Deprecated: Creation of dynamic property EPS_Redirects_Plugin::$settings is deprecated in /home2/sangemee/public_html/wp-content/plugins/eps-301-redirects/plugin.php on line 55

Warning: Cannot modify header information - headers already sent by (output started at /home2/sangemee/public_html/wp-content/plugins/eps-301-redirects/plugin.php:55) in /home2/sangemee/public_html/wp-content/themes/twentytwentyfive/functions.php on line 296
Sange Meel News: Latest news, breaking news, Pakistan – Page 2307 – Read the latest headlines, breaking news articles, the definitive source for independent journalism from every corner of the globe.

Blog

  • پاکستان اور آسٹریلیا ویمنز کے درمیان ٹی20 سیریز کل سے شروع ہوگی

    پاکستان اور آسٹریلیا ویمنز کے درمیان ٹی20 سیریز کل سے شروع ہوگی

    سڈنی: پاکستان ویمنز اور آسٹریلیا ویمنز کے درمیان تین ٹی20 میچز کی سیریز کا پہلا میچ کل نارتھ سڈنی اوول میں ہوگا۔

    قومی ٹیم نے کرکٹ سینٹرل نیو ساؤتھ ویلز سڈنی میں بھرپور انڈور ٹریننگ سیشن میں حصہ لیا، بارش کی وجہ سے آوٹ فیلڈ گیلی ہونے کے سبب گراونڈ میں ٹریننگ ممکن نہیں تھی۔

    ٹی 20 میچ پاکستانی وقت کے مطابق صبح آٹھ بج کر پانچ منٹ پر شروع ہوگا۔
    تین ون ڈے میچز میں پاکستانی ٹیم توقعات کے مطابق پرفارمنس دینے میں ناکام رہیں۔ پہلے ایک روزہ میچ میں اسے آٹھ وکٹوں سے شکست ہوئی، دوسرے ون ڈے میں آسٹریلیا نے 10وکٹوں سے فتح پائی جبکہ تیسرے میچ میں آسٹریلیا نے 101 رنز سے کامیابی اپنے نام کر سیریز میں کلین سویپ کیا۔

  • رینجرز و پولیس کی مشترکہ کارروائی؛ پانچ ڈاکوؤں گرفتار، اسلحہ و مسروقہ سامان برآمد

    رینجرز و پولیس کی مشترکہ کارروائی؛ پانچ ڈاکوؤں گرفتار، اسلحہ و مسروقہ سامان برآمد

    سندھ رینجرز اور پولیس نے انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر ابراہیم حیدری میں مشترکہ کارروائی کرتے ہوئے اسٹریٹ کرائم اور ڈکیتی میں ملوث ملزم کو گرفتار کرلیا۔

    سندھ رینجرز اور پولیس نے انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پرابراہیم حیدری میں مشترکہ کارروائی کرتے ہوئے اسٹریٹ کرائم اور ڈکیتی میں ملوث ملزم محمد عادل کو گرفتار کرلیا۔

    ملزم کے قبضے سے ڈکیتیوں میں استعمال ہونے والا اسلحہ، ایمونیشن، 3 چوری شدہ موٹر سائیکل اور 7 موبائل فونز بھی برآمد کرلیے۔
    ترجمان کے مطابق ابتدائی تفتیش کے دوران ملزم نے لانڈھی اور کورنگی کے علاقوں سے ڈکیتی اور اسٹریٹ کرائم کی وارداتوں میں لاکھوں روپے نقدی، موبائل فونزاور موٹر سائیکلیں چھیننے کا اعتراف کیا ہے۔

    گرفتار ملزم کو بمعہ اسلحہ، ایمونیشن، موٹر سائیکل اور مسروقہ سامان مزید قانونی کاروائی کے لیے پولیس کے حوالے کردیا گیا ہے۔

  • ہارون رشید پاکستان کرکٹ ٹیم کے نئے چیف سلیکٹر مقرر

    ہارون رشید پاکستان کرکٹ ٹیم کے نئے چیف سلیکٹر مقرر

    لاہور: پاکستان کرکٹ بورڈ ( پی سی بی ) کی منیجمنٹ کمیٹی کے چیئرمین نجم سیٹھی نے اعلان کیا ہے کہ ہارون رشید قومی ٹیم کے نئے چیف سلیکٹر ہوں گے۔

    لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے نجم سیٹھی نے کہا کہ آئین کے تحت چیف سلیکٹر اور کپتان کی تقرری میرا اختیار ہے، سلیکشن کمیٹی کے دوسرے ارکان کا اعلان مشاورت سے کیا جائے گا۔

