Deprecated: Creation of dynamic property EPS_Redirects_Plugin::$settings is deprecated in /home2/sangemee/public_html/wp-content/plugins/eps-301-redirects/plugin.php on line 55

Warning: Cannot modify header information - headers already sent by (output started at /home2/sangemee/public_html/wp-content/plugins/eps-301-redirects/plugin.php:55) in /home2/sangemee/public_html/wp-content/themes/twentytwentyfive/functions.php on line 296
ٹیکنالوجی – Page 21 – Sange Meel News: Latest news, breaking news, Pakistan

Category: ٹیکنالوجی

  • چاند پر بکھرے کانچ کے ٹکڑوں میں اربوں ٹن پانی موجود

    چاند پر بکھرے کانچ کے ٹکڑوں میں اربوں ٹن پانی موجود

    انگلینڈ: چاند سے لائے گئے چند نمونوں کے تجزیے سے پتہ چلا ہے کہ قمری سطح پر شیشوں کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے پھیلے ہوئے ہیں جس میں اربوں ٹن پانی موجود ہے۔

    میڈیا رپورٹس کے مطابق مذکورہ بالا دریافت خلائی ایجنسیوں، جن کے چاند پر تعمیراتی منصوبے ہیں، کے لیے اب تک کی سب سے اہم پیش رفت میں سے ایک ہے کیونکہ اس کا مطلب ہے کہ نہ صرف پانی بلکہ ہائیڈروجن اور آکسیجن کا بھی انتہائی قابل رسائی ذریعہ چاند پر موجود ہے جسے مستقبل کے قمری مشن کے خلاباز اخذ اور استعمال کرسکتے ہیں۔

    برطانیہ کی اوپن یونیورسٹی میں سیاروں کی سائنس اور تحقیقات کے پروفیسر مہیش آنند کا کہنا ہے کہ یہ سب سے دلچسپ دریافتوں میں سے ایک ہے۔ اس تلاش کے ساتھ، چاند پر پائیدار طریقے سے تحقیقات کرنے کی صلاحیت پہلے سے کہیں زیادہ ہوسکتی ہے۔

    واضح رہے کہ چاند پر آخری مرتبہ انسانی قدم رکھنے کے تاریخی واقعے کو نصف صدی سے بھی زائد عرصہ گزرچکا ہے اور اب ناسا اور دیگر خلائی ادارے اگلے دورے کی تیاری کر رہے ہیں۔

    ناسا کے ’آرٹیمس مشن‘ کا مقصد چاند پر اب پہلی خاتون اور پہلے سیاہ فام شخص کو بھیجنا ہے جبکہ یورپی خلائی ایجنسی نے چاند پر ایک گاؤں کی بنیاد رکھنے کا منصوبہ بنایا ہے۔

    آنند اور چینی سائنسدانوں کی ایک ٹیم نے دسمبر 2020 میں چین کے chang’e 5 مشن کے ذریعے قمری سطح سے زمین پر لائے گئے باریک شیشوں کا تجزیہ کیا جس سے پتہ چلا کہ یہ شیشے اس وقت وجود میں آئے جب شہابی پتھر چاند سے ٹکرائے۔ اس ٹکراؤ کے نتیجے میں گرم اور پگھلے ہوئے مادے ہوا میں بکھر کر سطح پر گرے اور پھر ٹھنڈے ہوکرچاند کی مٹی کا حصہ بن گئے۔

  • سرجری میں آسانی کے لیے بنائے جانے والے تھری ڈی پرنٹڈ دل

    سرجری میں آسانی کے لیے بنائے جانے والے تھری ڈی پرنٹڈ دل

    میسا چوسٹس: سائنس دان انسانوں کی زندگیاں بچانے والی ٹیکنالوجی کو بہتر بنانے کے لیے انسانی دل کی تھری ڈی پرنٹڈ نقول بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

    یہ ماڈل مریضوں کے ناکارہ ہوجانے والے دلوں کی طرح خون کے بہاؤ اور دباؤ کی نقل کرتے ہیں جس سے سرجنز والو کی تبدیلی کے عمل میں بہتری لانے اور سب سے بہتر والو کے انتخاب کا موقع ملتا ہے۔

