آئی سی سی نے پلیئرز کی رینکنگ جاری کردی رینکنگ میں ٹاپ تھری میں کوئی پاکستانی کھلاڑی شامل نہیں، بیٹرز کی رینکنگ میں آسٹریلیا کے ٹریوس ہیڈ کی پہلی پوزیشن ہےٹریوس ہیڈ 881 پوائنٹس کے ساتھ پہلے جب کہ بھارت کے سوریا کمار یادیو 807 پوائنٹس کے ساتھ دوسرے نمبر پر موجود ہیں تیسرا نمبر انگلینڈ کے فل سالٹ کا ہے جن کے 800 پوائنٹس ہیں، پاکستان کے بابراعظم ایک درجے ترقی کے بعد چوتھے نمبرپرآگئے اور ان کے 755 پوائنٹس ہیں ٹی ٹوئنٹی بولرز میں انگلینڈ کے عادل رشید کی پہلی پوزیشن برقرار ہے دوسرا نمبر ویسٹ انڈین بولر عقیل حسین اور تیسرا نمبر افغان اسپنر راشد خان کا ہےبھارت کے ارشدیپ سنگھ 8 درجے ترقی کے بعد 9 ویں نمبرپر آگئے، ٹی ٹوئنٹی بولرز میں پاکستان کے شاہین آفریدی کا 13 واں نمبر ہےٹی ٹوئنٹی آل راؤنڈرز میں انگلینڈ کے لیام لیونگسٹن کا پہلا نمبر ہے، بھارت کے ہاردیک پانڈیا چار درجے ترقی کے بعد تیسرے نمبر پر ہیں
Category: کھیل
-

پاک انگلینڈ ٹیسٹ: قومی ٹیم 556 رنز بناکر آؤٹ
ملتان ٹیسٹ کے دوسرے روز قومی ٹیم انگلینڈ کے خلاف 556 رنز بناکر آؤٹ ہوگئی ہدف کے تعاقب میں انگلش ٹیم کی بیٹنگ جاری ہے گزشتہ روز ملتان کرکٹ اسٹیڈیم میں کھیلے جا رہے میچ میں قومی ٹیم کے کپتان شان مسعود نے ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کا فیصلہ کیا تھا، میچ کے پہلے دن کے اختتام پر پاکستان نے شان مسعود اور عبداللہ شفیق کی شاندار سنچریوں کی بدولت 4 وکٹ کے نقصان پر 328 رنز بنالیے تھےمیچ کے دوسرے روز سعود شکیل اور نسیم شاہ نے کھیل کا آغاز کیا تو نسیم شاہ 388 کے اسکور پر 33 رنز بناکر پویلین لوٹ گئے جب کہ ان کے بعد آنے والے محمد رضوان بغیر کوئی رن بنائے آؤٹ ہوگئے قومی ٹیم کی ساتویں وکٹ 450 کے مجموعی اسکور پر سعود شکیل کی صورت گرگئی سعود شکیل 177 گیندوں پر 82 رنز بناکر کیچ آؤٹ ہوگئے ، سعود کے بعد آنے والے عامر جمال 7 رنز اور پھر شاہین شاہ آفریدی 26 رنز اور ابرار احمد 3 بناکر پویلین لوٹ گئے
قومی کرکٹر سلمان آغا نے ٹیسٹ کرکٹ میں 1 ہزار رنز مکمل کرلیے ہیں، سلمان آغانے 15 ویں ٹیسٹ کی 28ویں اننگز میں ایک ہزاررنز مکمل کیے اور ناٹ آؤٹ رہےٹیسٹ میچ کا پہلا دن -

ملتان ٹیسٹ: پہلی اننگز میں پاکستان کی انگلینڈ کیخلاف بیٹنگ، شان کے بعد عبداللہ کی سنچری
ملتان ٹیسٹ میں پاکستان کی پہلی اننگز میں انگلینڈ کے خلاف بیٹنگ جاری ہے اور گرین کیپس نے ایک وکٹ کے نقصان پر 246 رنز بنا لیے ہیں پاکستان کی جانب سے عبد اللہ شفیق اور صائم ایوب نے اننگز کا آغاز کیا لیکن صائم ایوب 8 کے مجموعے پر صرف 4 رنز بنا کر پویلین لوٹ گئے، صائم ایوب کے جلد آؤٹ ہونے کے بعد عبد اللہ شفیق اور شان مسعود نے ذمہ دارانہ بیٹنگ کرتے ہوئے ٹیم کا سکور آگے بڑھایا، شان مسعود نے 2 چھکوں اور 10 چوکوں کی مدد سے اپنی سنچری مکمل کی جبکہ عبد اللہ شفیق نے بھی چھکے کے ساتھ اپنی سنچری مکمل کی اور وہ 100 رنز کیساتھ وکٹ پر موجود ہیں