    انہوں نے بتایا کہ ایشین کرکٹ کونسل کا اجلاس چار فروری کو بحرین میں ہوگا جس میں اپنا موقف پیش کریں گے جبکہ افغانستان کے خلاف سیریز ابھی ممکن نہیں۔
    نجم سیٹھی نے کہا کہ شان مسعود کو نائب کپتان بنانے کے لیے سب سے مشاورت کی تھی اور نائب کپتان کو پلینگ الیون میں کھلانے کے لیے کوئی دباو نہیں ڈالا گیا تھا۔ بابر اعظم ہمارا بہترین کرکٹر ہے اور اسکی کپتانی کے حوالے سے تمام خبریں بے بنیاد ہیں۔

    ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ مکی آرتھر سے بات چیت جاری ہے اور امید ہے کہ مکی آرتھر جلد ٹیم کو جوائن کر لیں گے۔

    نجم سیٹھی نے کہا کہ فاسٹ بولر محمد عامر ریٹائرمنٹ واپس لینا چاہتے ہیں تو وہ ٹیم میں آ سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے کھلاڑیوں کا آئی سی سی ٹیم آف دی ایئر میں شامل ہونا خوش آئند ہے۔

  • رات 10 بجے بجلی کی مکمل بحالی کا دعویٰ پورا نہ ہوسکا، متعدد شہروں میں بدستور اندھیرے کا راج

    رات 10 بجے بجلی کی مکمل بحالی کا دعویٰ پورا نہ ہوسکا، متعدد شہروں میں بدستور اندھیرے کا راج

    اسلام آباد: نیشنل گرڈ میں خرابی کے باعث ملک بھر میں بجلی کا بڑا بریک ڈاؤن ہوگیا، مختلف شہر اندھیرے میں ڈوب گئے، حکومت نے رات دس بجے تک بجلی مکمل بحالی کا دعوی کیا جو دھرا کا دھرا رہ گیا تاہم چند شہروں سے بجلی بحالی کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔

    وزارت توانائی نے بیان میں کہا کہ ابتدائی اطلاعات کے مطابق آج صبح 7:34 پر نیشنل گرڈ کی سسٹم فریکوئنسی کم ہوئی جس سے بجلی کے نظام میں وسیع بریک ڈاؤن ہوا۔ سسٹم کی بحالی پر کام تیزی سےجاری ہے۔ وارسک سے گرڈ سٹیشنوں کی بحالی کا آغاز کر دیا گیا ہے۔

    ترجمان وزارت ذرائع کا کہنا ہے کہ پچھلے ایک گھنٹے میں اسلام آباد سپلائی کمپنی اور پشاور سپلائی کمپنی کے محدود تعداد میں گرڈ بحال کر دئے گئے ہیں۔خرابی این ٹی ڈی سی کی گدو سے بلوچستان جانے والی لائن میں پیدا ہوئی ۔ بریک ڈاؤن سے پورے ملک میں بجلی کی سپلائی معطل ہوئی ہے۔ لیسکو میں بھی تمام گرڈ اسٹیشن بند ہوگئے۔

    ذرائع کا کہنا ہے کہ ٹرانسمیشن لائن اور پاور پلانٹ کے درمیان رابطہ منقطع ہونے سے بجلی کی فریکوئینسی کم ہوئی جس کے باعث کیسکیڈنگ ہوئی اور ایک کے بعد ایک پاور پلانٹ ٹرپ ہوگئے۔بجلی معطلی کی دیگر وجوہات اور مسائل کا تعین کیا جارہا ہے۔

    پاور پلانٹس بند ہونے سے صوبہ سندھ کے اضلاع ، جنوبی پنجاب ، سیبٹرل پنجاب ، لیسکو کے زیادہ تر علاقے اور آئیسکو ریجن کے زیادہ تر علاقوں میں بجلی بند ہے۔بجلی کی فراہمی معطل ہونے سے کے الیکٹرک کو ملنے والی بجلی بھی بند ہوگئی جس سے ائیرپورٹ پر کام کرنے والے نظام میں بھی خلل پڑا۔

    کراچی کے جناح ٹرمینل ذرائع کا کہنا ہے کہ ائیرپورٹ کے اہم مقامات پر جنریٹر چلا کر بجلی کی فراہمی شروع کردی گئی ہے۔