    دل کے والو اس وقت تبدیک جاتے ہیں جب کسی شخص کے قدرتی وال ناکارہ یا خراب ہوجاتے ہیں اور دل کو ویسا کام نہیں کرنے دیتے ہیں جیسا اس کو کام کرنا چاہیئے ہوتا ہے۔

    ممکنہ لیکج اور کوتاہی سے بچاؤ مستقبل میں مریض کو پیش آنے والے متعدد ممکنہ دل کے آپریشن کی ضرورت کو ختم کر سکتا ہے۔

    2021 میں مصنوعی دل کے والو کی مارکٹ کا حجم تقریباً 7 ارب ڈالرز تک کا تھا لیکن آئندہ دہائیوں میں آبادی کی عمر بڑھنے کے ساتھ اس حجم میں اضافہ متوقع ہے۔

    تھری ڈی پرنٹنگ کے ذریعے اس جدت سے قبل گزشتہ دسمبر میں میری لینڈ میں قائم نیشنل آئی انسٹیٹیوٹ کے سائنس دانوں نے تھری ڈی پرنٹنگ کے ذریعے اسٹیم سیلز (خلیات ساق) سے آنکھ کا بافت بنایا تھا۔

    میساچوسیٹس انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی (ایم آئی ٹی)، کلیولینڈ کلینک اور دیگر اداروں کے ماہرین نے یہ مصنوعی دل 15 مریضوں کے دل کے اسکین سے بنایا ہے۔ یہ مریض دل کے والو تنگ ہونے کے عارضے میں مبتلا تھے جس کی وجہ سے خون کے بہاؤ میں رکاوٹ پیدا ہو رہی تھی۔

  • ایک ارب سے زائد کہکشاؤں پر مشتمل کائنات کا نیا نقشہ جاری

    ایک ارب سے زائد کہکشاؤں پر مشتمل کائنات کا نیا نقشہ جاری

    ایریزونا: کائنات کا بنایا جانے والا اب تک کا سب سے بڑا دو ابعادی (ٹو ڈائمینشنل) نقشہ مزید وسیع ہوگیا۔ وسعت پانے والے نئے نقشے میں کہکشاؤں کی تعداد ایک ارب سے زیادہ ہوگئی ہے۔

    اس نقشے کا مقصد ماہرین فلکیات کے کائنات کے متعلق فہم کو مزید بہتر بنانے میں مدد لینا ہے جس سے بعد ازاں ڈارک میٹر اور ڈارک انرجی کی پُر اسرار خصوصیات کے متعلق گتھیوں کو حل کرنے میں مدد مل سکے گی۔

    انتہائی فاصلے پر موجود اور انتہائی دھندلی کہکشاؤں کے نقشے کا بنایا جانا کائنات کی بہتر سمجھ کی کوشش کو بہتر بناتا ہے اس ہی لیے ڈارک انرجی اسپیکٹرو اسکوپک انسٹرومنٹ (DESI) کی جانب سے جاری کیا جانے والا دسواں ڈیٹا اتنا اہم ہے۔
    بنیادی طور پر ماہرین فلکیات گزشتہ 12 ارب سالوں کے کائنات کے پھیلنے کی تاریخ کی نقشہ سازی کرنا چاہتے ہیں۔

    DESI سروے ان تین میں سے ایک سروے ہے جس میں امریکی ریاست ایریزونا میں قائم کِٹ پیک نیشنل آبزرویٹری میں اور چلی میں قائم سیرو ٹولولو انٹر امیریکن آبزرویٹری کی ٹیلی اسکوپس کا استعمال کرتے ہوئے شمالی ہیمسفیئر کے آسمان کی 14 ہزار مربع ڈگری کی تصویر کشی کی ہے۔

    اس نقشہ سازی کا ایک اہم مقصد پانچ سالہ ڈیسی اسپیکٹرو اسکوپک سروے کے لیے اندازاً چار کروڑ کہکشاؤں کی شناخت کرنا ہے تاکہ پُر اسرار ڈارک انرجی کی سمجھ میں بہتری کے لیے مدد حاصل کی جاسکے۔

