہر رضوی بینچ کا حصہ ہیں۔
    سماعت کے آغاز پر عمران خان کے وکیل فاروق ایچ نائیک نے بتایا کہ میں نے اپنی تحریری معروضات تیار کر لی ہیں،
    چیف جسٹس قاضی فائز عیسی نے ریمارکس دیے کہ آپ اپنی معروضات عدالت میں جمع کروا دیں،

    کیا آپ فیصلے کو سپورٹ کر رہے ہیں ؟ فاروق ایچ نائیک نے بتایا کہ میں جسٹس منصور علی شاہ کے نوٹ کو سپورٹ کر رہا ہوں۔
    چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کیا آپ مخدوم علی خان کے دلائل کو اپنا رہے ہیں؟ فاروق ایچ نائیک نے بتایا کہ میرا مؤقف وہی ہے
    لیکن دلائل اپنے ہیں، میں نے تحریری معروضات میں عدالتی فیصلے کے مختلف نکات کی نشاندہی کی ہے،

    میں نے سپریم کورٹ فیصلے پر اپنے دلائل تحریر کئے ہیں۔ فاروق ایچ نائیک کے بعد عدالتی معاون وکیل خواجہ حارث روسٹرم پر آگئے،
    خواجہ حارث نے دلائل کا آغاز کردیا، اس موقع پر چیف جسٹس نے ان سے استفسار کیا کہ بتائیں کونسا بنیادی حق نیب ترامیم سے متاثر ہوا ہے؟
    وکیل خواجہ حارث نے بتایا کہ مرکزی کیس میں بنیادی حقوق کی خلاف ورزی تفصیل سے بتا چکا ہوں، نیب ترامیم آرٹیکل 9،14 ،25 اور 24 کی خلاف ورزی ہیں۔

    خیال رہے کہ 30 مئی کو سپریم کورٹ میں قومی احتساب بیورو (نیب) ترامیم کے خلاف درخواستوں پر سماعت کے دوران سابق وزیر اعظم عمران خان نے کہا تھا کہ مجھے قید تنہائی میں رکھا ہوا ہے،
    اس پر گزشتہ سماعت پر چیف جسٹس قاضی فائز عیسی نے ریمارکس دیئے تھے کہ اگر آرڈیننس لانے ہیں تو پھر پارلیمان کو بند کر دیں۔
    سپریم کورٹ میں نیب ترمیم کیس کی سماعت کے آغاز پر سابق وزیر اعظم عمران خان کو ویڈیو لنک کے ذریعے عدالت میں پیش کیا گیا،

    عمران خان نے نیلے رنگ کی قمیض پہنی ہوئی تھی، وہ تقریباً ڈھائی گھنٹے تک جاری رہنے والی سماعت میں حاضر رہے،
    14 مئی کو سپریم کورٹ نے قومی احتساب بیورو ترامیم کو کالعدم قرار دینے کے خلاف سماعت کے دوران سابق وزیر اعظم عمران خان کو بذریعہ وڈیولنک پیش ہونے کی اجازت دی تھی۔
    چیف جسٹس پاکستان نےخواجہ حارث سے مکالمہ چیف جسٹس پاکستان نےخواجہ حارث سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ کیا نیب قانون درست ہے،

    عدالتی معاون خواجہ حارث نے جواب دیا کہ کچھ نیب ترامیم کو چیلنج کیا گیا تھا،چیف جسٹس نے استفسارکیا کہ نیب قانون کب وجود میں آیا کس کی حکومت تھی،
    وکیل خواجہ حارث نے جواب دیا کہ پرویز مشرف کے دور میں 1999 میں نیب کا ادارہ قائم کیا گیا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ بولے کہ کیا کرپٹ سیاست دانوں کو باہر کرنے کیلئے نیب قانون بنایا گیا.
    نیب قانون میں ججز اور جرنیلوں سمیت کچھ لوگوں کو استثنی دیا گیا،کیا صرف سیاست دانوں کی کرپشن ختم کرنا تھی،جب پی ٹی آئی کی حکومت تھی تو نیب قانون کو کیوں تبدیل نہیں کیا۔

