Deprecated: Creation of dynamic property EPS_Redirects_Plugin::$settings is deprecated in /home2/sangemee/public_html/wp-content/plugins/eps-301-redirects/plugin.php on line 55

Warning: Cannot modify header information - headers already sent by (output started at /home2/sangemee/public_html/wp-content/plugins/eps-301-redirects/plugin.php:55) in /home2/sangemee/public_html/wp-content/themes/twentytwentyfive/functions.php on line 296
دلچسپ و عجیب – Page 37 – Sange Meel News: Latest news, breaking news, Pakistan

Category: دلچسپ و عجیب

  • 5 سال سےدھوپ میں نکلنا منع ہے اسلیے رات کوخاتون سے ملنے گیا، خلیل الرحمن قمر

    5 سال سےدھوپ میں نکلنا منع ہے اسلیے رات کوخاتون سے ملنے گیا، خلیل الرحمن قمر

    لاہور: رائٹر اور ڈرامہ نگار خلیل الرحمن قمر کا کہنا ہے کہ ڈاکٹر نے دھوپ میں نکلنے سے منع کیا ہے اس لیے خاتون سے رات کو ملنے گیا۔

    خلیل الرحمن قمر نے لاہور میں ڈی آئی جی آپریشنز کے ساتھ پریس کانفرنس میں کہا کہ انہیں ڈاکٹر نے 5 سال سے دھوپ میں نکلنے سے منع کر رکھا ہے یہی وجہ ہے کہ خاتون سےرات کو ملنے گیا۔ میں نے میسج کرکے کسی سے کوئی زبردستی کی کوشش نہیں کی۔ مجھے علم نہیں تھا کہ وہ گھر پر اکیلی ہے۔

    خلیل الرحمن قمرنے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ ہم رات کو ملاقاتیں کرتے ہیں اور اس میں جنس کی تفریق نہیں کی جاتی کہ یہ خاتون ہے یا مرد ہے۔ میں دسیوں بار آدھی رات کو مردوں سے ملا ہوں تو کیا یہ تنظیم سازی تھی؟ میں 4 بج کر 40 منٹ پر صبح صادق کے وقت خاتون سے ملا تھا۔ میں 27 سال سے دیکھ رہا ہوں کہ ہمارے شوبز میں جو لڑکیاں ہیں وہ کس طرح کے لباس پہنتی ہیں اور کس طرح کی گفتگو کرتی ہیں۔میرے لیے کچھ نیا نہیں ہے۔

    خلیل الرحمان قمر کے اغواء میں ملوث 12 ملزمان کو گرفتار کیا گیا تھا۔ گرفتار ملزمان میں آمنہ عروج، ممنون حیدر، ذیشان قیوم، جاوید اقبال، تنویر احمد، فلک شیر، قیصرعباس، رشید احمد، میاں خان، بابرعلی، شمائل بی بی اور مریم شہزادی شامل ہیں۔

    آمنہ نامی خاتون نے خلیل الرحمان قمر کو فون کرکے اپنے گھر بلایا تھا کہ وہ ڈرامہ بنانا چاہتی ہیں اور جب وہ خاتون کے گھر پہنچے تو مسلح افراد نے واردات کی اور اُنہیں اغواء کرلیا۔ خلیل الرحمان قمر نے اغوا کاروں کو بھاری رقم دی جس کے بعد اُنہیں چھوڑ دیا گیا۔ سندر پولیس نے واقعے کا مقدمہ خلیل الرحمان کے بیان پر درج کرلیا جس میں کہا گیا کہ ملزمان خلیل الرحمان قمر پر تشدد کرتے رہے اور اُنہیں مختلف جگہوں پر گھوماتے رہے۔ خلیل الرحمان نے کہا کہ ملزمان نے جان سے مارنے کی دھمکیاں دیتے ہوئے رشتے داروں سے پیسے منگوانے کا کہا۔

    ایف آئی آر کے مطابق ملزمان نے خلیل الرحمان قمر سے موبائل، گھڑی، نقدی چھینی اور اے ٹی ایم کارڈ سے اڑھائی لاکھ روپے بھی ٹرانسفر کیے۔ ڈرامہ نگار کا ایف آئی آر میں مزید کہنا تھا کہ ملزمان آنکھوں پر پٹیاں باندھ کر ویران جگہ پر چھوڑ کر فرار ہوگئے تھے۔

  • برطانیہ کا روشنی کی رفتار سے اہداف کو تباہ کرنے والے لیزر بیم کا تجربہ

    برطانیہ کا روشنی کی رفتار سے اہداف کو تباہ کرنے والے لیزر بیم کا تجربہ

    (سنگ میل نیوز)برطانیہ نے روشنی کی رفتار سے ا ہدا ف کو نشانہ بنانے والے لیزر بیم کا کامیاب تجربہ کرلیا۔