    ترجمان آئیسکو کے مطابق بریک ڈاؤن کے باعث 117 گرڈ اسٹیشن کو بجلی کی فراہمی متاثر ہوئی، مرکزی کنٹرول روم سے سسٹم بحالی کی براہ راست نگرانی جاری ہے، سسٹم کو نقصان سے بچانے کے لیے فیڈرز پر بجلی مرحلہ وار بحال کی جا رہی ہے،سسٹم کی مکمل بحالی میں وقت لگے گا۔

    قبل ازیں بریک ڈاؤن پر وزیر توانائی خرم دستگیر نیشنل پاور کنٹرول سینیٹر پہنچے۔ این پی سی سی کے کنٹرول روم سے ملک گیر بجلی بریک ڈاؤن بحالی کی نگرانی کی۔ این پی سی سی نے وزیر توانائی کو بریفنگ دی کہ پاور فریکونسی میں فرق کی وجہ سے گدو مین پاور لائن ٹرپ ہوئی، ٹرپنگ کی وجہ سے کیسکیڈنگ ایفیکٹ آیا، پاور گرڈ میں ڈیمانڈ زیادہ ہونے اور سپلائی نہ ہونے سے بحالی کے کام میں مشکلات ہیں۔

    این پی سی سی نے بریفنگ دی کہ نارتھ ساؤتھ کنکشن الگ کرکے بجلی بحالی کی کوشش کر رہے ہیں، این پی سی سی میں ایمرجنسی نافذ کردی گئی ہے، تمام افسران کنٹرول روم میں موجود ہیں۔

  • بجلی بریک ڈاؤن، کراچی کو 30 کروڑ گیلن پانی فراہم نہ ہوسکا

    بجلی بریک ڈاؤن، کراچی کو 30 کروڑ گیلن پانی فراہم نہ ہوسکا

    کراچی: بجلی کے ملک گیر بریک ڈاؤن کے سبب کراچی میں پانی کی فراہمی کا نظام معطل ہوگیا، شہر کو 30 کروڑ گیلن پانی فراہم نہ ہونے سے پانی کے بحران کا خدشہ پیدا ہوگیا۔

    ملک بھر میں بجلی کے بریک ڈاؤن کے اثرات کراچی میں بھی مرتب ہوئے، بجلی بند ہوتے ہی کراچی میں پانی کی فراہمی مکمل طور پر رک ہوگئی، شہر میں پانی فراہم کرنے والی لائف لائن دھابیجی پمپنگ اسٹیشن سے پانی کی فراہمی بند ہوگئی جس سے شہرکو یو میہ 44 کروڑ گیلن پانی فراہم کیا جاتا ہے۔

    حب ڈیم دوسرا بڑا ذریعہ ہے جہاں سے یومیہ 10 کروڑ گیلن پانی فراہم کیا جاتا ہے وہاں سے بھی پانی فراہم نہ ہوسکا، اسی طرح گھارو، این ای کے، پیپری پمپنگ اسٹیشن سے بھی پانی کی فراہمی بند ہوگئی، رات گئے تک 30 کروڑ گیلن سے زائد پانی شہر کو فراہم نہیں کیا ا سکا جس کی وجہ سے شہر کے مختلف علاقوں میں پانی کی فراہمی بری طرح متاثر ہوگئی۔
    بجلی کے بریک ڈاؤن کے دوران دھابیجی پمپنگ اسٹیشن پر 72 انچ قطر کی لائن نمبر 5 پھٹ گئی جس کی وجہ سے مزید دشواری کا سامنا کرنا پڑے گا۔

    واٹر بورڈ حکام کا کہنا ہے کہ لائن پر مرمتی کام شروع کر دیا گیا ہے 48 گھنٹوں میں مرمتی کام مکمل کرلیا جائے گا۔ واٹر بورڈ حکام نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ پانی کی فراہمی بری طرح متاثر ہے لہذا پانی احتیاط سے استعمال کریں۔

    آخری اطلاعات تک دھابیجی، گھارو، این ای کے پمپنگ اسٹیشنز میں شام ساڑھے 6 بجے تک بجلی بحال ہوگئی تھی تاہم حب ڈیم میں بجلی بحال نہیں ہوسکی تھی، کچھ دیر بعد پھر تمام پمپنگ اسٹیشنز پر بجلی معطل ہوگئی۔ رات گئے تک شہر کو 30 کروڑ گیلن سے زائد پانی فراہم نہیں کیا جاسکا تھا جس کی وجہ سے آنے والے دنوں میں پانی کی فراہمی بری طرح متاثر ہوگی۔

    ذرائع واٹر بورڈ کا کہنا ہے کہ اگر بجلی میں کوئی تعطل نہیں آتا تو شہر میں پانی کی فراہمی معمول پر آنے میں 48 سے 72 گھنٹے تک لگ سکتے ہیں۔