-

ملتان ٹیسٹ: پہلی اننگز میں پاکستان کی انگلینڈ کیخلاف بیٹنگ، شان کی سنچری
ملتان ٹیسٹ میں گرین کیپس نے ایک وکٹ کے نقصان پر 184 رنز بنا لیے ہیں
ملتان کرکٹ اسٹیڈیم میں کھیلے جا رہے میچ میں قومی ٹیم کے کپتان شان مسعود نے ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کا فیصلہ کیا پاکستان کی جانب سے عبد اللہ شفیق اور صائم ایوب نے اننگز کا آغاز کیا لیکن صائم ایوب 8 کے مجموعے پر صرف 4 رنز بنا کر پویلین لوٹ گئے، صائم ایوب کے جلد آؤٹ ہونے کے بعد عبد اللہ شفیق اور شان مسعود نے ذمہ دارانہ بیٹنگ کرتے ہوئے ٹیم کا سکور آگے بڑھایا، شان مسعود نے 2 چھکوں اور 10 چوکوں کی مدد سے اپنی سنچری مکمل کی جبکہ عبد اللہ شفیق بھی 72 رنز کے ساتھ وکٹ پر موجود ہیں -

پاک انگلینڈ سیریز؛ میچ آفیشلز کا اعلان کردیا گیا
پاکستان اور انگلینڈ کے درمیان تین میچز پر مشتمل ٹیسٹ سیریز کیلئے میچ آفیشلز کا اعلان کردیا گیا۔
پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ دونوں ٹیموں کے درمیان سیریز کے پہلے ٹیسٹ میچ میں سری لنکا کے کمار دھرما سینا اور بنگلادیش کے شرف الدولہ سیکت آن فیلڈ امپائرز ہوں گے، دونوں امپائرز آئی سی سی ایلیٹ پینل میں شامل ہیں
ویسٹ انڈیز کے سر رچی رچرڈسن سیریز میں میچ ریفری کی حیثیت سے پلیئنگ کنٹرول ٹیم کے سربراہ ہوں گے
آئی سی سی ایلیٹ پینل آف امپائرز میں شامل نیوزی لینڈ کے کرسٹوفر گیفینی اور پاکستان کے آصف یعقوب فورتھ امپائر کے فرائض انجام دیں گے۔
دوسرے ٹیسٹ کیلئے کمار دھرما سینا اور کرسٹوفر گیفینی آن فیلڈ امپائرز کے فرائض انجام دیں گے جبکہ شرف الدولہ سیکت تھرڈ امپائر ہوں گےپاکستان کے راشد ریاض (آئی سی سی انٹرنیشنل پینل آف امپائرز کا حصہ ہیں) چوتھے امپائر ہوں گےراولپنڈی کرکٹ اسٹیڈیم میں تیسرے ٹیسٹ کیلئے کرسٹوفر گیفینی اور شرف الدولہ سیکت آن فیلڈ امپائرز کے فرائض سرانجام دیں گے جب کہ کمار دھرما سینا تھرڈ امپائر ہوں گے فیصل آفریدی فورتھ امپائر کے فرائض نبھائیں گے -

بطور کپتان یقین رکھتا ہوں ٹیم پوری طرح متحد ہے، شان مسعود
کراچی- پاکستان ٹیسٹ ٹیم کے کپتان شان مسعود کا کہنا ہے کہ بطور کپتان یقین رکھتا ہوں ٹیم پوری طرح متحد ہے، کھلاڑیوں کو بنگلا دیش کے خلاف شکست کا افسوس ہے لیکن کھلاڑی اچھے نتائج دینے کے خواں ہیں
کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے پاکستان ٹیسٹ ٹیم کے کپتان شان مسعود نے کہا کہ انگلینڈ کے خلاف سیریز کا وقت پاکستان ٹیم کے لیے بہت اہم ہے، شکست کے بعد تبدیلیاں کرنا آسان ہے لیکن آگے جانا ہے تو کھلاڑیوں کو بیک کرنا ہوگا