    برطانوی وزارت دفاع کے مطابق یہ تجربہ ایک فوجی گاڑی سے کیا گیا، لیزر بیم سے ایک کلومیٹر تک ڈرون کو نشانہ بنانا بھی ممکن ہے۔

    برطانوی حکام کہنا ہے کہ لیزر ہتھیار کے ایک وار کی قیمت چائے کے کپ سے بھی کم ہے۔

    برطانوی میڈیا کے مطابق اگر یہ ہتھیار آرمی کو استعمال کرنے کی منظوری دی جاتی ہے،تو میزائل یا گولیوں کے مقابلے میں کسی بھی قسم کے خطرات کو شکست دینے کا یہ زیادہ سستا طریقہ ہوگا۔

    یہ بھی پڑھیں:کراچی سمیت سندھ کے کن علاقوں میں بادل برسیں گے

  • انتہائی سنجیدہ مسائل کو سیاست کی بھینٹ چڑھایا جا رہا ہے: ڈی جی آئی ایس پی آر

    انتہائی سنجیدہ مسائل کو سیاست کی بھینٹ چڑھایا جا رہا ہے: ڈی جی آئی ایس پی آر

    (سنگ میل نیوز)ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف نے کہا ہے کہ انتہائی سنجیدہ مسائل کو سیاست کی بھینٹ چڑھایا جا رہا ہے،

    عزم استحکام بھی اسی کی مثال ہے۔ لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری نے نیوزکانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ اس پریس کانفرنس کا مقصد بعض اہم امور پر افواج کا مؤقف واضح کرنا ہے،

    جیسا کہ علم میں ہے کہ حالیہ کچھ عرصے میں مسلح افواج کے خلاف منظم پروپیگنڈا، جھوٹ، غلط معلومات کے پھیلاؤ اور ان سے منسوب من گھڑت خبروں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے

    اس لیے ان معاملات پر بات کرنا ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ عزم استحکام آپریشن کاؤنٹر ٹیررازم کے حوالے سے منظم مہم ہے، انتہائی سنجیدہ مسائل کو بھی ہم سیاست کی بھینٹ چڑھا رہے ہیں،

    عزم استحکام آپریشن بھی اس کی ایک مثال ہے، عزم استحکام آپریشن ایک ہمہ گیر اور مربوط آپریشن ہے، 22جون کو عزم استحکام آپریشن پر ایک اعلامیہ جاری ہوا، اجلاس میں متعلقہ وزرا،وزرائے اعلیٰ،چیف سیکرٹریز موجود تھے۔

    ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ 22جون کو اجلاس کے بعد اعلامیہ جاری ہوتا ہے،

    ایپکس کمیٹی نے 2021کے نظر ثانی شدہ نیشنل ایکشن پلان میں پیشرفت کاجائزہ لیا، ایپکس کمیٹی کے اجلاس میں سول اور ملٹری افسران بھی شریک تھے،

    اعلامیہ کے مطابق ایپکس کمیٹی میں ماضی میں کیے گئے آپریشنز کا موازنہ کیا گیا، اعلامیہ میں کہا گیا کہ قومی اتفاق رائے سے کاؤنٹر ٹیررازم شروع کی جائے، ایک بیانیہ بنایا گیا کہ ہم اس کی مخالفت کرتے ہیں،

    یہ قومی بقا کا ایشو ہے جس کو ہم مذاق بنالیتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ فیصلہ ہو اکہ دہشت گردی کے خلاف مہم کو عزم استحکام کے نام سے منظم کیا جائے گا،

    اعلامیہ میں لکھا گیا کہ ایک قومی دھارے کے تحت اتفاق رائے پیدا کیا جائے گا، یہ قومی وحدت کا معاملہ ہے اس کو بھی سیاست کی نذر کیا جاتا ہے۔

    ڈی جی آئی ایس پی آر نے عزم استحکام آپریشن کے حوالے سے بتایا کہ اس آپریشن کا ایک مقصد دہشتگردوں اور کریمنل مافیا کے رابطے کو بریک کرنا ہے،

    24جون کو وزیراعظم کا اعلامیہ واضح ہے کہ پہلے نوگوایریازاس وجہ سے ڈسپلیسمنٹ ہوئی، عزم استحکام آپریشن پر بحث اور متنازعہ کیوں کیا جارہا ہے؟ لابیز چاہتی ہیں نیشنل ایکشن پلان کے اغراض ومقاصد پورے نہ ہوں۔

    ان کا کہنا تھا کہ کاؤنٹر ٹیررازم کی مد میں اس سال سکیورٹی فورسز نے مجموعی طور پر اب تک 22 ہزار 409 انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کیے، اس دوران 398 دہشتگردوں کو جہنم واصل کیا گیا،