  • پاکستان کا بیڑہ غرق ہی ایمنسٹی نے کیا ہے، جسٹس فائز

    پاکستان کا بیڑہ غرق ہی ایمنسٹی نے کیا ہے، جسٹس فائز

    اسلام آباد: سپریم کورٹ نے جعلی نمبر پلیٹ والی گاڑی کے خلاف کسٹمز کی اپیل مسترد کرتے ہوئے ریمارکس دیے کہ ایمنسٹی دینے کا اختیار پارلیمنٹ یا صوبائی اسمبلی کو حاصل ہے۔

    جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے جعلی نمبر پلیٹ والی گاڑی کے خلاف کسٹمز کی اپیل کی سماعت کی۔

    جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کسٹمز وکیل سے کہا کہ آپ سو رہے ہیں یا اپنی پوسٹیں بیچ رہے ہیں، گاڑی کوئی جیب میں ڈال کر نہیں لاتا اور نہ ہی اڑ کر آتی ہے، جب گاڑی آ جاتی ہے تو اس کے پیچھے پڑ جاتے ہیں، گاڑی آئی کیسے اس کا کوئی جواب نہیں، آپ ذرا چمن بارڈر پر جائیں اور دیکھیں گاڑی کیسے آتی ہے۔
    کسٹمز کے وکیل نے کہا کہ اس حوالے سے پشاور ہائیکورٹ کا ایک فیصلہ موجود ہے، اگر ایک گاڑی غیر قانونی طریقے سے آتی ہے تو وہ کسٹمز کے دائرہ اختیار میں آتی ہے۔

    جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ لیکن آپ یہ جواب نہیں دیتے کہ گاڑی آئی کیسے؟ آپ کی استدعا یہ ہونی چاہیے کہ آپ اپنے ٹیکس وصول کریں لیکن آپ گاڑی کے پیچھے پڑ گئے ہیں۔

    دوران سماعت کسٹمز ایمنسٹی اسکیمز کا حوالے دینے پر جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے اظہار برہمی کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کا بیڑہ غرق ہی ایمنسٹی نے کیا ہے، ون ٹائم ایمنسٹی کوئی سو بار ہو چکی ہے، ہر ادارہ ایمنسٹی دے رہا ہے، ہم نالائق ہیں گاڑیاں روک نہیں سکتے اس لیے ایمنسٹی دے رہے ہیں، ہم ایف بی آر سے ڈیٹا منگوا لیتے ہیں آج تک کتنی ایمنسٹی دی ہیں۔

    جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ سونا، چاندی کی اسمگلنگ کی تو سمجھ آتی ہے گاڑی کیسے اسمگل ہو سکتی ہے؟ ابھی اسلام آباد کی سڑکوں پر عجیب نمبر پلیٹ والی گاڑیاں چل رہی ہیں، یہ گاڑیوں والے شاید بہت طاقتور لوگ ہیں نہ کسٹمز والے چیک کرتے ہیں نہ پولیس، آپ نے قانون کا مذاق بنا کر رکھ دیا ہے، برطانوی وزیراعظم کا سیٹ بیلٹ نہ باندھنے کیوجہ سے چالان ہو گیا، برطانوی وزیراعظم نے اپنے عمل پر معافی بھی مانگی، آپ اپنے وزیراعظم تو دور کسی ڈی سی یا سی ڈی اے افسر کا چالان کر کے دکھائیں۔

    عدالت نے گاڑی ضبط کرنے کی پاکستان کسٹمز کی اپیل مسترد کردی۔

    پاکستان کسٹمز نے 1998 ماڈل کا ہینو ٹرک 2018 میں پکڑا تھا۔ اپیلٹ ٹربیونل نے فیصلہ پاکستان کسٹمز کے خلاف دیا تھا، جسے کسٹمز نے چیلنج کیا تھا۔

  • مسجد الحرام میں رواں سال 10 کروڑ سے زائد عازمین کی آمد ریکارڈ

    مسجد الحرام میں رواں سال 10 کروڑ سے زائد عازمین کی آمد ریکارڈ

    مکہ مکرمہ: بیت اللہ شریف کی مسجد الحرام میں رواں ہجری سال 10 کروڑسے زائد عازمین کی آمد ریکارڈ کی گئی۔