انہوں نے کہا کہ بنگلا دیش کے خلاف شکست کا ہمیں بھی بہت دکھ ہے اس لیے انگلینڈ کے خلاف سیریز میں میچ ٹو میچ کمبی نیشن بنائیں گے۔ پہلے ٹیسٹ کے لیے ٹیم کا اعلان ہوا، کھلاڑیوں کی فٹنس اور پرفارمنس دیکھ کر اگلے میچز کے لیے پلاننگ کریں گے
ایک سوال کے جواب میں کپتان شان مسعود نے کہا کہ ملتان کی کنڈیشنز دیکھ کر زاہد محمود کی شمولیت کا فیصلہ کریں گے
شان مسعود نے کہا کہ چیمپیئنز کپ میں اچھی کرکٹ دیکھنے کو ملی، اچھی کرکٹ ہوتی ہے تو تیاری اچھی ہوتی ہے، چیمپیئنز کپ سے فٹنس کا بھی علم ہوا ہے
انہوں نے واضح کیا کہ محمد رضوان مستقل ٹیم کا حصہ ہیں لیکن شارٹ ٹرم میں سرفراز احمد بہترین متبادل ہیں، ٹیسٹ میچز میں نئے وکٹ کیپر کو فوری میدان میں نہیں اتارا جا سکتا۔ نوجوان وکٹ کیپرز اور اوپنرز کے ساتھ مستقبل کی پلاننگ کو نظر میں رکھ کر کوچز کام کر رہے ہیں
ٹیسٹ کپتان شان مسعود کا کہنا تھا کہ بابراعظم دنیا کے نمبر ون اور بہترین بلے باز ہیں۔ کھلاڑیوں کو پورا موقع دینا چاہتے ہیں، کامران غلام اور صائم ایوب سمیت سب کو پرفارمنس دکھانے کا موقع ملے گا -

یوسف بھائی کا ’’آدھا‘‘ غصہ…
تم کو پتا ہے وقار یونس نے چیئرمین پی سی بی کے ایڈوائزر کی پوسٹ کیوں چھوڑی؟
جب کرکٹ کی ایک اہم شخصیت نے مجھ سے یہ پوچھا تو میں نے خود کو انتہائی باخبر تصور کرتے ہوئے فخر سے جواب دیا ’’جی بالکل کیونکہ بورڈ حکام ان کے ساتھ تعاون نہیں کر رہے تھے،اس لیے انھوں نے مناسب یہی سمجھا کہ عہدے سے الگ ہو جائیں‘‘ میری یہ بات سنتے ہی انھوں نے زوردار قہقہہ لگاتے ہوئے کہا ’’ نہیں مائی ڈیئر پیسہ اس کی وجہ بنی، بطور مشیر صبح سے شام دفتر بیٹھ کر کتنا معاوضہ مل جاتا، 20 یا 25 لاکھ، یہاں چیمپئنز کپ کی ٹیم کا مینٹور بن کر 50 لاکھ روپے ماہانہ تنخواہ اور کام بھی کچھ نہیں کرنا‘‘
یہ بات سن کر میں سوچنے لگا کہ ہم لوگ محسن نقوی پر تنقید کرتے ہیں کہ وہ کرکٹ بورڈ میں کرکٹرز کو نہیں لا رہے لیکن کیا کوئی ایسا سابق کھلاڑی ہے جو چیک کے صفر دیکھے بغیر کام کرنے پر تیار ہو اور پھر ثابت قدمی سے ڈٹے بھی رہے، بدقسمتی سے ہمارے سابق کرکٹرز صرف اس وقت تک بورڈ پر تنقید کرتے ہیں جب تک انھیں نوکری نہ مل جائے،البتہ شاہد آفریدی، یونس خان اور راشد لطیف جیسے کچھ اسٹارز ایسے نہیں ہیں، یہ سچ بولتے ہیں اور نتائج سے بھی نہیں ڈرتے، اگر پیسہ کمانا مقصد ہوتا تو آفریدی ایک ٹیم کے مینٹور بن چکے ہوتے لیکن چونکہ انھوں نے کچھ تلخ باتیں کہہ دیں اس لیے تقرر نہیں کیا گیا