    وکیل خواجہ حارث نے بتایا کہ مشرف سے پہلے بھی احتساب ایکٹ موجود تھا،جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دئیے کہ صرف منتخب پبلک آفس ہولڈرز پر نائب کا اختیار کیوں رکھا گیا،
    غیر منتخب پبلک آفس ہولڈرز پر کیوں نیب کا اختیار نہیں رکھا گیا؟چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ کیا آپ صرف سیاسی احتساب چاہتے ہیں؟
    وکیل خواجہ حارث بولے کہ ہم نے نیب آرڈیننس 1999 چیلنج نہیں کیا، ہم نے نیب ترامیم 2022 چیلنج کی تھیں، نیب ترامیم اس لیے کی گئیں کیونکہ مخصوص سیاسی رہنما اس وقت سلاخوں کے پیچھے تھے۔

    چیف جسٹس پاکستان نے ریمارکس دئیے کہ صرف سیاست دانوں کو نیب کے دائرہ اختیار میں کیوں رکھا گیا یہ سمجھ سے بالاتر ہے،خواجہ حارث نے جواب دیا کہ انٹرا کورٹ اپیلوں کے قابل سماعت ہونے پر دلائل دوں گا،سپریم کورٹ میں مرکزی درخواست قابل سماعت تھی ، جسٹس اطہر من اللہ کا خواجہ حارث سے استفسار میں کہنا تھا کہ کیا آپ کو نیب پر مکمل اعتماد ہے،وکیل خواجہ حارث بولے کہ میں دلائل دوں گا کہ مرکزی کیس میں اقلیتی رائے درست نہیں تھی،جسٹس اطہر من اللہ نے پھر استفسار کیا کہ کیا آپ 90 دنوں کے نیب ریمانڈ سے مطمئن ہیں،کیا آپ 500 ملین سے کم کرپشن پر بھی نیب کاروائی کے حامی ہیں۔

    منتخب نمائندے کے پاس پبلک فنڈز تقسیم کرنے کا اختیار کہاں ہوتا ہے کوئی ایک مثال بتائیں،جسٹس اطہرمن اللہ وکیل خواجہ حارث نے جواب دیا کہ عوامی نمائندوں کے احتساب سے مراد صرف منتخب نمائندوں کا احتساب نہیں،جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دئیے کہ اگر کسی محکمے میں کرپشن ہوتی ہے تو ذمہ دار پرنسپل اکاؤنٹنگ آفیسر ہوتا ہے، منتخب نمائندے کے پاس پبلک فنڈز تقسیم کرنے کا اختیار کہاں ہوتا ہے کوئی ایک مثال بتائیں، جسٹس جمال مندوخیل بولے کہ کوئی منتخب نمائندہ یا وزیر متعلقہ سیکرٹری کی سمری کے بغیر کوئی منظوری نہیں دیتا۔ وکیل خواجہ حارث میں کوئی ایسا بیان تو نہیں دینا چاہتا کہ سیاستدان کرپٹ ہوتا ہے،

    جسٹس جمال مندوخیل نے ریمارکس دئیے ہیں کہ کیا کوئی سیکرٹری سمری میں لکھ دے کے یہ چیز رولز کے خلاف ہے تو وزیر منظوری دے سکتا ہے؟وکیل خواجہ حارث نے کہا ہے کہ نہیں مگر اس کے باوجود کرپشن ہوتی ہے،دبئی لیکس اور جعلی اکاؤنٹس ہمارے سامنے ہیں، جسٹس جمال مندوخیل بولے کہ کیا ہم زخم ٹھیک کریں مگر وجہ نہ دیکھیں۔چیف جسٹس پاکستان نے ریمارکس دئیے کہ آپ جو دلائل دینا چاہتے ہیں وہ دیں باقی نوٹ کروا دیں ہم پڑھ لیں گے،آپ بتائیں آپ کو کتنا وقت درکار ہوگا؟ وکیل خواجہ حارث نے جواب دیا کہ میں دلائل میں تین گھنٹے سے زیادہ وقت لوں گا،میں بتاؤں گا نیب ترامیم کا معاملہ بنیادی حقوق سے کیسے جڑا ہے،