    حرمین شریفین کے امور کی نگرانی کے ذمے دار ادارے کے سربراہ سربراہ شیخ ڈاکٹر عبدالرحمن السدیس نے انکشاف کیا کہ 1444ھ کے آغاز سے لے کر اب تک بیت اللہ شریف کی مسجد الحرام میں 100 ملین سے زیادہ افراد کی آمد و رفت ریکارڈ کی گئی۔

    حجر اسماعیل کے قریب نماز ادا کرنے والوں کی تعداد رواں سال 11 لاکھ 93 ہزار سے تجاوز کرگئی ہے۔اعداد وشمار کے مطابق گاڑیوں کی نقل و حمل کی خدمات کے لیے ایک سال کے دوران 15 لاکھ سے زیادہ مہمانوں کی خدمت کی گئی۔
    ڈاکٹر السدیس کا مزید کہنا تھا کہ مسجد نبوی ﷺ میں بزرگوں اور معذوروں کو بہتر سہولیات فراہم کرنے کے لیے 50 سے زائد گاڑیاں صرف معمر افراد اور خاص ضرورت والے افراد کے لیے مختص کردی گئی ہیں۔ سال 2023 کے دوران دونوں مقدس مساجد میں رضاکاروں کی تعداد بڑھا ئی جا رہی۔ گاڑی کی خدمات کو ضرورت مند افراد تک پہنچانے کے لیے الیکٹرانک آرڈر کی سہولت فراہم کی جارہی جبکہ مسجد الحرام میں الیکٹرانک طواف کی سروس کی فراہمی بھی ممکن بنائی جائے گی۔

  • تحریک انصاف نے 44 اراکین اسمبلی کے استعفے واپس مانگ لیے

    تحریک انصاف نے 44 اراکین اسمبلی کے استعفے واپس مانگ لیے

    اکستان تحریک انصاف نے 81 ارکانِ قومی اسمبلی کے استعفوں کی منظوری کے بعد اپوزیشن لیڈر کے عہدے کی دوڑ سے باہر ہونے کے خدشے کی بنا پر باقی 44 اراکین کے استعفے واپس لینے کا فیصلہ کر لیا ہے۔
    سوموار کو پی ٹی آئی سیکریٹری جنرل اسد عمر نے ٹوئٹر پر جاری بیان میں کہا کہ ’کیونکہ سپیکر ابھی تک تمام اسمبلی ارکان کے استعفے قبول نہیں کر رہے، اس لیے پارٹی چیئرمین کی ہدایات کے مطابق 44 ارکان اسمبلی نے اپنے استعفے واپس لینے کا فیصلہ کیا ہے۔‘

  • ’مٹھو میاں‘ کو ہماری ’قید‘ راس آگئی تھی!

    ’مٹھو میاں‘ کو ہماری ’قید‘ راس آگئی تھی!

    یسے کوئی بے زبان جانور یا پرندہ بھی ہمارے گھر ہی کا حصہ بن جاتا ہے، اس کا احساس تب ہوتا ہے، جب ہم جی وجان سے کسی ایسی ’جان‘ سے تعلق پیدا کریں اور اسے نبھائیں۔۔۔ اب بچپن میں نت نئے پرندوں اور پالتو جانوروں کا شوق کس بچے کو نہیں ہوتا۔۔۔ سو ہمیں بھی تھا اور بہت کم سنی میں ہی ایک سرخ چونچ والا سبز توتا ہمارے گھر کا مکین ہوگیا تھا۔۔۔ لیکن ہمارا اس کا ساتھ ایسا ہوگا۔

    یہ ظاہر ہے کسی کو بھی اندازہ نہ تھا۔۔۔ خواہش ہماری بھی یہی تھی کہ وہ ’بولنا‘ سیکھے، لیکن چوں کہ جب وہ آیا، تو ’بولنا‘ سیکھنے کی عمر سے نکل چکا تھا، اس لیے ایسا ممکن نہ ہو سکا۔۔۔ البتہ یہ ضرور تھا کہ وہ اپنی کچھ مخصوص بولی میں غیر روایتی اور منفرد سی آوازیں نکالنا ضرور سیکھ چکا تھا۔۔۔