اس میں پی سی بی کا بھی قصور ہے، موجودہ دور میں تو اتنا زیادہ یہ نہیں ہوتا لیکن اس سے قبل کسی سابق کرکٹر کو ملازمت چاہیے ہوتی تھی تو وہ بورڈ پر خوب تنقید کرتا اور پھر جب ماہانہ تنخواہ کا بندوبست ہو جاتا تو خاموشی اختیار کر لی جاتی، آپ کو ایسی کئی مثالیں ملیں گی، اب یوٹیوب بھی آ گیا جہاں دل کی بھڑاس نکالنے کے ڈالرز بھی ملتے ہیں،احمد شہزاد کو جب تک کم بیک کی امید تھی وہ چپ رہے، جیسے ہی یقین ہوگیا کہ اب کچھ نہیں ہونے والا تو پاکستان میں سب سے زیادہ تنقید کرنے والے ’’کرکٹ ماہر‘‘ بن گئے، باسط علی جب تک کوچ تھے سب اچھا رہا، اب ان سے زیادہ سخت باتیں کرنے والا شاید ہی کوئی اور ہو،سلمان بٹ نے ملک کا نام ڈبویا، فکسنگ پر جیل کی ہوا کھا آئے، پھر برسوں غلطی کا اعتراف نہ کیا، یو ٹیوب اور چینلز پر آنے لگے
چاہنے والے مشکوک ماضی کو بھول کر انھیں ’’سب سے بڑا کرکٹنگ دماغ ‘‘ قرار دینے لگے، پی سی بی نے بھی چیمپئنز کپ میں کمنٹری کا موقع دے دیا، اس سے نوجوان کرکٹرز کو کیا مثال ملی ہوگی کہ کرپشن کرو، پیسہ بناؤ، پہلے معافی نہ مانگو ، پھر قصور مان لو اور واپس آ جاؤ، سلمان کو کسی لو پروفائل کام تک محدود رکھنا مناسب ہوتا، مگر اس صورت میں وہ میڈیا پر بورڈ پر تنقید کرتے، اب محاذ بند ہو چکا، کئی قومی کرکٹرز بھی ان کی واپسی سے خوش نہیں لیکن بورڈ کسی کی سنتا کہاں ہے،آج تو چیمپئنز کپ ختم ہونے کی خوشیاں منائی جا رہی ہیں لیکن آپ سچ سچ بتائیں اس ٹورنامنٹ پر اتنا وقت اور رقم خرچ کرنے کا کیا فائدہ ہوا، صرف مینٹورز ہی اصل فائدے میں رہے، صبح محمد یوسف کے سلیکٹر کی پوسٹ سے مستعفی ہونے کی ٹویٹ بریکنگ نیوز بنی، وہ بطور کوچ پی سی بی کے ساتھ وابستہ ہیں
سنا ہے غیرملکی کوچز ان کو لفٹ نہیں کروا رہے تھے اس لیے غصے میں آ کر یہ فیصلہ کیا،البتہ یوسف بھائی کا ’’آدھا‘‘ غصہ سمجھ نہیں آیا، اگر آپ کسی سے ناراض ہوں تو ناطہ مکمل طور پر توڑ دیتے ہیں، یہ نہیں کہ جہاں فائدہ ہو وہ کام جاری رکھتے ہیں، یوسف نے غصہ بھی سوچ سمجھ کر کیا، صرف سلیکٹر کی پوسٹ چھوڑی، بطور کوچ تنخواہ تو ملتی ہی رہے گی، کیا پتا انھیں بھی کل کسی ٹیم کا مینٹور بنا دیا جائے، پی سی بی نے ان کی ٹویٹ کے ایک گھنٹے بعد مستعفی ہونے کی پریس ریلیز میں کوچنگ جاری رکھنے کا بھی اعلان کیا، اچھا کیا ورنہ ٹی وی چینل پر ان کی واپسی ہو جاتی اور اچانک قومی کرکٹ کی خامیاں انھیں دوبارہ نظر آنے لگتیں
مجھے ایک کرکٹر نے بتایا کہ کامران غلام نے جب چیمپئنز کپ میں 2 سنچریاں بنائیں تو مذاق میں ساتھی کھلاڑیوں نے کہا کہ ’’ تو 5 سنچریاں بھی بنا لے ٹیم میں نام نہیں آنے والا‘‘ بعد میں ایسا ہی ہو گیا، ایسی سلیکشن پر تو دیگر سلیکٹرز کو بھی مستعفی ہو جانا چاہیے