    دہشتگردی کے ناسور سے نمٹنے کے لیے روزانہ 112 سے زائد آپریشن افواج پاکستان، پولیس، انٹیلیجنس ایجنسی اور دیگر قانون نافذ کرنے والے ادارے انجام دے رہے ہیں۔

    ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ اس کے دوران انتہائی مطلوب 31 دہشتگردوں کی ہلاکتیں ہوئی ہیں، رواں سال 137 افسر اور جوانوں نے ان آپریشن میں جام شہادت نوش کیا،

    پوری قوم ان بہادروں کو خراج تحسین پیش کرتی ہے جنہوں نے قیمتی جانیں ملک کی امن و سلامتی پر قربان کی ہیں۔

  • ملک کے مختلف علاقوں میں بارش ،لاہور جل تھل،مزید بارشوں کا الرٹ جاری ،انتظامیہ کو چوکس رہنے کا حکم

    ملک کے مختلف علاقوں میں بارش ،لاہور جل تھل،مزید بارشوں کا الرٹ جاری ،انتظامیہ کو چوکس رہنے کا حکم

    (سنگ میل نیوز)لاہور سمیت ملک کے مختلف علاقوں میں بارش، صوبائی دارالحکومت میں جل تھل ایک ہو گیا،

    قصور،گوجرانوالہ، اٹک، ٹیکسلا اور دیگر شہروں میں بھی ابر کرم برس پڑے، اسلام آباد، راولپنڈی میں بادل کھل کر برسے،کراچی میں بھی بوندا باندی کے بعد موسم خوشگوار ہو گیا،

    این ڈی ایم اے نے آئندہ تین روز تک بارشوں کے باعث ہنگامی صورتحال کا الرٹ جاری کردیا۔

    لاہور شہر اور گردونواح میں بارش ہونے سے موسم خوشگوارہوگیا،بارش سے شہریوں کے مرجھائے چہرے کھل اٹھے،لاہور کے نشیبی علاقے پانی میں ڈوب گئے،انتظامیہ پانی نکالنے میں مصروف نظر آئی ۔

    محکمہ موسمیات کے بعد شہر کا موجودہ درجہ حرارت 27 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا ۔زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 36 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ،ہوا میں نمی کا تناسب 87 فیصد ریکار ڈکیاگیا،

    آئندہ 24 گھنٹوں کے دوران تیز بارش متوقع ہے۔ ادھر لاہورکے کئی علاقوں میں بجلی غائب ہو گئی،لیسکو کے 260 سے زائد فیڈرز ٹرپ کر گئے،فیڈرز ٹرپ ہونے سے مختلف علاقوں میں بجلی کی سپلائی معطل ہوگئی ہے۔

    بجلی کی فراہمی معطل ہونے سے صارفین کو مشکلات کا سامنا ہے۔ پی ڈی ایم اے نے الرٹ جاری کیا ہے کہ پنجاب کے مختلف اضلاع میں مزید بارش ہوگی۔

    ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے متعلقہ محکمے الرٹ رہیں،ڈی جی پی ڈی ایم اے کا کہنا ہے کہ ڈسٹرکٹ ایمرجنسی آپریشن سنٹرز کو بھی الرٹ کر دیا گیا ہے،

    پی ڈی ایم اے کنٹرول روم میں صورتحال کی مانیٹرنگ 24/7 جاری ہے،1122سمیت دیگر ریسکیو ادارے مشینری سمیت عملے کو الرٹ رکھیں،نشیبی علاقوں سے پانی کی نکاسی کو جلد از جلد ممکن بنائیں،

    شہری مدد کیلئے پی ڈی ایم اے کی ہیلپ لائن 1129 پر کال کر سکتے ہیں۔ کراچی کے علاقوں میں بھی بارش ہوئی ۔نیو کراچی، نارتھ کراچی، سرجانی ٹاؤن، فیڈرل بی ایریا، دستگیر،کریم آباد، لیاقت آباد میں بوندا باندی ہوئی۔

    یہ بھی پرھیں: سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد پارٹی پوزیشن تبدیل،حکمران اتحاد کی دوتہائی اکثریت چھن گئی.