    جیسے جب ہم اسے ’مٹھو بیٹے‘ پکارتے تو وہ اپنے دونوں ’بازو‘ قدرے کھول کے خوشی سے گردن اُچکاتا، اور آنکھ کے نارنجی دائرے میں اس کی دونوں پتلیاں آنکھوں کی سفیدی میں سکڑ کر نقطے جیسی ٹمٹمانے سی لگتیں اور پھر وہ دھیمی دھیمی سی ایک مخصوص آواز میں اس کا جواب دیتا تھا۔۔۔ ابتداً اس کے پر قدرے گہرے سے رنگ کے تھے، لیکن پھر اس کا بہت اجلا اجلا سا سبز رنگ نکھر آیا تھا اور اس نکھار کے ساتھ اس کی گردن پر سرخ رنگ کی ’کنٹھی‘ بھی ابھر آئی تھی، جو چونچ کے نیچے سے دونوں جانب پھیلنے والی گہری کالی لکیر کے ساتھ مل کر سر کے پیچھے مکمل سرخ ہو جاتی تھی اور اس کے اوپر سر کی طرف ہلکاہلکا سا آسمانی رنگ اُس کی خوب صورتی کو دوچند کر دیتا تھا۔۔۔

    اسی زمانے میں اسکول کی کتاب میں شامل نظم ’’آؤ بچو سنو کہانی‘‘ کے یہ مصرع ہمیں خوب بھاتے تھے ’’نوکر لے کر حلوہ آیا… توتے کا بھی دل للچایا… راجا بین بجاتا جائے… نوکر شور مچاتا جائے… توتا حلوہ کھاتا جائے۔۔۔!‘‘ گھر میں جب کبھی حلوہ بنتا، ہم مٹھو کو حلوہ ڈالتے ہوئے اکثر یہ بول پڑھتے۔۔۔ ہمیں ایسا لگتا تھا کہ مٹھو میاں اپنا ذکر سن کر ضرور خوش ہو رہے ہیں۔۔۔ یوں وہ صبح سے لے کر رات تک ہمارے ہر کھانے پینے میں ہمارے ’’ساتھ ساتھ‘‘ رہتے تھے۔۔۔

    کہنے کو یہ ’مٹھو‘ فقط ہمارے بچپن کا ایک شوق تھا، لیکن غور کیجیے، تو اس کا کردار کتنا اہم تھا کہ اکثر اس کا ’کھانا‘ ہمارے دستر خوان سمیٹنے کے بعد اٹھائے جانے والے اناج کے دانے اور وہ ’بھورے‘ اور سالن وغیرہ ہوتا تھا، جو کھانے کے بعد دسترخوان پر سے سمیٹا جاتا تھا۔

    یہ سب ایک روٹی کے نوالے کے ساتھ جمع کر کے پنجرے میں اس کی کٹوری میں ڈال دیتے تھے اور وہ ہمارے دسترخوان کے ہر طرح کے سالن خوب مزے لے کر کھاتا تھا۔۔۔ اس کی یہ عادت ہوگئی تھی کہ اسے روٹی کا ٹکڑا وغیرہ ڈالو، تو وہ چونچ سے اٹھا کر اسے دوسری پانی والی کٹوری میں ڈبو دیتا اور پھر اسے نرم کر کے اپنے سیدھے پنجے میں پکڑ کر کتر کتر کر نوش کرتا۔۔۔ اگرچہ ہم اسے من پسند ہری مرچ بھی کھانے کو دیتے تھے، لیکن زیادہ تر وہ ہمارے دسترخوان سمیٹنے میں ’مددگار‘ ہوتا۔۔۔ اور بزرگوں کے بقول اس طرح رزق کی بے حرمتی ہونے سے بچ جاتی۔۔۔!

    ان ’صاحب‘ کا پنجرہ ہمارے پرانے گھر کی انگنائی میں ڈیوڑھی کے بالکل ساتھ الگنی کی دیوار میں گڑے ہوئے ایک لکڑی کے کھونٹے کے ساتھ ٹنگا ہوا ہوتا تھا، جہاں سے وہ گھر میں ہر آنے جانے والے پر ’نظر‘ بھی رکھا کرتے تھے، بلکہ اکثر کسی نئے مہمان یا رات کو آنے والے مہمان پر اپنے ردعمل کا اظہار ایک مخصوص ’پکار‘ کے ساتھ کیا کرتے، بعضے وقت ایسا ہوتا کہ دائیں سمت کی ڈیوڑھی سے نیا آنے والا مہمان جب بے دھیانی میں آنگنائی کی طرف کو مڑتا، تو ان کے پنجرے سے ٹکرا جاتا، سارا پنجرہ ٹیڑھا سیدھا ہوتا تو اس پر تو وہ اور سخت آواز میں اپنی برہمی کا اظہار کرتے۔۔۔