  • مردہ پرندوں سے پنچھی ڈرون بنانے میں کامیابی

    مردہ پرندوں سے پنچھی ڈرون بنانے میں کامیابی

    نیو میکسیکو: انجینیئروں نے اصل پرندوں کی باقیات سے ہی اڑنے والے پنچھی ڈرون بنائے ہیں تاہم انہیں مزید بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔

    دنیا بھر میں پرندوں کی طرح پرواز کرنے والے ڈرون پر کام جاری ہے لیکن ان ڈرون کو حقیقی رنگ دینے کے لیے نیو میکسکو ٹیک نامی ادارے سے وابستہ مصطفیٰ حسن الیان کو سوجھی کہ کیوں نہ مردہ پرندوں کی لاشوں سے ہی ڈرون بنائے جائیں۔

    اس کے لیے انہوں ںے کچھ حنوط شدہ پرندوں کو لیا اور ان کے اندر کی باقیات کو نکال باہر کیا۔ پھر اس کے اندر برقی آلات اور موٹریں نصب کرکے اس سے بازو پھڑپھڑانے والے پرندے نما ڈرون بنائے ہیں۔ ان ڈرون میں کبوتر، عین کبوتر کی طرح اور شکرا بالکل شکرے کی طرح ہی پرواز کرتا ہے کیونکہ اس کا بہت سا حصہ حقیقی حنوط شدہ پرندے پر ہی مشتمل ہے۔

    ماہرین کو توقع ہے کہ ایسے ڈرون پنچھیوں کو انہی جیسے پرندوں کے جُھنڈ میں شامل کرکے ماحولیاتی اور جنگلی حیات کا احوال لیا جاسکتا ہے۔ اس کے علاوہ پرندوں سے قریب تر جاسوس ڈرون کی ایک بالکل نئی نسل بنائی جاسکے گی۔ اس موقع پر مصطفیٰ حسن الیان نے کہا ہے کہ ’ ہم نے مصنوعی مادوں کی بجائے مردہ پرندوں کو استعمال کیا ہے اور ری انجینیئرنگ کی بدولت ان سے ڈرون بنائے ہیں۔‘

    جب یہ ڈرون فضا میں اڑتے ہیں تو حقیقتاً پرندے لگتے ہیں اور اس کی ایک مختصر ویڈیو بھی دیکھی جاسکتی ہے۔ خود مصطفیٰ نے بھی اعتراف کیا ہے کہ تمام کوششوں کے باوجود یہ ڈرون تھوڑے فاصلے تک ہی پرواز کرسکتے ہیں۔ واضح رہے کہ وہ ایک عرصے سے زندہ جانوروں سے مشابہہ ڈرون پر کام کررہے ہیں جن میں آبی ڈرون بھی شامل ہیں۔

  • واٹس ایپ میں کال شیڈولنگ اور وائس نوٹ ٹیکسٹ کے آپشن جلد شامل ہوسکتےہیں

    واٹس ایپ میں کال شیڈولنگ اور وائس نوٹ ٹیکسٹ کے آپشن جلد شامل ہوسکتےہیں

    سان فرانسسكو: واٹس ایپ کے اندرونی حلقوں کے مطابق، اس کے اگلے بی ٹا ورژن میں بہت سارے فیچرز میں سے دو اہم فیچروں میں کال شیڈولنگ اور وائس نوٹ کو ٹیکسٹ میں پیش کرنے جیسے آپشن شامل ہیں۔

    پہلے آپشن کے تحت گروپ کے اراکین کو ایک نوٹفکیشن ملے گا جس سے شیڈول یا وقت پر طے کی گئی کال کی تفصیلات معلوم کی جاسکیں گی۔ اسے تجزیہ نگاروں نے کال شیڈیولنگ فیچر کا نام دیا ہے۔ جیسے ہی کال شروع ہوگا گروپ کے اراکین کو اس کی اطلاع دیدی جائے گی۔