    شہر میں تیز سمندری ہوائیں بھی چلنا شروع ہوگئیں۔ محکمہ موسمیات کے مطابق آج ملک کے بیشترعلاقوں میں موسم گرم اور مرطوب رہنے کا امکان ہے۔

    البتہ خیبر پختونخوا، شمال مشرقی پنجاب، اسلام آباد، کشمیر اور گلگت بلتستان میں چند مقامات پر تیزہواؤں اور گرج چمک کے ساتھ بارش متوقع ہے۔

  • فوجی عدالتوں میں شہریوں کا ٹرائل، انسانوں کے ساتھ غیر انسانی برتاؤ نہ کریں، سپریم کورٹ

    فوجی عدالتوں میں شہریوں کا ٹرائل، انسانوں کے ساتھ غیر انسانی برتاؤ نہ کریں، سپریم کورٹ

    (سنگ میل نیوز )سپریم کورٹ میں فوجی عدالتوں میں شہریوں کے ٹرائل کے خلاف کیس کی سماعت کے دوران جسٹس عرفان سعادت نے کہا کہ انسانوں کے ساتھ غیر انسانی برتاؤ نہ کریں۔

    جسٹس امین الدین کی سربراہی میں 7 رکنی لارجر بینچ نے کیس کی سماعت کی,سماعت کے آغاز پر اٹارنی جنرل منصور اعوان روسٹرم پر آگئے،

    انہوں نے بتایا کہ ملزموں کے ساتھ میٹنگ فکس ہیں، صرف لاہور میں ملاقات کا مسئلہ بنا تھا، حسان نیازی لاہور میں ہیں، میں نے متعلقہ حکام کو تجویز دے دی ہیں،

    اس پر جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ اگر تفتیش مکمل ہوگئی تو جوڈیشل کسٹڈی میں کیوں ہیں؟ پھر تو معاملہ ہی ختم ہوگیا، انسانوں کے ساتھ انسانوں والا سلوک کریں،

    جسٹس عرفان سعادت نے ریمارکس دیے کہ انسانوں کے ساتھ غیر انسانی برتاؤ نہ کریں۔ اس موقع پر وکیل لطیف کھوسہ نے بتایا کہ میاں عباد فاروق فوجی تحویل میں ہیں،

    ان کے 5 سال کے بیٹے کی وفات ہوئی ہے مگر اس کے باوجود بھی میاں عباد فاروق کو ملاقات کی اجازت نہیں دی گئی،اٹارنی جنرل نے یقین دہانی کروائی کہ آج ان کی ملاقات ہو جائے گی،

    آج حفیظ اللہ نیازی صاحب کی بھی اپنے بیٹے سے ملاقات ہونی ہے۔ بعد ازاں جسٹس محمد علی مظہر نے استفسار کیا کہ کیا ہر سماعت پر ہمارا آرڈر درکار ہے؟ جسٹس جمال مندوخیل نے دریافت کیا

    کہ ملزمان کا اگر جسمانی ریمانڈ ختم ہو گیا ہے تو وہ جیل میں کیوں نہیں ہیں ؟ اٹرانی جنرل نے بتایا کہ ملٹری کورٹس میں جوڈیشل ریمانڈ نہیں دیا جاتا، اس پر جسٹس جمال مندوخیل نے دریافت کیا

    کہ اہل خانہ سے ملاقاتیں کرانے کے لیے فوکل پرسن کون ہے؟ اس موقع پر ڈائریکٹر لا بریگیڈیئر عمران عدالت میں پیش ہوئے۔ انہوں نے عدالت کو آگاہ کیا کہ ایک نمبر ملزمان کے اہلخانہ کو دیا گیا ہے

    جس پر وہ رابطہ کرسکتے ہیں، وہ نمبر ہر وقت رابطے کیلئے میسر رہتا ہے،جسٹس حسن اظہر رضوی نے دریافت کیا کہ آپ کے پاس کوئی تفصیلات ہیں ملزموں کے اہلخانہ سے متعلق؟

    ڈائریکٹر لا نے جواب دیا کہ میرے پاس اس وقت تفصیلات نہیں ہیں، جسٹس حسن اظہر علی نے مزید کہا کہ جن کے بچے کی وفات ہوئی ہے انہیں اہلخانہ سے فوری طور پر ملوایا جائے۔

    بعد ازاں اٹارنی جنرل نے وفاقی حکومت کی جانب سے دلائل کا آغاز کر دیا۔ جسٹس امین الدین خان نے اٹارنی جنرل سے دریافت کیا کہ زیر حراست افراد کی اہلخانہ سے ملاقات کیوں نہیں کرائی جا رہی؟

    اٹارنی جنرل منصور اعوان نے بتایا کہ متعلقہ حکام کو بتایا تھا کہ ملاقات کرانے کا حکم عدالت کا ہے، تسلیم کرتا ہوں کہ ملاقاتوں کا سلسلہ نہیں رکنا چاہیے تھا، آج 2 بجے زیرحراست افراد کو اہلخانہ سے ملوایا جائے گا۔

    جسٹس جمال مندوخیل نے استفسار کیا کہ جن سے تفتیش مکمل ہوچکی وہ جیلوں میں کیوں نہیں بھیجے گئے؟ تفتیش کے لیے متعلقہ اداروں کے پاس ملزم رہے تو سمجھ آتی ہے،