بدقسمتی سے اس وقت قومی اسکواڈ میں نان پرفارمرز کا راج ہے، ڈر کے مارے نئے ٹیلنٹ کو موقع ہی نہیں دیا جاتا، پھر بھی مسلسل ہارے ہی جا رہے ہیں، اخراجات حد سے زیادہ بڑھ گئے، آمدنی کے ذرائع وہی محدود ہیں، چیمپئنز کپ کو اتنی اہمیت دی مگر بیچارے پی ایس ایل والے رل رہے ہیں، انھیں لفٹ ہی نہیں کرائی جا رہی، حد تو یہ ہے کہ جمعے کو میٹنگ کیلیے مدعو کر لیا اور پھر بعد میں اچانک یاد آیا کہ چیئرمین نے ایک اور اجلاس طلب کر لیا ہے آپ لوگ بعد میں آئے گا، یہ کیسا رویہ ہے
راشد لطیف اورنعمان نیاز نے اپنے شو میں انکشاف کیا کہ فخرزمان بھی بورڈ سے سخت ناراض ہیں اور کنیکشن کیمپ میں انھوں نے بعض آفیشلز کے غیرپیشہ ورانہ رویے پر تنقید بھی کی، ویسٹ انڈیز سے لمبا سفر کرکے فخر نے جب فٹنس ٹیسٹ دیا تو سنا ہے وہ فیل ہو گئے، اس پر ایک آفیشل نے ان کی چیمپئنز لیگ ٹیم سے کہا کہ میچ نہ کھلائیں، شکر ہے ایسا نہیں ہوا اور فخر نے ایونٹ میں حصہ لیا، ویسے جتنی سچی باتیں وہ کر گئے ان کا خمیازہ بھی بھگتنا پڑ سکتا ہے، آگے بھی انھیں این او سی کیلیے انہی لوگوں کے پاس تو جانا ہوگا
دیکھتے ہیں ان کے ساتھ کیسا رویہ اپنایا جاتا ہے، ویسے یہ لیگز کے این او سی کا مسئلہ بھی کسی دن بڑا تنازع بن جائے گا،اس کی وجہ سے پلیئرز سینٹرل کنٹریکٹ ہی لینے سے انکار کر دیا کریں گے،خیر ابھی تو ان کی ایسی پوزیشن نہیں کہ باتیں منوا سکیں، انگلینڈ کیخلاف سیریز پاکستان ٹیم کی سمت کا بتائے گی، موجودہ حالات تو اچھے نہیں لگ رہے لیکن کیا پتا کوئی انہونی ہو جائے -

بنگلہ دیش سے شکست کے بعد پاکستان ٹیم کیلئے ایک اور بُری خبر آگئی
(سنگ میل نیوز)راولپنڈی ٹیسٹ میں بنگلہ دیش سے شرمناک شکست کے بعد پاکستان کرکٹ ٹیم کی آئی سی سی ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ رینکنگ میں 2 درجے تنزلی ہوگئی۔
بنگلہ دیش نے گزشتہ روز پنڈی ٹیسٹ میں قومی ٹیم کو اسی کی سر زمین پر 10 وکٹوں سے شکست دے کر اپنی 23 سالہ ٹیسٹ کرکٹ کی تاریخ میں پہلی بار پاکستان کو ٹیسٹ میچ میں زیر کرنے کا کارنامہ انجام دیا۔
بنگلہ دیش کے خلاف پہلے ٹیسٹ میچ میں پاکستان ٹیم کی انتہائی خراب پرفارمنس صرف شرمناک شکست کی وجہ ہی نہیں بنی بلکہ قومی ٹیم کے آئندہ سال آئی سی سی ٹیسٹ چیمپئن شپ کا فائنل کھیلنے کی امیدوں پر بھی اوس پڑ گئی ہے۔
اس بدترین پرفارمنس سے پاکستان ٹیم ٹیسٹ چیمپئن شپ سائیکل میں 12 قیمتی پوائنٹ سے محروم ہونے کے ساتھ 2 درجے تنزلی کے بعد رینکنگ میں آٹھویں نمبر پر چلی گئی اور اس ٹیبل پر وہ صرف ویسٹ انڈیز سے ہی اوپر ہے۔
بنگلہ دیشی ٹیم جو 8ویں نمبر پر تھی، اس فتح کے ساتھ 12 پوائنٹ سمیٹ کر پاکستان کی جگہ چھٹے نمبر پر براجمان ہوگئی ہے۔
بنگلہ دیش سے دو ٹیسٹ میچوں کی سیریز سے قبل پاکستان اس رینکنگ ٹیبل پر چھٹے نمبر پر تھا اور مہمان ٹیم کے خلاف وائٹ واش اس کو تیسرے نمبر پر پہنچا سکتی تھی تاہم اب تو قومی ٹیم کے لیے خود سیریز بچانے کے لالے پڑ گئے ہیں۔