    لیکن جس طرح آپ یوٹیوب پرمختلف زبانوں کے الفاظ یا (ٹرانسکرپٹ) دیکھتے ہیں عین یہی فیچر اب واٹس ایپ میں بھی دیکھنے کو مل سکتا ہے اور اس سے قبل بھی ڈجیٹل تجزیہ نگار اس کی جانب اشارہ کرچکے تھے۔ واضح رہے کہ جدید اسمارٹ فون ٹرانسکرپشن کے عمل کو سپورٹ کرتے ہیں۔ یعنی اب وائس میسج کا متن دیکھا اور پڑھا جاسکے گا۔
    شیڈول کال کے لیے کال بٹن کو دباکررکھاجائے تو کئی آپشن نمودار ہوں گے جن میں وقت، تاریخ اور عنوان سامنے ظاہر ہوں گے جن کی تفصیلات شامل کرکے آپ تمام گروپ ممبران کو اس کی اطلاع دے سکتےہیں۔

    تاہم یہ نہیں معلوم ہوسکا ہے کہ یہ فیچر کب ریلیز ہوسکے گا۔

  • اسکول کی طالبہ نے صاف ہوا فراہم کرنے والا بیگ پیک بنالیا

    اسکول کی طالبہ نے صاف ہوا فراہم کرنے والا بیگ پیک بنالیا

    لندن: برطانوی اسکول کی 12 سالہ ذہین طالبہ نے ایک بیگ پیک بنایا ہے جو نہ صرف پہننے والے کے اطراف کی ہوا کو صاف کرکے خارج کرتا رہتا ہے بلکہ شمسی توانائی سے کام کرتا ہے۔

    ایلینور وڈز نے یہ ڈیزائن ایک انجنیئرنگ مقابلے کے لیے تیار کیا ہے تاہم اس کی تحریک ان کی بیمار والدہ ہیں جو دمے کی مریضہ ہے اور معمولی آلودہ ہوا میں بھی پریشان ہوجاتی ہیں۔ اس بیگ کے اندر ایئرفلٹر، پنکھے اور ایک ڈائنیمو بھی نصب ہے۔ اس ایجاد سے دنیا بھر کے کروڑوں افراد مستفید ہوسکیں گے۔

    اس ایجاد کو انعام ملنے پر ایلینور نے خوشی سے کہا کہ ’یہ بیک پیک ہوا فلٹر کرنے میں مدد کرے گا کیونکہ میرے کچھ دوست اور اہلِ خانہ کے افراد دمے اور سانس کے مسائل کے شکار ہیں۔‘

    اس مقابلے کا نام ’بیک پیک ٹو دی فیوچر کمپیٹیشن‘ ہے جس کے تحت 13 برس تک کے طلبا وطالبات سے کسی سائنسی تصوریا ایجاد سے وابستہ بیگ ڈیزائن کرنا ہوتا ہے۔ برطانیہ میں پورے ملک کی سطح پر یہ مقابلہ منعقد ہوتا ہے جس میں سینکڑوں بچے شریک ہوتے ہیں۔

  • بلیو اوریجن صرف خواتین عملے پر مشتمل مشن خلا میں روانہ کرے گی

    بلیو اوریجن صرف خواتین عملے پر مشتمل مشن خلا میں روانہ کرے گی

    واشنگٹن: دنیا کے دوسرے امیر ترین شخص جیف بیزوس کی اسپیس کمپنی بلیو اوریجن آئندہ برس مکمل طور پر خواتین عملے پر مشتمل مشن کو خلاء میں بھیجی گی۔

    جیف بیزوس کی گرل فرینڈ لورین سینچیز کا وال اسٹریٹ جرنل سے بات کرتے ہوئے کہنا تھا کہ وہ 2024 کے ابتداء میں بھیجے جانے والے مشن کی رہنمائی کریں گی۔

    لورین سینچیز کے ساتھ مشن پر جانے والی دیگر پانچ خواتین کی شناخت لانچ سے قریب ظاہر جائے گی۔ تاہم، مشن کے حوالے سے کمپنی کی جانب سے تصدیق کی جانی باقی ہے۔
    واضح رہے ایمازون کمپنی کے بانی اور سابق سی ای او جیف بیزوس 20 جولائی 2021 کو خلاء میں عملے سمیت بھیجے جانے والے پہلے مشن میں سوار تھے۔