    تفتیش مکمل ہوچکی تو ملزمان کو جیلوں میں منتقل کریں،اس پر اٹارنی جنرل نے بتایا کہ جیلوں میں منتقلی میں کچھ قانونی مسائل بھی ہیں، جسٹس عرفان سعادت خان نے ریمارکس دیے

    کہ انسانوں کے ساتھ غیرانسانی سلوک نہیں ہونا چاہیے۔ اس موقع پر جسٹس شاہد وحید اور جسٹس محمد علی مظہر کے درمیان جملوں کا تبادلہ ہوا، جسسٹس شاہد وحید نے کہا کہ آپ ہمیں غلط دکھائے بغیر ہم سے نیا اور الگ فیصلہ چاہتے ہیں،

    جسٹس محمد علی مظہر نے بتایا کہ اپیل میں اگر کیس آیا ہے، تو پھر سب کچھ کھل گیا ہے، جسٹس شاہد وحید نے کہا کہ یہ نکتہ نظر میرے ساتھی کا ہوسکتا ہے میرا نہیں،ہمیں اس اپیل کا اسکوپ دیکھنا ہے۔

    اٹارنی جنرل نے کہا کہ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کی سیکشن 5 کے تحت اپیل کا اسکوپ وسیع ہے، جسٹس شاہد وحید نے استفسار کیا کہ ہم اپیل میں اس کیس کو ریمانڈ بھی کرسکتے ہیں ؟

    اٹارنی جنرل منصور اعوان نے کہا کہ آپ کے پاس ریمانڈ کرنے کا اختیار نہیں ہے۔ جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس دیئے کہ آپ یہ کیسے کہہ سکتے ہیں؟ اپیل میں فیصلہ کالعدم برقرار یا ریمانڈ کیا جاسکتا ہے،

    جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ آپ یہ کہہ رہے ہیں کہ اپیل کا اسکوپ وسیع ہے تو آگے بڑھیے ، جسٹس عرفان سعادت خان نے بتایا کہ اٹارنی جنرل صاحب ایک جواب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ یہ اپیل ہے، ریویو نہیں۔

    بعد ازاں اٹارنی جنرل نے دلائل دیئے کہ وفاق یہاں عدالت کے سامنے ایک قانون کا دفاع کرنے کھڑا ہے، عدالت کو اس بات کو سراہنا چاہیے، جس قانون کو کالعدم کیا گیا وہ ایسا تنگ نظر قانون نہیں تھا جیسا کیا گیا۔

    اس پر اٹارنی جنرل نے آرمی ایکٹ کی کالعدم شقوں سے متعلق دلائل دیئے،جسٹس شاہد وحید نے دریافت کیا کہ کیا اپیل کا حق ہر ایک کو دیا جا سکتا ہے؟ ہر کسی کو اپیل کا حق دیا گیا تو یہ کیس کبھی ختم نہیں ہوگا،

    کل کو عوام میں سے لوگ اٹھ کر آجائیں گے کہ ہمیں بھی سنیں۔ جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ ایک قانون سارے عوام سے متعلق ہوتا ہے، جسٹس شاہد وحید نے کہا کہ متاثرہ فریق ہونا ضروری ہے

    اپیل دائر کرنے کیلئے،اس پر جسٹس شاہد حید نے ریمارکس دیے کہ اٹارنی جنرل کو اختیار ہے جس وکیل سے چاہے معاونت لے سکتا ہے۔ بعد ازاں عدالت نے خواجہ حارث کو وزارت دفاع کی جانب سے دلائل دینے کی اجازت دے دی۔

    وزارت دفاع کے وکیل خواجہ حارث نے دلائل کا آغاز کریا جس پر جسٹس شاہد وحید نے استفسار کیا کہ کیا فرد جرم سے پہلے کیس ٹرانسفر ہوسکتا ہے؟ جسٹس محمد علی مظہر نے بتایا کہ کیس فرد جرم سے پہلے یا بعد میں کسی بھی وقت ٹرانسفر ہوسکتا ہے۔

    جسٹس جمال مندوخیل نے خواجہ حارث سے مکالمہ کیا کہ کیس کے دائرہ اختیار کے حوالے سے بھی ہمیں آگاہ کریں۔ اسی کے ساتھ عدالت نے کیس کی سماعت غیر معینہ مدت کیلئے ملتوی کردی،

    عدالت نے ریمارکس دیئے کہ بینچ کی دستیابی پر کیس دوبادہ سماعت کیلئے مقرر ہوگا۔

    یاد رہے کہ 8 جولائی کو سپریم کورٹ نے فوجی عدالتوں میں سویلین ٹرائل کے خلاف کیس کی سماعت کے دوران جسٹس جمال مدوخیل نے ریمارکس دیے کہ قائد اعظم نے جہاں زندگی کے آخری ایام گزارے، اسے آگ لگائی گئی۔