    بینظیر کیس میں طے ہوا تھا درخواستگزار کی مرضی ہے وہ مفاد عامہ پر ہائیکورٹ یا سپریم کورٹ سے رجوع کرے،دونوں فورمز پر ایک ساتھ درخواست دائر کرنے پر پابندی ہے،بانی پی ٹی آئی کی درخواست پر ہائیکورٹ کے بجائے سپریم کورٹ آنے پر اعتراض نہیں بنتا تھا،جیف جسٹس پاکستان بولے کہ اسلام آباد ہائیکورٹ میں درخواست پھر کس نے دائر کی تھی۔ پس منظر واضح رہے کہ گزشتہ سال 15 ستمبر کو سپریم کورٹ آف پاکستان نے سابق وزیر اعظم اور چیئرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان کی نیب ترامیم کے خلاف دائر درخواست پر محفوظ فیصلہ سناتے ہوئے کئی شقیں کالعدم قرار دے دے دی تھیں،

    سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں عوامی عہدوں پر فائز شخصیات کے خلاف کرپشن کیسز بحال کردیے جب کہ نیب کو 50 کروڑ روپے سے کم مالیت کے کرپشن کیسز کی تحقیقات کی اجازت دے دی گئی ہے۔
    فیصلے کے مطابق صرف کیسز نہیں، انکوائریز اور انویسٹی گیشنز بھی بحال کردی گئی تھیں، فیصلے میں نیب عدالتوں سے ترمیم کے بعد کالعدم قرار دیے گئے کیسز بھی بحال کردیے گئے تھے۔
    اس کے علاوہ سپریم کورٹ نے حکم دیا کہ کرپشن کے ختم کیے گئے ‏تمام مقدمات کو احتساب عدالتوں میں ایک ہفتے کے اندر دوبارہ لگایا جائے،

    فیصلے میں کہا گیا تھا کہ کالعدم قرار دی شقوں کے تحت نیب قانون کے تحت کارروائی کرے، آمدن سے زیادہ اثاثہ جات والی ترامیم سرکاری افسران کی حد تک برقرار رہیں گی، پلی بارگین کے حوالے سے کی گئی نیب ترمیم کالعدم قرار دی جاتی ہیں۔ فیصلے میں احتساب عدالتوں کے نیب ترامیم کی روشنی میں دیے گئے احکامات کالعدم قرار دیے گئے تھے،بعد ازاں 17 اکتوبر کو وفاقی حکومت نے قومی احتساب آرڈیننس (این اے او) کو غیر قانونی قرار دینے والی نیب ترامیم کے حوالے سے سپریم کورٹ کے 15 ستمبر کے فیصلے کو چیلنج کردیا تھا۔

  • ٹی 20 ورلڈکپ،پاکستان اپنا پہلا میچ آج کھیلے گا،قومی ٹیم کا امتحان،امریکا کیخلاف کامیاب ہوپائیں گے؟

    ٹی 20 ورلڈکپ،پاکستان اپنا پہلا میچ آج کھیلے گا،قومی ٹیم کا امتحان،امریکا کیخلاف کامیاب ہوپائیں گے؟

    (سنگ میل نیوز)آئی سی سی ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں قومی ٹیم اپنا پہلا میچ آج میزبان امریکہ کے خلاف کھیلے گی،
    پاکستان ٹیم اور امریکہ کے درمیان ڈلاس میں ہونے والا میچ رات ساڑھے آٹھ بجے شروع ہو گا۔
    ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں قومی ٹیم آج اپنا کھاتہ کھولے گی ۔

    پاکستان امریکا کے ساتھ ٹکرائے گا،قومی ٹیم کو عماد وسیم فٹنس مسائل کے باعث دستیاب نہیں ہوں گے،
    بابراعظم مسلسل تیسرے ٹی ٹونٹی ورلڈ کپ میں پاکستان ٹیم کی قیادت کر رہے ہیں۔
    پاکستان ٹیم میں ابرار احمد، اعظم خان، محمد عباس آفریدی، صائم ایوب اور عثمان خان پہلی مرتبہ ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کھیل رہے ہیں۔