    لورین سینچیز کی جانب سے بتایا جانے والا یہ منصوبہ ناسا کے منصوبے سے مشابہ ہے جس کے تحت 2025 میں چاند پر بھیجے جانے والے آرٹِمس پروگرام میں پہلی خاتون خلاء نورد موجود ہوں گی۔

  • خودکار ڈرون جو 45 کلوگرام وزن اٹھاکر 900 کلومیٹر دور تک پرواز کرسکتا ہے

    خودکار ڈرون جو 45 کلوگرام وزن اٹھاکر 900 کلومیٹر دور تک پرواز کرسکتا ہے

    نیویارک: امریکی کمپنی نے سامان لے جانے والے ڈرون میں ایک نئی پیشرفت کا اعلان کیا ہے۔ یہ نیا ڈرون مکمل طور پر خود مختار ہے جو 100 پاؤنڈ وزن اٹھا کر 600 میل (960) کلومیٹر کا فاصلہ طے کرسکتا ہے۔

    اسے مشہور کمپنی مائٹی فلائے نے بنایا ہے اور ڈرون کو سینٹو کا نام دیا گیا ہے۔ یہ ایک وقت میں 450 کلوگرام وزن اٹھا کر اسے 960 کلومیٹر کے فاصلے تک لے جاسکتا ہے۔ مکمل طور پر خودمختار ڈرون اپنے سافٹ ویئر کے بل پر اڑتا ہے، لینڈ کرتا ہے اور خود ہی سامان کو باہر بھیجتا ہے۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ ٹیک آف کے لیے اسے بہت کم جگہ درکار ہوتی ہے۔

    اس کی کامیابی کا راز کاربن فائبر فریم ہے جس کا کل وزن 161 کلوگرام ہے۔ ڈرون کو اٹھانےکےلیے اس میں 8 پنکھڑیاں لگائی گئ ہیں۔ جبکہ یہ کم رن وے کےلیے اپنے پروپلشن پوڈ بھی استعمال کرتا ہے۔ اسی بنا پر یہ زیادہ سے زیادہ 240 کلومیٹر فی گھنٹے کی رفتار سے سفر کرسکتا ہے۔ سینو کی لمبائی 5 اور چوڑائی 4 میٹر ہے جبکہ اس کے اندر ایک کنویئر بیلٹ بھی لگایا گیا ہے جس پر چیزیں رکھی اور اٹھائی جاسکتی ہے۔ یہ بیلٹ ایئرپورٹ کی سامان پٹی کی طرح ازخود کام کرتا ہے۔

    کمپنی کےمطابق یونائیٹڈ پوسٹل سروس کے 96 چھوٹے پیکٹ لے جاسکتا ہے اور زمینی گاڑی سے دوگنی رفتار سے سفر کرتے ہوئے سامان کی تیزترین رسائی کے لیے انتہائی موزوں ہے۔ امریکی ایف اے اے اتھارٹی نے اسے استعمال کی اجازت بھی دے چکی ہے۔

  • زمین کے اندرونی مرکز کے گھماؤ کی سمت پلٹنے کا انکشاف

    زمین کے اندرونی مرکز کے گھماؤ کی سمت پلٹنے کا انکشاف

    لندن: ایک نئی تحقیق میں معلوم ہوا ہے کہ زمین کے اندرونی مرکزنے ممکنہ طور گھومنا بند کرتے ہوئے الٹی سمت میں گھومنا شروع کردیا ہے۔

    جرنل نیچر جیو سائنس میں شائع ہونے والی تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ یہ تحقیق زمین کی گہرائیوں میں ہونے والے عملیوں کے زمین کی سطح پر پڑنے والے اثرات، بشمول دن کے دورانیے کے، کی سمجھ کو بہتر بنائے گی۔