  • حکومت نے آئی ایس آئی کو شہریوں کی فون کالز ٹریس کرنے کی اجازت دیدی

    حکومت نے آئی ایس آئی کو شہریوں کی فون کالز ٹریس کرنے کی اجازت دیدی

    (24 نیوز)وفاقی حکومت نے آئی ایس آئی کو شہریوں کی فون کال سننے یا ٹریس کرنے کی اجازت دیدی۔ کابینہ نے سمری کی منظوری سرکولیشن کے ذریعے دی، سمری کے مطابق فیصلہ قومی سلامتی کے مفاد میں کسی جرم کے خدشے کے پیش نظر کیا گیا ہے،

    آئی ایس آئی کو شہریوں کی فون کال کے ساتھ ساتھ میسجز میں مداخلت یا ٹریس کرنے کا بھی اختیار ہوگا۔

    کابینہ کے فیصلے میں کہا گیا ہے کہ ایجنسی کے نامزد کیے گئے افسر کو فون کال میں مداخلت یا اس کو ٹریس کرنے کا اختیار ہوگا،

    ایجنسی اس کام کے لیے گریڈ 18 سے کم کے افسر کو تعینات نہیں کر سکے گی، کابینہ نے نامزدگی کا اختیار پا کستان ٹیلی کمیو نیکیشن ایکٹ 1996 کے سیکشن 54 کے تحت دیا۔

    یہ بھی پڑھیں:وزیراعلیٰ نے ایل ڈی اے کو شہر بھر سے ریونیو جمع کرنے کا ٹاسک دیدیا خفیہ ادارے کو مشتبہ افراد کی فون کالزمیں مداخلت کا اختیار دینے

    کا گزٹ نوٹیفکیشن جاری ہونے کے بعد پی ٹی اے نے حکم نامے پر عمل درآمد شروع کردیا ، پی ٹی اے نے تمام موبائل فون آپریٹرز کو نوٹیفکیشن کی کاپی جاری کردی،

    پی ٹی اے نے تمام لائسنس ہولڈرز کو بھی نوٹیفکیشن پر عمل درآمد یقینی بنانے کی ہدایت کردی۔

  • والدہ کے انتقال کے بعد جائیداد میں حصہ لینے شہری سول عدالت پہنچ گیا

    والدہ کے انتقال کے بعد جائیداد میں حصہ لینے شہری سول عدالت پہنچ گیا

    (سنگ میل نیوز)والدہ کے انتقال کے بعدشہری حصہ لینے سول عدالت پہنچ گیا اور درخواست دائر کردی۔

    سول عدالت میں عمران نے والدہ کی جائیداد سے اپنا حصہ مانگ لیا، عمران کا کہنا ہے کہ میری والدہ کے انتقال کے بعد جائیداد پر بہن بھائیوں نے قبضہ کرلیا،

    درخواست گزار نے استدعا کی کہ جائیداد سے مجھے بھی میرا حصہ دلایا جائے۔ عمران کے وکیل مرزا شوکت بیگ ایڈووکیٹ نے جائیداد تقسیم کی فہرست پیش کردی،

    وکیل نے قانونی نکتہ کے مطابق مرحومہ کے والدین زندہ ہیں تو جائیداد سے 1/8 حصہ والدین کو ملے گا۔ مرزاشوکت بیگ ایڈووکیٹ کا کہناہے کہ قانونی نکتہ کے مطابق مرحوم کے والدین زندہ نہیں تو جائیداد بچوں میں تقسیم ہو گی،

    جائیداد میں سے بھائی کو بہنوں سے زیادہ حصہ ملے گا،اگر مرحومہ کا شوہر زندہ ہے تو جائیداد سے اسے 1/8 حصہ ملے گا۔

    یہ بھی پڑھیں:بابراعظم کی کپتانی سے متعلق کوئی فیصلہ نہیں ہوا،چیئرمین پی سی بی موقف اختیار کیا گیا

    کہ خاتون کے والدین یا شوہر دونوں وفات پاچکے تو جائیداد بچوں کو ملے گی،

    اگر مرحوم کے پہلے شوہر سے اولاد ہے تو پھر جائیداد سے ان کو بھی حصہ ملے گا۔ سول عدالت نے دعوے پر فریقین کے وکلا کو 27جولائی کیلئے نوٹس جاری کر دئیے۔

  • (سنگ میل نیوز)لاہور بورڈ نے میٹرک کے نتائج کا اعلان کردیا۔
  • کنٹرولربورڈ کےمطابق 2 لاکھ 50 ہزار سےزائد طلبا امتحانات میں شریک ہوئے ، 1 لاکھ 74 ہزارطلبا میٹرک امتحانات میں پاس ہوئے،میٹرک امتحانات میں کامیابی کا تناسب 69.75 فیصد رہا،سائنس گروپ میں 73.91 فیصد طلبا پاس ہوئے،آرٹس گروپ میں 55 فیصد طلبا پاس ہوئے،267 نقل کےکیسز، 60 سےزائد ایف آئی آر درج ہوئیں۔