-

اولمپکس میڈل جیتنے والی چینی ایتھلیٹ ریستوران میں ویٹر بن گئیں
(سنگ میل نیوز )اولمپکس 2024 میں چاندی کا تمغہ حاصل کرنے والی چینی ایتھلیٹ وطن لوٹنے کے بعد ریستوران میں ویٹر کی نوکری کر رہی ہیں۔
این ڈی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق چینی ایتھلیٹ ژو یاقن نے پیرس اولمپکس 2024 میں بیلنس بیم جمناسکٹس ایونٹ میں چاندی کا تمغہ حاصل کیا تھا، 18 سالہ ایتھلیٹ کی کارکردگی پر انہیں بے حد سراہا جا رہا ہیں۔
تاہم اب ژو یاقن کی ایک ویڈیو نے سوشل میڈیا صارفین کی توجہ اپنی جانب مبذول کرلی ہے، جس میں وہ اپنے والدین کے ریستوران میں بطور ویٹر کام کر رہی ہیں۔
چینی صوبے ہنان کے شہر ہیانگ یانگ میں ژو یاقن کے والدین کا مقامی ریستوران موجود ہے، جہاں وہ اپنے والدین کی مدد کر رہی ہیں۔
سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے بھی چینی ایتھلیٹ ژو یاقن کے اس عمل کی تعریف کی جا رہی ہے، جبکہ مقامی ریستوران میں ژو یاقن کے چاہنے والوں کا ہجوم امڈ آیا ہے، جس سے والدین کا ریستوران میں رش بڑھ گیا ہے۔
رواں سال منعقد کھیلوں کے عالمی مقابلے میں ژو یاقن نے لیجنڈری جمناسٹ سیمن بیلز کو شکست دے کر کوالیفائی کیا تھا، 14 اعشاریہ 100 کے اسکور کے ساتھ چاندی کا تمغہ حاصل کیا، جبکہ سونے کا تمغہ حاصل کرنے والے دی اماتو کا اسکور 14 اعشاریہ 366 تھا۔
واضح رہے 2020 میں چینی چیمپئین شپس میں ژو یاقن نے بیلنس بیم کے مقابلوں میں سونے کا تمغہ حاصل کیا تھا، نیشنل گیمز آف چائنہ اور عالمی چیمپئنز شپس میں بھی وہ سونے کا تمغہ حاصل کر چکی ہیں۔
-

ہمارے پاس مضبوط فاسٹ باؤلنگ اٹیک ہے، مخالف ٹیم کوکمزور نہیں سمجھتے، شان مسعود
(سنگ میل نیوز)قومی ٹیسٹ ٹیم کے کپتان شان مسعود نے کہا ہے کہ ہمارے پاس مضبوط فاسٹ باؤلنگ لائن اپ ہے، مخالف ٹیم کوکمزور نہیں سمجھتے۔
راولپنڈی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کپتان شان مسعود کا کہنا تھا کہ کوشش کریں گے کہ ٹیسٹ سیریز اپنے نام کریں، کوشش ہو گی کہ بنگلادیش کے خلاف جارحانہ کرکٹ کھیلیں،ان کا کہنا تھا کہ ہمیں اپنی کارکردگی پر توجہ مرکوز رکھنے کی ضرورت ہے، مزید کہا کہ امام الحق ہمارے سسٹم کا حصہ ہیں، انہیں اس سیریز میں آرام کروایا گیا ہے۔
شان مسعود نے کہا کہ محمد حریرہ پچھلے 3، 4 سال سے ڈومیسٹک میں پرفارم کر رہے ہیں، مزید کہنا تھا کہ محمد حریرہ کو اسکواڈ میں شامل کرکے ان کا پوٹینشل دیکھنا ہے، انہیں ٹیم میں بھی شامل کرسکتے ہیں،قومی ٹیسٹ کپتان کا کہنا تھا کہ صائم ایوب نے آسٹریلیا کے خلاف آخری ٹیسٹ میں اپنی صلاحیتوں کی جھلک دکھائی، ہم انہیں پورا چانس دینا چاہتے ہیں، آسٹریلیا میں بدقسمتی سے جیت نہ سکے لیکن کرکٹ اچھی کھیلی۔