    اس سے قبل ہونے والی تحقیق میں یہ بات سامنے آئی تھی کہ زمین کی سب سے اندرونی جہت کو ایک بیرونی مائع تہہ باقی زمین سے علیحدہ کرتی ہے۔ اس کی مقناطیسی فیلڈ اندرونی تہہ کے گھومنے سمیت مینٹل کے کششِ ثقل کے اثرات کا سبب بنتی ہے۔
    گزشتہ مطالعوں میں زمین کے اندر سے آنے والی زلزلے کی لہروں کے تکرار کے درمیان وقت میں تبدیلی کی بنا پر بھی یہی نتیجہ اخذ کیا جا چکا ہے کہ ان لہروں کو اندرونی مرکز سے بھی اس ہی راستے سے گزرنا چاہیئے۔تاہم، اندرونی مرکز کے گھومنے کی رفتار مبہم رہی ہے۔

    اس نئی تحقیق کے لیے محققین نے 1960 سے زمین کے اندرونی مرکز کے مساوی رستوں سے گزرنے والی زلزلے کی لہروں کا جائزہ لیا۔

    سائنس دانوں نے ان لہروں کے خم اور ان لہروں کے درمیان وقت میں فرق کا جائزہ لیا۔ محققین نے کے مشاہدے میں یہ بات آئی کہ 2009 کے بعد سے زلزلوں کی ان لہروں کے راستوں میں معمولی سی تبدیلی ہوئی ہے۔

    تحقیق کے نتائج اس خیال کی جانب اشارہ کرتے ہیں زمین کے اندرونی مرکز نے گھومنا بند کردیا ہے۔ اس کا تعلق ممکنہ طور پر اندرونی مرکز کے گھومنے کی سمت پلٹنے سے ہوسکتا ہے۔

    تحقیق کے مطابق ان تبدیلیوں کا تعلق سطح زمین پر ہونے والے معاملات، جیسے کہ دن کے دورانیے، سے ہوتا ہے۔

  • چین نے 70 منزلہ بلند ہوائی ٹربائن بنانے کا اعلان کردیا!

    چین نے 70 منزلہ بلند ہوائی ٹربائن بنانے کا اعلان کردیا!

    بیجنگ: چین نے سمندر میں دنیا کی سب سے بلند ہوائی ٹربائن بنانے کا اعلان کیا ہے جو 70 منزل سے بھی اونچا ہوگا اور ایک ٹربائن ٹاور لگ بھگ 18 میگا واٹ بجلی بناسکے گا۔

    ہر مرتبہ گھومنے پر یہ ونڈ ٹربائن نیشنل فٹ بال لیگ کے 12 میدانوں کے برابر وسیع ہوگی اور اس کی تینوں پنکھڑیوں کی لمبائی 128 میٹر ہوسکتی ہے۔ اس طرح سیارہ زمین پر یہ سب سے بڑی ونڈ ٹربائن ہوگی۔ اس کا تکنیکی نام مِنگ یانگ ایم وائی اس ای 16.0-242 رکھا گیا ہے۔

    اسے سمندر میں نصب کیا جائے گا اور خاص طور پر شدید ہواؤں کو برداشت کرنے کے لیے بنایا گیا ہے۔ اگر ہوا 56 میٹر فی سیکنڈ کی تیزترین ہوا (بلکہ طوفان) بھی ہو اسے بھی یہ برداشت کرسکے گی۔ تاہم اگر ہوا کی رفتار 8.5 میٹر فی سیکنڈ سے بڑھ جائے تو اس کی پنکھڑیاں گھومنے لگتی ہیں اور بجلی کی پیداوار شروع ہوجاتی ہے۔ اگرچہ یہ ایک وقت میں 18 میگاواٹ بجلی بناسکتی ہے لیکن پورے سال 80 گیگا واٹ آور بجلی ایک ٹاور سے حاصل کی جاسکتی ہے۔
    اس جناتی ونڈ ٹربائن کو سمندر کنارے لگانا بہت بڑا اور مہنگا چیلنج بھی ہوگا۔ تاہم وقت ہی بتائے گا کہ یہ منصوبہ کس طرح عمل سے گزرتا ہے۔