    کبھی ایسا بھی ہوتا کہ چھٹیوں کی دوپہر کو جب ہم سب آرام کر رہے ہوتے تھے، تو یہ بھی پنجرے کی مرکزی سلاخ پر ایک طرف ہو کر بیٹھ جاتے، کبھی ایک پاؤں اندر کر لیتے اور اپنے سارے پَر نسبتاً بھربھرے سے کرلیتے۔۔۔ اور پھر نیم وا آنکھوں کے ساتھ دھیمے دھیمے نہ جانے کون سی بولی بڑبڑاتے۔۔۔ یہ ان کی ایک اور مخصوص قسم کی آواز ہوتی تھی۔

    جو وہ کبھی سہ پہر کو گھر میں سناٹا دیکھ کر تنہائی کے عالم میں بولا کرتے تھے۔۔۔ کبھی یہ بھی ہوتا تھا کہ شام کے وقت وہ اکثر اپنی چونچ ترچھی کر کے آسمان کی جانب اڑتے ہوئے پنچھیوں کی جانب بھی بہ غور دیکھتے، اور اپنے بند چھوٹے سے پنجرے میں ادھر ادھر دوڑ لگاتے، گویا باہر نکلنے کو بے قرار ہو رہے ہوں۔

    بس ایسی ہی کچھ بات رہی ہوگی، جس کے باعث ایک دن ہمارے بڑوں نے ہمیں راضی کر لیا کہ اب ’مٹھو میاں‘ کو اڑا دیا جانا چاہیے۔۔۔ کیوں کہ پرندے آزاد فضا میں ہی اچھے لگتے ہیں، یہ بھی اپنے گھر والوں میں جا کر بہت خوش ہوں گے۔۔۔!

    سو، ہم نے دل پر بہت جبر کر کے ایک چُھٹی والے روز اس کا باقاعدہ اہتمام کیا۔۔۔ گھر کی انگنائی کے درمیان ان کا پنجرہ رکھ کر اس کا دروازہ کھول دیا گیا۔۔۔ اور ہم خود انگنائی سے متصل کمرے میں جا کر لگے انتظار کرنے۔۔۔ دل میں عجیب سا احساس تھا کہ جسے ہم خوشی تو نہیں کہہ سکتے، البتہ ہلکا سا درد ضرور کہا جا سکتا ہے، کہ کئی برس کے ساتھی کو ہمیشہ کے لیے خود سے جدا جو کر رہے تھے۔۔۔ ہم سب اندر بیٹھے دیکھ رہے تھے، لیکن جناب بہت دیر گزر گئی، لیکن مٹھو میاں نے کھلے ہوئے پنجرے کی طرف کسی قسم کی دل چسپی کا مظاہرہ ہی نہیں کیا؎

    اتنے مانوس صیاد سے ہوگئے

    اب رہائی ملے گی تو مر جائیں گے!

    بہت دیر انتظار کے بعد بالآخر پنجرہ بند کر کے دوبارہ اپنی جگہ پر ٹانگ دیا گیا اور اس روز ہم پر یہ اچھی طرح آشکار ہوگیا کہ وجہ جو بھی ہو اب ’مٹھو میاں‘ ہمارے ساتھ ہی رہنے میں مطمئن ہیں۔۔۔ تبھی ہمیں یاد آیا کہ شروع میں ایک مرتبہ ایسا بھی ہوا تھا کہ ایک دوپہر کو صفائی کرتے ہوئے ہماری امی سے پنجرے کا دروازہ کھل گیا، تو مٹھو میاں پُھدک کر باہر نکل آئے تھے، لیکن آنگنائی سے باہر جانے کے بہ جائے یہ سیدھے ہمارے گھر کے اندر کی طرف اڑے تھے، ورنہ پرانا گھر تو اتنا کھلا ہوا تھا کہ وہاں سے انھیں اڑ جانے میں کوئی رکاوٹ ہی نہ تھی، کیا خبر یہ اَمر انھوں نے جان بوجھ کر کیا ہو، تاکہ انھیں پکڑ کر دوبارہ پنجرے میں ڈال دیا جائے، اور پھر بہ آسانی ایسا ہی کر دیا گیا تھا۔