    سائنس گروپ میں 80 فیصد لڑکیاں، 67 فیصد لڑکےپاس ہوئے،آرٹس گروپ میں 63 فیصد لڑکیاں، 38 فیصد لڑکے کامیاب ہوئے۔ چیئرمین لاہور بورڈ زید بن مقصود نے کہا ہے کہ میٹرک امتحانات میں پہلی پوزیشن آیان کاشف نے حاصل کی، پہلی پوزیشن حاصل کرنے والے طالب علم کا تعلق دانش سکول سے ہے،میٹرک امتحانات میں پوزیشن لینے والے طلبہ کے اعزاز میں تقریب بھی منعقد کی گئی،

    صوبائی وزیر تعلیم رانا سکندر حیات نے پوزیشن ہولڈرز کو میڈل پہنائے اور تعریفی سرٹیفکیٹس تقسیم کیے۔ اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے صوبائی وزیر تعلیم رانا سکندر حیات کا کہنا تھا کہ ٹاپ پوزیشن ہولڈر نے محمد آیان نے 1200 میں سے 1190 نمبر حاصل کیے، طلبہ کو اچھے انداز میں تعلیم دینے والے اساتذہ کو سلام پیش کرتا ہوں، بچوں کیلئے جو کچھ ہو سکا کریں گے۔

    لاہور، فیصل آباد، ملتان اور بہاولپور کے تعلیمی بورڈ نے میٹرک پوزیشن ہولڈرز کے ناموں کا اعلان کر دیا۔ میٹرک میں مجموعی طور پر ڈویژنل پبلک سکول فیصل آباد کی عروج فاطمہ نے 1189 نمبرز کے ساتھ پہلی پوزیشن حاصل کی، گورنمنٹ ہائی سکول 239 رب کے محمد فائق اور ڈی پی ایس ٹوبہ ٹیک سنگھ کے علی احمد نے 1187 نمبروں کے ساتھ مجموعی طور پر دوسری پوزیشن حاصل کی،

    دی ایجوکیٹرز پولیس پبلک سکول فیصل آباد کے معظم طفیل نے 1186 نمبروں کے ساتھ مجموعی طور پر تیسری پوزیشن حاصل کی۔ لاہور بورڈ کے مطابق دانش سکول سے محمد آیان کاشف 1190نمبر لے کر پہلے نمبر پر رہے، ماہین سجاد 1186 نمبر لے کر دوسرے نمبر پر رہی جبکہ عبیرہ اصغر, عبیداللہ عثمان، زینب آصف اور سحر شکیل 1185 نمبر لے کر تیسرے نمبر پر رہیں، پہلی 2 پوزیشنز سرکاری سکول کے بچے لے گئے،

    ٹاپ پوزیشن پر رواں سال لڑکے بازی لے گئے۔ آرٹس گروپ بوائز میں غلام محی الدین 1073 نمبر لے کر پہلے ، اہتشام الحق 1071 نمبر لے کر دوسرے اور محمد فرحان 1061 نمبر لے کر تیسرے نمبر پر رہے۔ آرٹس گروپ گرلز میں حفصہ اور مائرہ عمران 1152 نمبروں کے ساتھ پہلی، حافظہ کائنات عامر 1147 نمبروں کے ساتھ دوسری اور مائرہ خرم 1137 نمبروں کے ساتھ تیسری پوزیشن حاصل کی۔

    تعلیمی بورڈ ملتان کا میٹرک سالانہ امتحانات 2024 کے پوزیشن ہولڈرز کا اعلان کیا، ملتان بورڈ میں مجموعی طور پر پہلی پوزیشن انس نوید کی ہے انہوں نے 1191 نمبر حاصل کۓ، محمد فیضان شوکت نے 1190 نمبروں کے ساتھ دوسری پوزیشن جبکہ بورے والہ سے رانیہ شاہد نے 1188 نمبر لیکر تیسری پوزیشن حاصل کی ہے۔

    بہاولپور بہاولنگر سے تعلق رکھنے والے سٹی گرائمر ہائی سکول کے طالبِ علم عکاشہ طارق نے 1193 نمبرز لیکر مجموعی طور پر پہلی پوزیشن حاصل کی، بہاولپور گورنمنٹ گرلز ہائی سکول سیٹلائٹ ٹاؤن کی طالبہ منعم شاہد نے بورڈ میں 1190 نمبرز لیکر دوسری پوزیشن حاصل کی، رحیم یار خان کے محمد وقار اور خانپور کے علی حیدر طالب علموں نے بورڈ میں تیسری پوزیشن 1187 نمبرز لیکر حاصل کی۔