    دوسری جانب کھلاڑیوں کے ورلڈ کپ کے انتظامات کے حوالے سے سوالات اٹھائے جارہے ہیں ۔
    سری لنکا اور جنوبی افریقہ کے بعد چئیرمین پی سی بی کا پاکستان ٹیم کے ہوٹل سمیت دیگر سہولیات پر تحفظات کا اظہار کیا ہے،
    چئیرمین پی سی بی کی مداخلت پر پاکستان ٹیم کا ہوٹل تبدیل کردیا گیا ہے۔

    چئیرمین پی سی بی نے آئی سی سی کو پاکستان ٹیم کو بہتر اور آرام دہ سہولیات کی فراہمی کیلئے تنبیہ کی ہے۔
    نو جون کو نیو یارک میں پاکستان روایتی حریف بھارت کے مدمقابل ہوگا،
    گیارہ جونکو نیویارک ہی میں پاکستان کا تیسرا میچ کینیڈا سے ہوگا،سولہ جون کو پاکستان فلوریڈا میں آئرلینڈ کے خلاف گروپ اے میں اپنا آخری میچ کھیلے گا،

    سپر ایٹ مرحلے کے لیے کوالیفائی کرنے کی صورت میں پاکستان کے تین میچ 19 سے23 جون تک انٹیگا اور بارباڈوس میں ہوں گے۔
    یاد رہے کہ آج کے لائیو کرکٹ میچز میں4 شو ہیں۔آئی سی سی ٹی20 ورلڈکپ 2024 میں جمعرات 6 جون کو پاکستانی اوقات کار کے مطابق نہایت بزی شیڈول ہے۔
    آج صبح ساڑھے 4 بجے سے یہ سلسلہ شروع ہوگا کہ رات گئے تک پاکستان کا میچ ہوگا،اس کے بعد آدھی رات کو تاریخ بدلتے ہی رات 12 بجے ایک میچ ہوگا۔

    یوں کل ملا کر 4 میچز ہونے جارہے ہیں۔24 گھنٹوں میں 4 میچز ہونگے۔پاکستان امریکا کا میچ بھی ساتھ ہے۔
    میزبان ملک فارم میں ہے،کینیڈا کے خلاف 195 رنزکا ہدف حاصل کرگئے تھے۔ڈراپ ان پچز پر پاکستان رسک پر ہوگا لیکن ہر ایک پاکستان کی جیت پر یقین رکھے گا
    لیکن امریکا کی جی حضوری ویسے تو ہر محاذ پر ہر وقت رہی ہے لیکن دنیا پر گزشتہ 24 ماہ میں جو کچھ واضح ہوا ہے۔اس کے بعد پاکستان کرکٹ ٹیم کی بڑی جسارت ہوگی،اگر وہ امریکا کو شکست دے دے۔

    پاکستان جیسی ٹیم کیلئے امریکا بھی بڑا خطرہ ہے،اس کی وجہ ہے پاکستان کی بے اعتباری ہے،
    امریکا کی کینیڈا جیسی ٹیم کے خلاف بے دھڑک کامیابی ہے،پچز کا بہترین تعارف اور پاکستانی پلیئرزکی عدم واقفیت ہے،
    امریکا کے خلاف ٹف مقابلہ ہوگا۔بہتر موسم کی پیش گوئی ہے۔میچ مکمل ہوگا۔شاداب خان کھلائے جائیں گے۔عماد وسیم دستیاب نہیں۔

  • عوام کو ایک اورجھٹکا، بجلی 3 روپے 33 پیسے فی یونٹ مہنگی

    عوام کو ایک اورجھٹکا، بجلی 3 روپے 33 پیسے فی یونٹ مہنگی

    (سنگ میل نیوز)جائیں تو جائیں کہاں؟،حکومت نے ایک بار پھر مہنگائی کے ستائے عوام پر بجلی بم گراتے ہوئے

    قیمتوں میں 3 روپے33 پیسے فی یونٹ اضافہ کر دیا۔ نیپرا ذرائع کے مطابق بجلی کی قیمتوں میں اضافہ ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کی مد میں کیا گیا ہے،

    بجلی کی قیمتوں میں اضافے کا اطلاق رواں ماہ کے بلوں پر ہو گا، صارفین سے 3 روپے 33 پیسے فی یونٹ اضافہ ایک ماہ میں وصول کیا جائے گا۔

    ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ بجلی کی قیمتوں میں اضافے کا اطلاق کے الیکٹرک اور لائف لائن صارفین پر نہیں ہو گا،نیپرا نے بجلی کی قیمتوں میں اضافے کا نوٹیفکیشن بھی جاری کردیا۔

  • نیب ترمیم کیخلاف درخواست کے قابل سماعت ہونے سے متعلق فیصلہ محفوظ

    نیب ترمیم کیخلاف درخواست کے قابل سماعت ہونے سے متعلق فیصلہ محفوظ

    (سنگ میل نیوز)لاہور ہائی کورٹ نے نیب ترمیم کیخلاف درخواست کے قابل سماعت ہونے سے متعلق فیصلہ محفوظ کر لیا۔

    نیب قانون میں صدارتی آرڈیننس کے ذریعے ترمیم کیخلاف درخواست پر سماعت ہوئی،جسٹس شجاعت علی خان نے شہری منیر احمد کی درخواست پر سماعت کی۔

    درخواست گزار کے وکیل نے کہا کہ صدارتی آرڈیننس کیخلاف عدالت حکم امتناع جاری کرے۔

    دوسری جانب سپریم کورٹ میں نیب ترامیم کالعدم قرار دینے کیخلاف کیس کی سماعت آج ہوگی ،

    چیف جسٹس کی سربراہی میں پانچ رکنی لارجر بنچ ساڑھے گیارہ بجے سماعت کرے گا ۔

    جسٹس امین الدین،جسٹس جمال مندوخیل، جسٹس اطہر من اللہ ،جسٹس حسن اظہر رضوی بھی پانچ رکنی لارجر بنچ کا حصہ ہیں،

    بانی پی ٹی آئی اڈیالہ جیل سے ویڈیو لنک پر عدالت میں پیش ہوں گے۔ سپریم کورٹ کیس کی کارروائی براہ راست نشر کرنے کی درخواست مسترد کر چکی ہے۔

  • سول آرمڈ فورسز کی تنخواہوں میں اضافے کی سفارشات منظور

    سول آرمڈ فورسز کی تنخواہوں میں اضافے کی سفارشات منظور

    (سنگ میل نیوز)وزیر داخلہ محسن نقوی کی کوششیں رنگ لے آئیں ،سول آرمڈ فورسز کی تنخواہوں میں اضافے کی سفارشات کو وزیراعظم کی طرف سے منظوری مل گئی ۔

    تفصیلات کے مطابق سول آرمڈ فورسز کی تنخواہوں میں اضافے کی سمری وزیر اعظم کو دی گئی تھی ،

    وزیراعظم اور آرمی چیف کی موجودگی میں سول آرمڈ فورسز کے اجلاس میں بھی محسن نقوی نے تنخواہوں میں اضافے کا معاملہ اٹھایا تھا ،وفاقی حکومت کارینجرزاورایف سی کی تنخواہیں پاک فوج کے برابرکرنےکافیصلہ،

    وزیراعظم نےسول آرمڈ فورسزکی تنخواہوں میں اضافے کی اجازت دے دی۔ سول آرمڈ فورسز کی تنخواہوں میں 55.76 فیصد تک اضافہ بنےگا،سول آرمڈ فورسز کی تنخواہوں

    میں زیادہ سےزیادہ اضافہ31 ہزار810 روپے تک ہوگا،رینک کےحساب سےتنخواہوں میں اضافہ مختلف،اوسط اضافہ کم بنےگا،

    تنخواہوں میں اضافہ پنجاب رینجرز اورسندھ رینجرز کے لیےہوگا ،ایف سی نارتھ اورایف سی ساوتھ خیبر پختونخواہ کے لیےتنخواہوں

    میں اضافہ ہوگا،ایف سی نارتھ اور ایف سی ساوتھ بلوچستان کے لیےتنخواہیں بڑھیں گی ،پاکستان کوسٹ گارڈز،جی بی اسکاوٹس،فرنٹیئر کانسٹیبلری کی تنخواہوں میں اضافہ ہوگا۔