    ہمارے ’مٹھو میاں‘ کو ایک عادت کاٹنے کی بھی پڑ گئی تھی، اور یہ ’کاٹنا‘ کیا تھا، بس پنجرے کے پاس ہاتھ لائیے، تو وہ برا مان کر چونچ کھول کر لپکتے اور جیسے ایک ٹھونگ سی مارنے کو ہوتے ہوں، تاہم کچھ عرصے بعد یہ بھی آشکار ہوگیا کہ کم از کم ہمارے لیے ان کا یہ ’کاٹنا‘ صرف دکھاوا تھا، کیوں کہ ہم پنجرے میں ہاتھ ڈال کر بھی ان کی کسی بھی گزند سے ہمیشہ محفوظ رہے۔ ہمارے لیے بس یہ تھا کہ وہ ہمارے ہاتھ پر خفیف سی چونچ کھولتے اور بس۔۔۔ یہ شاید ان کی انسیت کا کوئی اظہار ہو، کیوں کہ ہمارا پورا بچپن انھی کے سامنے گزرا تھا۔۔۔ البتہ نہ کاٹنے کی یہ ’رعایت‘ گھر کے کسی اور فرد کے لیے بالکل بھی نہیں تھی۔

    جب ہم اسکول کی ذرا بڑی کلاسوں میں آئے، تو اپنے ایک ہم جماعت کے کہنے پر ان کے پَر کٹوانے کے لیے انھیں ان کے گھر لے گئے۔۔۔ ان صاحب نے ہمیں بڑا یقین دلایا تھا کہ انھوں نے اپنے ہاں بھی توتے کے پِر کاٹے ہوئے ہیں، اور وہ آرام سے پنجرے سے باہر گھر میں گھومتا گھامتا رہتا ہے۔ تو ہم بھی اسی شوق میں آگئے، لیکن مٹھو میاں کو پنجرے سے نکال کر اور سختی سے پکڑ کر ان کے پر کاٹنا بہت ہی زیادہ ناگوار گزرا تھا۔۔۔ کیوں کہ ہم نے اتنے عرصے میں آج تک ایسا نہیں کیا تھا۔

    بہرحال پَر کٹوانے کے بعد کچھ دن تو ہم یہ کرتے کہ انھیں کچھ دیر کو پکڑ کر پنجرے سے باہر نکال لیتے تھے، شاید ایک بار اور اسی طرح پر کٹوائے، لیکن پھر مٹھو میاں کو ناخوش دیکھ کر یہ امر مناسب خیال نہیں کیا، کیوں کہ انھیں چھوا جانا اور پھر سختی سے دبوچنا بہت زیادہ برا لگتا تھا۔۔۔ ہمیں بس اتنا حق حاصل تھا کہ ان کی چونچ پر ہاتھ لگا لیا یا کھی سر کے اوپر۔ اس کے علاوہ بازوؤں کو چھونے سے بھی وہ برہم ہو جاتے۔۔۔ وقت گزرتا گیا۔۔۔ ہم بھی اسکول سے بڑھ کر اب کالج میں آچکے تھے۔۔۔ بس پھر ہمارے ’مٹھو میاں‘ بھی دھیرے دھیرے کمزور ہوتے چلے گئے اور پھر یہ ہوا کہ ایک دن صبح کو وہ اپنے پنجرے میں مردہ پائے گئے۔۔۔!

    یوں ہمارے بچپن کا ایک اہم باب ہمیشہ ہمیشہ کے لیے بند ہو گیا۔۔۔ دل میں درد کی ایک گہری لہر اٹھ کر رہ گئی، کہنے کو انگنائی کے ایک کونے میں رکھا ہوا پنجرہ ہی خالی ہوا، لیکن اصل میں ہمارے گھر کا آنگن ہی سُونا ہوگیا، ان کی چہچہاٹ کے بغیر اترنے والی شاموں میں ایک غیر محسوس سا ’سناٹا‘ ٹھیر گیا۔۔۔ آج جب بھی ہم کسی کنٹھی والے سبز توتے کو دیکھتے ہیں، ہمیں فوراً اپنے ’مٹھو میاں‘ کی یاد آ جاتی ہے، واقعی وہ ہمارے بچپنے کے ایک ایسے خاموش ساتھی تھے، جو گئے تو اپنے ساتھ گویا سارا بچپن اور بے فکری بھی لے گئے۔

  • بنوں میں دھماکے سے سپاہی شہید

    بنوں میں دھماکے سے سپاہی شہید

    راولپنڈی: ضلع بنوں میں دیسی ساختہ بم کے دھماکے میں ایک سپاہی شہید ہوگیا۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق اسلام آباد جانی خیل ضلع بنوں میں ایک دیسی ساختہ بم کا دھماکا ہوا ہے جس کے نتیجے میں سپاہی گل شیر شہید ہوگئے، گل شیر کی عمر 24 سال اور ان کا تعلق ضلع خیبر سے تھا۔

    آئی ایس پی آر نے کہا ہے کہ کسی بھی دہشت گرد کو ختم کرنے کے لیے علاقے میں کلیئرنس آپریشن جاری ہے۔