    سائنس گروپ میں بہاولنگر کے عکاشہ طارق نے 1193 نمبرز لیکر پہلی پوزیشن حاصل کی، محمد وقار اور علی حیدر نے سائنس گروپ میں بھی اکٹھے 1187 نمبرز لیکر دوسری پوزیشن حاصل کی، رحیم یار خان کے زین الرحمن نے 1183 نمبر لیکر سائنس گروپ میں تیسری پوزیشن حاصل کی۔ آرٹس اور ہومینیٹی گروپ میں منچن آباد کے عبدالروف نے 1056نمبرز لیکر طالبعلموں میں پہلی پوزیشن حاصل کی، فورٹ عباس کی ماریہ رفیق نے 1120 نمبرز لیکر طالبات میں پہلی پوزیشن حاصل کی۔

  • مکہ مکرمہ:نائجیریا سے حج کیلئے آئی خاتون کے ہاں بچے کی ولادت،نام محمد رکھ دیا

    مکہ مکرمہ:نائجیریا سے حج کیلئے آئی خاتون کے ہاں بچے کی ولادت،نام محمد رکھ دیا

    (ویب ڈیسک)نائجیریا سے حج ادائیگی کے لیے سعودی عرب آنے والی خاتون کے ہاں صحت مند بچے کی ولادت ہوئی ہے،

    جو اس سال حج سیزن میں ہونے والی پہلی ولادت ہے۔ سعودی میڈیا کے مطابق اس سال حج سیزن میں ہونے والی یہ پہلی ولادت ہے،

    بتایا جارہا ہے کہ 30 سالہ خاتون نے مکہ کے میٹرنٹی اینڈ چلڈرن ہسپتال میں بچے کو جنم دیا، جس کا نام محمد رکھا گیا ہے۔

    عرب میڈیا کے مطابق خاتون کو حمل کے 31 ہفتے بعد ہی شدید تکلیف کے سبب اسپتال کے ایمرجنسی روم میں داخل کروایا گیا،

    ایمرجنسی ٹیم نے ان کی حالت کا جائزہ لیا جس کے بعد خاتون کو میٹرنٹی وارڈ منتقل کیا گیا جہاں ان کے ہاں بیٹے کی پیدائش ہوئی۔

    وقت سے قبل پیدا ہونے والے بچے کی مکہ کے اسپتال میں دیکھ بھال کی جا رہی ہے اور خاتون کی حالت بھی بہتر بتائی جا رہی ہے۔

  • یوٹیوب پر 28 ملین بار دیکھا جانیوالا گانا’بدوبدی‘ڈیلیٹ

    یوٹیوب پر 28 ملین بار دیکھا جانیوالا گانا’بدوبدی‘ڈیلیٹ

    (سنگ میل نیوز)یوٹیوب پر 28 ملین بار دیکھا جانیوالا گانا’بدوبدی‘ڈیلیٹ کردیا گیا ۔

    چاہت فتح علی خان نے اس گانے کو گایا اور وجدان راؤ اس کی ماڈل تھیں۔

    مزاحیہ انداز میں گلوکاری کرکے سوشل میڈیا پر شہرت پانے والے چاہت فتح علی خان کے مشہور گانے ’بدو بدی‘ کو یوٹیوب نے ڈیلیٹ کردیا۔

    چاہت فتح علی خان کا یہ گانا ماضی کے مقبول گانے ’اکھ لڑی بدو بدی‘ کا ری میک تھا جس نے یوٹیوب پر دیکھتے ہی دیکھتے 28 ملین ویوز حاصل کر لیے تھے۔

    یہ گانا ناصرف پاکستانی سوشل میڈیا صارفین اپنی ریلز (مختصر ویڈیوز) پر لگارہے تھے بلکہ بھارتی صارفین سمیت چند بھارتی اداکاروں نے بھی اس پر ویڈیوز بنائیں،

    تاہم اس وائرل گانے بدو بدی کو اب یوٹیوب سے ڈیلیٹ کر دیا گیا ہے جس کی وجہ کاپی رائٹ ہے۔

    کہ یوٹیوب کی جانب سے چاہت فتح علی خان کے گانے بدو بدی کو غیر قانونی طور پر گانے اور اپنے یوٹیوب چینل پر اپلوڈ کرنے کے نتیجے میں حذف کیا گیا ہے۔

    یاد رہے کہ چاہت فتح علی خان نے اپنے متعدد گانوں کے بعد بدو بدی گزشتہ ماہ ریلیز کیا تھا،

    معروف پنجابی گانا ’اکھ لڑی بدو بدی‘ ملکہ ترنم نور جہاں کی ملکیت ہے جسے چاہت فتح علی خان نے بغیر اجازت کے گایا اور یوٹیوب پر اپلوڈ کیا تھا۔